0
Wednesday 17 Apr 2019 10:24
اسلام میں جیل کی بجائے فوری انصاف کا حکم ہے

امت مسلمہ کیطرف سے ایرانی بھائیوں کی امداد میں سستی قابل افسوس ہے، ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی

امت مسلمہ کیطرف سے ایرانی بھائیوں کی امداد میں سستی قابل افسوس ہے، ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی
داعی اتحاد امت اور جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم کی صاحبزادی، اسلامی نظریاتی کونسل کی سابق رکن اور جماعت اسلامی کی مرکزی رہنماء ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی سابق رکن قومی اسمبلی ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی کارکردگی اور موجودہ صورتحال میں کونسل کی سفارشات سمیت اہم ایشوز پر اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئیں کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: اسلامی نظریاتی کونسل نے بڑی تعداد میں سفارشات مرتب کرکے بھجوائی ہیں، لیکن اس پر قانون سازی نہیں ہوسکی یا رفتار انتہائی سست ہے، اسکی وجہ کیا ہے۔؟
سمیعہ راحیل قاضی:
اسلامی نظریاتی کونسل ہمارے ملک کا وہ آئینی ادارہ ہے، جو بہت زیادہ اس بات کے اوپر زور دیتا ہے کہ یہاں پر کوئی قانون قرآن اور سنت کے منافی نہ بن سکے، چونکہ یہ آئینی اور دستوری ادارہ ہے، اسکے اپنے آئینی اور دستوری تقاضے ہیں اور میں چونکی اسکی واحد خاتون ممبر رہی ہوں تو مجھے وہاں جا کر پتہ چلا کہ کتنے بڑے بڑے علماء نے بڑا کام کیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی لائبریری میں ایک مدفون خزانہ ہے، یعنی پاکستان کے لوگوں کو اسکا پتہ نہیں ہے کہ علماء کرام کتنا بڑا کام کرکے گئے ہیں، اس ادارے کو بنے ہوئے چالیس پچاس سال ہوگئے ہیں، اس میں ملک کے تمام نامور علماء بلاتخصیص مکتب بڑا کام کرکے گئے ہیں۔ میں اسلامی نظریاتی کونسل میں تین سال رہی ہوں۔ علما کرام ایک دوسرے کا بیحد احترام کرتے ہیں۔

علامہ افتخار حسین نقوی صاحب نے ایک دفعہ رپورٹ پیش کی کہ تمام مکاتب فکر میں 90 سے 95 فیصد مشترکات ہیں۔ قرآن ایک، رسول ایک اور سنت ایک ہے، فقہ میں بھی دس سے بیس فیصد اختلاف ہے، باقی سب چیزیں ایک جیسی ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں صرف اختلاف والی چیزیں ہائی لائٹ کی جاتی ہیں، جبکہ مشترکات کہیں زیادہ ہیں۔ اس کا مقصد اصل یہی ہے کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے بہت بڑا کام کیا ہے اور اسکی بہت زیادہ قیمتی سفارشات مرتب ہوئی ہیں، لیکن جتنی بھی آج تک حکومتیں آئی ہیں، انہوں نے ان سفارشات پر صحیح معنوں میں عمل درآمد نہیں کیا۔ پانچ سال پارلیمنٹ کی بھی ممبر رہی ہوں اور ہم اسکا مسلسل مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے، انہیں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ ان سفارشات پر بحث کرائی جائے اور قانون سازی کی جائے۔ لیکن چونکہ حکومتیں مخلص نہیں ہوتی، اس لیے اسلامی قوانین کے نفاذ میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں، پاکستان بنایا ہی اسلام کے لیے گیا تھا۔

اسلام ٹائمز: پارلیمنٹ قانون سازی کیلئے موجود ہے، اسکے باوجود ایک الگ ادارے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے، کیا پہلے سے موجود اداروں کو موثر بنانا ضروری نہیں۔؟
سمیعہ راحیل قاضی:
یہ وضاحت ضروری سمجھتی ہوں کہ اسلامی جموریہ پاکستان کا جو آئین ہے، اس میں ابھی تک قرارداد مقاصد موجود ہے، خدا پاک کی ذات ہمارے لئے حاکم مطلق ہے، حکومت اسی ذات کی ہے، قانون بھی اسی کا ہے، یہ چیزیں بہت وضاحت کے ساتھ آئین میں درج ہیں۔ کسی کی بھی جرات نہیں ہوسکتی کہ اس ملک کو اسکی اساس سے دور لے جا سکے، اسی لئے ہمیں اطمینان یہ بھی رکھنا چاہیئے کہ اس ملک میں اکثریت دین سے محبت رکھتی ہے اور اسلام میں غیر مسلموں کو بھی تحفظ حاصل ہے، اس کی جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسلام ریاست میں بسنے والے ہر شہری کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

اسلام ٹائمز: پچھلے دنوں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے قرار دیا کہ ہتھکڑیاں لگانا غیر شرعی ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دنیا کے تمام ممالک میں رائج ہے اور یہ اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ قیدی بھاگ نہ جائے۔ کیا واقعی اسکی کوئی شرعی حیثیت ہے۔؟
سمیعہ راحیل قاضی:
یہ ہتھ کڑیاں لگانا غیر شرعی ہے، میں بالکل سمجھتی ہوں کہ جیل کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے، خاص طور پر چونکہ میں ایک عورت ہوں، میں نے اس پر بڑی تحقیق کی ہے، یہ بھی تحقیق کی ہے کہ خواتین کی جیلوں کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے، اسلام کہتا ہے کہ فوری اور مفت انصاف فراہم کیا جائے، جتنی زیادہ انصاف میں تاخیر ہوتی ہے، اتنی ہی زیادہ ملزم کو یا تو مجرم ثابت کریں اور یا اسے بے گناہ ثابت کریں، یہ قانون کا ایک اصول ہے، ہر انسان بے گناہ ہے، جب تک کے اسکا جرم ثابت نہ ہو جائے، لیکن ہمارے ہاں اس کے برعکس کام کیا جاتا ہے، ہمارے ہاں الزام لگا دیئے جاتے ہیں، ملزم چاہے باعزت بری ہو جائے، اسکے باعزت بری ہونے کا تو کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا، میں اس بات پر بھی حیران ہوں کہ اکثریت بہت جھوٹے دعوے کر دیتی ہے۔

ایک جعلی کوڑوں کی ویڈیو بھی منظرعام پر آئی تھی، ایک بڑی مشہور خاتون جسے میں سوداگر این جی او کہتی ہوں، ان کا یہ بزنس ہے اور وہ ہمارے ملک کے خلاف کام کرتی ہیں، اس ویڈیو کو سپریم کورٹ تک نے جھوٹا قرار دیا، وہ خاتون اس طرح کے کاموں سے پیسے بٹورتی ہیں۔ اس ویڈیو کے ذریعہ سزا ہوئی وغیر۔ بےگناہ لوگ ہیں جیسے استادوں کو ہتھ کڑیاں لگائی گئیں، انکو جس طریقے سے لے جایا گیا، حالانکہ ابھی تک ان پر فقط الزامات ہی ہیں، جرم ثابت نہیں ہوا، میرا علم ناقص ہے لیکن میں خواتین کو جیلوں میں ڈالنا زیادتی سمجھتی ہوں، مجرم کو تو ضرور قید خانے میں ڈالا جائے، لیکن جنکا جرم ابھی ثابت ہی نہیں ہوا اور انکو الزام میں پکڑ کر عدالتوں کے چکر کٹوانا درست نہیں، مہینوں مہینوں پیشیاں لگتی رہتی ہیں۔ اتنی دیر میں مجرمانہ ذہنیت بن جاتی ہے۔ مجرم ثابت ہونے تک کسی کو سزا نہ دی جائے۔ جب تک جرم ثابت نہ ہو، اس وقت ہتھکڑیاں لگانا درست نہیں۔

اسلام ٹائمز: آپکے والد گرامی نے اتحاد امت کیلئے بڑی خدمات پیش کیں، وہ خواب کہاں تک شرمندہ تعبیر ہوسکا ہے، یا سمجھتی ہیں کہ ابھی اس پر کام کرنے کی مزید ضرورت ہے۔؟
سمیعہ راحیل قاضی:
میرے والد محترم قاضی حسین احمد نے پوری عمر اتحاد امت کیلئے بلکہ وحدت انسانیت کیلئے بڑا کام کیا، انہوں نے سارے مسالک اور مذاہب کے درمیان ایک پل کا کام انجام دیا اور پوری عمر یہ کام کرتے رہے، مجھے انکے جنازے پر ایک ہندو برادری کے ایک آدمی شیام بابو سے ایمبولینس میں کسی نے کہا کہ ہمیں ذرا جگہ دے دیں، تو انہوں نے کہا کہ میرے دو ٹکڑے کر دو مگر قاضی صاحب سے آپ جدا نہیں کرسکتے، میرے بھائی نے اپنی سیٹ چھوڑ کر انکو دے دی اور خود اتر آئے، اس نے کہا کہ میرے آغا جان نے ان سارے لوگوں کو بہت زیادہ محبت دی، انہوں نے ساری عمر محبت فاتح عالم کا نعرہ لگایا، محبت کے بیچ بوئے، ابھی تک ہم اسکا ثمر کاٹ رہے ہیں، چھے سال ہوگئے انہیں جدا ہوئے، لیکن لوگ آج بھی انکو یاد کرتے ہیں۔

جہاں بھی مسئلہ آتا تھا اور جہاں دو تین لوگوں کا اختلاف ہوتا تھا تو وہ اتنی خوبصورتی سے اس کو اپنے ایک جملہ قدر مشترک اور درد مشترک کا عنوان دیکر حل کر لیتے تھے، انہوں نے کبھی ملی یکجہتی کونسل کی بنیاد رکھی اور کبھی وحدت امت کانفرنس کرائی، کبھی ایم ایم اے ذریعے کام کیا، میں سمجھتی ہوں کہ انہوں نے حضور ﷺ کی امت کے ایک خوبصورت گلدستے کو مختلف خوشبوں کے ساتھ اکٹھے رکھے ہوا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ اختلافات تو صحابہ کرام میں بھی تھے لیکن اختلاف کو مخالفت نہیں بنانا چاہیئے، یہ ایک انکا خاص جملہ تھا، جماعت اسلامی بھی اس پر عمل پیرا ہے، ہم انکی اولاد ہیں، انہیں کے مشن پر لگے ہوئے ہیں، پارٹی کے کارکن کے طور پر ہم بھی اسی اتحاد امت کے کام کو آگے لے کر بڑھتے رہیں گے، ہمیں بڑا دکھ ہوتا ہے کہ امت ویسے ہی زوال کے دور میں جی رہی ہے اور ویسے ہی ہمارے آپس کے اختلافات ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں تکفیریت کے مستقل خاتمے کیلئے کیا اقدامات ضروری سمجھتی ہیں۔؟
سمیعہ راحیل قاضی:
اسلام اور تکقریت یہ دونوں ایک دوسرے سے متضاد چیزیں ہیں، اسلام یعنی سر تسلیم خم کرنا ہے، اپنی مرضی کو ختم کرکے خدا اور اسکے رسول ﷺ کی مرضی کے تابع بنانا، اسلام ہے اور کفر اور تکفیریت یہ ہے کہ انسان شیطان کا بندہ بن جائے، یہی سمجھتی ہوں کہ حضورﷺ کے سچے عاشق اور امتی بن جائیں تو یہ مسائل ہی ختم ہو جائیں۔ انہوں نے ہمیں اختلاف کے ساتھ ایک دوسرے کا احترام، رواداری محبت ایک دوسرے کو عزت دینے کا درس دیا ہے، جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہیئے، اپنا مسلک چھوڑو نہیں، دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہیں۔ محبتیں انسانوں کو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہیں، میں سب سے زیادہ یہ سمجھتی ہوں کہ ایک دوسرے کا احترام کریں، جتنے فرقے اور مسالک ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اپنے مسلک کو چھوڑو نہیں اور دوسرے کو چھیڑو نہیں، میں یہی اقدام ضروری سمجھتی ہوں، دیکھیں قوانین، سختی اور جبر اس سے معاشرے نہیں بنتے، معاشرے تہذیب، احترام اور محبت سے بنتے ہیں۔ ہمیں رواداری اور محبت کا درس دینا ہے۔ آپکا جو مسلک ہے، آپ اس پر کاربند رہیں، لیکن دوسرے کو یہ نہ کہیں کہ آپ کم مسلمان ہیں، یا غلط اور کافر ہیں۔ ایک دوسرے کو عزت دیں، اختلاف کو مخالفت نہ بنائیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں عموماً نظام کی بات کرتے ہیں، معیشت پر بہت باتیں کی جاتی ہیں، مگر اسلامی معاشی نظام کے خدوخال واضح نہیں کئے جاتے، اسکی کیا وجہ سمجھتی ہیں۔؟
سمیعہ راحیل قاضی:
جب تک امت مسلمہ زوال کا شکار ہے اور جب تک وہ اس قرآنی فلاحی نظام کی طرف نہیں آتی، سودی چنگل سے معیشت نہیں نکلتی، اس وقت تک ہمارا ںظام ٹھیک نہیں ہوسکتا، اسلامی نظام معیشت میں پیسے کا بہاو امیر سے غریب کی طرف ہے، جبکہ سودی ںظام ہے، اس میں غریبوں کا گلہ گھونٹ کر انکے گلے پے چھری رکھ کر امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے، جو خلا بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور اسی لئے معاشرے میں فساد ہے اور ظلم کا نظام ہے، کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں پورے ملک کی دولت اور ہر طرح کی کرپشن، ہر طرح کا فراڈ، انکو عدالت اور نیب بھی کچھ نہیں کہتیں، غریب اگر دس روپے کی چوری کر لے تو بس انکا بس چلے تو اس کا ہاتھ بھی کاٹ لیں اور اسے جیلوں میں ڈال دیں اور انکی عزت بھی نہ رہے، اسلامی ںظام معیشت کا اصول کہ یعنی امیر سے غریب کی طرف پیسے کا بہاؤ ہو اور عدل و انصاف ہو۔ کرپشن نہ ہو، ظلم نہ ہو، حرام کی کمائی کے ذرائع نہ ہوں، ڈاکے اور چوری کا خاتمہ ہو۔

اسلام ٹائمز: ایران میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، بطور مسلمان ہمارا کیا فریضہ بنتا ہے، جبکہ ایران نے ہمیشہ مصیبت کی گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔؟
سمیعہ راحیل قاضی:
ایران برادر اور ہمسائیہ ملک ہے، ایک ایران ہی تو ہے جو ہم سمجھتے ہیں کہ دو ملک ہیں لیکن اس میں قوم ایک بستی ہے، مشکل وقت میں ہمارے اوپر مدد فرض ہے، میں خود بہت دکھی ہوں کہ امت مسلمہ نے رسپانس نہیں دیا، جس طرح ہمارے غیر مسلموں کے لیے دروازے کھلے ہوتے ہیں، اپنے برادر ملک کے عوام کا خون اور دین کا بھی رشتہ ہے، حتیٰ ایمان کا رشتہ ہے، ہم غم کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں، جماعت اسلامی اور قوم کی طرف سے دعا گو ہوں۔ اللہ ہمیں مشکل گھڑی میں برادری ایرانی قوم کا ساتھ دینے کی توقیق دے۔
خبر کا کوڈ : 789035
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب