0
Saturday 20 Apr 2019 23:52
وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران خوش آئند اور وقت کی اہم ضرورت ہے

اورماڑہ حملہ پاک ایران تعلقات اور وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کیخلاف بھارتی سازش ہے، ڈاکٹر یونس دانش

اورماڑہ حملہ پاک ایران تعلقات اور وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کیخلاف بھارتی سازش ہے، ڈاکٹر یونس دانش
ڈاکٹر محمد یونس دانش جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے مرکزی ترجمان ہیں، وہ جے یو پی کی مرکزی مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ کے بھی رکن ہیں، جمعیت علمائے پاکستان میں شمولیت سے قبل وہ انجمن طلبائے اسلام میں فعال تھے، جسکے وہ مرکزی سیکرٹری جنرل بھی رہے چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے ڈاکٹر محمد یونس دانش کیساتھ اورماڑہ حملہ، پاک ایران تعلقات اور اسے نقصان پہنچانے کی سازش کے حوالے ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: اورماڑہ حملہ اور پاک ایران تعلقات خراب کرنیکی سازش کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔
جب بھی پاکستان کے حکمران کسی برادر اسلامی ملک کا دورہ کرتے ہیں، تو پاکستان و اسلام دشمن ممالک دہشتگردی کے واقعات کے ذریعے اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وزیراعظم ایران کا دو روزہ دورہ کر رہے ہیں، لہٰذا بھارت، امریکا، اسرائیل و دیگر دشمن ممالک چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ایران ایکدوسرے کے قریب نہ آئیں، پاک ایران تعلقات مزید بہتر نہ ہوں، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہوں، دونوں برادر اسلامی پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران یک جان اور دو قالب ہیں، کیونکہ جب بھی کوئی مشکل وقت پڑا ہے، پاکستان نے ایران کا اور ایران نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان ایران تعلقات خراب کرنے کیلئے ماضی میں بھی دہشتگرد کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں، اورماڑہ حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، لیکن ماضی کی طرح اس بار بھی پاک ایران برادرانہ تعلقات خراب کرنے کی سازش ناکام ہوگئی ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں اورماڑہ حملہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کو سبوتاژ کرنیکی سازش ہے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش:
بالکل، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اورماڑہ حملے کا مقصد پاک ایران تعلقات کو نقصان پہنچانا اور وزیراعظم عمران خان صاحب جو کل دو روزہ دورے پر ایران جا رہے ہیں، اسے سبوتاژ کرنا ہے، اورماڑہ حملے میں ملوث دہشتگردوں کو بھارت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے اور بھارت نے اس حملے کے ذریعے پوری کوشش کی کہ پاک ایران تعلقات خراب کئے جائیں، وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران خراب ہو، دونوں برادر اسلامی ہمسائے ممالک کے درمیان دوریاں پیدا کی جائیں۔

اسلام ٹائمز: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امید ہے ایران ان دہشتگردوں کیخلاف ایکشن لے گا، ایرانی وزیر خارجہ نے اس واقعے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں پاکستان اور ایران نے تعلقات خراب کرنیکی اس سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش:
یہ پہلا موقع نہیں ہے، اس سے پہلے بھی جب دہشتگرد عناصر نے پاکستان اور ایران کی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا، تو اس وقت بھی پاکستان اور ایران نے انتہائی سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی سازش کو ناکام بنایا تھا، اب جب بھارتی نے اورماڑہ حملے کے ذریعے پاک ایران تعلقات خراب کرنے کی سازش کی، تو پاکستان اور ایران نے مشترکہ طور پر اس بھارتی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ پاکستان اور ایران کی عوام ہو یا حکومتیں، دونوں اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ بھارت، امریکا، اسرائیل و دیگر استعماری و کفریہ قوتوں کو پاک ایران تعلقات ایک آنکھ نہیں بھاتے، پاک ایران تعلقات ان دشمن ممالک کی آنکھوں میں کانٹے کی مانند ہے۔

اسلام ٹائمز: ایران نے پاکستان کو اورماڑہ حملے کیخلاف تحقیقات اور تعاون کی جو یقین دہانی کرائی ہے، اسے کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش:
ہم سمجھتے ہیں کہ ایران پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے اور پاکستان پر حملہ ایران پر حملہ ہے، کیونکہ دونوں برادر اسلامی پڑوسی ممالک ہیں، لہٰذا اورماڑہ حملے کے بعد ایرانی ردعمل نے پاک ایران تعلقات خراب کرنے کی، دونوں ممالک کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے، دوریاں پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے، ضروری ہے کہ پاکستان اور ایران دہشتگردی کے خلاف اور قیام امن کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم پاکستان عمران خان کل دو روزہ دورے پر ایران جا رہے ہیں، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش:
خطے اور عالمی حالات کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران انتہائی اہمیت کا حامل ہے، یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کے دورہ ایران کو سبوتاژ کرنے کیلئے اورماڑہ حملہ کیا گیا، کیونکہ اس قسم کے دورہ جات سے دونوں ممالک کو مزید قریب آنے کا موقع ملے گا، ایک دوسرے کو سمجھنے، ایک دوسرے کو درپیش مسائل کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور یہی پاک ایران نزدیکیاں بھارت، امریکا، اسرائیل و دیگر کفری قوتوں کیلئے زہر قاتل ہیں۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم عمران خان دورہ ایران کتنا مؤثر ثابت ہوتا نظر آرہا ہے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش:
وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران خوش آئند ہے اور وقت کی اہم ضرورت بھی۔ امید ہے کہ اس دورے کے دونوں ممالک پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہونگے، اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئے گی، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوششوں، غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے میں بہت مؤثر ثابت ہوگا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کیا کہ بھارت، امریکا اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ پاک ایران تعلقات مزید بہتر نہ ہوسکیں، تعلقات خراب ہوں، دونوں ممالک ایک دوسرے سے دور رہیں، امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان دورہ ایران میں ان سارے مسائل پر بات کرینگے، امید ہے دونوں ممالک کے درمیان جو بھی غلط فہمیاں ہیں، وہ دور ہونگی۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کو معاشی بحران کا سامنا ہے، اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کی اہمیت کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
ڈاکٹر محمد یونس دانش:
وزیراعظم عمران خان کو چاہیئے کہ پاکستان میں توانائی بحران کے خاتمے کیلئے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے ضرور بات کریں، جو ایران پہلے ہی اپنے حصے کی تعمیر کرکے سرحد تک پہنچا چکا ہے، اس منصوبے پر عملدرآمد کیا جائے، ایران سے کم قیمت پر تیل کے حصول کیلئے معاہدے کئے جائیں، پاک ایران معاشی و اقتصادی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے بات کی جائے، پاک ایران تجارت میں اضافے کے حوالے سے بات کی جائے، تجارتی، اقتصادی، معاشی معاہدے کئے جائیں، فوجی کے ساتھ ساتھ اقتصادی اتحاد بھی بنائیں۔
خبر کا کوڈ : 789743
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب