0
Friday 12 Apr 2019 23:30
قوم اپنے شہداء کے پاک خون کو کسی صورت رائیگاں نہ جانے دے

میرے بابا سمیت سانحہ تین شعبان کے شہداء کے قاتل ملک عمر کا قانونی تعاقب انجام کو پہنچانے تک کرینگے، حسین اکبر

عزاداری سیدالشہداء (ع) کی بقاء کیلئے میرے شہید بابا ہی نہیں، ہم سب کی جانیں حاضر ہیں
میرے بابا سمیت سانحہ تین شعبان کے شہداء کے قاتل ملک عمر کا قانونی تعاقب انجام کو پہنچانے تک کرینگے، حسین اکبر
11 مئی 2016ء بمطابق تین شعبان المعظم کو تحریک حسینی پاراچنار کے زیراہتمام سالانہ جشن امام حسین علیہ السلام کے حوالے سے منعقد ہونیوالے جلسہ میں شرکت کیلئے آنیوالے شیعہ، سنی علمائے کرام کو اسوقت کی تنگ نظر و معتصب انتظامیہ نے کرم میں داخل ہونے سے روکا، جس پر احتجاج کرنیوالوں کیخلاف بدترین ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایف سی نے 3 احتجاجی مظاہرین کو شہید اور 10 کو زخمی کر دیا تھا۔ ان شہید ہونیوالوں میں ایک بزرگ اور تحریک حسینی کے دیرینہ کارکن سید حاجی علی اکبر بھی تھے، شہید حاجی علی اکبر کا تعلق پاراچنار کے نواحی علاقہ کڑمان سے تھا، اس سانحہ کو تین سال مکمل ہوچکے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے شہید علی اکبر کے صاحبزادے سید حسین اکبر کیساتھ اس اندوہناک واقعہ اور انکے شہید بابا کے حوالے سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)
 
اسلام ٹائمز: سب سے پہلے تو اپنے شہید بابا کی شخصیت کے حوالے سے ہمارے قارئین کو آگاہ کیجئیے گا۔؟
سید حسین اکبر: ﷽۔ میرے بابا بہت ہی شفیق انسان تھے، وہ انتہائی متقی و پرہیزگار اور نماز روزہ کے انتہائی پابند تھے، ان کا سب گھر والوں سمیت علاقہ کے لوگوں کیساتھ رویہ بہت ہی شفیقانہ تھا۔ وہ قومی مسائل پر بہت پریشان ہوتے تھے اور ان کے حل میں بہت دلچسپی رکھتے تھے۔
 
اسلام ٹائمز: سانحہ سے قبل اس روز آپکے بابا کی مصروفیت کیا تھی۔؟
سید حسین اکبر: اس روز بابا جب صبح بیدار ہوئے تو انہوں نے غسل کیا، نئے کپڑے پہنے اور شہر چلے گئے، میں بھی اس مبارک دن کی مناسبت سے تیار ہوا اور اپنی دکان پر چلا گیا، پھر بابا میری دکان پر آئے، وہاں انہوں نے چائے پی اور پھر یہ کہہ کر رخصت ہوگئے کہ میں مدرسہ خامنہ ای جا رہا ہوں، آپ بھی وہاں آجانا، کچھ دیر بعد میں بھی وہاں روانہ ہوگیا۔
 
اسلام ٹائمز: اس روز احتجاج کا فیصلہ کیوں کیا گیا، مسئلہ بات چیت سے حل نہیں ہوسکتا تھا۔؟
سید حسین اکبر: جب میں جشن کے پروگرام میں شرکت کیلئے مدرسہ خامنہ ای پہنچا تو وہاں مولانا منیر جعفری صاحب نے آگاہ کیا کہ اے پی اے شاہد خان اور ایف سی کمانڈر ملک عمر نے پنجاب سے آنے والے ہمارے معزز مہمان علمائے کرام کو کرم میں داخل ہونے سے روک دیا ہے اور انتظامیہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے، پھر فیصلہ ہوا کہ صدارہ کے مقام پر ہم پرامن طریقہ سے احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔ ہماری غیرت یہ ہرگز گوارہ نہ کرسکتی تھی کہ ہمارے مہمانوں کو اسطرح واپس بھیج دیا جائے اور ہم خاموش بیٹھے رہیں۔ جب احتجاج کا فیصلہ ہوا تو میں نے وہاں بابا کو کہا کہ آپ گھر چلے جائیں، احتجاج ہم جوانوں کا کام ہے، بابا نے انکار کیا اور کہا کہ نہیں میں ضرور احتجاج میں شریک ہوں گا۔ اس کے بعد ہم نے صدارہ کے مقام پر پہنچ کر پرامن دھرنا دیا۔
 
اسلام ٹائمز: پرامن دھرنے پر ایف سی نے بے رحمانہ فائرنگ کیوں کی۔؟
سید حسین اکبر: یہ واقعی پرامن احتجاج تھا، ہم نے دوسری طرف سے آنے والے اہلسنت بھائیوں کو بھی نہ روکا، ان کا راستہ بھی کھلا ہوا تھا، مسئلہ یہ تھا کہ کرنل عمر اور شاہد خان آغا سید عابد الحسینی صاحب اور تحریک حسینی سے بغض رکھتے تھے، کیونکہ صرف ایک تحریک حسینی ہی تھی، جو قومی مسائل پر حکومت سے ڈٹ کر بات کرتی تھی، ہمارا پرامن احتجاج جاری تھا کہ ایف سی والوں نے ملک عمر کے حکم پر نہتے اور پرامن مظاہرین پر سیدھا فائر کھول دیا، جس کے نتیجے میں میرے بابا سید حاجی علی اکبر سمیت تین افراد شہید اور 10 سے زائد لوگ زخمی ہوگئے۔ وہ لمحہ میرے لئے انتہائی سخت تھا، جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے بابا بھی منصب شہادت پر فائز ہوچکے ہیں۔
 
اسلام ٹائمز: اس واقعہ کے بعد انتظامیہ کا رویہ کوئی معذرت خواہانہ تھا یا ڈھٹائی پر مبنی تھا۔؟
سید حسین اکبر: ان کا رویہ معذرت خواہانہ بالکل نہ تھا، وہ ظالم اس ظلم پر خوش تھے، انہوں نے الٹا اور دھمکیاں دیں۔
 
اسلام ٹائمز: جب موجودہ آرمی چیف دھرنے کے دوران پاراچنار تشریف لائے تھے تو مظاہرین نے کرنل عمر کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا اور انہوں نے یہ مطالبہ منظور بھی کیا، کیا کرنل عمر کیخلاف کوئی کارروائی ہوئی یا محض اسے منظر عام سے ہٹایا گیا۔؟
سید حسین اکبر: جی بالکل یہ مطالبہ آرمی چیف صاحب نے منظور کیا تھا، لیکن آپ کی بات درست ہے کہ ملک عمر کو صرف منظر سے غائب کیا گیا، اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ نہ ہی اے پی اے شاہد خان کیخلاف کوئی کارروائی اب تک ہوسکی ہے۔
 
اسلام ٹائمز: اب پاراچنار قبائلی علاقہ نہیں رہا، جلد عدالتیں بھی قائم ہونیوالی ہیں، کیا کرنل عمر اور دیگر کیخلاف آپکی فیملی یا تحریک حسینی کوئی قانونی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔؟
سید حسین اکبر: جی بالکل، ہم اسے ہرگز نہیں چھوڑیں گے، اس کا قانونی طور پر تعاقب کریں گے اور اسے اس کے انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے، ہم اپنے شہیدوں کا خون نہیں بھولے، ہم اس کیخلاف اس وقت بھی بہت کچھ کرسکتے تھے، لیکن ہم نے نہ پہلے قانون کو ہاتھ میں لیا اور نہ کبھی لیں گے، لیکن اس کا قانونی تعاقب ضرور کریں گے۔ اسی طرح سابق اے پی اے شاہد خان کا بھی پیچھا کریں گے۔
 
اسلام ٹائمز: ایک شہید کے بیٹے کی حیثیت سے قوم کے نام کوئی پیغام دینا چاہیں گے۔؟
سید حسین اکبر: پیغام یہی ہے کہ اپنے شہداء کو ہرگز نہ بھولیں، ان کا پاک خون ہرگز رائیگاں نہ جانے دیں، عزاداری سیدالشہداء علیہ السلام پر ہمارا سب کچھ قربان ہے، میرے شہید بابا تو کیا ہم سب کی جانیں حاضر ہیں عزاداری کی بقاء کیلئے۔ ہم ٹکڑے ٹکڑے تو ہوسکتے ہیں، لیکن عزاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔
خبر کا کوڈ : 788345
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے