0
Monday 15 Apr 2019 13:43
صدارتی نظام کی باتوں سے آمریت کی راہ ہموار کی جا رہی ہے

عمران خان کی ضد اور ہٹ دھرمی کیوجہ ملکی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے، سینیٹر غوث محمد نیازی

عمران خان کی ضد اور ہٹ دھرمی کیوجہ ملکی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے، سینیٹر غوث محمد نیازی
سینیٹر غوث محمد نیازی پاکستان مسلم لیگ نون پنجاب کے اہم رہنماء ہیں، 2015ء میں سینیٹ کی جنرل سیٹ سے سینیٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1986ء میں پنجاب سے ایم بی بی ایس مکمل کرنے بعد سے میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کیساتھ ساتھ سیاست میں بھی فعال ہیں۔ خارجہ امور، علاقائی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ سینیٹ آف پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ، قومی ورثہ، واٹر اینڈ پاور اور نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوارڈینشین کمیٹیز کے ممبر رہے۔ موجودہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں اور احتساب سمیت سیاست کو کنٹرول کرنیوالے عوامل سمیت مستقبل کے ملکی و سیاسی منظرنامے کے حوالے لیگی رہنماء کا اسلام ٹائمز کیساتھ انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: گروتھ ریٹ میں گراوٹ اور مہنگائی میں اچانک اضافے کی کیا وجوہات ہیں، موجودہ حکومت پچھلے حکمرانوں کی پالیسیوں کو اسکی وجہ کیوں قرار دے رہی ہے۔؟
سینیٹر غوث محمد نیازی: یہ بڑا ضروری ہے کہ پاکستانی قوم اس پیچیدہ صورتحال کو سمجھے، یہ بحران شروع کیسے ہوا، 2103ء میں ہماری اکانومی 3 فیصد پر تھی، جو 2018ء میں 5 اعشاریہ 8 فیصد پر چلی گئی، یہ اصول ہے کہ ترقی کا عمل شروع ہوتا ہے تو طلب اور اسکے استعمال میں اضافہ ہوتا ہے، اس طلب کی وجہ سے درآمدات کا دباؤ بڑھتا ہے، کارخانے بند تھے، 12 ہزار میگا واٹ بجلی دی گئی، جب کارخانے چلے تو صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوا اور صنعت کیلئے خام مال کی طلب پیدا ہوئی، پھر درآمدات میں اضافہ ہوا، اسی طرح روڈز، انفراسٹرکچر اور توانائی کے بڑے بڑے پروجیکٹس شروع کیے گئے۔ اکانومی چل پڑی تو اس میں جدت بھی آئی، جس کی وجہ سے فطری طور پر درآمدات میں اضافہ ہوتا ہے، اب مسئلہ یہ تھا کہ تین ذرائع زرمبادلہ چاہیئے تھا، ایک برآمدات سے، ایک بیرون ملک سے آنیوالی رقوم سے اور ایک براہ راست بیرونی سرمایہ کاری سے۔

اب امن امان کے مسائل اور انرجی بحران کے باوجود برآمدات بہتر ہوئیں، بیرون ملک سے آنیوالی رقوم 19، 20 ارب ڈالر تک تھیں، اسی طرح سی پیک کی وجہ سے براہ راست بیرونی سرمایہ کاری آنا شروع ہوئی، لیکن جب منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دیا گیا اسوقت پہلا دھچکا لگا، باہر سے آنیوالی سرمایہ کاری کو، وہ سب کچھ رک گیا، ان فیصلوں کا اثر دہشت گردی سے بھی زیادہ منفی طور پر پڑا ملکی معیشت پر۔ لیکن بعد میں پھر جب حکومت نے کام شروع کیا تو اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ نے کہا کہ مسلم لیگ نون دوبارہ 2018ء میں الیکشن جیت کے آجائیگی، اس سے پھر یقینی صورتحال پیدا ہوئی، لیکن مارچ میں جا کر پھر عالمی میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ نون لیگ کو دوبارہ نہیں آنے دیا جائیگا، اس سے ایک دم ماحول میں ناامیدی اور مایوسی پیدا ہوگئی، پھر ساری انویسٹمنٹ رک گئی۔ بعد میں الیکشن ہوا، الیکشن کے بعد یہ لوگ آئے، انہوں نے پورے سات مہینے کوئی فیصلہ تک نہیں کیا، آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے، نہیں جانا ہے۔

اسلام ٹائمز: حکومت تو خود دو حصوں میں تقسیم ہے، فیصلے ہو بھی جائیں تو عملدرآمد ممکن نہیں ہوتا، ایسے میں عالمی اداروں کیطرف سے آنیوالی رپورٹس ایک پروپیگنڈہ ہیں یا انکی کوئی حقیقی بنیاد موجود ہے۔؟
سینیٹر غوث محمد نیازی: اصل بات یہ ہے کہ اکانومی 50 فیصد اسٹرکچر کا نام ہے، 50 فیصد آپ کے آراء، فیصلے اور گرم جوشی پہ منحصر ہوتی ہے۔ جنوری 2018ء میں ورلڈ بینک کی رپورٹ تھی کہ پاکستان 2019ء میں 6 فیصد سے اضافہ کیساتھ ترقی کریگا، انہیں ہماری ادائیگیوں اور قرضوں کی صورتحال کا پتہ تھا، کیونکہ وہ ہمارے پچھلے مومنٹم کو دیکھ کر کہہ رہے تھے، لیکن جب ہم نے اپنے ہاتھوں سے اس موممنٹم کو روک دیا، تو پھر دنیا اس کے مطابق ہی پاکستان کو دیکھنا ہے، ورلڈ بینک کی موجودہ رپورٹ کی وجوہات موجودہ حکومت کی طرف سے ہر قسم کی پالیسی اور فیصلوں کا فقدان ہے۔ جب پاکستان کا اپنا وزیر خارجہ یہ کہے کہ آنے والے ہفتے میں ہمارے ملک پر حملہ ہوسکتا ہے تو کسی سرمایہ کار کا دماغ خراب ہے کہ وہ ایسے ملک میں سرمایہ لگائے۔ اس حکومت کے بغیر سوچے سمجھے نعروں اور بیانات نے ساری صورتحال کو خراب کرکے رکھ دیا ہے۔

اس سے پہلے پوری دنیا میں جا کر کہتے رہے ہیں کہ منی لانڈرنگ اور کرپشن ہے پاکستان میں، تو کسی کا کیا قصور ہے اس میں، ساری تباہی کے ذمہ دار یہ موجودہ حکمران خود ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا بزنس مین میاں منشاء ہے، اسی طرح کراچی کے جتنے بڑے بزنس مین ہیں، سب کو نیب رسوا کر رہا ہے، وہ تنگ ہیں، یہ انکی ہمت کہ وہ پاکستان میں بیٹھ کر کاروبار کر رہے ہیں۔ یہ جو واویلا کرتے ہیں کہ گذشتہ حکومتوں نے معیشت میں بگاڑ پیدا کیا ہے، یہ بھی انکی ناسمجھی اور بے وقوفی کی دلیل ہے، اصل میں انہیں حکومت اور معیشت دونوں کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں ہے، نہ ہی یہ اس پوزیشن میں ہیں کہ کبھی درست فیصلے کرسکیں، آئندہ آنے والے دلوں میں رہی سہی کسر بھی نکال دینگے، ان سے چھٹکارا حاصل کیے بغیر ملک کو آگے بڑھانا ممکن نہیں، اس کے باجود ہم چاہتے ہیں کہ یہ سسٹم ڈی ریل نہ ہو۔

اسلام ٹائمز: کیا برآمدات کو بڑھانے کیلئے روپے کی قدر میں کمی ضروری ہے، جبکہ اس سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔؟
سینیٹر غوث محمد نیازی: قطعی طور پر ہماری برآمدات کا دارومدار روپے کی قدر میں کمی لانے پر نہیں ہے۔ وہ اس لیے کہ ہمیں 60 سے 70 فیصد خام مال باہر سے منگوانا پڑتا ہے، اب جونہی روپے کی قدر میں کمی لاتے ہیں، پیداوار کی لاگت میں فوری طور پر اضافہ ہو جاتا ہے، پھر جو آپ کا خریدار ہے، وہ بھی کہتا ہے مجھے ڈسکاونٹ دیں، ہماری برآمدات زیادہ تر وہیں کی وہیں رہتی ہیں، روپے کی قدر میں کمی ہو یا نہ ہو۔ موجودہ حکومت نے بغیر سوچے سمجھے یہ فیصلے کئے ہیں، خود آئی ایم ایف ہمیں کہتا ہے کہ 120 روپے ایک ڈالر کے مقابلے ٹھیک ہے۔ پتہ نہیں انہیں کس دانشور نے یہ مشور دیا ہے، ان پالیسیوں سے لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی فائدہ اٹھا رہا ہے، حکمران طبقے کو یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے، یہ پالیسیاں ملک اور قوم کے مفاد کی بجائے کسی شخص یا گروہ کے مفادات کی عکاسی کر رہی ہیں۔

140 تک ڈالر کو لیجانا خودکشی کے مترداف ہے۔ پھر یہ کاروبار میں آسانیوں کی بات کرتے ہیں، انہوں سود کی شرح اتنی بڑھا دی ہے کہ کاروبار کرنا ہی ناممکن ہو جائیگا۔ ہم نے بہت ساری اصلاحات بھی کی تھیں، ایف بی آر نے دو سے بڑھا کر چار ٹریلین تک ٹیکس اکٹھا کرنا شروع کر دیا تھا، اب اس کے بالکل الٹ ہو رہا ہے، ٹیکس بھی کم جمع ہو رہا ہے اور رشوت ستانی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایف بی آر زیادہ بدنام ہو رہا ہے، لوگ اعتماد نہیں کر رہے، کوئی ٹیکس دینے کو تیار نہیں ہے، معیشت مزید دگرگوں ہونے جا رہی ہے۔ فی کس آمدن میں بھی کمی آئی ہے، انڈیا اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں، اسکی وجہ بھی یہی روپے کی قدر میں کمی ہے، اس کے کہیں پر بھی مثبت اثرات نہیں نظر آرہے، نہ یہ پالیسی درست ہے۔ بنگلہ دیش اور انڈیا کیوں آگے چلے گئے، صرف استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل اسکی وجہ ہے، عدم تسلسل اور عدم استحکام کی ذمہ دار موجودہ حکمران پارٹی ہے، دوسرا نام نہاد فیصلے ہیں، جو سیاسی قیادت کیخلاف آتے رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے حکومت گرانے کیلئے مولانا فضل الرحمان کا ساتھ بھی نہیں دیا، تو کیا یہ بحران کہیں رکتا نظر آرہا ہے۔؟
سینیٹر غوث محمد نیازی: آج اقتصادی بدحالی سمیت سارے بحران کی وجہ انتظامی سطح پر موجود بحران ہے، کوئی بندہ کسی بھی سطح پر دستخط کرنے کو تیار نہیں ہے، اس وقت پاکستان کو انہوں نے مکمل طور پر غیر فعال اکانومی میں بدل کر رکھ دیا ہے، ایک طرف ماحول خراب کر دیا ہے اور دوسری طرف انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے، کوئی ایک قدم بھی آگے بڑھنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ لوگ جو اقتدار میں بیٹھے ہیں، انہیں معلوم ہی نہیں کہ اکانومی کو کیسے چلانا ہے۔ انکی صورتحال یہ کہ ایک محلے کی سطح کا کاروبار نہیں چلا سکتے، اناڑی ہیں یہ لوگ، ملک کی اقتصادیات کیسے چلا سکتے ہیں۔ نہیں چلا سکتے، ملک کے پاس سب کچھ موجود ہے، کسی چیز کی کمی نہیں ہے، سارے وسائل اور امکانات موجود ہیں، لیکن انکی کے اندر مطلوبہ اہلیت کا فقدان ہے۔ جب ہم نے اسٹیل مل اور پی آئی اے میں اصلاحات کی کوشش کی تو موجودہ حکومت نے باقی اپوزیشن کیساتھ مل کر قانون بنوایا، اب خود اس میں پھنس گئے ہیں۔

یہی حکومت جب اپوزیشن میں تھی تو بھی یہ غیرذمہ دار تھے، لوگوں کو سمجھ ہی نہیں، عوام نے پتہ نہیں کیسے ان پر اعتماد کیا، بلکہ عوامی مینڈیٹ کا خون کرکے انہیں غلط طریقے سے اقتدار میں لایا گیا، اب پوری قوم اس کی سزا بھگت رہی ہے، یہ الیکشن میں ہونیوالی دھاندلی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک ایک بحران سے نکل نہیں پاتا اور دوسرا بحران سر اٹھائے کھڑا ہوتا ہے۔ اب جب ملک کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے تو ہر پاکستانی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اسے ڈوبنے سے بچائے، ورنہ یہ خود بھی غوتے کھائیں گے اور ملک کا بیڑا بھی غرق ہو جائیگا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اب جس کے ہاتھ اس بیڑے کی کپتانی ہے، وہ تو اس ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی کو جیلوں میں ڈالنا چاہتا ہے، ملک کیلئے کسی کو کام ہی نہیں کرنے دے رہا، سوائے تباہی کے اب کچھ ہاتھ نہیں آئیگا۔

انہوں نے اب ایسی صورتحال پیدا کی ہوئی، سب کو دشمن قرار دیکر کہ اب پاکستان کو برباد ہونے کیلئے باہر سے کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے، یہ کام یہ حکمران اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس پر فخر ہے، یہ اس سے بھی بڑا المیہ ہے۔ یہ جو انہوں نے صلیبی جنگ شروع کی ہوئی ہے اور روزانہ کہہ رہے کہ ہم سب لوگوں کو پکڑیں گے، یہ کرتے رہیں، جلد ہی انکا اپنا دھڑن تختہ ہو جائیگا، ہماری کوشش یہ ہے کہ جمہوری نظام پٹڑی سے نہ اترے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ جو راستہ انکا ہے، اس کا نتیجہ صرف تباہی ہے، یہ ہم سب جانتے ہیں کہ اکانومی کو کوئی اکیلے نہ چلا سکتا ہے، نہ ٹھیک کرسکتا ہے۔ مشترکہ اور مثبت اقدامات کی ضرورت ہے، مثبت ماحول اور کارساز فضا پیدا کرنیکی ضرورت ہے، اس کے لیے ہم جو دباؤ بڑھا سکتے ہیں، فی الحال ہماری کوشش یہ ہے۔

اسلام ٹائمز: سیاست کو اکانومی سے الگ تو نہیں کیا جا سکتا، جیسے پولیٹیکل اکانومی ہے، کرپشن میں ملوث سیاستدان ہیں، حکومت بھی وہی چلاتے ہیں، کیا نیب کے اقدامات بھی معیشت جو متاثر کر رہے ہیں۔؟
سینیٹر غوث محمد نیازی:
احتساب سے تو کسی کو انکار نہیں، لیکن جب مشرف نے نیب کی بنیاد رکھی تھی، اسی وقت متعدد حلقوں سے یہ آواز اٹھی تھی کہ یہ ادارہ صرف سیاستدانوں کو ادھر ادھر کرنیکے لیے بنایا گیا ہے، اسی لیے پی ٹی آئی کے اندر سے بھی یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں، حالانکہ حالات تو یہی بتا رہے ہیں کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ عروج پر ہے۔ نہ صرف اقتصاد بلکہ ریاست اور حکومت کے تمام تر معاملات سیاستدانوں کی ذمہ داری ہوتے ہیں، بشرطیکہ حکومت آمرانہ نہ ہو، ابھی عمران خان کا مزاج ہی آمرانہ ہے، اسی صدارتی نظام کی باتیں ہو رہی ہیں، اپنے علاوہ کسی کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ وہ حکومت کی ذمہ داری امانتداری سے سنبھال سکتے ہیں۔ حقیقت میں انہیں سمجھ ہی نہیں کہ معاشرے میں حکومت کتنی ضروری ہے اور حکومت کی ذمہ داریاں کیا ہیں، صرف معیشت ہی اس وقت سے بڑا کنسرن ہے، لیکن معیشت کو جب سیاسی انداز میں دیکھیں تو یہ بہت حساس چیز بن جاتی ہے، کیونکہ اس سے کروڑوں لوگوں کی زندگی جڑی ہوئی ہے۔ اپنی نااہلی چھپانے کیلئے احتساب کے نام پر لوگوں کی عزتیں اچھال رہے ہیں، اگر سب لوگ نااہل بھی ہو جائیں تو عمران خان کی اہلیت ثابت نہیں ہوسکتی، معیشت اس حد تک گر چکی ہے کہ اب ملکی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے، یہ لوگ مقامی سطح کی سیاست کے بھی اہل نہیں ہیں۔

ان کے پاس کوئی پالیسی نہیں نہ معاشی نہ سیاسی، ہر روز نئے سے نیا خواب دیکھتے ہیں یا کسی سے فال نکلواتے ہیں، یہ رائے اب پختہ ہوچکی ہے کہ اس سیٹ اپ کیخلاف کسی قسم کی تحریک کی ضرورت نہیں پڑیگی، یہ اپنے بوجھ سے دب جائیں گے۔ لیکن انکی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان اور پاکستانی عوام کا ہو رہا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ملک کی ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ ہے، جو مملکت کی بنیادیں کمزور کر رہے ہیں، ایسی صورتحال میں نہ صرف جمہوریت خطرے میں پڑ سکتی ہے، بلکہ مستقبل میں ایسا نظام مسلط ہوسکتا ہے، جس سے بنیادی انسانی حقوق ہی سلب ہو جائیں۔ عمران خان کی جانب سے مسلسل صدارتی نظام کی باتیں اور صوبوں کے حقوق ختم کرنے کے اشارے ملک کی جڑیں ہلا دینگے، جن لوگوں کو وزیراعظم نفیس ترین سیاستدان قرار دے رہے ہیں، اسکی یہی وجہ کہ ایم کیو ایم نے صوبوں میں مداخلت اور انکے حقوق محدود کرینکی باتیں کی ہیں، یہ بھیانک مستقبل کی دلیل ہے، حالات بدتر ہو رہے ہیں، سیاستدانوں کو مطعون کرنے سے یہ حالات اور زیادہ خراب ہوسکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 788246
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب