0
Saturday 11 May 2019 23:59

بنیادی انسانی حقوق کو فتووں کیساتھ باندھ دینا معاشرے کیلئے پسماندگی کا سبب ہے، عثمان ڈار

بنیادی انسانی حقوق کو فتووں کیساتھ باندھ دینا معاشرے کیلئے پسماندگی کا سبب ہے، عثمان ڈار
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء اور وزیراعظم کے مشیر خصوصی برائے امور نوجوانان محمد عثمان ڈار نے یونیورسٹی آف پنجاب سے کامرس میں گریجوایشن کیا۔ 2008ء میں آزاد حیثیت میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا، 2013ء میں پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا، تسری بار 2018ء مین قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا، لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔ دسمبر 2018ء میں وزیراعظم عمران خان نے اپنا مشیر مقرر کیا۔ کم عمری کی شادیوں، انسانی حقوق سمیت اہم ایشوز کے متعلق اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف) کم عمری کی شادی کے حامی ہیں، پیپلز پارٹی خلاف ہے، پی ٹی آئی تقسیم ہے، درست کیا ہے۔؟
عثمان ڈار:
اگر حقیقت کو سامنے رکھیں اور آج کل کے حالات کو دیکھیں کہ تعلیم اور کیئریر کو مدنظر رکھیں تو اٹھارہ سال کی عمر میں بھی شادی کچھ جلدی لگتی ہے، لیکن اس سے بھی کم عمر پہ ضد کرنا تو بڑی زیادتی ہے، یہ ضروری ہے کہ آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ بچیوں کا ہے تو اسے معاشرے میں رول ادا کرنے کیلئے انہیں زیور تعلیم سے آراستہ ہونا چاہیئے، اگر اس سے پہلے انہیں بیاہ دیا جائے تو خدانخواستہ وہ نہ آگے جانے کے قابل ہوں، نہ پیچھے آنے کے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ ایج بڑھا دی جائے، تاکہ اسوقت کے تقاضے پورے ہوسکیں۔ ان چیزوں کو اگر کسی فتوے کے ساتھ باندھ کر رکھا جائیگا تو معاشرے کیلئے بہتر نہیں ہوگا۔ حکومت کو یہ اقدام سراہنا چاہیئے، سب کو اس کی حمایت کرنی چاہیئے۔ یہ فیصلہ کثرت رائے سے ہوانا چاہیئے اور کسی قسم کے اعتراضات کو اہمیت نہیں دینی چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: مذکورہ مذہبی جماعتیں بھی معاشرے کا اہم حصہ ہیں، کیا انکی مخالفت کو نظر انداز کیا جانا بعد میں قانون پر عملدرآمد میں رکاوٹ کا سبب نہیں بنے گا۔؟
عثمان ڈار:
اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا حضرات اور پسماندہ علاقوں کے مرد حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کا کام شوہر داری ہے، گھر کا کام کاج کرنا اور بس، مردوں کی خدمت ہے، بچے پالنے ہیں، بس اس سے زیادہ عورت کا کوئی کردار نہیں ہے، ان لوگوں کے اذہان اس قسم کے ہیں کہ پندرہ سولہ سال کی بچی نہایت معصوم ہوتی ہے، اسکو کو خود کیئر کی ضرورت ہوتی ہے، وہ کیسے شوہر کا اپنے بچوں کا بوجھ برداشت کرسکتی ہے، انہیں اسکا بالکل احساس ہی نہیں ہے، یہ سب کو پتہ ہے مولانا مفتی محمود صاحب نے بھی اپنی چوتھی شادی ایک پندرہ سالہ بچی سے کی تھی، بعد میں انکی وفات بھی ہوگئی۔

اسلام ٹائمز: یہ مسئلہ تو صرف مذہبی جماعتوں تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے میں پھیلا ہوا ہے، معاشرہ کیسے دو طرفہ دباؤ سے نکل سکتا ہے۔؟
عثمان ڈار:
ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بچیوں کی صحت کا خیال کریں، انہیں مفید شہری بننے دیں، انکی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں، جس طرح یہ دباو ڈالتے ہیں، اسی طرح معاشرے کو انکے خلاف دباؤ ڈالنا چاہیئے، اٹھارہ سال تک انکی تعلیم تربیت کریں، اس عمر کے بعد یہ جو بھی اپنی مرضی سے بننا چاہیں، وہ انہیں خود ہی فیصلہ کرنے دیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ سندھ میں بھی یہ بل آیا ہے، کیونکہ وہاں بہت ساری بچیوں سے شادی زبردستی ہو جاتی ہے، وہ جائیدادوں کی خاطر دس دس سال کی عمر میں بھی شادیاں کر دیتے ہیں، دشمنیاں ہوتی ہیں، انکو سیٹل کرنے کیلئے کم عمری کیا کم سنی میں ہی شادیاں کر دی جاتی ہیں۔ اب یہ اچھا ہوا کہ کم عمری کی شادی میں قانونی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔

اس پر عمل درآمد بھی ہونا چاہیئے، اس سے اصلاح ہو جائیگی، کم از کم بچیوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ انہیں ان کی مرضی اور مناسب عمر میں شادی کے بندھن میں باندھا جائے۔ شریعت بھی اسکی اجازت دیتی ہے۔ اس میں وقت تو لگے گا لیکن اسکی حمایت کی جانی چاہیئے۔ اس مسئلے کا اہم پہلو معاشرتی ہے، یہ مسائل انسانیت کے ارتقاء کیساتھ بدلتے ہیں، انکے تقاضے بدلتے ہیں، یہ بھی ایک سماجی رویہ ہے، جس میں تبدیلی آسکتی ہے، بے شک ٹائم لگے گا، لیکن مشکل نہیں ہے، اب دیکھیں جماعت اسلامی تو مڈل کلاس پارٹی ہے، اربن ایریاز میں بھی ہے، لیکن ان کیساتھ بھی بات کرنے کی ضرورت ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مذہبی گروپوں کو سماج میں ناہمواری کیخلاف ہونے والے اقدامات میں پہل کاری کرنی چاہیئے۔ مذہبی جماعتوں کو اس سوچ پر نظرثانی کرنی چاہیئے، یہ جماعتیں جو ہیں، انکا کردار مایوسی کا سبب بن رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا ایسی صورتحال میں ممکن ہے کہ لوگوں کو آگاہی دی جائے اور قانون پر عملدرآمد ممکن ہوسکے۔؟
عثمان ڈار:
کیوں نہیں، آپ دیکھیں، زچگی کے دوران ہر بیس بچوں میں سے ایک بچہ فوت ہو جاتا ہے، کئی علاقوں میں موت کا راج ہے، وہاں یہ قیامت برپا ہے، اگر لوگوں کو سمجھایا جائے تو وہ کیوں نہیں مانیں گے۔ کچھ لوگوں کو تو سمجھ ہی نہیں ہے، اسی کچھ لوگ حالات کی وجہ سے مجبور ہوتے ہیں، اس کا ایک فیکٹر یہ لوگ ہیں، جنہوں نے لوگوں کو یقین دلایا ہوا ہے کہ کم عمری میں بچوں کی شادی کوئی احسن قدم ہے، ان عوامل کا بھی تدارک کرنا ہوگا۔ یہی بتانے کی ضرورت ہے کہ جب تک ایک بچی ایک عورت کے طور پر گھر چلانے اور زندگی سنبھالنے کیلئے تیار نہیں ہو جاتی، اسکی شادی کیلئے اس پر زبردستی نہ کی جائے۔ جب دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ ہم نے ایک اچھا معاشرہ بنانا ہے تو یہ اسی طرح ممکن ہے، کیونکہ عورت کا اس میں بنیادی کردار ہے۔ گھر معاشرے کی بنیاد ہے اور عورت گھر کی بنیاد ہے۔ جب بنیاد ہی اچھی طرح مضبوط نہ ہو تو گھر اور پھر معاشرہ کیسے مضبوط اور اچھا ہوسکتا ہے۔ ہمیں یہ اقدامات کرنا ہونگے اور معاشرے کو اس کے لیے تیار کرنا ہوگا، جاپان میں ایک سو گیارہ بچوں میں سے ایک بچہ فوت ہوتا ہے، اسکا مطلب یہ ہے کہ ایسا ممکن ہے۔ اس کے لیے عورت کی تربیت کرنا ہوگی اور بچوں کو اس عذاب سے نجات دینا ہوگی۔

اسلام ٹائمز: ایک اعتراض یہ ہے کہ یہ قانون مغربی تہذیب سے متاثر ہوکر یا انکے دباو پر لایا گیا ہے۔؟
عثمان ڈار:
اگر سچ پوچھیں تو ایک ایسا مسئلہ ہے، جس پر پی پی پی داد کی مستحق ہے۔ یہ اعتراض درست نہیں کہ یہ قانون مغرب سے مخصوص ہے، اس وقت امریکہ میں بھی 49 ریاستیں ایسی ہیں کہ جہاں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادیاں ہوسکتی ہیں۔ پچھلے پندرہ سال میں امریکہ میں دو لاکھ ایسے بچوں کی شادیاں ہوئی ہیں، جنکی عمریں اٹھارہ سال سے کم تھیں۔ برطانیہ میں شادی کی عمر سولہ سال ہے، جرمنی میں بھی سولہ ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ کسی بیرونی دباؤ پہ نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کی بہتری کیلئے قانون ہے، اسکی پاسداری ضروری ہے۔
خبر کا کوڈ : 793443
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب