0
Tuesday 23 Apr 2019 09:47

مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل غیر مشروط بات چیت سے ہی ممکن ہے، سید منصور آغا

مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل غیر مشروط بات چیت سے ہی ممکن ہے، سید منصور آغا
سید منصور آغا بین الاقوامی صحافی ہیں، وہ Rifle Association, Johri کے سرپرست ہیں، انہوں نے ہندوستان پبلی کیشنز کیلئے ہندی اور اردو مترجم کے طور پر کام کیا ہے، انہوں نے تقریباً بارہ سے زیادہ کتابوں کا ترجمہ کیا ہے، جو شائع ہو چکی ہیں، جن میں ڈاکٹر حمیداللہ (پیرس) کی "انٹروڈکشن ٹو اسلام" علامہ یوسف القرضاوی کی "الحلال و الحرام فی الاسلام" اور علامہ بدیع صقر کی "کیف ندعو الناس" قابل ذکر ہیں، سید منصور آغا تقریباً 12 سال روزنامہ قومی آواز کے شعبہ ادارت سے وابستہ رہنے کے بعد 2005ء کو بحیثیت چیف سب ایڈیٹر ریٹائرڈ ہوئے، اسکے بعد بطور آزاد صحافی انگریزی، ہندی اور اردو میں لکھتے رہے، موصوف قرآن فاونڈیشن آف انڈیا کے ڈائریکٹر ہیں، انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرہ آفاق تفیسر "ترجمانِ القرآن" کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا ہے، سید منصور آغا آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کے نائب صدر بھی ہیں، فورم فار سول رائٹس کے جنرل سیکرٹری کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد ہے، اسلام ٹائمز نے سید منصور آغا کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جو قارئین کرام کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: بھارتی سپریم کورٹ میں پونا شہر کی ایک مسلم خاتون یاسمین بانو اور انکے شوہر نے بعض مساجد میں خواتین کو نماز سے روکنے کیخلاف ایک عرضی دائر کی ہے، اس پر آپکا تجزیہ جاننا چاہینگے۔؟
سید منصور آغا:
دیکھیئے خود یاسمین بانو کہتی ہیں کہ نماز سے روکے جانے اور مسجد کے دروازے پر اس سخت رویہ سے ان کو سخت صدمہ ہوا ہے اور اس نے سوچنا شروع کیا کہ ایک خاتون مسجد کے اندر نماز ادا کیوں نہیں کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں حیران تھی کہ کیوں منع کیا گیا۔؟ کیا خواتین کے لئے اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے مطالعہ شروع کیا اور اس نتیجہ پر پہنچیں کہ قرآن اور سنت میں کہیں کچھ ایسا نہیں کہ عورت کو مسجد میں نماز سے روکا جائے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے پڑوس کی ایک جامع مسجد کی انتظامیہ کو تحریر دی کہ یہ روک ہٹے، لیکن ان کو بتایا گیا کہ ان کی تحریر دو مدارس کو بھیجی گئی تھی اور دونوں مدرسوں نے عورتوں کو نماز کے لئے مسجد میں داخلہ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اس غیر منصفانہ حکم سے ان کی جستجو کم نہیں ہوئی بلکہ انہوں نے مزید مطالعہ کیا۔ مسلم ممالک کے بارے میں معلوم کیا اور کئی لوگوں سے اس حوالے سے پوچھا۔ جب یہ بات دل و دماغ میں بیٹھ گئی کہ اس رکاوٹ کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے تو انہوں نے عدالت جانے کا ارادہ کیا۔ میرا ماننا ہے کہ اچھا ہوتا کہ وہ عدالت جانے سے پہلے بھارت کے چند بڑے مدارس اور دار الافتاء سے رابطہ کرتیں۔ انہیں ایسے معاملے میں عدالت جانے سے پہلے یہ بھی غور کر لینا چاہیئے تھا کہ ہماری عدالت جو فیصلہ صادر کرے گی، اس میں وہ قانون شریعت کی پابند نہیں ہوگی۔ اس لئے ضروری نہیں تھا کہ مسجد میں نماز کے شرعی حق کے لئے وہ عدالت سے رجوع کرتیں۔ عدالت میں جانے سے کوئی نیا فتنہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: آپکا ذاتی مطالعہ اس حوالے سے کیا ہے، کیا خواتین کو مساجد میں نماز کی اجازت دی جانی چاہیئے۔؟
سید منصور آغا:
دیکھیئے ہم نے یہی صورت سعودی عرب، لیبیا اور بعض یورپی ممالک میں دیکھی ہے کہ خواتین کے لئے مساجد میں مخصوص جگہ ہوتی ہے۔ ان کے لئے وضو خانہ کا بندوبست الگ ہوتا ہے۔ بھارت میں بھی بعض مساجد میں الگ گوشے میں یا متصل احاطے میں خواتین کی نماز کی سہولت میسر ہوتی ہے، جہاں خواتین آتی ہیں اور مرد امام کے پیچھے نماز ادا کرتی ہیں۔ اس کے باوجود بعض مصلحتوں کی وجہ سے جس میں حیا کے پہلو بھی شامل ہیں، عورتوں کے لئے افضل گھر میں نماز پڑھ لینا ہے، لیکن راہ چلتے اگر نماز کا وقت ہو جائے تو مسجد میں ان کو روکنے کا مطلب یہ ہے کہ فرض کو ادا کرنے سے روکنا۔ ہم غلامان رسول کا طریقہ وہی ہونا چاہیئے، جو خود رسول اللہ (ص) سے ثابت ہے۔ ہماری مسجد ہماری دین کی درسگاہ ہوتی ہے۔ امام وعظ و نصیحت فرماتے ہیں۔ خواتین کو ان سے فائدہ اٹھانے کا موقع حضور اکرم (ص) نے دیا تو ہم کون ہوتے ہیں انہیں روکنے والے۔ زمانہ خراب ہے کہہ کر ان کے حقوق کی پامالی کا اختیار کسی کو نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: پلوامہ میں فوجی کانوائے پر مشکوک حملے کے حوالے سے آپ کیا رائے رکھتے ہیں۔؟
سید منصور آغا:
میرا ماننا ہے کہ اس طرح کی واردات کوئی ایک فرد انجام نہیں دے سکتا ہے۔ کوئی ایک دن میں اس کی تیاری نہیں ہوسکتی۔ قومی شاہراہ پر سی آر پی ایف کا بڑا قافلہ دن کی روشنی میں جس وقت گزر رہا تھا، اتنی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مادے کے ساتھ کار کا آجانا اور وہ بھی غلط سمت پر اتفاق کیسے ہوسکتا ہے۔ آر ایس ایس کے لیڈر موہن بھاگوت نے خود کہا ہے کہ اگر اس میں کوئی داخلی سانٹھ گانٹھ نہیں ہے تو پھر یہ حکومت کی کھلی ناکامی ہے۔ جموں و کشمیر کے گورنر ستہ پال ملک نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ حملہ ہماری انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔ اب اگر وجہ بدانتظامی اور لاپرواہی ہے تو مودی جی کو اس کی ذمہ داری قبول کر لینی چاہیئے اور حکومت کی کمان کسی اور کے سپرد کر دینی چاہیئے۔ جو لوگ سیاسی سازش کا گمان کر رہے ہیں، وہ یہ نہیں مانتے کہ ہماری فوج اور انٹیلی جنس اتنی نااہل ہوسکتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ان سوالوں کی وضاحت کے لئے غیر جانبدارانہ تحقیق ضروری ہے، خاص طور سے جنرل ہودا کے اس قیاس کے بعد کہ بارود مقامی ذرائع سے آیا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اس ایک حملے کے بعد رافیل، روزگار، کسان، خواتین کی حفاظت اور مہنگائی سب مدعے لپٹ گئے ہیں اور اپوزیشن بھی ششدر ہے۔

اسلام ٹائمز: اس حملے کے بعد کی صورتحال جاننا چاہیں گے۔؟
سید منصور آغا:
اس سانحہ کے بعد ہمارے ملی اخباروں نے، ہماری جماعتوں نے، مذہبی اور سیاسی شخصیات نے، ہمارے عصری و دینی تعلیمی اداروں نے ایک زبان ہوکر اس کی مذمت کی ہے۔ ایسا واقعہ دنیا میں کہیں بھی ہوتا ہے، ہمیشہ اس کی مذمت کی جاتی ہے کیونکہ اس طرح کی خون ریزی ہمارے دین، ہماری اقدار اور ہماری سیاسی سمجھ کے خلاف ہے، لیکن ہم حکومت سے کہتے ہیں کہ تابوتوں کو سلامی اور زبانی تعزیت و مذمت کافی نہیں ہے۔ ان اسباب کا سدباب کیا جائے، جن کی وجہ سے یہ خباثتیں رونما ہو رہی ہیں۔ ہمیں یہ کہنے میں تکلف نہیں ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے، اس کا سیاسی حل غیر مشروط بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ ہم نے دیکھ لیا کہ ’’سرجیکل اسٹرائیک‘‘ کا کوئی دیرپا نتیجہ نہیں نکلا۔ اس واردات کے بعد مودی حکومت کو اپنی پچھلی پانچ سالہ کشمیر پالیسی کے خون آلود نتائج پر بھی نظر ڈال لینی چاہیئے اور صدق دلی سے اٹل بہاری واجپائی دور کی ترجیحات اور پالیسیوں کی طرف پلٹ آنا چاہیئے، جس کو ’’یو پی اے‘‘ کے دور میں تقویت ملی تھی اور جو 2014ء کے بعد ختم کر دی گئیں۔

اسلام ٹائمز: کہا جا رہا ہے کہ یہ پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنیکی ایک کوشش تھی، آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہینگے۔؟
سید منصور آغا:
پاکستان کو عالمی برادری میں الگ تھلگ کرنے کی مہم سابق میں کئی بار آزمائی گئی، کیا کوئی نتیجہ نکلا ہے۔ غور طلب ہے کہ عالمی طاقت امریکہ جی توڑ کوششوں کے باوجود ایران، نارتھ کوریا اور شام کو الگ تھلگ نہیں کرسکا۔ پاکستان کی ایک جغرافیائی اہمیت ہے۔ چین اس کی پشت پر ہے۔ افغانستان کے امن مذاکرات میں امریکہ کو اس کی ضرورت ہے۔ بھارتی حکومت کی یہ کوشش اس بار کامیاب ہو جائے گی، اس کی کیا ضمانت ہے۔؟

اسلام ٹائمز: بابری مسجد کے حوالے سے کیا صورتحال ہے۔؟
سید منصور آغا:
بابری مسجد کے حوالے سے کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ مسئلہ اس طرح حل ہو کہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق خود کو ٹھگا ہوا محسوس نہ کرے۔ ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ بابری مسجد حکمرانوں کی بد دیانتی، سیاست کی شاطری اور عدالتوں کی غیر منصفی کی بدولت گذشتہ ستر سال کے دوران رفتہ رفتہ ہمارے ہاتھ سے نکلتی گئی۔ ہر بار ایک غلط کام ہوا۔ اس پر ’’موجودہ حیثیت برقرار‘‘ رکھنے کا حکم جاری ہوتا رہا اور جب اس کی خلاف ورزی ہوئی تو تلافی کے بجائے نئی صورت کی برقراری کا حکم صادر ہوگیا۔ دھیرے دھیرے مسجد کا وجود ختم ہوگیا اور عملاً اس جگہ مندر بن گیا، ساتھ ہی ساتھ ہم بھی کہتے رہے کہ ’’عدالت پر ہمارا بھروسہ ہے۔‘‘ اللہ جو چاہے کر دے، لیکن بظاہر مسجد کی بحالی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ہاں اس آراضی پر ہمارا حق ہے، انصاف کا تقاضا ہے کہ قبضہ واپس ملے اور مسجد کی اسی جگہ تعمیر نو ہو، لیکن ایسی صورت میں جب کہ سپریم کورٹ بھی ملکیت کے معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر پا رہا ہے، اس کی کیا توقع کریں۔ جن لوگوں نے ایک قدیم مسجد ہی نہیں بلکہ شرقی طرز تعمیر کی واحد یادگار بابری مسجد کو مسمار کر دیا، ان کو گذشتہ 27 سال میں سزا نہیں دی جاسکی۔

اسلام ٹائمز: موجودہ الیکشن میں بھی بھاجپا نئے نعروں کیساتھ بھارتی عوام کو لبھانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے، کیا بھارتی عوام دوبارہ دھوکہ میں آسکتی ہے۔؟
سید منصور آغا:
میرا ماننا ہے کہ بھارتی عوام مودی کے دام فریب میں نہیں آرہے ہیں اور پاکستان، پلوامہ، سرجیکل اسٹرائیک جیسے موضوعات سے متاثر ہونے کے بجائے روزگار، صحت، تعلیم، امن و سلامتی اور ملوں پر گنے کی بقایا کی باتیں کر رہے ہیں۔ عوام کی اس سوچ کی تائید ایک رپورٹ سے ہوگئی۔ یہ رپورٹ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک رفارمس کے کُل ہند سروے کی ہے، جس نے 32 ریاستوں میں 534 پارلیمانی حلقوں کے پونے تین لاکھ رائے دہندگان سے 31 موضوعات پر سوال کئے گئے اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پینے کا پانی، بجلی، سڑکوں، غذا، تعلیم، صحت خدمات، آمد و رفت کے ذرائع جیسے ٹرینیں، بسیں وغیرہ مسائل کو نام نہاد دہشتگردی، سکیورٹی اور فوجی کارروائیوں پر واہ واہی پر ترجیح حاصل ہے۔ رپورٹ میں بھاجپا کی کارکردگی غیر اطمینان بخش قرار دی گئی۔ خاص طور سے روزگار کے معاملہ میں 100 میں سے 75 نے مودی حکومت کے خلاف رائے دی ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اب عوام صورتحال سے آگاہ ہوتی جا رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 789676
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب