0
Friday 12 Apr 2019 19:05
نظام میں اصلاحات کیلئے کئی سال درکار ہیں

اقتصادی تباہی مچانے والے مجرم سیاستدانوں کی کارستانیوں اور سیاست کو گڈمڈ کیا جا رہا ہے، عمر ایوب خان

نواز زرداری اور مولانا کا ٹرائیکا ریاستی اداروں پر دھاوا بولنے کی تیاریوں میں مصروف ہے
اقتصادی تباہی مچانے والے مجرم سیاستدانوں کی کارستانیوں اور سیاست کو گڈمڈ کیا جا رہا ہے، عمر ایوب خان
وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان 1970ء میں پیدا ہوئے، جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکہ سے ایم بی اے مکمل کیا۔ 2002ء سے 2007ء میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی کابینہ کا حصہ رہے۔ 2012ء میں مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کی، 2014ء سے 2015ء تک رکن قومی اسمبلی رہے اور 2018ء میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو کر پھر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ موجودہ سیاسی عدم استحکام، پاکستانی معیشت کے متعلق عالمی اداروں کی منفی صورتحال دکھاتی رپورٹس اور آئندہ کیلئے حکومتی پالیسیوں سمیت اہم ایشوز پر انکے ساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: تمام عالمی ادارے اور مقامی ماہرین ملکی معیشت کی سست روی اور زبوں حالی کا نوحہ سنا رہے ہیں، اسکی کیا وجوہات ہیں۔؟
عمر ایوب خان:
یہ رپورٹس ہمیشہ ایسی ہی ہوتی ہیں، ان سے گھبرانا نہیں چاہیئے، 2018ء میں لیگی دور حکومت کے اختتام پر اس سے بھی زیادہ بری رپورٹس تھیں کہ پاکستانی معیشت مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار ملک سے بھاگ رہا ہے، اقتصادی ترقی کی شرح نیچے جا رہی ہے، حکومت کے پاس کوئی چارہ کار نہیں۔ اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ کاروبار زندگی چھوڑ دیں اور سر پکڑ کے بیٹھ جائیں، حکومتوں کے آغاز میں ایسی مشکلات ہوتی ہیں، ان سے نکلنے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے، جو ابھی باقی ہے۔ اسوقت بے روزگاری اور غربت میں ہونیوالا اضافہ اب کی نسبت بہت زیادہ تھا، تجارتی خسارہ بڑھ رہا تھا، تعلیم اور صحت کی سہولیات کا مسلسل فقدان تھا، آمدن اور اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا تھا، لیکن اس کے مقابلے میں ہمارے دور کی صورتحال پہلے کی نسبت بہتر ہو رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: مہنگائی کی شرح میں اضافہ، ٹیکس جمع آوری میں کمی، اسٹاک مارکیٹ روزانہ کی بنیاد پہ گر رہی ہے اور ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ موجود ہے، تو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بہتری آرہی ہے۔؟
عمر ایوب خان:
موجودہ بحران کی ایک سادہ سی وجہ ادائیگیوں میں توازن نہ ہونا ہے، مفتاح صاحب کے دور میں ہی یہ بحران ابھرنا شروع ہوا تھا، پھر نگران حکومت آئی اور انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم اس پر کوئی پالیسی لائیں یا اسے روکیں، جب نئی حکومت آئی تو 20 ارب ڈالر کا فنانسنگ گیپ تھا، 18 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاونٹ ڈیفیسٹ تھا، کیونکہ ٹریڈ ڈیفیسٹ 35 ارب ڈالر تھا، بیرونی قرضے کی 8 سے 10 ارب ڈالر کی واپسی تھی، جس کے لیے پیسے موجود نہیں تھے، ریزروز صرف ایک ماہ سے پانچ ہفتوں کے برابر تھے، یہ بڑا سنگین بحران تھا۔ اسکی وجہ سے فوری طور دیوالیہ ہونے کا خدشہ تھا، حکومت نے دوست ممالک سے پیسہ لیکر ملک کو اس بحران سے نکالا، اب ہم کم از کم چل رہے ہیں۔ جو پیسہ باہر سے آیا ہے، وہ لگ چکا ہے، اس دوران روپے کی قدر میں کمی بھی آئی ہے، اسکی وجہ یہی ٹریڈ اور کرنٹ ڈیفیسٹ تھا، ساتھ ہمارے ریزروز بھی نہ ہونے کے برابر تھے، ڈالر تھے ہی نہیں، جو مارکیٹ میں پھینک کر روپے کو مستحکم رکھا جا سکتا۔ اسی طرح برآمدات بڑھانے میں بھی زیادہ ٹائم لگتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ بہتری آرہی ہے تو اس سے مراد جو مسائل میں نے بتائے ہیں، ان سے چھٹکارا پانے کیلئے ہم نے جو راستہ نکالا ہے وہ ہے۔

ان سب چیزوں کی وجہ سے مہنگائی کی شرح اور بڑھنا تھی، جو روک لی گئی ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، پچھلے پانچ سال سے کئی گنا زیادہ تیل اب اوپر جا چکا ہے، لیکن ان شاء اللہ اس بحران سے ملک کو نکال رہے ہیں اور قوم کو مایوس نہیں ہونے دینگے۔ اب ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ صورتحال میں اکانومی کو سست کرنا مجبوری ہے، کیونکہ تجارتی خسارے کو کنٹرول مشکل ہو رہا ہے، اسوقت ہماری جتنی انرجی ہے، وہ امپورٹڈ بن چکی ہے، کوئلے کے پلانٹس لگائے گئے ہیں، جو باہر سے منگوانا پڑتا ہے۔ حالانکہ اپنے ہی وسائل اور ذرائع پر فوکس کیا جا سکتا تھا، لیکن بدقسمتی سے نہیں کیا گیا۔ اب جو بھی صورتحال ہے، وہ ہم قوم کے سامنے رکھ رہے ہیں، جھوٹ بالکل نہیں بولیں گے، نہ مشکل حالات میں قوم کو تنہاء چھوڑیں گے، جس ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے، ترقی کی راہ پر بھی ڈالیں گے۔ بنیادی چیز انرجی تھی، جو بہت مہنگی بنائی گئی، اب امپورٹڈ کوئلے کی بجائے پانی اور سولر پر کام کر رہے ہیں، کوشش کرینگے کہ مقامی وسائل کو زیراستعمال لائیں، آسانی ہوگی یا مشکل اس سے گذرنا پڑیگا۔ کسی مصنوعی طریقے سے دھوکہ دینے کی کوشش نہیں کرینگے۔

اسلام ٹائمز: آخر کار وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے پاس چلے گئے ہیں، انکی شرائط بھی پوری کی جا رہی ہیں، یہی کام پہلے کر لیا جاتا تھا تو بہتر نہیں تھا۔؟
عمر ایوب خان:
یہ اتنا آسان نہیں ہوتا، پچھلی دفعہ جب آئی ایم ایف کا آخری پروگرام مکمل ہوا تھا تو وہ لوگ پاکستان آئے تھے، انہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ تو اب مکمل ہوگیا لیکن اصل کام ابھی باقی ہے، وہ ہیں اصلاحات، بڑی سطح کی اصلاحات کیلئے انہوں نے 2016ء میں کہا تھا، جنکا تعلق بجلی سے تھا، کیونکہ پاور سیکٹر اچھے طریقے سے کام نہیں کر رہا تھا، اس میں چوری بہت زیادہ ہے، ابھی بھی اس سیکٹر کوئی مسابقت کا ماحول نہیں ہے، سارا نظام وفاقی حکومت اسلام آباد سے چلاتی ہے، جبکہ اس کے لیے مارکیٹ بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری بات انہوں نے 2016ء میں یہ کہی تھی کہ ایف بی آر میں اصلاحات کی جائیں، ٹیکس کی شرح کم ہو، لیکن ٹیکس نیٹ زیادہ وسیع ہو، ٹیکس ادائیگی میں آسانیوں کے حوالے سے پاکستان 170ویں نمبر پر ہے، تیسری چیز انہوں نے یہ کہی تھی کہ سرمایہ کاری کیلئے پٌاکستان کا ماحول موزوں نہیں ہے، لاگت بہت زیادہ ہے، کاروبار کرنے میں دشواریاں ہیں۔

اب ہوا یہ کہ 2016ء میں اصلاحات میں سے کسی ایک ایشو کو بھی ایڈریس نہیں کیا گیا، کوئی کام نہیں ہوا، اسی طرح زرداری صاحب کے دور میں بھی بغیر اصلاحات کے ہی کام چلایا گیا تھا۔ اب آج صورتحال یہ ہے کہ صرف پاور سیکٹر کا 1500 ارب کا سرکلر ڈیٹ ہے، یہ وہ خرچہ ہے، جو خرچ ہوچکا ہے لیکن اسکی قیمت ادا کرنیوالا کوئی نہیں ہے۔ اب پھر یہ ٹیکس ادا کرنیوالے دینگے یا استعمال کنندگان دینگے، اس لیے ہے یہ مہنگائی میں اضافہ۔ یہ بٹن دبانے سے ٹھیک ہونیوالا نہیں ہے، اس کے لیے بڑی سطح کی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اب ہم یہ اصلاحات کر رہے ہیں، بجلی کا نظام ٹھیک کر رہے ہیں، ایف بی آر کو بھی ٹھیک کر رہے ہیں، کاروبار میں آسانیاں پیدا کر رہے ہیں، سرمایہ کاری کیلئے ماحول کو سازگار بنا رہے ہیں، جس وجہ سے ہمیں امید ہے کہ یہ مسئلے ہم حل کر لیں گے۔ انڈیا اگر ہم سے آگے جا رہا ہے تو اسکی وجہ بھی اصلاحات ہیں، جو انہوں نے کی ہیں۔ 2016ء میں اصلاحات ہو جاتیں تو آج کوئی مشکل نہ ہوتی۔ اب ہم اس پوزیشن میں آگئے ہیں کہ آئی ایم ایف سمیت تمام اداروں سے اپنی شرائط پہ بات چیت کرسکیں۔

اسلام ٹائمز: وہ شرائط جن پہ حکومت آئی ایم ایف سے بات کر رہی ہے، کیا پارلیمنٹ کو اس پہ اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔؟
عمر ایوب خان:
ایک بات تو یہ ہے کہ گردشی قرضے اب کم ہو رہے ہیں، ریزروز بھی اب نیچے نہیں جا رہے، اکانومی کی سمت اب درست ہے، اب بھی آئی ایم ایف کیساتھ جو پروگرام ہوگا، وہ سخت ہی ہوگا، کیونکہ ابھی بہت ساری اصلاحات باقی ہیں، جو مکمل نہیں ہوئی ہیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ شروع ہوگئی ہیں۔ بس اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ڈیفالٹ سے بچنے کیلئے ہم آئی ایم ایف کے پاس جاتے تو ہمیں ایسی مشکلات کا سامنا ہوتا، جو ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس ساری صورتحال میں جو بھی پالیسی بنے گی، وہ پارلیمنٹ میں لائیں گے اور پھر آئی ایم ایف سے معاہدہ کرینگے۔ اب بھی ضروری ہے کہ سایست کو اکانومی سے الگ رکھیں، المیہ یہ ہے کہ اقتصادی تباہی مچانے والے مجرم سیاستدانوں کی کارستانیوں اور سیاست کو گڈمڈ کیا جا رہا ہے، انکے لیے اب پاکستان میں کوئی جگہ نہیں، مشکل ہوگی یا آسانی، یہ سب ملک کیلئے ہوگا۔ کرپٹ سیاستدانوں کو اپنے جرائم کی سزا بھگتی ہوگی، لیکن بزنس مین کیمونٹی کو اس میں کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیئے، ان کے لیے صاف ستھرا نظام بنائیں گے، آئی ایم ایف کا پروگرام بھی اسی ضمن میں ہوگا۔

اسلام ٹائمز: اصلاحات اپنی جگہ پہ ضروری ہیں، لیکن اب تو دکھائی دے رہا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ کے پاس کوئی ویژن اور کوئی اسٹریٹیجی ہی نہیں ہے۔؟
عمر ایوب خان:
بات یہ ہے کہ حقائق کو مدںظر رکھا ہی نہیں جا رہا، جب آپ کے پاس صرف چار ہفتے کے ریزروز ہیں، کوئی ایسی پالیسی بنائی ہی نہیں جا سکتی، جس سے دنوں میں بحران پہ قابو پایا جاسکے اور 1500 ارب کا گردشی قرضہ ختم کیا جاسکے۔ کسی نے صلاحیت کو بڑھایا ہی نہیں ہے، خسارے پہ خسارہ ہے، اسٹیٹ بینک، نیپرا، اوگرا، ایس ای سی پی تک کوئی ادارہ نہیں، جو یہ توانائی رکھتا ہو کہ وہ معاملات کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر ویژن ہے بھی تو آپ کیا پالیسی اختیار کرینگے، جادو تو کر نہیں سکتے، نہ ہی الہٰ دین کا چراغ ہے، یہ کئی برسوں کی خرابی ہے، کم از کم وہ تو قوم کے سامنے لیکر آئے ہیں، اب آگے بھی بڑھیں گے۔ اصلاحات مشکل کام ہے، اسی سابق حکومتوں نے اصلاحات کی بجائے، قرضوں سے کام چلایا اور اگلے سے اگلے الیکشن کی تیاریوں میں اپنی باری لینے کیلئے مصروف رہے، اب ایسے نہیں چلے گا۔ پیداوار کو بڑھانے کیلئے اصلاحات بھی لانا ہونگی اور لاگت کم کرنا ہوگی، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: نون لیگ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے مابین بڑھتی ہوئی قربتوں کو کس طرح دیکھتے ہیں۔؟
عمر ایوب خان:
یہ ساری کوششیں کرپشن بچاؤ تحریک کے ذریعے اداروں پر دھاوا بولنے کی تیاریوں سے منسلک ہیں۔ یہ بالکل درست ہے کہ زرداری اور مولانا سپریم کورٹ پر حملے کے لیے نون لیگی تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، پہلے بلاول اور اب مولانا فضل الرحمان اس حوالے سے نواز شریف سے مشورہ کرنے پہنچے تھے، بلاول نواز شریف سے ملاقات کے بعد عدالت میں پیش ہوئے تو پیپلز پارٹی نے نیب عدالت، پولیس اور صحافیوں پر حملہ کر دیا، نیب نے حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو نیب ٹیم پر تشدد کیا گیا، اب مولانا نواز شریف سے ہدایات لینے پہنچے ہیں کہ اگلا حملہ کب اور کہاں کرنا ہے۔؟

اسی طرح دیکھیں کہ اب پھر قمر زمان کائرہ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ پچھلی پیشی پر جو ہوا، وہ ٹریلر تھا، آئندہ اس سے بھی بڑھ کر ہوگا، شریفوں اور زرداریوں کے پاس عدالت کے سامنے اپنی صفائی کیلئے کہنے کو کچھ نہیں، مولانا انتخابات میں عبرتناک شکست کا بدلہ قوم اور ریاست سے لینا چاہتے ہیں، نواز زرداری اور مولانا کا ٹرائیکا ریاستی اداروں پر دھاوا بولنے کی تیاریوں میں مصروف ہے، لیکن ہم ہر سازش کا منہ توڑ جواب دیں گے، کسی کرپٹ اور شرپسند سیاسی شعبدے باز کو سازش کی اجازت نہیں دیں گے، احتساب رکے گا، نہ ہی کوئی فتنہ انگیزی برداشت کریں گے، ہر سیاسی حملے کا جواب دیں گے، مگر اداروں پر یلغار کی کوشش گوارا نہیں کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 788248
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب