0
Friday 12 Apr 2019 22:10
ایرانی عوام سے ہمدردی میں میڈیا نے بھی بخل سے کام لیا جو قابل مذمت ہے

پاکستان میں جب بھی قدرتی آفات آئیں ایرانی حکومت نے ہمارا ساتھ دیا، طاہر مشہدی

حکومت عقلمندی سے کام لے تو آئی ایم ایف سے قرضے کے معاملے پر پیدا ہونیوالی پیچیدگیاں ختم ہوسکتی ہیں
پاکستان میں جب بھی قدرتی آفات آئیں ایرانی حکومت نے ہمارا ساتھ دیا، طاہر مشہدی
کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی کا تعلق کراچی سے ہے، وہ 1967ء میں پاکستان آرمی سے وابستہ ہوئے۔ طاہر حسین مشہدی بہت اچھے کالم نگار بھی ہیں اور حالاتِ حاضرہ پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ اسکے علاوہ سینیٹ آف پاکستان میں متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر بھی رہے ہیں، جمشید ٹاؤن کراچی کے میئر بھی رہ چکے ہیں، 2006ء میں یہ سینیٹ میں آئے، 2012ء میں دوبارہ منتخب ہو کر سینیٹ میں رہے۔ مارچ میں ایم کیو ایم سے مستعفی ہو کر گذشتہ دنوں پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے ان سے خصوصی گفتگو کی، جو قارئین کے پیشِ خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: ایک طرف مہنگائی بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف عوام کو خواب بھی دکھائے جا رہے ہیں، کیا لگتا ہے عوام کب اپنا ردعمل دیگی۔؟ 
طاہر مشہدی:
دیکھیں اگر موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو صوبہ پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوا اور مرکز میں بھی حکومت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے اور حکمران جماعت پر سے عوام کا اعتماد اُٹھ چکا ہے۔ حکومت عوام کو معاشی بحران سے نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب حکومتی معاملات سے بےخبر ہیں۔ ان کے اندر وہ صلاحیت ہی نہیں ہے کہ گمبھیر حالات سے کیسے نکلا جائے۔ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے جس وزیر کا انتخاب کیا گیا، وہی معیشت کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں، اسد عمر کو معیشت کی گہرائیوں اور اسکی وسعت کا اندازہ ہی نہیں ہے اور وہ اس پر خطرناک تجربے کر رہے ہیں، جس سے معاملات ان کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔ ناتجربہ کاری کی وجہ سے ملکی معیشت بری طرح سے متاثر ہو رہی ہے، حکومت کے ایک ایک قدم سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ابھی تو ڈالر کے بارے میں بھی پیشنگوئیاں ہو رہی ہیں کہ 160 یا اس سے بھی اوپر جائے گا۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے، عوام کو مہنگائی کے تحفے مل رہے ہیں۔ بات یہاں پر بھی ختم نہیں ہوتی، کہا جا رہا ہے کہ ابھی مہنگائی کا ایک طوفان آئے گا، ایسے میں غریب عوام کیا کرے؟ ہم نے تاریخ میں ایسی پہلی حکومت دیکھی ہے، جو اپنی ناکامی کو بھی اپنی کامیابی ظاہر کرتی ہے اور عوام کو کسی نہ کسی طرح دھوکہ دینے کی کوشش کرتی ہے۔ عوام نے ان کو موقع دیا کہ یہ انکی تقدیر کو بدل سکتے ہیں، لیکن افسوس کہ انہوں نے ماضی کی حکومتوں کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں، عوام کا اعتماد اس حکومت سے اٹھا چکا ہے اور جلد ہی اپوزیشن جماعتیں اور عوام مل کر اس حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے۔

اسلام ٹائمز: اپوزیشن جماعتوں سے ایسی توقع رکھنا شائد درست نہیں، کیونکہ انکے سربراہ خود کرپشن کے کیسز میں الجھے ہوئے ہیں۔؟
طاہر مشہدی:
 میرا خیال آپ سے ذرا مختلف ہے، اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آرہی ہیں اور جلد ہی آپ کو اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد دیکھنے کو ملے گا، ہماری بڑی اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر اکٹھی ہیں۔ جہاں تک کرپشن کے کیس میں الجھنے کی بات ہے تو کیس چلنا اور بات ہوتی ہے، کسی کو جان بوجھ کر پھنسانا اور بات ہوتی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کو جان بوجھ کر تنگ کیا جا رہا ہے، تاکہ وہ حکومت کی خامیوں کو پکڑنے کی بجائے اپنے آپ کو بچانے میں الجھے رہیں اور حکومت جو من چاہے کرے۔ اس ساری گیم میں وہ لوگ جو عمران خان کو اقتدار میں لائے اور نیب شامل ہیں، ورنہ کسی کے گھر پر چھاپے مارنے کا کیا جواز بنتا ہے؟ اسی طرح پیپلز پارٹی رہنماؤں کا کیس کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنا، شہباز شریف کو آئے روز عدالتوں کے چکر لگوانا یہ سب طے شدہ ہے۔

اسلام ٹائمز: خیبر پختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کیلئے عمران خان کو اقتدار دیا گیا، آپ کیا کہیں گے۔؟
طاہر مشہدی:
دیکھیں اٹھارویں ترمیم ملک کی بقاء کی ضامن ہے۔ ماضی میں صوبائی خود مختاری نہ ہونے کی وجہ سے ملک کے دو حصے ہوئے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم 2010ء میں اسوقت کی حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر پاس کرائی، لیکن بدقسمتی سے آج اس کی مخالفت میں کچھ لوگ سرگرم ہیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ عمران خان کو اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی غرض سے اقتدار دیا گیا، لیکن ماضی میں آصف زرداری بھی ان خدشات کا اظہار کرچکے تھے کہ ان پر اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کیلئے کافی دباؤ ڈالا گیا۔ اٹھارویں ترمیم سے پہلے صوبائی خود مختاری نہ ہونے سے ملک ٹوٹ گیا اور آج حکومت دوبارہ وہی غلطی دہرانے کی کوشش نہیں کرے گی۔

پاکستان پہلے ہی بیرونی سازشوں سے گِھرا ہوا ہے اور مرکز کی مضبوط سیاست ناکام ہوچکی ہے، اب ملک کی بقاء کیلئے صوبوں کا مضبوط ہونا انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان اس پوزیشن میں نہیں کہ مزید کوئی احمقانہ تجربہ کیا جائے۔ جہاں تک ان جماعتوں کے تحفظات کی بات ہے تو اٹھارویں ترمیم کا تحفظ صرف سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس ملک کی عوام نے جس طرح ماضی میں جمہوریت کی بقاء اور مضبوطی کیلئے اہم کردار ادا کیا، اسی طرح آج بھی اس ترمیم کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔

اسلام ٹائمز: بلاول بھٹو زرداری کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ لات مار کر حکومت گرا دینگے، کیا پیپلز پارٹی اس پوزیشن میں نظر آرہی ہے۔؟
طاہر مشہدی:
بلاول جذباتی بچہ ہے، اس بیچارے کو کیا پتہ کہ میں نے کیا کہنا ہے کیا نہیں، اسے جو لکھ کر دیدیا گیا ہوگا، اس نے وہ پڑھ دیا۔ لیکن حقیقت ہے کہ جب آپ کسی کے گریبان پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو وہ آپ کو دھمکاتا ہے اور خبردار کرتا ہے، تو بلاول نے بھی کچھ ایسا ہی کیا ہے۔ جہاں تک پیپلز پارٹی کی پوزیشن کی بات ہے تو وہ اس پوزیشن میں بالکل نہیں ہے کہ حکومت کیلئے کوئی مشکل کھڑی کرسکے، کیونکہ اپوزیشن جماعتیں فی الحال ایک پیج پر اکٹھی نہیں ہوئیں اور پیپلز پارٹی اکیلے حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ہاں اگر باقی جماعتیں ایک دوسرے کا ساتھ دیتی ہیں تو حکومت کیلئے بہت بڑا مسئلہ بن سکتی ہیں۔

اسلام ٹائمز: عوام کو مہنگائی سے نکالنے اور معیشت کی بہتری کیلئے حکومت کو کیا کرنا چاہیئے۔؟
طاہر مشہدی:
عوام کو مہنگائی سے بچانے اور معیشت کو مستحکم کرنے کا واحد راستہ آئی ایم ایف ہے۔ اگر ہماری حکومت عقلمندی سے کام لے تو آئی ایم ایف سے قرضے کے معاملے پر جو پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، وہ ختم ہوسکتی ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھے اور آئی ایم ایف سے رابطہ کرے، تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی آئے، ورنہ حالات مزید بد سے بدتر ہوتے جائیں گے، کمر توڑ مہنگائی کو برداشت کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ مسلسل عوام دشمن اقدامات سے عوام کا جینا محال ہوچکا ہے۔ وزیراعظم صاحب غریب عوام کی غربت اور پسماندگی ختم کرنے کی بجائے غریبوں کو ہی ختم کرنے کے درپے ہیں، سلیکٹڈ حکومت بے حال عوام پر مصائب کے کوڑے برسا رہی ہے، حکومتی نااہلی اور بدانتظامی کی سزا عوام بھگت رہی ہے۔ آپ کھانے پینے کی اشیاء دیکھیں، پیٹرول کی قیمتیں دیکھیں، اس کے علاوہ گیس، بجلی ہر طرف سے عوام کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے غریب عوام کو مہنگائی کا ایک اور تحفہ دیدیا گیا، جس سے مہنگائی کا شدید طوفان آئے گا۔

اسلام ٹائمز: ایران نے اقتصادی پابندیوں کے باجود پاکستان کی ہر ممکن مدد کی، لیکن آج جب ایران مشکل میں ہے تو پاکستان کیجانب سے کنجوسی کا مظاہرہ کیا گیا، عمران خان سے ایسی توقع نہیں تھی۔؟
طاہر مشہدی:
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں جب کبھی بھی قدرتی آفات آئیں، ایرانی حکومت نے ہمارا ساتھ دیا۔ ماضی میں جب پاکستان میں سیلاب آیا تو ایران کی جانب سے فوری طور پر کھانے پینے کی اشیاء، دوائیاں، کمبل، خیمے اور انکے تربیت یافتہ افراد بھیجے گئے۔ ایران نے پاکستان کیلئے ہمیشہ سخاوت کا مظاہرہ کیا۔ جب ایران پر مشکل وقت آیا تو ہفتے بعد صرف زبانی حد تک پیشکش کی گئی۔ حکومت کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر نہ ختم ہونے والی بحث چھڑ گئی اور حکومت کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد انہوں نے ہمت کا مظاہرہ کیا اور انتہائی کم سامان روانہ کیا۔

ہمیں ایران کو اپنا برادر اسلامی ملک سمجھنا چاہیئے اور اسکی تکلیف کا احساس کرنا چاہیئے۔ ہم نے ایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے میں بھی کنجوسی سے کام لیا۔ یہاں ہمارے میڈیا نے بھی بخل سے کام لیا، جو قابل مذمت ہے۔ ایرانی حکومت نے کسی سے مدد کی اپیل نہیں کی، لیکن انہوں نے توجہ ضرور دلائی کہ ایران کی آدھی آبادی سیلاب کی زد میں ہے۔ پاکستان کو یہاں برادر اسلامی ملک کی بھرپور سپورٹ کرنی چاہیئے تھی، جہاں ہم افغانستان کو لاکھوں ٹن مفت گندم فراہم کرسکتے ہیں، وہیں ایران کیلئے بھی امداد فراہم کرسکتے ہیں، لیکن حکومت عالمی ممالک کے دباؤ میں آکر ایسا نہیں کر رہی، جو انتہائی قابل غور بات ہے۔
خبر کا کوڈ : 788134
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے