0
Wednesday 24 Apr 2019 10:33
پاک ایران تجارت کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے

ایران امریکی بالادستی اور یونی پولر نظام کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے، جنرل (ر) عبدالقیوم ملک

وزیراعظم نے درست کہا کہ ایران کیخلاف پاکستان کے علاقے سے جا کر دہشتگردی ہوتی رہی ہے
ایران امریکی بالادستی اور یونی پولر نظام کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے، جنرل (ر) عبدالقیوم ملک
 لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم 18 جنوری 1946ء کو پیدا ہوئے، 1966ء میں فوج میں کمیشن حاصل کیا، 1994ء میں میجر جنرل کے مدارج طے کرتے ہوئے مارچ 1999ء میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے اور جنوری 2004ء میں فوج سے ریٹائر ہوگئے۔ فوج میں سروس کے دوران مختلف انسٹرکشنل اور کمانڈو اسٹاف کے عہدوں پر تعینات رہے، نیشنل ڈیفنس کالج میں دو سال تدریس کی اور آرٹلری بریگیڈ، انفنٹری بریگیڈ اور آرٹلری ڈویژن کے آفیسر کمانڈنگ بھی رہے۔ 1985-87ء میں سعودی عرب کی فوج میں یونٹ کمانڈر رہے۔ تین سال سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو اور تین ماہ نگران وزیراعظم معین قریشی کے ملٹری سیکرٹری کے فرائض ادا کئے۔ انہیں اعلٰی فوجی اعزاز ہلال امتیاز (ملٹری) پیش کیا گیا، بورڈ آف ڈائریکٹر آف پیپلز اسٹیل مل کے رکن اور پاکستان آرڈیننس فیکٹریز کے چیئرمین کے عہدے پر تعینات رہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کے چیئرمین کی حیثیت سے اسوقت کی حکومت نے مل کی نجکاری کا فیصلہ کیا، اسکے خلاف سپریم کورٹ گئے، جس پر عوام نے انہیں سراہا اور عدالت نے درست قرار دیا۔ وہ ایک کتاب Islam in Perspective کے مصنف بھی ہیں۔ وہ مسلم لیگ نون کیجانب سے سینیٹ کے رکن بھی ہیں۔ سینیٹر عبدالقیوم ملک سے وزیراعظم کے حالیہ دورہ ایران، پاک ایران تعلقات، درپیش چیلنجز اور امکانات سمیت ایم ایشوز پر اسلام ٹائمز کیساتھ  انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان کے پہلے دورہ ایران کی اہمیت کو کس طرح بیان کرینگے۔؟
جنرل (ر) عبدالقیوم ملک:
بے شک عمران خان ایک دوسری پارٹی کے وزیراعظم ہیں، لیکن جہان تک پاک ایران تعلقات کی گہرائی اور اہمیت کی بات ہے تو اس مین کوئی دوسری بات نہیں کہ قیام پاکستان سے بھی پہلے سے ہمارا مذہبی اور ثقافتی رشتہ ہے، دونوں ملک ایک دوسرے کے قدرتی طور پر قریب ہیں، جغرافیائی طور پر بھی جڑے ہوئے ہیں، یہ دورہ جلد ہونا چاہیئے تھا، اس کی بھی اہمیت ہے، حالات اور علاقے کی سیاست میں جو بھی تبدیلی آتی رہی ہے، تعلقات اور قربت متاثر نہیں ہوئی۔ پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو سب سے پہلے ایران نے ہمیں تسلیم کیا، اسی طرح جب ایران میں امام خمینی نے انقلاب کے بعد اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی تو سب سے پہلے پاکستان نے اس حکومت کو تسلیم کیا۔ ایران ویسٹ ایشیاء کا اہم ملک ہے، یہ دنیا اور مشرق وسطیٰ کا بڑی آبادی رکھنے والا ملک ہے۔

دنیا کی گیس کی پیداوار رکھنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، اس لحاظ سے ہر پہلو بڑا اہم ہے، اس سارے تناظر میں دورہ کتنی اہمیت کا حامل ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں رہنا چاہیئے۔ جس طرح ایران نے 65ء اور 71ء کی جنگ میں پاکستان کو نہیں چھوڑا۔ ہمیں بھی ہر صورتحال میں ایران کا ساتھ دینا ہے، اس دورے سے یہی پیغام جاتا ہے کہ عالمی سطح پر ایران کیلئے مشکلات ہیں، لیکن پاکستان ایران کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔ کشمیر پر بھی ایران نے ہمیشہ پاکستانی موقف کی تائید کی ہے، یہاں تک کہ ایران نے بھارت کو وارننگ بھی دی تھی کہ ہم آپ کا پیٹرول بند کر دینگے۔ جرمنی سے جنگی طیارے بھی ایران نے لیکر پاکستان کو دیئے تھے، مسلکی اختلاف کے باوجود پاکستان اور ایران کے تعلقات میں جذباتی لگاؤ اور گرم جوشی پوری تاریخ میں نظر آتی ہے۔ دونوں ملک آپس میں ایک خاص قسم کے گلو سے جڑے ہوئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایران مسلسل پابندیوں کی زد میں ہے اور سعودی عرب کیطرف سے بھی تناؤ ہے، ایسے میں پاکستان کیلئے بہترین آپشن کیا ہے۔؟
جنرل (ر) عبدالقیوم ملک:
آج جو ایران کئی چیلنجز کا مقابلہ کر رہا ہے، اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ امریکہ انہیں کارنر سے لگانے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ ایران سے امریکہ کو کوئی خطرہ نہیں، بلکہ امریکی صرف اسرائیل کی خوشنودی کیلئے اس پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن پاکستان کا موقف بڑا واضح ہے کہ ہم ایران کی سفارتی تنہائی کیخلاف ہیں، اقتصادی پابندیوں کے مخالف ہیں، نہ ہی کسی عسکری جارحیت کی اجازت دینگے، کیونکہ ایسے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی خلاف ہیں۔ اسرائیل کے متعلق بھی موجودہ وزیراعظم یہ کہہ چکے ہیں کہ بھارتی اور اسرائیلی حکومتیں اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہیں، دونوں جارح ممالک ہیں، پاکستان اسرائیل کو ظالم اور غاصب سمجھتا ہے۔ جہاں تک پابندیوں کی بات ہے، امریکہ نے آٹھ ممالک کو ایک سو اسی دن کا استثناء دیا ہوا تھا، ان میں ترکی، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں، ہمارا بھی ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا مسئلہ اسی لئے لٹکا ہوا ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران کیلئے بھی اور پاکستان کیلئے بھی موجودہ صورتحال ایک تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترداف ہے، اس کیلئے زیادہ عمدہ اور فعال ڈپلومیسی کی ضرورت ہے۔

ہم کسی قیمت پر ایران کے ساتھ سرد مہری یا تعلقات کو ختم نہیں کرسکتے۔ پاکستان اس کو درست طریقے سے لیکر چل رہا ہے۔ اب ہم نے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ہے، افغانستان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ایران کو اعتماد میں لئے رکھنا ہے، امریکہ کی ایران کیخلاف پابندیوں کے باوجود تعلقات رکھنے ہیں، تجارت بھی کرنی ہے اور خود کو بھی امریکی پابندیوں سے بچانا ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تو خلاف ہے، جیسا کہ چین کا موقف ہے کہ پابندیاں امریکہ کا ایک طویل دورانیہ کا مہلک ہتھیار ہے، جسکی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے۔ اب اس کا جواب بھی اتنا ہی مہلک آسکتا ہے، اس پہ دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ یہ امریکی جارحیت کے مترادف ہے۔ اب کوئی امریکہ کو یہ احکامات دے کہ جی آپ کینیڈا سے تیل اور گیس نہ لیں، ورنہ آپ پر پابندیاں مسلط کر دی جائیں گئیں۔ ہم توانائی کے بحران کا شکار ہیں، اگر ہم ایران سے تیل اور گیس لینا چاہتے ہیں تو اس میں امریکہ یا کسی دوسری طاقت کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ روڑے اٹکائے۔ حقیقت میں یونی پولر دنیا ایک عذاب بن گئی ہے، اب اس سے چھٹکارے کی تدابیر بھی سامنے آ رہی ہیں، ایران کی مثال سب سے نمایاں ہے، جو امریکی بالادستی کو چیلنج کر رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: اسی طرح پاکستان کیطرف سے اپنی پالیسی کو آگے بڑھانے کیلئے ایران سے تعلقات کو کن خطوط پہ استوار کرنا چاہیئے، کیا اس سمت میں پیشرفت ہو رہی ہے، موجودہ وزٹ کے بعد اس میں کیا بہتری ممکن ہے۔؟
جنرل (ر) عبدالقیوم ملک:
ہر ملک کی طرح پاکستان کو بھی دوسرے ملکوں بالخصوص ایران جیسے اہم ملک کی حمایت اور تائید کی ضرورت رہتی ہے، جس میں ایران کبھی پیچھے نہیں رہا، اس دورے کے دوران بھی جو پریس کانفرنس ہوئی ہے، اس میں فلسطین اور کشمیر دونوں کا ذکر ہوا ہے، دہشت گردی پر بھی کھل کر بات ہوگئی ہے، دونوں ممالک کا اتفاق ہے کہ سرحد پہ ناامنی نہیں ہونی چاہیئے، کسی طرف سے بھی دہشت گردی کیلئے سرزمین استعمال نہیں ہونی چاہیئے۔ بارڈر مینجمنٹ کیلئے بھی فورس بنانے سمیت ضروری اقدامات کی بات کی گئی ہے، اس کی تکمیل ضروری ہے۔

اسلام ٹائمز: اس دورے میں وزیر خارجہ کے وزیراعظم کیساتھ نہ جانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ کیا اس سے دو طرفہ تعلقات میں کمی محسوس نہیں ہوتی۔؟
جنرل (ر) عبدالقیوم ملک:
میں یہ سمجھتا ہوں کہ وزیر خارجہ نے جو بیانات دیئے، وہ بھی نہیں ہونا چاہیئے تھا، اسی طرح سفارت خانے کو جو مراسلہ جاری کیا گیا، یہ بھی درست نہیں تھا، یہ چیزیں تعلقات کو بگاڑنے اور خراب کرنے کا سبب بنتی ہیں، اس سے پہلے بھی جب صدر روحانی پاکستان آئے تو کلبھوشن کو عین اسوقت سامنے لایا گیا، وہ قابل شرمندگی تھا، ڈپلومیسی میں کہا جاتا کہ یہ ایک فن ہے کہ آپ جانتے ہوں کہ آپ نے کیا نہیں کہنا۔ جب آپ مل رہے ہیں، ملاقات کر رہے ہیں، تو اس کا مقصد قریب ہونا اور ایکدوسرے کا اکٹھا ہونا ہے، اتفاق پیدا کرنا چاہتے ہیں تو پھر یہ ان چیزوں کو درمیان میں نہیں لانا چاہیئے۔ اب ہماری کوشش ہے کہ ان چیزوں کو کور کریں، پاکستان ایران پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے ذریعے بھی ہم کوشش کرینگے کہ ایسی نامناسب چیزوں کو ایک طرف رکھ کر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنائیں۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم کے دورے سے عین پہلے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے قتل جیسی سازشوں کے پس پردہ مقاصد ناکام بنانے کیلئے دونوں ممالک کو کیا کرنا چاہیئے۔؟
جنرل (ر) عبدالقیوم ملک:
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کو بات چیت کرتے ہوئے، بیانات دیتے ہوئے یا مختلف جہتوں میں اقدامات کرتے ہوئے یہ ملحوظ رکھنا چاہیئے کہ یہ وقت بڑا حساس ہے تو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ ایک نہیں بلکہ چند دوسرے اور تیسرے فریق بھی ہیں، جو ٹائمنگ کو مانیٹر کر رہے ہوتے ہیں، کوسٹل ہائی وے کا واقعہ اسکی ایک مثال ہے، اس کو مدنظر رکھنا دونوں ممالک کی دانشمندی اور حوصلے کا امتحان ہے۔ پاکستان نے بڑے صبر و تحمل سے اس کے باوجود ایران سے تعلقات کو خراب نہیں ہونے دیا۔ ریاستی اہلکاروں کے قتل کے واقعہ کے بعد بھی بڑی حوصلہ مندی سے اس واقعہ کو آڑے نہیں آنے دیا، یہ صرف بلوچستان کے واقعات ہی نہیں بلکہ یہ پاک ایران تعلقات کو منفی طور پر متاثر کرینوالے عوامل میں سے افغان صورتحال کا زیادہ کردار ہے۔

امریکہ اور اتحادی ممالک کی افواج افغانستان میں آکر بیٹھ گئیں اور امریکہ نے بھارت کا کردار بڑھانا شروع کر دیا، جس سے افغانستان کا مسئلہ حل ہونے کے امکانات مخدوش ہوگئے۔ افغانستان میں امریکی اتحادی افواج کی موجودگی سے پاکستان کے حالات بگڑنا شروع ہوگئے، امریکی ایماء پر بھارت نے پاکستان کے پاؤں تلے سے زمین نکالنے کی کوشش کی، جس طرح ایران کو ایٹمی پروگرام کا بہانہ بنا کر سنگین صورتحال میں رکھنے کی کوشش کی گئی، اسی طرح پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا بہانہ بنا کر اقدامات کیے گئے اور دباؤ ڈالا گیا۔ حالانکہ پاکستان کیخلاف دہشت گردی ہوئی ہے، لیکن دونوں ملکوں نے اس دباؤ کا بڑے اچھے طریقے سے مقابلہ کیا ہے۔

اسلام ٹائمز: دورہ ایران کے دوران وزیراعظم نے جس بے باکی سے اسکا اظہار کیا کہ ہمیں افسوس ہے کہ ایران کیخلاف ہونیوالی دہشتگردی کیلئے پاکستان کی سرزمین استعمال ہوتی ہے، کیا یہ ہماری پالیسی میں مکمل تبدیلی کیطرف اشارہ ہے۔؟
جنرل (ر) عبدالقیوم ملک:
ہمارا ایران سمیت کسی ہمسایہ ملک کیساتھ کوئی مسئلہ نہیں، بالخصوص افغانستان اور ایران کیساتھ جو بارڈر کے مسائل ہیں، انہیں حل کرنا چاہتے ہیں، پھر وزیراعظم نے ملک کے اندر بھی کئی دفعہ اس کا اظہار کیا ہے کہ ہم نے اپنی پالیسی چھوڑ دی ہے، پاکستان کسی ملک کیخلاف سرزمین استعمال نہیں ہونے دیگا، انہوں نے جو کہا وہ درست ہے کہ ایران کیخلاف پاکستان کے علاقے سے جا کر دہشت گردی ہوتی رہی ہے، اسی طرح پاکستان کیخلاف بھی ایرانی سرزمین کے استعمال ہونیکا ذکر ہوا ہے۔ اس میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ دونوں ممالک کی ریاستی پالیسی اگر یہ نہیں کہ ایکدوسرے کیخلاف دہشت گردی کروائیں تو ایسے اقدامات کئے جانے چاہیئں، جس سے کسی تیسرے فریق کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ پاکستان اور ایران کیخلاف انکی سرزمیںیں اور علاقے استعمال کرسکیں۔

ایرانی بارڈر گارڈز اغواء ہو جاتے ہیں، انکی شہادتیں ہو جاتی ہیں، ہمارے ہاں دہشت گردی کے واقعات ہو جاتے ہیں، اسکا تدارک ہونا چاہیئے۔ لیکن اس پہ غور کریں تو ایسے شواہد موجود ہیں کہ اس سارے عمل کے تانے بانے انڈیا سے جا کر ملتے ہیں۔ پہلے افغناستان کو تباہ کیا گیا، پھر پاکستان کو اقتصادی اور سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنیکی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب یہ ایران کو بھی دیکھنا ہوگا کہ انڈیا نے پاکستان کو بڑے گہرے زخم پہنچائے ہیں، ہمیں بھی اپنی طرف سے سنجیدگی سے اقدامات کرنا ہونگے کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔

اسلام ٹائمز: کیا صرف دہشتگردی ہی اہم مسئلہ ہے، جسکی وجہ سے مثالی تعلقات میں روکاوٹیں موجود ہیں۔؟
جنرل (ر) عبدالقیوم ملک:
دہشت گردی ایک وجہ ضرور ہے، لیکن تجارت کو بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے، زیادہ مسائل ہی اس وقت پیدا ہوتے ہیں، جب تجارت نہیں ہو رہی ہوتی یا کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، اسی لئے تو انڈیا نے ایران کیساتھ تجارت کو بڑھایا ہے، اس اثر کو زائل کرنا ہوگا، چاہ بہار کے ذریعے افغانستان اور وہاں سے سنٹرل ایشیاء تک تجارت کا دائرہ بڑھایا ہے انڈیا نے، بلین ڈالرز کی انوسٹمنٹ کی ہے، لیکن ایران ہمیشہ کہہ رہا ہے کہ چاہ بہار گوادر ایک ساتھ تجارت کرسکتے ہیں، ہمیں مزید اقدامات کرنا ہونگے۔
خبر کا کوڈ : 790195
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب