0
Thursday 25 Apr 2019 20:13
نئی نسل کو قرآن کریم کی جانب ترغیب دلانے کی ضرورت ہے

قرآن سے دوری کے باعث امت زوال کا شکار ہوئی، علامہ علی عباس نقوی

قرآن اور ناطق قرآن سے تعلق مضبوط کرکے امت کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتی ہے
قرآن سے دوری کے باعث امت زوال کا شکار ہوئی، علامہ علی عباس نقوی
علامہ سید علی عباس نقوی ادارہ التنزیل کے چیئرمین اور علمی و تحقیقی مرکز البصیرہ کے وائس چیئرمین ہیں۔ بنیادی طور پر لاہور کے دینی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، بچپن میں ہی حوزہ علمیہ قم سے وابستہ ہوئے۔ ایران اور پاکستان سے دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ادارہ التنزیل سے قرآن مجید کی تعلیم دینے اور عوام میں قرآن فہمی کو فروغ دینے کی عملی اور موثر کوششوں میں مصروف ہیں۔ سکول کی ابتدائی تعلیم قم المقدس میں مکمل کی اور پھر دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے اصفہان کے شہر خوانسار میں حوزہ علمیہ ولی عصر (عج) میں داخلہ لیا۔ چند سال خوانسار میں رہنے کے بعد دینی تعلیم کو جاری رکھنے کیلئے حوزہ علمیہ قم کا رخ کیا۔ پنچاب یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان دیا اور ایک بار پھر حوزہ علمیہ قم چلے گئے۔ جامعہ المصطفیٰ العالمیہ سے علوم قرآن و حدیث کے شعبہ سے تفسیر نمونہ اور تفہیم القرآن کی سیاسی اور اجتماعی بحثوں میں تقابلی مطالعہ میں ایم فل مکمل کرنے کے بعد حوزہ علمیہ قم کے عالی سطح کے فقہ کے درس خارج آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی اور اصول کے درس خارج آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی میں شرکت کی اور ساتھ ساتھ تفسیر قرآن کے عالی سطح کے کورسز مکمل کیے۔ اس دوران ایم فل کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کیلئے تہران یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور اب حال ہی میں پاکستان کے شیعہ مفسرین کی تفسیری منہج و روش پر پی ایچ ڈی مکمل کی ہے۔ دینی تعلیم کے دوران ہی انہوں نے اپنی علمی، ثقافتی اور اجتماعی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ آج کل لاہور میں قرآنیات پر کام میں مصروف ہیں۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے لاہور میں ان کیساتھ ایک نشست کی، جسکا احوال قارئین کیلئے پیش کر رہے ہیں۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: ادارہ التنزیل کے قیام کے اغراض و مقاصد کیا ہیں۔؟
علامہ سید علی عباس نقوی:
ادارہ التنزیل کے قیام کا مقصد حقیقی علوم و معارف قرآن کی مملکت خداداد پاکستان میں تبلیغ و ترویج ہے۔ لہذا اسی وجہ سے ادارہ التنزیل 2006ء سے قرآن حکیم کو اس کی مہجوریت سے نکالنے اور اس کو عملی زندگی کا حصہ بنانے میں کوشاں ہے۔

اسلام ٹائمز: معرفت قرآن کانفرنس کے انعقاد کا مقصد کیا ہے۔؟
علامہ سید علی عباس نقوی:
ادارہ التنزیل معارفِ قرآن کی تبلیغ اور قرآنی معاشرہ کی تشکیل کی عملی جدوجہد کیلئے گذشتہ بارہ سالوں سے سرگرم عمل ہے اور معرفت قرآن کریم کانفرنس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء اور دانشور حضرات کو دعوت دی جاتی ہے۔ اس سال یہ پروگرام 28 اپریل بروز اتوار اسلامک کمیونٹی اینڈ ریسرچ سینٹر انجمن محمدی حالی روڈ گلبرگ لاہور میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: معرفت قرآن کریم کانفرنس کے اہداف کیا ہیں۔؟
علامہ سید علی عباس نقوی:
پاکستان میں قرآنی معارف کی تبلیغ و ترویج اور پُرامن معاشرے کی تشکیل کیلئے کوشش کرنا، قرآن کریم کو خصوصاً جوانوں کیلئے کتاب زندگی کی حیثیت سے پیش کرنا اور قرآنِ کریم کی تعلیم و تدریس کو فروغ دینا، جبکہ عصر حاضر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے قرآن سے متعلق شبہات کا مدلل جواب دینا، قرآنی خدمات کے سلسلے میں مشکلات کا جائزہ اور ان کے ازالے کی کوشش کرنا ہے جبکہ قرآنی خدمات سے متعلقہ افراد اور اداروں کو باہمی تبادلہ خیال نیز مشکلات کے حل کیلئے موقع فراہم کرنا اور خدمتِ قرآن کیلئے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ مختلف میدانوں میں قرآنی خدمات سے وابستہ افراد کیلئے باہم استفادے کا پلیٹ فارم مہیا کرنا بھی ہمارے اہداف میں شامل ہے۔

اسلام ٹائمز: کانفرنس میں کون سی اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے؟
علامہ سید علی عباس نقوی:
ہماری کوشش ہے کہ  اس کانفرنس میں ماہرین قرآن کریم کو تمام مکاتب فکر سے دعوت دیں، ابھی تک جن اہم قرآنی شخصیات کو دعوت دی جا چکی ہے ان میں پروفیسر حافظ ظفراللہ شفیق سربراہ شعبہ علوم اسلامی ایچی سن کالج لاہور خطیب الخالد مسجد، لیاقت بلوچ جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی و جنرل سیکرٹری ملی یکجہتی کونسل، علامہ سید ثاقب اکبر ڈپٹی سیکرٹری ملی یکجہتی کونسل، صدر نشین علمی تحقیقاتی البصیرہ، علامہ ابوبکر اعوان صدر جماعت اہل حرم لاہور، علامہ سید غلام شبیر بخاری پرنسپل جامعہ بعثت پاکستان، علامہ سید امتیاز علی رضوی چیئرمین جامعۃ الرضا ٹرسٹ اسلام آباد، ضیا اللہ شاہ بخاری متحدہ جمعیت اہلحدیث، صاحبزادہ امانت رسول ادارہ فکر جدید، علامہ راغب حسین نعیمی ناظم اعلیٰ دارالعلوم جامعہ نعیمہ لاہور، علامہ ابوذر مہدوی پرنسپل جامعہ قرآن ناطق، سید قاسم شمسی مرکزی صدر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سمیت اہم شخصیات شامل ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ ماشاء اللہ قرآنیات پر کام کر رہے ہیں، اُمت کی تنزلی کے اسباب اور وجوہات کیا ہیں۔؟
علامہ علی عباس نقوی:
امت کی تنزلی کے بہت سے اسباب و وجوہات ہیں، ان میں میرے خیال میں بنیادی وجہ قرآن کریم سے دُوری ہے، چونکہ امت مسلمہ کی چودہ سو سالہ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے قرآن حکیم کو اپنا ہادی و رہنما بنایا، اسے سینے سے لگایا، اس سے روشنی حاصل کی، اس کے احکام  و فرامین کو اپنی زندگی میں نافذ کیا اور ان پر عمل پیرا کیا تو اس وقت تک اقوام عالم کی امامت و قیادت کی زمام اس کے ہاتھ میں رہی، کامیابی نے امت  مسلمہ کے قدم چومے اور اس کی عظمت و رفعت مسلم رہی، لیکن جب اس کا رشتہ کتاب اللہ سے کمزور ہوا، اس نے قرآنی تعلیمات کو پسِ پشت ڈالا اور ان تعلیمات کی جگہ نفسانی خواہشات، ذاتی مفادات اور رسم و رواج نے لے لی، تو اس کی ہوا اکھڑ گئی، اس کا شیرازہ منتشر ہوگیا، اس کا رعب و دبدبہ جاتا رہا، دوسری قومیں اس پر شیر ہوگئیں اور یوں اُمت نزلی کا شکار ہوئی۔ اس کا مفہوم کو شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال نے اس شعر میں ادا کیا ہے کہ
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر


اسلام ٹائمز: موجودہ مصروف ترین اور سوشل میڈیا کے دور میں قرآن کیساتھ کیسے تمسک کرسکتے ہیں، مطلب لوگوں کو کیسے قرآن کیطرف متوجہ کیا جا سکتا ہے۔؟
علامہ علی عباس نقوی:
سوشل میڈیا آج کے دور کی ضرورت بن گیا ہے۔ یہ معاشرے کے مزاج، خیالات، ثقافت اور عوام کی زندگی کی کیفیات پر دور رس اثرات کا حامل ہے۔ اس کا پیمانہ لامحدود ہے۔ ہر چیز کے کچھ مثبت اور کچھ منفی پہلو ہوتے ہیں، اسی طرح سوشل میڈیا کے بھی اچھے اور برے استعمال ہیں۔ اب یہ استعمال کرنیوالے کے اوپر ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذرائع کے کس پہلو سے متاثر ہو رہا ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کے فروغ کے سلسلے میں نہایت موثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ قرآن کریم کے معارف سے متعلق بہت کچھ مختلف زبانوں میں سوشل میڈیا پر آچکا ہے۔ اس حوالے سے بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو اس طرف ترغیب دلائی جائے۔

اسلام ٹائمز: کچھ لوگوں نے قرآن کو تعویذ گنڈوں اور دم درُود کی کتاب بنا دیا ہے، کیا یہ عمل درست ہے۔؟
علامہ علی عباس نقوی:
ہمارے معاشرے میں قرآن سے دوری، بے اعتنائی کے مختلف مظاہر پائے جاتے ہیں، جن میں سے چند ’’ہم قرآن کریم کو اپنے گھروں میں ریشمی جز دانوں میں لپیٹ کر الماریوں میں سجا کر رکھتے ہیں، مختلف امراض کے علاج کیلئے اس کی آیتوں کے تعویذ بنا کر گلے میں باندھتے اور دھو کر پیتے ہیں، جنات کو بھگانے کیلئے اسے پڑھ کر پھونکتے ہیں۔ اختلاف اور تنازعات کی صورت میں اس پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتے ہیں، دکانوں اور مکانوں کی برکت کیلئے قرآنی طغری لگاتے ہیں اور افتتاح کے موقع پر قرآن خوانی کی محفلیں منعقد کرتے ہیں، نیز کتاب زندگی کو دم درُود کی کتاب سمجھتے ہیں۔‘‘ اس طرح کے بہت سے قرآن کریم سے دوری اور بے اعتنائی کے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں، جو کہ قرآن کریم کے مقصد نزول کیخلاف ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایک جملہ اکثر سنتے ہیں کہ قرآن مکمل ضابطہ حیات ہے، مگر ہماری زندگیوں اور فکر میں ضابطہ نام کی کوئی چیز نہیں، اس بے ضابطگی کی کیا وجہ ہے۔؟؟
علامہ علی عباس نقوی:
اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ تمام شعبہ ہائے زندگی میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اور دنیوی اور اخروی زندگی میں کامیابی کا ضامن ہے، لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہماری زندگیوں میں کہیں قرآنی جھلک نظر نہیں آتی، نہ ملکی نظام تعلیم و تربیت میں کہیں قرآنی روش دیکھنے کو ملتی ہے، ہماری ثقافت بھی قرآنی ثقافت سے دُور ہے اور ہماری سیاست اور سیاستدان، قرآنی سیاسی اصولوں سے نہ تو آگاہ ہیں اور نہ ہی اس پر عمل پیرا ہیں۔  در نتیجہ ہمارا معاشرہ ابھی تک قرآنی معاشرہ نہیں بنا۔ یہ سب بے ضابطگی قرآن سے دُوری کی وجہ سے ہے، جیسا کہ پہلے عرض ہوا کہ مسلمان جب تک کما حقہ قرآن پر عمل کرتے رہے کامیابی ان کا مقدر بنی رہی۔ جب انہوں غفلت و کوتاہی برتنی شروع کی تو ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ آج کے اس پُرفتن دور میں مسلم امہ کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتی ہے تو قرآن اور صاحب قرآن سے تعلق مضبوط کرنا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: ایک آیہ مبارکہ ہے، اگر ہم قرآن کو پہاڑوں پر نازل کرتے تو وہ خوف سے ریزہ ریزہ ہو جاتے، اس آیت کی تھوڑی وضاحت فرما دیں۔؟؟ 
علامہ علی عباس نقوی:
یہ آیت سورہ حشر کی 21 ویں آیت مبارکہ ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، بسم اللہ الرحمن الرحیم، لو انزلنا ہذا القران علی جبل لرایتہ خاشِعا متصدِعا مِن خشیِ اللہِ و تِلک الامثال نضرِ بہا لِلناسِ لعلہم یتفکرون، آیت کا مکمل ترجمہ یہ ہے کہ "اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو آپ اسے اللہ کے خوف سے جھک کر پاش پاش ہوتا ضرور دیکھتے اور ہم یہ مثالیں لوگوں کیلئے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ شاید وہ فکر کریں۔" آیت کی مختصر وضاحت یہ ہے، اللہ فرما رہا ہے کہ اگر ہم پہاڑ کو قرآن کا مخاطب قرار دے کر اس پر قرآنی تعلیمات کی ذمہ داری ڈال دیتے تو یہ پہاڑ اپنی مضبوطی اور محکم جسامت کے باوجود اس عظیم ذمہ داری کو اٹھانے سے گھبرا جاتا اور پاش پاش ہو جاتا، نیز زمین بوس ہو جاتا۔ یہ سب  اس امانت کی جوابدہی کے خوف کی وجہ سے پہاڑ کی یہ حالت ہو جاتی، جیسا کہ سورہ احزاب میں ہے کہ پہاڑوں کو بار امانت اٹھانے کی جب پیشکش ہوئی تو انہوں نے اسے اُٹھانے سے انکار کیا تھا۔ انکار اسی لئے کیا تھا کہ وہ اس بار امانت کے متحمل نہیں تھے۔

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں انسانوں کو ایک تمثیل کے ذریعے قرآنی تعلیمات پر غور و فکر کی دعوت دے رہا ہے۔ چونکہ پہاڑ کی مثال محسوس شکل میں بیان ہوئی ہے اور اکثر لوگ محسوس چیزوں کو ہی سمجھ سکتے ہیں، مگر افسوس یہ انسان ہے جس پر ان قرآنی تعلیمات کا کوئی اثر نہیں، اس لیے کہ انسانی قلب جب شقاوت کی منزل میں آتا ہے، تو پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔ چنانچہ سورہ بقرہ آیت  میں فرمایا ’’ثم قست قلوبکم مِن بعدِ ذلِک فہِی کالحِجارِ او اشد قسو و اِن مِن الحِجارِ لما یتفجر مِنہ الانہر و اِن مِنہا لما یشقق فیخرج مِنہ المآ و اِن مِنہا لما یہبِط مِن خشیِ اللہِ۔۔۔‘‘ پھر اس کے بعد بھی تمہارے دل سخت رہے، پس وہ پتھر کی مانند بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے، کیونکہ پتھروں میں سے کوئی تو ایسا ہوتا ہے، جس سے نہریں پھوٹتی ہیں اور کوئی ایسا ہے کہ جس میں شگاف پڑ جاتا ہے تو اس سے پانی بہ نکلتا ہے اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو ہیبت الہیٰ سے نیچے گر پڑتا ہے۔

اسلام ٹائمز: قرآن کریم کے تراجم اور تفاسیر مختلف ہیں، ایسی صورت میں وحدت کا فروغ کیسے ممکن ہے، جبکہ ہر مکتب فکر نے اپنی پسند کا ترجمہ کیا ہوا ہے۔؟؟
علامہ علی عباس نقوی:
سب سے پہلے یہ عرض کروں کہ قرآنِ حکیم کا ترجمہ روزِ اول سے ہی انتہائی مشکل کام ثابت ہوا ہے۔ اس مشکل کا تعلق عبارت کے سیاقی اور غیر سیاقی ملاحظات ہیں، اس کے علاوہ قرآن کریم کی زبان ایک مخصوص زبان ہے، لہذا ترجمہ کرتے وقت اس کی مخصوص لسانی اور اسلوبی خصوصیات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے، نیز بہت سے امور از جملہ اصولِ تفسیر و تاویل، علوم قرآن کی مباحث کو مدِنظر رکھے بغیر ترجمہ کرنا ایک مشکل عمل ہے۔ لہذا ترجمہ میں اختلاف کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے۔ ایسے میں ایک مترجمِ قرآن کو ان سب امور پر مکمل عبور ہونا چاہیئے۔ البتہ بسا اوقات ترجمے میں اختلاف فقہی آیات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ہر مذہب آیات الاحکام کا ترجمہ اپنے مذہب کے مطابق کرتا ہے، لیکن یاد رہے کہ ترجمے میں اختلاف کی وجہ صرف یہ عوامل و اسباب نہیں بلکہ بعض افراد اپنی بات کو ثابت کرنے کیلئے اپنی رائے کے مطابق ترجمہ و تفسیر کرتے ہیں، جو کہ تفسیر بہ رائے ہے اور یہ عمل حرام ہے۔ یہ تمام عوامل تفسیر میں اختلافات کے اسباب بھی ہوسکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: قرآن کے حوالے سے ہمارے قارئیں کو کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں۔؟
علامہ علی عباس نقوی:
ماہ بہار قرآن کریم کی آمد آمد ہے، جس میں قرآن حکیم نازل ہوا، اس لئے مسلمانوں کو چاہیئے کہ زیادہ سے زیادہ اس ماہ مبارک میں قرآن کی تلاوت کا اہتمام کریں، چونکہ رسول اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی اس ماہ (رمضان کریم) قرآن کی ایک آیت کی تلاوت کرے تو اس شخص کے مانند ہے جس نے ماہ رمضان کے علاوہ مہینوں میں پورا قرآن کریم ختم کیا ہے۔ ایسے میں ہمیں اس فرصت سے کما حقہ استفادہ کرنا چاہیئے، مگر یاد رہے تلاوت قرآن اس پر عمل کرنے کا مقدمہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 790712
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے