0
Thursday 18 Apr 2019 00:41
نون لیگ کسی نظریئے پہ چلنے کا مزاج ہی نہیں رکھتی

سیاستدانوں نے ملک کو آئین اور ایٹم بم بھی دیا لیکن ہمیشہ آمریت کے آلہ کار بنے، ندیم افضل چن

سیاستدانوں نے ملک کو آئین اور ایٹم بم بھی دیا لیکن ہمیشہ آمریت کے آلہ کار بنے، ندیم افضل چن
منڈی بہاوالدین سے تعلق رکھنے والے ندیم افضل چن 1975ء میں پیدا ہوئے، پنجاب یونیورسٹی سے قانون میں گریجویٹ ہیں، سابق رکن قومی اسمبلی، وزیراعظم کے ترجمان اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما ہیں۔ سیاسی پس منظر رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2008ء سے 2013ء تک پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین رہے، 2013ء کے قومی انتخابات میں سرگودہا سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 64 سے الیکشن میں حصہ لیا، اگرچہ کامیاب نہیں ہوئے، لیکن اس سے قبل رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے پارلیمنٹ میں ہمیشہ نمایاں رہے۔ موجودہ احستابی عمل، ریاستی نظام میں تبدیلیوں کی ضرورت، پاکستان کے سیاسی کلچر میں امید کے پہلوؤں سمیت اہم ایشوز پر پنجاب کے ہر دلعزیز سیاسی رہنما کی اسلام ٹائمز کیساتھ گفتگو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: موجودہ عدالتی فیصلوں سے نون لیگ کو جو ریلیف مل رہا ہے، یہ ڈیل کا نتیجہ ہے یا نظام انصاف اور احتسابی عمل کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔؟
ندیم افضل چن:
یہ جو ریلیف کا شور مچا رہے ہیں، یہ اس دور میں ممکن ہوا ہے، ورنہ خود نون لیگ کی حکومت کا دور ہوتا تو زرداری صاحب کی طرح دس دس سال تک ایسے لوگ جیلوں میں رہتے، بے شک بعد میں رہا کر دیئے جاتے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی طرف سے اداروں کے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہو رہی، نہ ہی ہم اداروں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، اس پر واویلا کرنے والے آئینہ دیکھیں، انہیں یہ وہم اس وجہ سے ہے کہ انکا طرز عمل ہوتا ہی ایسا ہے، اس پر یقین کرنا انکے لیے ممکن نہیں کہ کسی سیاسی رہنماء کو عدالت چھوڑ بھی سکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت عدالتوں اور اداروں پر اثر انداز نہ ہوتی ہو، کیونکہ ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں انہوں نے ججز کو خریدا ہے، دباؤ ڈالا ہے، سپریم کورٹ پر حملہ کیا ہے، سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے ہیں، اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا عدالتیں اب بھی لیگی دور اور شریف فیملی کے اثر و رسوخ کیوجہ سے فیصلے دے رہی ہیں۔؟
ندیم افضل چن:
جیسے میں نے کہا کہ یہ فیصلے ان کے لیے ناقابل یقین ہیں، کل ہی تو یہ کہہ رہے تھے کہ مجھے کیون نکالا، عدالتوں کو گالیاں دے رہے تھے، پی سی او ججز کے طعنے دے رہے تھے، اب اس کے بالکل الٹ باتیں شروع کر دی ہیں، انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو پی سی او بتوں سے صاف کر دینگے، ہمارے خلاف فیصلے دینے والوں پر عرصہ حیات تنگ کر دینگے، یہ میاں صاحب نے کہا تھا کہ ثاقب نثار کی بدترین ڈیکٹیٹرشپ ہے، اس ملک میں، ذرا انہی کے بیانات کو سامنے رکھیں، انہوں نے کل ہی کہا تھا کہ پانچ بندے ووٹ کی پرچی کی توہین کر رہے ہیں، شاہد خاقان نے کہا کہ ان فیصلوں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیں گے۔ بار بار عدالت یہ کہتی رہی کہ عدلیہ کو بے توقیر نہ کریں، ایسا نہ ہو کہ یہ نظام آپ کے بچوں کو انصاف فراہم کرنیکی پوزیشن میں نہ رہے، یہ ایک انتہائی صورتحال کی طرف اشارہ تھا۔

ہمارا یہ یقین ہے کہ انصاف کی فراہمی کا عمل اور احتساب ہی کے ذریعے شفافیت برقرار رکھی جا سکتی ہے، اس کے بغیر چارہ نہیں، انہیں اس سے گھبراہٹ ہوتی ہے، اسکی وجہ نیتوں کی خرابی اور کرپشن ہے، انہیں ضمانتیں بھی مل رہی ہیں، اس کے باوجود ان کی آوازیں بھی بدلتی جا رہی ہیں، اسکی وجہ یہی ہے کہ احتسابی عمل کی وجہ سے آئے روز انکی بدعنوانیاں سامنے آ رہی ہیں، ایک ایک کرکے پورے خاندان کے ایک ایک فرد کی تفصیل سامنے آ رہی ہے، انکی پریشانی کا اصل سبب یہ ہے کہ یہ عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ یہ ضمانتوں کا سلسلہ بھی چلتا رہیگا اور انکا کیا دھرا بھی لوگوں کے سامنے آتا رہیگا۔

اسلام ٹائمز: اگر احتساب کو اصولی طور ضروری گردانا جا رہا ہے تو پھر جن ججز نے آئین توڑنے کی اجازت دی ان جیسے لوگوں کا احتساب نہیں ہونا چاہیئے۔؟
ندیم افضل چن:
یہ درست ہے لیکن اس کا حل اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ احتسابی عمل کو جاری رکھا جائے۔ لیکن یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاست میں منافقت کو ایک پالیسی کے طور پر رواج حاصل ہے۔ اگر اسکی نوبت بھی آئی تو یہ عمران خان کے علاوہ کسی لیڈر اور پارٹی سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ جو لوگ خود کیسز کا حصہ ہیں، وہ بلاامتیاز احتساب کی پالیسی اختیار کرینگے، وہ تو اپنے مفادات کیلئے سودا بازی کی سیاست کو جاری رکھیں گے، جس سے ادارے کمزور ہوتے ہیں اور بدعنوانی کی راہیں کھلتی ہیں، انصاف کا نظام الٹ چلتا ہے۔ یہ تو ہم پہلے ہی کہتے ہیں کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں تکڑے اور بڑے آدمی کا احتساب نہیں ہو رہا۔ بدعنوانی اور کرپشن کو ایک طرف رکھ کر بھی دیکھیں تو جن لوگوں نے سسٹم ٹھیک کرنا تھا، انہوں نے نہیں کیا، میرے خیال میں تو سب سے بڑی کرپشن ہی یہی ہے۔

اسلام ٹائمز: اب تو یہ ذمہ داری پی ٹی آئی کی ہے کہ وہ سسٹم کو ٹھیک کرے، اگر یہ اب نہیں ہوگا تو کب ہوگا۔؟
ندیم افضل چن:
ہم اس سسٹم کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، لیکن مشکل یہ ہے کہ جو اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، وہ ابھی سیاست اور طاقت میں ہیں، یہ ہمارا المیہ ہے کہ جن لوگوں کا سسٹم پر کنٹرول ہے، وہ مضبوط ہیں، اگر یہ احتسابی نظام چلتا رہے تو میں ایک دفعہ پھر کہوں گا کہ شفافیت کا عمل اس کی بنیاد بنے گا کہ ہم سسٹم کو بنیادی طور پر تبدیل کریں اور اس میں بہتری لائیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ سول حکومتوں کے احتساب اور حساب کی بات کی جاتی ہے، لیکن جو پنتیس چالیس سال آمریت رہی ہے، ان کو کٹہرے میں لانے کی کوئی بات ہی نہیں کی جاتی۔ لیکن سیاستدانوں کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ فوجی آمروں کا شکوہ کریں، کیونکہ ہم خود ہی ان کے آلہ کار بنتے رہے ہیں۔

جس کی قریب کی مثال میاں نواز شریف کا میمو گیٹ اسکینڈل کو بنیاد بنا کر سپریم جانا ہے۔ بے شک سیاستدانوں نے ملک کو آئین بھی دیا اور ایٹم بم بھی، اسکی سزا بھی بھگتی، لیکن آمروں نے ہمیشہ سیاستدانوں کے ذریعے ہی اپنے کام مکمل کیے ہیں۔ میں یہ دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آج بھی اگر وہ کہیں کہ یہ ہمارے حدود و قیود ہیں اور پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ نون حکومت بنا لیں تو یہ لوگ آمادہ اور تیار ملیں گے۔ لیکن ہم اس لیے پرامید ہیں کہ عمران خان جیسے آدمی سے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اقدام کرنیکی کی ہمت اور حوصلہ رکھتا ہے اور ذاتی مفاد کی پرواہ نہیں کرتا، ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔

اسلام ٹائمز: اگر آپ کی جماعت طاقتور کے سامنے حکومت میں ہونیکے باوجود بے بس ہے تو باقی پارٹیوں میں اور پی ٹی آئی میں کیا فرق ہے۔؟
ندیم افضل چن:
یہ بنیادی فرق لیڈرشپ ہے، احساس اور خیال کا ہے، ویژن کا فرق ہے۔ آپ دیکھ لیں حنیف عباسی جو ابھی رہا ہوئے ہیں، بے شک انکا کیس اور اس پر آنیوالے فیصلے پہ ہماری رائے الگ ہے، لیکن ایک مثال کے طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نون لیگ کی ٹاپ لیڈر شپ کی زبانی ان کے لیے ایک بیان بھی اٹھا کر نہیں لا سکتے، حتیٰ کہ مریم اورنگزیب تک نے کوئی بات نہیں کی، اسی طرح نیب عدالت میں پیشی کے موقع پر جو لوگ پولیس سے گتھم گھتا ہوئے، اب بلاول یا زرداری صاحب کو معلوم ہی نہیں کہ انکا کیا حال ہے، کوئی انکی ضمانت کروانے والا نہیں۔ پی ٹی آئی میں ایسے کلچر کی گنجائش نہیں، حالات بالکل مختلف ہیں۔ آج تک دیکھیں سانحہ کارساز اور لیاقت باغ میں جانیں دینے والے کارکنوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔

یہ حقائق ہیں، ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ انصاف اور قانون کی نگاہ میں غریب اور اشرافیہ کا فرق ختم ہونا چاہیئے۔ یہ پہلے پارٹیوں میں ختم ہوگا تو بات آگے بڑھے گی، ورنہ اگر جو کلچر سیاسی جماعتوں میں ہے، وہ برقرار رہا تو یہ لوگ کیسے اصلاحات لا سکتے ہیں، اس لیے یہ توقع صرف عمران خان سے کی جا سکتی ہے کہ نئے نظام کی بنیاد رکھے گا اور انگریز کے بنائے ہوئے سسٹم کو عوام دوست بنائے گا۔ بنیادی چیز عدل ہے، جس کے بغیر معاشرہ نہیں چل سکتا، نہ ریاست فلاحی ریاست بن سکتی ہے۔ پنجاب میں اب بھی اگر کسی فیملی سے کوئی شخص عدالت نہیں پیش ہوتا تو وہ مفرور ہوتا ہے اور اسکی پوری فیملی کو اٹھا کر بند کر دیتے ہیں، آپ دیکھیں، اسحاق ڈار، حسن نواز، حسین نواز، علی عمران، سلمان شہباز سب مفرور ہیں، لیکن نون لیگ کے لوگ گھنٹوں بیٹھ کر ٹی وی پہ انکی وکالت کرتے ہیں اور انکے حق میں دلائل دیتے ہیں، یہ سب انصاف کے راستے میں رکاوٹ اور معاشرے میں تفاوت کا سبب ہے۔

اسلام ٹائمز: اگر بات ایسی ہی ہے تو یہ نظریہ میاں نواز شریف کا بھی ہے، انہوں نے تحریک عدل بھی چلائی اور عام آدمی کے ووٹ کی عزت کی بات کی، آپکے نظریئے اور انکی سوچ میں مماثلت ہے تو آپکو مل کر نظام درست کر دینا چاہیئے، رکاوٹ کیا ہے۔؟
ندیم افضل چن:
انہوں نے جو نعرہ لگایا وہ صرف انکی ذات تک محدود تھا، جب سے وہ باہر آئے ہیں، انہوں نے اب کبھی وہ باتیں نہیں دہرائی، پھر جب بطور پارٹی بات کرینگے تو یہ مسلم لیگ نون کے مزاج کے ہی خلاف ہے کہ وہ اپنی تاریخ سے منہ موڑ لیں، انہوں نے سیکھا ہی یہی ہے، ایک آمر کی گود میں پروان چڑھے اور دوسرے کیساتھ ڈیل کرکے باہر چلے گئے، اسی طرح گذشتہ چند ماہ میں انہوں نے جس طرح کی خاموشی اختیار کی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ جو نعرے انہوں نے لگائے تھے، وہ نظریاتی پن نہیں تھا، وقتی غم و غصہ تھا، اس طرح کیسے یہ کہا جا سکتا ہے وہ نظام کی تبدیلی کیلئے کوئی قدم اٹھانے میں سنجیدہ رہے ہوں۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ نواز شریف نے جو نعرہ لگایا تھا، وہ اسے آگے لیکر چلنا چاہتے تھے، تو بھی اب مسلم لیگ نون اس کے لیے تیار نہیں، یہ اب ثابت ہوچکا ہے کہ نون لیگ شہباز شریف کی سیاست کے مطابق چل رہی ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 789218
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب