0
Friday 19 Apr 2019 00:18
انتقامی کارروائی کے ذریعے ہر ایک کو نہیں خریدا جا سکتا

کالعدم تنظیموں کے متعلق حکومت کی دوغلی پالیسی دہشتگردی سے بڑا جرم ہے، قمر زمان کائرہ

کالعدم تنظیموں کے متعلق حکومت کی دوغلی پالیسی دہشتگردی سے بڑا جرم ہے، قمر زمان کائرہ
پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر، پنجاب کے ضلع گجرات سے تعلق رکھنے والے قمر زمان کائرہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما ہیں، 5 جنوری 1960ء کو لالہ موسٰی میں جنم لینے والے کائرہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے سے حاصل کی، جبکہ جامعہ پنجاب سے فلسفہ میں ماسٹرز کی ڈگری لی۔ پہلی بار 2002ء کے عام انتخابات میں این اے 106، گجرات3 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، 2008ء کے عام انتخابات میں ایک بار پھر اسی حلقے سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ گلگت بلتستان کیلئے قائم مقام گورنر رہنے کے علاوہ، وفاقی وزیر برائے کشمیر و شمالی علاقہ جات اور پورٹس اینڈ شپنگ بھی رہے۔ پی پی پی کے سیکرٹری اطلاعات کے طور پر بھی کام کرتے رہے، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات کے عہدے پر فائز رہے، یوسف رضا گیلانی کی برطرفی کے بعد، قمر زمان کائرہ نے بھی وزارتِ عظمٰی کیلئے کاغذاتِ نامزدگی داخل کئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ اقتدار میں، جماعت کو مختلف بحرانوں کا سامنا رہا اور کائرہ اس دوران ہر محاذ پر پیش پیش رہے۔ جنوری 2013ء میں وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے اسلام آباد میں دیئے گئے دھرنے کے دوران، اُن سے مذاکرات کرنیوالی ٹیم کے ایک اہم رکن تھے، بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد پیدا شدہ عوامی بے چینی دور کرنیکے موقع پر بھی انکا مصالحتی کردار نمایاں تھا۔ اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: جب سے الیکشن ہوئے ہیں، اپوزیشن حکومت کیخلاف دوراہے پر کیوں ہے۔؟
قمر زمان کائرہ:
ہم شروع سے چاہتے ہیں کہ یہ حکومت اپنی مدت پوری کرے، لیکن خود حکومت اس پوزیشن میں نہیں لگتی، اگر پیپلز پارٹی نے اسمبلی میں اور اسمبلی سے باہر یہ کہا ہے کہ یہ مدت پوری کریں، وہ اس لیے کہ یہ سسٹم ڈی ریل نہ ہو۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ حکومت خود اس مشکل میں ہے کہ دن کیسے پورے کریں۔

اسلام ٹائمز: کیا نون لیگ کیطرح باقی پارٹیز بھی حکومت پر دباؤ ڈال کر صرف ریلیف لینا چاتی ہیں، حقیقت میں حکومت کیخلاف محاذ بنانے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔؟
قمر زمان کائرہ
: اصل سوال یہ نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ آج جس شخص کو نو ماہ جیل میں رکھا گیا، اس کیس کی شنوائی ٹھیک الیکشن سے چند دن قبل کیوں مکمل ہوئی، جب وہ الیکشن سے باہر ہوگیا تو عدالت نے چھوڑ دیا۔ یہ میں کسی پارٹی یا کیس کی بات نہیں کر رہا، یہ ایک مثال ہے، جس سے یہ سمجھنا آسان ہے کہ اپوزیشن کیخلاف بنائے گئے مقدمات اور فیصلوں کی حقیقت کیا ہے، سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ ایسے فیصلے الیکشن کے قریب ہی کیوں ہوتے ہیں، احتساب کا نعرہ حکومت توڑنے اور بنانے کیلئے ہی کیوں لگتا ہے۔ یہ غداری اور توہین مذہب کے سرٹیفیکیٹ باٹنے کا رواج کیوں ہے۔ یہ کیسز جب ہائی کورٹس میں جاتے ہیں تو ضمانتیں کیوں ہو جاتی ہیں، حکام یہ تقریروں میں کیوں کہتے ہیں کہ فلاں پکڑا جائیگا، جیل میں جائیگا، وزراء یہ بیانات کس بنیاد پہ دیتے ہیں۔ ریلیف کیوں لینا ہے، ہم نے کوئی چوری نہیں کی، کوئی فراڈ نہیں کیا، ریلیف سے کیا مراد ہے، سیاست چھوڑ دیں یا پی ٹی آئی میں شامل یو جائیں، یہ جو رویہ اور انتقامی انداز اپنایا گیا ہے، اس میں ہر کوئی نہیں خریدا جا سکتا، جو لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں، وہ ملک دشمن ہیں، انہیں ہمیشہ مایوسی ہوگی۔ انصاف پہ مبنی نظام کے علاوہ کوئی چیز ملک کو آگے لیکر نہیں چل سکتی۔
 
اسلام ٹائمز: کیا آپکے خیال میں اگر کسی سیاستدان کے پاس آمدن سے کئی گنا زیادہ اثاثے ہیں تو ان سے سوال نہیں کیا جانا چاہیئے۔؟
قمر زمان کائرہ:
سوال پوچھا جائے، ایک دفعہ نہیں بلکہ دس دفعہ پوچھا جائے، لیکن اس سے پہلے جو سوال پوچھنے والا ہے، اس کے پاس ثبوت تو ہونے چاہیئں، اگر ثبوت بھی نہ ہو اور کئی کئی ماہ تک ساری لیڈرشپ کو اٹھا کر قید میں ڈال دیا جائے تو یہ صرف سیاسی بلیک میلنگ شمار ہوگی۔ اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں کہ سوال نہ پوچھا جائے، ہم ہزار بار سوالوں کے جواب دے چکے ہیں، دینے کیلئے تیار ہیں، اس میں ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں ہے، لیکن جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے، اس سے پاکستان کے ادارے تباہ ہو رہے ہیں، اداروں کی ساکھ خراب ہو رہی ہے، موجودہ حکمرانوں کی تو کوئی سیاسی ساکھ نہیں، نہ ہی انکا مستقبل ہے، یہ کٹھ پتلی لوگ ہیں، اب بھی انہیں کسی کے کندھوں پہ بٹھا کر لایا گیا ہے۔ اب جو گرفتاریاں ہو رہی ہیں یا دھمکیاں دی جا رہی ہیں، یہ ایک بے ہودہ پن ہے، انصاف کے تقاضے یہ نہیں ہیں، جو رہا سہا اعتماد ہے، وہ بھی لوگوں میں ختم ہو رہا ہے، ریاستی اداروں کے متعلق سوال اٹھ رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آج تک ایسی کوئی حکومت کیوں نہیں آسکی، جسکا منشاء اس نظام اور طریقہ کار کو ٹھیک کرنا ہو۔؟
قمر زمان کائرہ:
یہ بات درست ہے کہ سیاستدانوں نے نظام کو بہتر بنانے کیلئے جو کردار ادا کرنا تھا، وہ نہیں کرسکے، لیکن بات کو اس انداز میں بھی دیکھیں، بالخصوص حالیہ تناظر میں کہوں گا کہ سیاسی جماعتوں کو تو ایک انسٹی ٹیوٹ بننے ہی نہیں دیا گیا، مضبوط سیاسی لیڈر شپ کو بھی ہمیشہ راستے سے ہٹا دیا گیا، جماعتوں کو بار بار توڑا گیا۔ اس میں سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کو کمزور کرنیکے لیے ریاستی ادارے ہی استعمال کیے گئے۔ اب یہ ایک المیہ ہے اداروں کے ذریعے ہی ایسی غلطیاں کی گئیں، جس کی وجہ سے ریاست کے مستقبل پر ہی سوال کھڑا کر دیا گیا۔

اب بھی اٹھارویں ترمیم اور صوبوں کے حقوق پر جس طرح سے شب خون مارا جا رہا ہے، اس کے نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں، یہ کون کر رہا ہے، کس کے ایماء پر کر رہا ہے، یہ سب سیاستدان جانتے ہیں، لیکن جب پورے سسٹم کو یرغمال بنا لیا جائے تو بے بسی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، یہ اشخاص کا مسئلہ نہیں، پاکستان میں جمہوریت اور عوام کو جکڑا گیا ہے، بدقسمتی سے یہ کام بھی سیاستدانوں کے ذریعے ہی انجام دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے، ادارے بھی کمزور ہوتے ہیں، نقصان ملک کا ہوتا ہے۔

اسلام ٹائمز: چار سیاسی جماعتوں اور پانچ ریاستی اداروں نے فیض آباد دھرنا کیس کی ریویو پٹیشنز دائر کی ہیں، آپکے خیال اسکی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔؟
قمر زمان کائرہ:
عدالتوں میں کیس بھی دائر ہوتے ہیں اور ریویو پٹیشنز بھی آتی ہیں، ان سیاسی جماعتوں میں سے دو تو ون مین پارٹیز ہیں، جیسے شیخ رشید اور اعجاز الحق۔ اسکا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سب نے مختلف پہلووں سے درخواستیں دائر کی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ دو ممبر بینچ نے دیا تھا، زیادہ ریمارکس قاضی فائز صاحب نے دیئے تھے، اس فیصلے میں دس نکات بیان کیے گئے جو بڑے اہم تھے، ایک یہ تھا کہ تحریک لبیک کو فری میں میڈیا میں تشہیر ملی، عدالت نے باقاعدہ پوچھا تھا کہ ایسا کیسے ہوا، پھر یہ کہ اتنی زیادہ تشہیر کیوں ہوئی، جب میڈیا کو پتہ بھی تھا کہ وہ اینٹی اسٹیٹ سرگرمی ہو رہی تھی۔ یہ ایک غیرآئینی قسم کا دھرنا تھا، پھر اتنی کوریج نہیں دی جانا چاہیئے تھی۔ یہ سوال ہمارا بھی تھا کہ ایک چھوٹے سے گروہ کو اتنی بڑی طاقت بنا کر کیوں دکھایا گیا۔ حالانکہ وہ لوگ صرف گالم گلوچ کر رہے تھے، کوئی سیاسی نظریہ نہیں تھا۔ وہ لوگ چیف جسٹس اور آرمی چیف کا گالیاں دے رہے تھے، لیکن انہیں کیوں اجازت دی گئی کہ وہ اپنا سیاسی قد کاٹھ بنائیں، اس میں پیمرا کا کردار درست نہیں تھا۔

اس میں ایک اہم چیز یہ تھی کہ جن میڈیا ہاوسز نے دھرنے کو کوریج نہیں دی اور ان پر تنقید کی، انکو بند کر دیا گیا تھا، حالانکہ آرمڈ فورسز کی توہین ہوتی رہی۔ اس لیے ایک پہلو بڑا اہم ہے کہ وزارتوں اور اداروں نے بھی درخواستیں دی ہیں۔ اب یہ سب کچھ الیکشن سے عین پہلے ہوتا رہا، الیکشن کمیشن کی بھی سرزنش کی گئی ہے کہ انہوں نے ٹی پی ایل کو روکا کیوں نہیں، اس کا جواب ہمارے پاس ہے، کیونکہ سب سے زیادہ کوشش یہ کی گئی کہ بڑی سیاسی جماعتوں کے ووٹر کو تقسیم کیا جائے اور انتخابات میں ہمیں نقصان پہنچایا جائے، اس سارے عمل کو سیاسی طور پر تو قبل از انتخابات دھاندلی کہا جاتا ہے، یہ بڑا ضروری ہے کہ ایسے معاملات کو حل کیا جائے، یہ ملکی اور قومی مفادات کے عین خلاف ہے۔ اب ادارے ہیں یا سیاسی جماعتیں اور شخصیات اپنی صفائی پیش کر رہی ہیں، حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ کیا جائے، تاکہ حساس اداروں کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نیک نامی متاثر نہ ہو۔

اسلام ٹائمز: دہشتگردی کی تازہ لہر نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے باوجود اسکا ختمہ کیونکر ممکن نہیں ہوسکا۔؟
قمر زمان کائرہ:
دہشت گردی روکنا ظاہر ہے حکومت اور ریاست کا کام ہے، لیکن موجودہ حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہیں، ایک تو یہ ثابت شدہ بات ہے کہ کالعدم تنظیمیں ان کیلئے سب سے زیادہ اہم ہیں، جو دہشت گردی کرنیوالے گروہ ہیں، ان کے تعلقات کالعدم مذہبی جماعتوں سے موجود ہیں اور انکا قریبی تعلق موجودہ حکومت سے ہے، ایسی صورت میں ممکن نہیں کہ حکومت ان کارروائیوں کو روکنے کیلئے ضروری اقدامات کرسکے۔ ہمارا موقف بڑا واضح ہے کہ کالعدم تنظیموں کے متعلق موجودہ حکمرانوں کی دوغلی پالیسی دہشت گردی کا شکار ہونیوالوں کیساتھ ظلم اور زیادتی ہے۔ یہ دہشت گردی سے بڑا گناہ ہے، ساتھ ہی یہ بات موجودہ حکمرانوں کو سمجھنی چاہیئے کہ یہ عذاب انکے گلے پڑیگا۔ لیکن اس سے بھی بڑی مصیبت یہ ہے کہ موجودہ حکومت میں نااہلی کی وجہ سے کسی بھی قسم کے فیصلے نہیں ہو رہے۔ جس کی وجہ سے دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

جس کی وجہ سے مایوسی میں اضافہ ہوگا اور بے چینی کی نئی لہر پیدا ہوگی۔ اگر موثر اقدامات کے ذریعے اس کا تدارک نہیں کیا جاتا تو پاکستان پہلے ہی گرے لسٹ میں ہے، عالمی اداروں کو یہ بہانہ مل جائیگا کہ وہ پاکستان کیخلاف پابندیوں کا جال پچھائیں، اسی طرح یہ حالات ہمارے پڑوسی ممالک کیساتھ، بالخصوص ایران کیساتھ تعلقات کو منفی طور پر متاثر کرنیکی کوشش بھی ہے۔ ہر لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ پاکستان کے استحکام، پاک ایران تعلقات، عالمی اداروں کے دباؤ سے نکلنے کیلئے دہشت گردوں کیخلاف موثر کارروائی کی جائے، حکومت دوغلا پن چھوڑ دے، ورنہ داخلی اور خارجی سطح پر ہونیوالے تمام اثرات کے ذمہ دار موجودہ حکمران ہونگے۔ اب تو سب گروہوں نے دعوے کرنا شروع کر دیئے ہیں، لشکر جھنگوی، داعش اور قاری حسین گروپ سب یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کارروائیاں وہ کر رہے ہیں، ان کیخلاف مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ قوم تو فوج اور حکومت کیساتھ ہے، لیکن ریاست کو کسی قسم کی لیت و لال سے کام نہیں لینا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 789333
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب