0
Tuesday 16 Apr 2019 19:57
عمران خان نے مایوس قوم کو امید کی کرن دکھائی ہے

امریکہ، بھارت اور اسرائیل ملکر ہمیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے کوشاں ہیں، ڈاکٹر امجد علی

عالمی سطح پر ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا ہے جسکے اثرات یقیناََ قوم پر بھی مرتب ہو رہے ہیں
امریکہ، بھارت اور اسرائیل ملکر ہمیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے کوشاں ہیں، ڈاکٹر امجد علی
صوبائی وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی کا تعلق ضلع سوات کی تحصیل بری کوٹ کے علاقہ شموزئی کے ایک معزز گھرانے سے ہے۔ انکے گھر کو سوات میں علم کے چراغ جلانے میں اہم کردار ادا کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ڈاکٹر امجد علی نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے سے حاصل کی، مزید تعلیم کیلئے وہ اسلام آباد چلے گئے۔ ڈاکٹر امجد علی سوات میں پی ٹی آئی کے بانی ممبران میں سے ہیں۔ 2013ء کے انتخابات میں انہوں نے پہلی بار الیکشن لڑا اور سوات میں تاریخی کامیابی حاصل کی، جسکے بعد انہیں صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا۔ محکمہ ہاؤسنگ کا چارج سمبھالتے ہی اس میں انہوں نے نئی روح پھونک دی۔ 2018ء کے انتخابات کا مرحلہ آیا تو نئی حلقہ بندیوں کے باعث انکا پرانا حلقہ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ پارٹی نے انکو دونوں حلقوں پر اپنا امیدوار نامزد کیا بلکہ انکو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دینے کی پیشکش بھی کی گئی، مگر انہوں نے قومی اسمبلی کے بجائے صوبائی کے دونوں حلقوں سے حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور پھر دونوں ہی حلقوں میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ نئی حکومت قائم ہوئی تو مرکزی قیادت نے انہیں معدنیات کا محکمہ حوالے کیا۔ اسلام ٹائمز نے صوبائی وزیر سے خصوصی گفتگو کی جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: آپکو جس محکمے کا چارج دیا گیا ماضی میں وہ خاصا متنازعہ رہا ہے، اسکے دو سابق وزراء اور کئی افسران جیل جاچکے ہیں، محکمے کی فعالیت کیلئے آپ نے کون سے اقدامات کئے ہیں۔؟
ڈاکٹر امجد علی:
ہمارا صوبہ معدنی دولت سے مالا مال ہے، ہر قسم کے معدنی خزانے یہاں پائے جاتے ہیں، مگر ماضی میں یہ محکمہ بدترین بدانتظامی کا شکار رہا۔ اے این پی اور بعدازاں ہمارے سابق دور کے وزراء جیل کاٹ چکے ہیں۔ یہ محکمہ جب سے وجود میں آیا ہے بدانتظامی کا شکار چلا آرہا تھا، اس کا سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا تھا، جس کی وجہ سے صوبہ اربوں روپے کے اضافی ریونیو سے محروم چلا آرہا تھا، جب مرکزی قیادت نے اس محکمے کی ذمہ داری میرے حوالے کی تو میں نے ایک مشن سمجھ کر اسے قبول کیا، تاہم قیادت پر واضح بھی کیا کہ اس محکمے میں مافیا بہت مضبوط اور مشکلات بہت زیادہ ہیں، اس میں موجود کالی بھیڑوں اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت بہت مضبوط ہے، اسی لئے اس کا امیج تباہ ہوکر رہ گیا تھا۔ میں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ میں کُھل کر ہاتھ ڈالوں گا اور کسی کی مداخلت قبول نہیں کروں گا، وہاں سے گرین سگنل ملنے کے بعد میں نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کردیا۔

ہماری کوشش ہے کہ محکمے کا امیج بہتر بنا کر بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کریں، تاکہ اس میں بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوسکے۔ اسی طرح اندرونی سرمایہ کار بھی محکمے کی کالی بھیڑوں کی فرمائشوں سے حوصلہ ہار کر ایک طرف ہوگئے تھے۔ ان دونوں کو واپس لانے کیلئے ہم نے محکمانہ فعالیت کیلئے اقدامات کا آغاز کر دیا۔ پہلے مرحلے میں ان تمام اہلکاروں کو سامنے لانے کا سلسلہ شروع کر دیا، جو سابق ادوار میں پسند و ناپسند کی بنیاد پر کھڈے لائن لگائے گئے تھے، حالانکہ وہ بہت باصلاحیت لوگ تھے، ان کو کونے کھدروں سے نکال کر جب اہم ذمہ داریاں حوالے کیں تو اس کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے۔ دوسری طرف منرل ایکٹ میں بہت سی کمی رہ گئی تھی، جب ہم نے بغور اس ایکٹ کا جائزہ لیا تو ایسا محسوس ہوا جیسے کسی مخصوص فرد یا کسی مخصوص مفاد کی خاطر قانون سازی کی گئی ہو، چنانچہ ہم نے اس قانون کو عوامی مفاد میں بدلنے کا فیصلہ کیا اور اب اس میں 42 مختلف ترامیم لارہے ہیں۔

ترامیم کا مسودہ محکمہ قانون کے پاس بھجوایا جاچکا ہے، وہاں سے منظوری کے بعد کابینہ اور اسمبلی سے بھی منظور کروایا جائے گا۔ ان ترامیم کی تیاری میں ہم نے مشاورت سے کام کیا، تمام سٹیک ہولڈرز کیساتھ مشاورت کی گئی اور سب کے مشوروں کو ترامیم کا حصہ بنایا گیا۔ اس سے قبل موجودہ ایکٹ کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے صوبے کے ریونیو پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اب مشاورت کے بعد جو ترامیم لائی جا رہی ہیں، اس سے تمام مسائل اور تنازعات کا خاتمہ ہو جائے گا، بہت سے معاملات پر عدالتی حکم امتناعی ختم ہونے سے صوبے کے ریونیو میں اضافہ کی راہ ہموار ہوسکے گی۔

اسلام ٹائمز: حکومتی اقدامات سے ابتک ریونیو میں کس قدر اضافہ کیا جاچکا ہے؟
ڈاکٹر امجد علی:
ہمارے اقدامات سے صوبے کی آمدن میں کروڑوں کا اضافہ ہوچکا ہے، جو اس کے بعد اربوں میں بدلنے والا ہے، اسوقت چھ ماہ کے دوران ادنیٰ معدنیات یعنی ریت بجری وغیرہ کی مد میں ہمیں 900 ملین یعنی 90 کروڑ کے لگ بھگ آمدن ہوچکی ہے، جبکہ گذشتہ پورے سال کے دوران یہ آمدن محض 364 ملین روپے رہی تھی۔ گویا ہم نے صرف چھ ماہ میں اب تک 147 فیصد اضافی منافع کمایا ہے، جو صوبے کی تاریخ میں بہت بڑی کامیابی ہے۔ اسی طرح اگر ہم میجر منرلز کی بات کریں تو ہم اب تک 305 ایریاز آکشن (نیلامی) کیلئے سامنے لاچکے ہیں جبکہ پچھلے 10 سال میں کوئی ایک آکشن بھی نہیں ہوسکا تھا، ان آکشنز سے مزید کروڑوں روپے کی آمدن حاصل ہوگی اور میں خود تمام عمل کی نگرانی کروں گا۔ ساتھ ہی پورے جنوبی ایشیا میں یہ اعزاز ہمارے ملک کو حاصل ہو رہا ہے کہ ہم مائننگ کیڈسٹل سسٹم لارہے ہیں، جس کے ذریعے پورا سسٹم ڈیجیٹلائزڈ ہو جائے گا، یوں تمام معاملات آن لائن ہونے سے جہاں شفافیت آسکے گی، وہاں آسانی بھی پیدا ہوگی، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ سکے گا۔

اسوقت یہ سسٹم گنے چنے اور ترقی یافتہ ملکوں تک ہی محدود ہے، ہم اس کا دائرہ کار قبائلی اضلاع تک بھی بڑھائیں گے۔ ساتھ ہی ہم نے پہلی بار جیو میپنگ کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، ہمارے صوبے میں صرف 35 فیصد ایکسپلوریشن ہوئی تھی جبکہ 65 فیصد ہونی باقی ہے، جبکہ قبائلی اضلاع میں تو صرف 6 فیصد ایریا ہی ایکسپلور ہوا ہے۔ ساتھ ہی کان کنوں کی فلاح و بہبود کیلئے قانون سازی کی جا رہی ہے۔ پھر ہم نے منرل ٹائٹل کمیٹی کے ذریعے صرف چھ ماہ میں 409 لیزیں گرانٹ کر دی ہیں جبکہ گذشتہ 50 سال کے دوران 1660 لیز گرانٹ کی جاسکی تھیں اور ان شاء اللہ ہم رواں سال تک مزید 3 ہزار لیزیں گرانٹ کرچکے ہونگے۔ اس سلسلے ہمارا ہفتہ وار اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہو رہا ہے، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہر ہفتے 20 سے 30 تک لیز دی جائیں، یہ تمام کام مکمل طور پر میرٹ پر ہو رہا ہے، کسی کی سفارش نہیں برداشت کی جا رہی اور اب کسی کی من مانی نہیں چلے گی۔

اسلام ٹائمز: غیر قانونی مائننگ کیخلاف ابتک کس قدر موثر اقدامات کئے گئے ہیں؟
ڈاکٹر امجد علی:
آپ نے اچھی نشاندہی کی، غیر قانونی کان کنی کے خلاف بھی ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، کیونکہ غیر قانونی مائننگ سے حکومت کو کروڑوں نہیں بلکہ اربوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں ابتک میں بذات خود پانچ چھ چھاپے رات گئے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مار چکا ہوں۔ اس سلسلے میں ہمارے شکایات سیل کا ہمیں بہت فائدہ ملا ہے، کیونکہ لوگ براہ راست مجھے شکایات بھجوا رہے ہیں، اب تک 1113 کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے گذشتہ 6 ماہ کے دوران 511 کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آرز کا اندراج ہوچکا ہے جبکہ 542 زیرِ تفتیش ہیں۔ اس سلسلے میں گذشتہ دنوں خود آئی جی پولیس کے ساتھ ملاقات کرکے بعض معاملات انکے سامنے رکھے تھے، جس کے بعد انہوں نے ایک ڈی آئی جی کو ہمارے لئے فوکل پرسن مقرر کر دیا ہے، جس کے بعد اب غیر قانونی مائننگ کے خلاف اقدامات مزید تیز کریں گے۔ مختلف شکایات کے نتیجے میں اب ہم 395 ملین روپے کی ریکوری کریں گے، اس سلسلے میں محکمانہ تطہیر کا عمل بھی جاری ہے، مختلف شکایات پر درجن بھر سے زائد افسران معطل ہوچکے ہیں جبکہ ایک فارسٹ گارڈ کو جبری ریٹائرڈ کیا جاچکا ہے، دیگر کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

اسلام ٹائمز: ضم شدہ اضلاع کے حوالے سے معاملات کیسے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ علاقے معدنی ذخائر کا مرکز ہیں۔؟
ڈاکٹر امجد علی:
اگر ضم شدہ اضلاع کی بات کی جائے تو وہاں انضمام کے بعد محکموں کو توسیع دینے کے حوالے سے پہلی کوشش میری طرف سے ہوئی تھی، جس سے آپ بخوبی واقف ہیں، میں پہلا صوبائی وزیر تھا، جس نے کسی قبائلی ضلع کا دورہ کیا، ہماری یہ کوشش ہے کہ تمام شعبوں میں قبائلی اضلاع کے لوگوں کی مشکلات دور کی جاسکیں۔ اس سلسلے میں محکمہ معدنیات ہنگامی بنیادوں پر اور تیز رفتار اقدامات میں مصروف ہے۔ مقامی آبادی لیزوں کے معاملے میں ترجیح چاہتی ہے، چونکہ موجودہ قانون کے تحت ممکن نہیں مگر ان علاقوں کے مخصوص حالات میں اس کی ضرورت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا، اس لئے اب حکومت ان کیلئے قانون میں تبدیلی لا رہی ہے، جس کے بعد ان کو ترجیح دی جاسکے گی۔ لیز صرف مقامی فرد کو ہی دی جائے گی، البتہ اسے بیرونی سرمایہ کار کے ساتھ پارٹنرشپ کی اجازت ہوگی۔ لیز دینے کا طریقہ کار ان کیلئے پرانے والا برقرار رکھا جا رہا ہے، البتہ اس کے بعد ان کو بتدریج مین سٹریم میں لایا جائے گا۔

اسلام ٹائمز: معاملات کی بہتری کیلئے منرل گارڈ کو پولیس کے اختیارات دینے اور منرل مجسڑیٹس کی آسامیاں پیدا کرنے پر توجہ کیوں نہیں دی جا رہی۔؟
ڈاکٹر امجد علی:
نہیں ایسی کوئی بات نہیں، ہماری یہ کوشش ہے کہ منرل فورس کو پولیس کی طرز پر منظم کرکے بااختیار بنائیں، منرل مجسٹریٹس کا عبده متعارف کروا کر فوری فیصلوں کی راہ ہموار کرسکیں۔ اس سلسلے میں تین ماہ قبل ہدایات دے چکا ہوں، تاہم اب اس پر کام تیز کریں گے۔ میں خود اس سلسلے میں وزیراعلٰی اور چیف سیکرٹری سے بات کرنے والا ہوں، اگر ایسا ہوتا ہے تو یقیناََ بہت بہتری آسکے گی۔

اسلام ٹائمز: اسوقت پی ٹی آئی مرکز اور دو صوبوں میں برسر اقتدار ہے، جبکہ لوگوں کی توقعات بہت ہی زیادہ ہیں، انکو پورا کرنے کیلئے حکومت کی تیاریاں کیا ہیں۔؟
ڈاکٹر محمد علی:
آپ نے بالکل ٹھیک کہا کہ عمران خان نے مایوس قوم کو امید کی کرن دکھائی ہے، ہم نے کرپشن کے خاتمے اور احتساب کا نعره بلند کیا، کیونکہ ماضی میں حکمرانوں نے حکومت کو خدمت کی بجائے لوٹ مار اور اپنی ذاتی تجوریاں بھرنے کیلئے ہی استعمال کیا، مگر ہم نے کلچر بدلنا تھا اور اس کیلئے ہمیں مینڈیٹ ملا۔ اسوقت اگر آپ دیکھیں تو عالمی سطح پر ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے اثرات یقیناََ قوم پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازشیں پورے عروج پر ہیں۔ بیرونی دشمنوں سے قیام امن اور تعمیر و ترقی کا سلسلہ برداشت نہیں ہو رہا، ہمارے ملک کے کرپٹ عناصر بھی ان سازشوں میں دشمنوں کے ساتھ مل چکے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ کرپشن کے خلاف کیسز نیب نے ہمارے دور میں نہیں بنائے، یہ انہی کے دور میں بنے تھے۔ کرپٹ مافیا اپنے آپ اور کرپشن کی دولت کو بچانے کیلئے سرگرم ہوچکا ہے، اس لئے ان سے تبدیلی ہضم نہیں ہو پا رہی۔ دوسری طرف بیرونی مشکلات بھی زیادہ ہوتی جا رہی ہیں، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی جارحیت کی کوشش کے خلاف فوری اور ٹھوس اقدام کرکے ان کو پسپائی اور زخم چاٹنے پر مجبور کر دیا۔

عمران خان اکثر اپنی نجی محفلوں میں ہمیں سنایا کرتے تھے کہ جب بھارت کے خلاف میچ کے دوران ہم ان پر بھرپور اٹیک کر دیتے تو وہ بہت جلد پسپائی اختیا کر لیا کرتے تھے، وہی کچھ انہوں نے اب بھارت کے خلاف جنگ کے میدان میں بھی کیا۔ اسوقت امریکہ، بھارت اور اسرائیل ملکر ہمیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے کوشاں ہیں، مگر جرات مند قیادت کی وجہ سے کامیابی ہمارا ہی مقدر بنے گی۔ اس لئے میں پورے یقین کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ تمام تر اندرونی و بیرونی سازشوں کے باوجود عمران خان قوم کی تمام توقعات پر پورا اتریں گے۔ پہلے وزراء 4 سال کرپشن اور پانچویں سال کام کیا کرتے تھے۔ اب انہوں نے پہلے روز سے ہی وزراء کو خدمت پر لگا دیا ہے بلکہ اس سلسلے میں مسابقت کی دوڑ بھی شروع کر دی ہے۔ پہلے مسابقت کرپشن کی دوڑ میں ہوا کرتی تھی، اب مسابقت خدمت کی دوڑ میں ہو رہی ہے اور اس مسابقت کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپکی بات اپنی جگہ درست ہے لیکن عوام کی سمجھ میں یہ باتیں نہیں آتی، انکو اپنی مشکلات کا خاتمہ چاہیئے، جس کیلئے انہوں نے آپکو مینڈیٹ دیا۔؟
ڈاکٹر امجد علی:
 دیکھیں میں آپکو بتاتا ہوں، ہم سب سے پہلے ملک کے اندر میرٹ کا بول بالا کر رہے ہیں، تمام ملازمتیں مکمل طور پر میرٹ پر ہونگی تو عوام کی مشکلات میں کمی آسکتی ہے۔ اس کے علاوہ تمام شعبوں میں تاریخی اصلاحات کے ذریعے اداروں کو پہلے سے زیادہ فعال اور مضبوط بنا رہے ہیں، صحت انصاف کارڈز کے ذریعے مستحق افراد کو لاکھوں روپے تک کے مفت علاج کی سہولت فراہم کر رہے ہیں، جس سے ان کا بہت بڑا مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ پولیس جیسے اہم اور حساس ادارے کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے پاک کیا، یہی وہ عوامل ہیں جن کی بنیاد پر عوام نے ہمیں پہلے بھی سپورٹ کیا تھا اور ابھی بھی کرے گی۔ ہم نے عوام اور اپنے درمیان ہر قسم کے فاصلے ختم کر دیئے ہیں، ہمارے صوبائی وزراء سے لے کر وفاقی وزراء انتہائی آسانی کے ساتھ اور ہر وقت قابل رسائی ہیں۔ ہم نے روایتی حکمرانی اور حجرہ سیاست کا کلچر ختم کرکے رکھ دیا ہے۔ ہمارے اور عوام کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں اور اس کا صلہ بھی ہمیں ملے گا۔

اسلام ٹائمز: اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے۔؟
ڈاکٹر امجد علی:
ان کے دعوے کی حقیقت آپ کو بھی پتہ ہے اور ہم بھی بخوبی اس سے آگاہ ہیں، ویسے اپوزیشن کے گِلے بجا ہیں کیونکہ اس بار ان کے وٹروں تک نے انکو ووٹ نہیں دیئے، عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر ہمیں ووٹ دیئے، یہ عمران خان اور ان کے نظریئے کو پڑنے والے ووٹ تھے۔ اپوزیشن جماعتوں کے پاس دھاندلی کے کوئی ثبوت نہیں، ورنہ یہ لوگ اب تک عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا چکے ہوتے، میں تو یہ کہوں گا کہ اس بار تاریخ کے شفاف ترین انتخابات ہوئے تھے، جس کی گواہی عالمی مبصرین نے بھی دی ہوئی ہے۔ ہم نے تو ان کو دوبارہ انتخابات کی پیشکش بھی کی تھی، اس سے قبل جب 2013ء میں اس صوبے میں ہمیں کامیابی ملی تو ان لوگوں نے واویلا مچانا شروع  کردیا، جب ہم نے 2015ء میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو ایک بار پھر یہی لوگ چیخنے لگے، ہم نے ان کو دوبارہ الیکشن کا چیلنج دیا، مگر ہر بار ان لوگوں نے ہی راہ فرار اختیار کی۔ میرا ذاتی حلقہ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا، میں ان دونوں حلقوں سے میدان میں اترا اور دونوں پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

اسلام ٹائمز: اپنے حلقے کیلئے ابتک کیا اقدامات کئے ہیں اور مستقبل میں کیا ارادے ہیں۔؟
ڈاکٹر امجد علی:
میں اگر صرف اپنے حلقے کی بات کروں تو 5 سال میں کلاس فور کی 600 ملازمتیں دلوائیں، ان میں سے کوئی میرا رشتہ دار نہیں تھا۔ تمام ملازمتیں قرعہ اندازی یا مشاورت کی بنیاد پر فراہم کی گئیں۔ ترقیاتی سکیموں میں بھی مشاورت کو مقدم رکھا، پوسٹنگ ٹرانسفر کے معاملے میں کبھی مداخلت نہیں کی۔ اب تو پہلے سے بڑھ کر خدمت کریں گے، تمام پوسٹیں حسب سابق قرعہ اندازی کے ذریعے پُر کی جائیں گی۔ اچھی اور اجتماعی مفاد کی سکیمیں لائیں گے، تعمیر و ترقی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔

اسلام ٹائمز: وزیراعلٰی اور بعض وزراء میں اختلافات کی خبریں سن رہے ہیں، اس سلسلے میں کیا کہیں گے۔؟
ڈاکٹر امجد علی:
صوبائی حکومت کی صفوں میں کوئی اختلاف نہیں، ساری بے بنیاد باتیں ہیں، ہاں اختلاف رائے ہوسکتا ہے، جس کو ہم سب جمہوریت کا حسن تصور کرتے ہیں۔ جہاں تک وزیراعلٰی محمود خان کا تعلق ہے تو انکو تمام وزراء اور حکومتی اراکین اسمبلی کی بھرپور تائید و حمایت حاصل ہے، ہم سب ان کی ٹیم کا حصہ اور ان کی قیادت میں صوبے میں حقیقی تبدیلی کیلئے کوشاں ہیں۔
خبر کا کوڈ : 788773
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب