0
Monday 22 Apr 2019 23:18
نئے لوگوں کی ٹیم میں شمولیت انکی صلاحیت کا اعتراف ہے

ایران اور سعودی عرب کے نزدیک یکساں احترام عمران خان کے عظیم لیڈر ہونیکا ثبوت ہے، میاں محمود الرشید

ایران اور سعودی عرب کے نزدیک یکساں احترام عمران خان کے عظیم لیڈر ہونیکا ثبوت ہے، میاں محمود الرشید
پنجاب کے وزیر برائے ہاؤسنگ، شہری ترقی اور ہیلتھ انجینئرنگ محمود الرشید 1954ء کو پیدا ہوئے، 1978ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اکنامکس میں ماسٹر کیا، اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے 1988ء اور 1990ء میں رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے، 2013ء میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اور اپوزیشن لیڈر رہے، 2018ء میں پھر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی کابینہ کے فعال رکن ہیں۔ وفاقی کابینہ میں حالیہ تبدیلیاں، مستقبل کی حکومتی پالیسیوں اور پاک ایران تعلقات سمیت اہم ایشوز پر اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

 اسلام ٹائمز: وفاقی سطح پر قلمدان تبدیل ہوئے ہیں، کیا پی ٹی آئی حکومت آخری ہچکولے کھا رہی ہے اور یہ اسے بچانے کی کوشش ہے۔؟
میاں محمود الرشید:
ملک کے موجودہ مسائل ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں، ان حالات میں عمران خان کی توقعات پر پورا اترنا ایک مشکل کام ہے، قیمتیں بھی زیادہ بڑھی ہیں، میڈیا کا دور ہے، ہر طرف ایک شور بھی مچا ہوا ہے، اس وجہ سے یہ تاثر گہرا ہوچکا تھا کہ منسٹرز کام نہیں کر پا رہے، اس طرح وزیراعظم نے اپنی صوابدید استعمال کی ہے، یہ کوئی انہونی بات نہیں، کابینہ میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، پھر عمران خان کا مشن بھی ہے اور لوگوں کی توقع بھی ہے کہ وہ کرپشن بھی ختم کرینگے اور لوگون کیلئے آسانیاں بھی لیکر آئیں گے۔ جس کے متعلق وہ کبھی گھبرائے نہیں کہ یہ کام فوری طور پر نہیں ہوسکتا، لہذٰا یہ انکے کوئی ایسا شرمندگی والا معاملہ نہیں، بلکہ وہ تو واشگاف انداز میں پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ملک کی خاطر حکومت میں ہیں، جو لوگ کام نہیں کرسکیں گے، وہ انہیں تبدیل کرینگے۔ یہ اب ضروری تھا، کچھ لوگوں کی ذمہ داریاں تبدیل کی گئی ہیں اور کچھ نئے چہرے بھی لائے گئے ہیں، اس میں چونکہ عمران خان کی اپنی کوئی مصلحت نہیں بلکہ ہر چیز پر ملک کا مفاد مقدم ہے، اس لیے یہ ٹھیک ہے۔ یہ انکا آئینی حق ہے جس پر وہ عمل کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم کو اختیار تو حاصل ہے لیکن اسطرح اچانک اور بجٹ سے عین پہلے یہ تبدیلی ضروری تھی۔؟
میاں محمود الرشید:
پہلی بات تو واضح ہوگئی کہ یہ وزیراعظم نے کوئی اچھنبے والا کوئی کام نہیں کیا، اس پر بات ہوسکتی ہے کہ یہ پہلے ہو جانا چاہیئے تھا، یا اسکو موخر بھی کیا جاسکتا تھا، بالخصوص فنانس منسٹر کی متعلق سب کے ذہنوں میں سوال ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ چونکہ وزیراعظم نے جو بھی قدم اٹھایا ہے، وہ ملک کی خاطر ہے اور اس پر وزراء نے انکا ساتھ دیا ہے، اس کے نتائج اچھے ہونگے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ آئندہ بھی ایسے مشکل فیصلے لینا پڑینگے۔ اس کی وجہ وزیراعظم کی کوئی ذاتی خواہش اور پسند ناپسند نہیں، بلکہ کرپٹ ٹولے کی وجہ سے ملک کی معیشت جس بدحالی کا شکار ہے، اس سے نکلنے کیلئے تگ و دو ہو رہی ہے، یہ بھی اسی کا حصہ ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ معیشت کو ان خطوط پر استوار کریں، جس سے بیرونی قرضوں کی بجائے ملک اپنے پیروں پہ کھڑا ہوسکے۔ وزراء کی کارکردگی مایوس کن بھی نہیں، عمر ایوب صاحب کو دیکھیں انہوں 51 بلین کی ریکوری کی ہے، شیخ رشید صاحب نے ہدف سے زیادہ منافع کمایا ہے، مراد سعید نے بہت اچھا پرفارم کیا ہے، یوں تو نہیں ہے کہ حکومت کے کام رک گئے ہوں، بہت ساری چیزیں بہتر ہوئی ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایک تو وزیروں کی تبدیلی کا تعلق حکومت کی کارکردگی سے ہے، دوسرا یہ تاثر بھی ہے کہ پی ٹی آئی دھڑے بندی کا شکار ہے، جیسا کہ بنی گالا میں جو تبدیلیوں کے بعد میٹنگ ہوئی، اس میں فواد چوہدری اور اسد عمر نے شرکت بھی نہیں کی، یہ ذاتی اختلافات کی نشاندہی نہیں ہوتی۔؟
میاں محمود الرشید: یہ سب جانتے ہیں کہ عمران خان کے جو معیارات ہیں کارکردگی کے، وہ غیر معمولی ہیں، ان پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتے، پہلے بھی وہ مسلسل جائزہ لیتے رہے ہیں، وزراء کو بتانا پڑتا تھا، لیکن جب ذمہ داریاں چھوڑنا پڑتی ہیں تو آپ کو احساس تو ہوتا ہے، ایک تو یہ تھا اور دوسرا جو میٹنگ بنی گالا میں ہوئی، وہ کابینہ کی میٹنگ نہیں تھی، وہ وزیراعظم کے خصوصی معاونین، ترجمانوں اور فنانس کے حوالے سے بنائے گئے ایڈوائزری بورڈ اور کمیٹی کی میٹنگ تھی، جس میں سب کی شرکت ضروری نہیں تھی۔ اسکا مقصد بھی ان چیزوں کا جائزہ لینا اور انکا حل نکالنا تھا، جیسے جن کاموں میں تاخیر ہوئی، جیسے آئی ایم ایف کے پاس جانے جیسے امور تھے، ایمنسٹی اسکیم کا معاملہ تھا، ان کاموں کے متعلق تجاویز لینا اور نئی ٹیم کو بریف کرنا تھا، اس لیے پرانے لوگوں کی وہاں موجودگی کی ضرورت ہی نہیں تھی، زیادہ ٹائم نہیں لگے گا، یہ ہمارے ساتھی ایک ساتھ مل کر عمران خان کا ساتھ دینگے۔ فواد چوہدری صاحب کی اپنی ایک طبیعت ہے، لیکن وہ دور نہیں ہوئے، اسکا وہ اظہار بھی کرچکے ہیں۔

اگر لوگوں کے ایکدوسرے کے ساتھ اختلافات ہیں بھی سہی تب وہ اسد عمر سمیت سب کہہ چکے ہیں کہ وہ عمران خان کے ویژن، پالیسی اور طریقہ کار سے مطمئن ہیں، ساتھ بھی دینگے، اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ جو وزیر ایک دفعہ لے لیا جائے، پھر اسے تبدیل کیا ہی نہیں جا سکتا، یہ بات سب سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان کچھ زیادہ چاہتے ہیں، اس لیے وہ مزید بھی تبدیلیاں کرینگے، سب کو انکا ساتھ دینا ہوگا، وقتی طور پر پریشانی ہوتی ہے، لیکن کلی طور پر عمران خان کیساتھ چلنے والے اور کام کرنیوالے لوگ یہ جانتے ہیں کہ انتھک محنت کرنا پڑیگی۔ آہستہ آہستہ نئی ٹیم کی وجہ سے جو مثبت تبدیلی نظر آئیگی، سب مطمئن ہو جائیں گے۔ اس مقصد کیلئے اگر صوبوں میں بھی تبدیلی آتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پارٹی عمران خان کے فیصلوں کو قبول کریگی۔ وزراء نے وزارتوں کی تبدیلی پر کسی قسم کی ناراضگی کا اگر اظہار کیا ہے تو کسی نے عمران خان کی خوشامد بھی نہیں کی، یہ ایک ایسی چیز ہے، جو دوسری کسی پارٹی میں نہیں ہے، عمران خان کو بھی خوشامد اور چاپلوسی بجائے یہی پسند ہے کہ اپنے کام سے کام رکھیں، دباؤ بھی نہیں ڈالا جاتا، نہ کسی کی عزت نفس مجروع ہوتی ہے۔

اسلام ٹائمز: لیکن نئی کابینہ میں پہلے لوگوں کو ملا کر بیس کے قریب ایسے لوگ جمع ہوگئے ہیں، جنکا تعلق پارٹی سے نہیں، نہ ہی وہ الیکشن لڑ کر آئے ہیں، اس سے پارٹی کی اندرونی سیاست میں مزید بگاڑ کو کیسے روکیں گے۔؟
میاں محمود الرشید:
دیکھیں یہ بہت اہم تبدیلیاں ہیں، جو پارٹی سے پہلے ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر لائی گئی ہیں، یہ اب سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ پی ٹی آئی حکومت کے ایک دور کے اختتام کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہے، ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اب ہم نعروں اور بیانات کی فیز سے نکل کر حکومت کو نئے انداز میں چلانے جا رہے ہیں، ٹیکنوکریٹس کو لانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ منسٹریز کے جو کام رکے ہوئے ہیں، وہ بھی چلیں، زیادہ تر وہ لوگ لائے گئے ہیں، جو اپنے کام کو پہلے اچھی طرح انجام دے چکے ہیں، تجربہ رکھتے ہیں۔ آسانی سے اپنی ٹیم میں چل سکتے ہیں۔ عمران خان کا دل چونکہ صاف ہے، اس لیے انہوں نے نہیں دیکھا کہ اگر آدمی اہل ہے تو وہ پہلے کس کے ساتھ کام کرچکا ہے اور اسکو اپنی ٹیم میں لے لیا ہے، تاکہ ملک کو آگے بڑھایا جاسکے، یہ عمران خان کی وسعت نظری اور ملک سے لگاؤ کی ایک دلیل ہے۔ البتہ اب یہ سب لوگ پی ٹی آئی کے ویژن اور بیانیے کو تسلیم کرکے اس موقف کے حامی ہیں کہ کرپشن اچھی چیز نہیں، کام ہونا چاہیئے۔ سب کو ڈائریکشن تو عمران خان ہی دینگے۔

اسلام ٹائمز: کیا اس سے یہ الزام درست ثابت نہیں ہوتا کہ پارٹیاں بدلنے والوں کو بغیر کسی شرط کے پی ٹی آئی میں قبول کیا جا رہا ہے۔؟
میاں محمود الرشید:
یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے، ہمارے سیاسی پارٹیاں بدلنا سیاسی کلچر کا حصہ ہے، اسکا یہ بھی مطلب نہیں کہ جو بھی کوئی سیاستدان پارٹی چھوڑتا یا بدلتا ہے تو اس کے پیچھے کرپشن کی کہانی سے جان چھڑانا مقصد ہوتا ہے، اس طرح تو آپ دیکھیں بہت سارے لوگوں نے پی ٹی آئی بھی چھوڑی ہے اور وہ دوسری پارٹیوں میں سرگرم ہیں، انہیں تو سب یہی کہتے ہیں کہ انکا اصولی اور نظریاتی اختلاف تھا، اسی طرح جو لوگ نئی ٹیم کا حصہ بن رہے ہیں یا جن لوگوں نے پہلے یہ فیصلہ کیا اور پی ٹی آئی کا حصہ بنے، یہ انکے اپنے فیصلے ہیں۔ انکے ضمیر اور اصول ہیں، جن کی بنیاد پہ انہوں نے پی ٹی آئی اور موجودہ ٹیم میں شمولیت اختیار کی ہے۔ کسی کو نہ پہلے مجبور اور بلیک میل کیا گیا، نہ اب ایسا ہوا ہے، مشرف اور زرداری کساتھ جن لوگوں نے کام کیا انکو اپنے ساتھ شامل کرنیکا مطلب انکی صلاحیت کا اعتراف کرتے ہوئے ملک کی خدمت کیلئے انہیں موقع فراہم کرنا ہے، صرف زبردستی اپنی حکومت چلانا نہیں ہے۔

میرے خیال میں پیشہ وارانہ طور پر جو لوگ ماہر ہیں، پہلی حکومتوں میں بھی وہ سیاسی وابستگی سے زیادہ اپنی صلاحیت اور قابلیت کی وجہ سے شامل کیے گئے تھے، ہمیں بھی محسوس ہوا ہے کہ ایسے لوگ ملک کا اثاثہ ہیں، انہیں ضائع نہیں کرنا چاہیئے، چاہے وہ مشیر خزانہ ہوں یا دوسرے افراد۔ صمصام بخاری، فردوس عاشق اعوان یا موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہیں، یہ لوگ اپنی مرضی سے زرداری صاحب کی پارٹی کو خیرباد کہہ کر آئے ہیں۔ انہوں زرداری صاحب کی پالیسیوں اور بیانیے کو ٹھیک نہیں سمجھا اور عمران خان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ دراصل عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار ہے اور عمران خان کی طرف سے ان لوگوں کو اپنی ٹیم میں شامل کرنا ان لوگوں کی صلاحیتوں پر بھروسے کا اظہار ہے۔ نہ عمران خان کی سیاسی مجبوری ہے کہ وہ ہر ایک کو وقتی فائدے کیلئے اپنے ساتھ ملائے نہ ٹیم میں شامل ہونیوالے اس لیے شامل کیے گئے ہیں کہ صرف انکا سیاسی قد کاٹھ اتنا زیادہ ہے، جس سے پی ٹی آئی کی حکومت مضبوط ہو جائیگی۔ اب یہ لوگ وہی کرینگے جو پارٹی لیڈرشپ چاہے گی، نہ کہ اپنی مرضی کی وزارت لیکر انہوں اپنے من مرضی کے فیصلے کرنے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایک طرف حکومتی وزراء نے ایران کیخلاف سخت الزامات لگائے، دوسری طرف عمران خان نے خیر سگالی کا دورہ بھی کیا، اس طرزعمل سے جو مثبت نتائج آسکتے تھے کیا وہ متاثر نہیں ہوئے۔؟
میاں محمود الرشید:
بالکل ایسا نہیں ہے، ایران ہمارا دوست ملک ہے، عمران خان کا ویژن یہ ہے کہ دوسرے ملکوں کیلئے مشکلات پیدا نہ ہوں، سب کو ساتھ ملایا جائے، سعودی عرب کیساتھ اپنی جگہ پہ تعلقات ہیں، باقی مسلم ممالک کیساتھ بھی ہمارا اختلاف نہیں، دوستی کو مضبوط بنانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں، عمران خان کی حکمت عملی بالکل کامیاب رہی ہے، مہاتیر محمد، سعودی ولی عہد پاکستان آئے ہیں، مسلم ممالک عمران خان کی قدر کرتے ہیں، دورہ ایران بھی پاک ایران تعلقات کو مزید آگے بڑھائے گا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جو لہجہ عمران خان کا کرپشن میں ملوث سیاستدانوں کے متعلق ہے، اسی کو سامنے رکھا جاتا ہے، حالانکہ وہ ہر جگہ ایک ہی جیسا انداز نہیں اپناتے، بلکہ پوری باریک بینی سے معاملات کو آگے لیکر بڑھ رہے ہیں، اس وقت عمران خان کی شخصیت مقامی نہیں عالمی لیڈر کی حیثیت اختیار کرچکی ہے،  یہ اب ثابت ہوگیا ہے کہ عمران خان نے دنیا میں اپنا امیج بنا لیا ہے، سعودی عرب اور ایران کے باہمی اختلافات ہیں، لیکن عمران خان کی عزت اور احترام دونوں طرف ہے، مخالفین کے پاس اب اسکو تسلیم کرنیکے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ وزیر خارجہ نے جو شکایت کی ہے ایرانی حکام سے وہ بہت واضح ہے۔

اس میں ایران حکومت، ریاستی اداروں یا ایجنسیوں پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ چونکہ بلوچستان میں ہونیوالی دہشت گردی کیلئے ایرانی سرزمین استعمال کی گئی ہے، اس پر ان گروہوں کیخلاف انہیں ایکشن لینا چاہیئے۔ یہ مطالبہ کئی بار ایران بھی کرچکا ہے، یہ ایسے مسائل ہیں جنکا سامنا دونوں ملکوں کو ہے۔ اسکا حل دونوں ملکوں کو مل کر نکالنا ہوگا۔ باقی عمران خان یہ یقین دلا چکے ہیں کہ پاکستان دوسرے ممالک کے درمیان اختلافات میں کسی فریق کا ساتھ نہیں دیگا، نہ ہی اپنی سرزمین کو کسی دوسرے کیخلاف استعمال ہونے دیگا۔ جب یہ بات ہے تو صاف دل سے ہماری یہ شکایت اور مطالبہ ایران سے بھی ہے کہ وہ پاکستان کیخلاف ہونیوالی کسی بھی کارروائی میں ہمارے ساتھ کھڑا ہو، ایرانی سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے۔ اس سے خدانخواستہ ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی کہ دونوں ملک ایکدوسرے کا بائیکاٹ کریں، بلکہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات دونوں ممالک کے درمیان فاصلے پیدا کرنیکی سازش ہے، جسے ناکام بنانا ضروری ہے، اسی لیے وزیراعظم نے مشکل حالات میں بھی دورہ ملتوی نہیں کیا، یہ پاکستان کی طرف سے ایک قدم ہے، جس کی قدر کی جانی چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 789870
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب