0
Tuesday 14 May 2019 22:51
تکفیریوں کو قومی دھارے میں لانے سے معاملات سلجھنے کی بجائے بگڑیں گے

امن کیلئے اچھے اور برے دہشتگردوں کی تفریق سے نکلنا ہوگا، قاسم شمسی

امریکہ ایران سے جنگ نہیں کریگا، اگر کی تو عبرتناک انجام سے دوچار ہوگا
امن کیلئے اچھے اور برے دہشتگردوں کی تفریق سے نکلنا ہوگا، قاسم شمسی
قاسم شمسی امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر ہیں۔ ملتان کی تحصیل کبیروالہ سے تعلق رکھتے ہیں، علمی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ کم گو اور دھیمے مزاج کے مالک ہین۔ ملکی و بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ نوجوانوں کی فکری تربیت کیلئے ہر وقت فکر مند رہتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی تنظیم کے مختلف عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ ملک کی موجودہ صورتحال، ایران امریکہ تعلقات اور 16 مئی یوم مردہ باد امریکہ کے حوالے سے ان کیساتھ لاہور میں تفصیلی گفتگو ہوئی، جو قارئین ’’اسلام ٹائمز‘‘ کیلئے پیش کی جا رہی ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: آئی ایس او ہر سال 16 مئی کو یوم مردہ باد امریکہ مناتی ہے، اس دن کی کیا خاصیت ہے۔؟؟
قاسم شمسی:
یہ دن امریکہ کے ظلم سے اظہار برات کا دن ہے۔ اس دن ہی یعنی 16 مئی کو امریکہ نے اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم کیا تھا اور عالم اسلام کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ امام خمینی نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو یہ دن امریکہ سے برات کے طور پر منانے کا حکم دیا تھا، تب سے 16 مئی کو پوری دنیا میں یوم مردہ باد امریکہ کے طور پر منایا جاتا ہے اور پاکستان میں شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کی ہدایت پر یہ دن منایا جاتا ہے۔ آئی ایس او کے اہم ترین پروگراموں میں یہ بھی اہم دن ہے۔ اس دن کو ہم ملک گیر سطح پر مناتے ہیں۔ کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں اور اس دن کے حوالے سے نسل نوء کو آگاہی دی جاتی ہے۔ جہاں یہ دن امریکہ و اسرائیل کیخلاف مناتے ہیں، وہیں اس دن دنیا بھر کے مسلمان اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں سے اظہار یکجہتی بھی کرتے ہیں۔ آئی ایس او پاکستان کے تمام یونٹس میں تقریبات ہوتی ہیں۔ سٹڈی سرکلز کا اہتمام کیا جاتا ہے اور درس و تدریس میں امریکہ کی سازشوں اور کارستانیوں سمیت مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے حوالے سے بتایا جاتا ہے۔

اسلام ٹائمز: لاپتہ افراد کے حوالے سے پہلے کہا جاتا رہا کہ پتہ نہیں کہاں ہیں، پھر دھرنا ہوا تو لاپتہ افراد کی اکثریت اچانک گھر پہنچ گئی اور باقیوں کی رہائی کی بھی یقین دہانی کروا دی گئی ہے، اس پر آپ کیا کہیں گے۔؟
قاسم شمسی:
لاپتہ افراد کا غائب ہونا اداروں کی کارکردگی اور ان کی اہمیت و افادیت پر ایک بہت بڑا سوال ہے۔ ریاست وہ ہوتی ہے، جس میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جب قانون کی حکمرانی نہ ہو تو وہ ’’بنانا ریاست‘‘ بن کر رہ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے کچھ اداروں نے پاکستان میں قانون اور آئین کو سمجھا ہی کچھ نہیں، یہی وجہ ہے کہ ماورائے عدالت سرگرمیاں کی گئیں۔ ملک میں ماورائے آئین کوئی کام نہیں ہونا چاہیئے۔ لوگوں پر تشدد کرنا، انہیں اغواء کر لینا، ان پر مظالم کے پہاڑ توڑنا، انہیں برسوں قید و بند کی صعوبتیں دینا، گھر والوں سے بھی ملنے نہ دینا یہ سب غیر آئینی و غیر قانونی اقدام ہے۔ یہ عمل افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ ہم نے تو پہلے دن سے یہ کہا کہ جن افراد کو لاپتہ کیا گیا ہے، انہوں نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ یہ جرم تو نہیں کہ کوئی مقامات مقدسہ کی زیارت سے واپس لوٹے اور آپ سے اٹھا لیں کہ یہ شام کیوں گیا تھا؟

بھئی شام جانا کہاں لکھا ہے کہ جرم ہے؟ کس قانون کے تحت آپ بندے اُٹھا رہے ہیں؟ ہم نے کہا کہ اگر ان لوگوں نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے تو ان کیخلاف ایف آئی آر درج کروائیں، ان کا کیس عدالت میں لائیں، انہیں سزا دیں۔ وہ مجرم ہوئے تو ہم ان کی حمایت نہیں کریں گے، مگر صرف اس بنیاد پر اٹھا لینا کہ شیعہ ہے، اس بات کی ہم ہرگز اجازت نہیں دیں گے اور آپ جانتے ہیں کہ آئی ایس او نے ہر سطح پر احتجاج کی اور مظلوموں کی حمایت میں سڑکوں پر نکلے۔ الحمد اللہ، بہت سے بیگناہ لوگ واپس آگئے ہیں، باقی بھی آجائیں گے تو ہم ایک بار پھر کہیں گے کہ انصاف اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کیا جائے۔ اسی میں بہتری ہے، بصورت دیگر معاملات اتنے بگڑ اور الجھ جائیں گے کہ پھر انہیں سلجھانا مشکل ہو جائے گا۔

اسلام ٹائمز: ملت جعفریہ ہر بار پُرامن احتجاج کرتی ہے، سو سو جنازوں پر بھی مثالی اور پُرامن دھرنے دیئے گئے پھر بھی قانون نافذ کرنیوالے ادارے خوفزدہ کیوں ہوتے ہیں۔؟؟
قاسم شمسی:
وہ اس لئے کہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ غلطیاں انہی کی طرف سے ہوئیں ہیں۔ اگر دہشت گردی ہوتی ہے اور مجرم نہیں پکڑے جاتے تو یہ کس کا فالٹ ہے؟ اداروں کا۔ کوئی بے گناہ لاپتہ کر دیا جاتا ہے، یا بیگناہ لوگ ٹارگٹ ہوتے ہیں تو اس کی ذمہ دری کس پر آتی ہے؟ بلاشبہ اس کی ذمہ دار ریاست ہے۔ ہم ریاست کے شہری ہیں اور ہمارا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور جو یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتا، اس کے من میں چور ہوتا ہے، بس یہی اندر کا خوف اور اس کا ضمیر انہیں ملامت کرتا ہے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، غلط ہو رہا ہے۔ ہم نے روز اول سے پاکستان بنانے سے لیکر آج پاکستان بچانے تک ہم نے ہی قربانیاں دی ہیں۔ جو پاکستان کے قیام کے مخالف تھے، وہ آج ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں، جبکہ ہم نے اس وقت بھی قربانیاں دی تھیں اور آج جب وطن کو بقاء کا معاملہ درپیش ہے، آج بھی ہم ہی قربانیاں دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں ہی مشکوک سمجھا جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: ہاں کچھ حلقے کہتے ہیں کہ پاکستان کے شیعہ پاکستان سے زیادہ ایران کے وفادار ہیں، اس میں کہاں تک صداقت ہے۔؟
قاسم شمسی:
یہ بات غلط ہے کہ ہم ایران کے زیادہ وفادار ہیں اور پاکستان کے کم، پاکستان ہمارا وطن ہے، ہم نے ہی اسے بنایا اور ہم ہی اس کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے محافظ ہیں۔ ہمارے تو منشور میں یہ بات شامل ہے بلکہ ہماری تنظیم کا تو یہ نصب العین ہے کہ ہمارا ہر کارکن وطن عزیز کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کا محافظ ہے۔ ایران کیساتھ ہمارا روحانی تعلق ہے، وہاں پر مقامات مقدسہ ہیں، جن کی وجہ سے سرزمین ایران ہمارے لئے مقدس ہے، اسی طرح سعودی عرب بھی ہمارے لئے قابل احترام اور مقدس سرزمین ہے کہ وہاں بیت اللہ ہے، وہاں مدینہ منورہ ہے۔ وہاں جنت البقیع ہے۔ اسی طرح عراق میں امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کے مزارات ہیں، مولائے کائنات امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا روضہ اقدس ہے۔ شام میں بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا روضہ ہے۔ تو یہ سارے ملک ہمارے لئے مقدس ہیں۔ ہم ان تمام ممالک کو احترام کرتے ہیں اور یہ عقیدت کا رشتہ ہے۔ یہی مقامات مقدسہ اگر امریکہ میں ہوتے تو ہم امریکہ کو بھی احترام دیتے۔

ہمارا ایران کیساتھ روحانی تعلق ہے۔ وہاں علمائے کرام کی حکومت ہے۔ ایک بہادر و جری شخص مقام رہبری پر فائز ہے۔ وہ دور حاضر کا حسین ہے، جو یزید وقت کے سامنے ڈٹا ہوا ہے۔ اس لئے ہم ان کی بہادری کے شیدائی ہیں، ان کی قوت فیصلہ کے معترف ہے۔ ان کی پوری دنیا پر گہری نظر ہے، وہ دشمن کی تمام چالوں کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ اس کا توڑ بھی رکھتے ہیں تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای ہمارے ہیرو ہیں۔ وہ ہماری آئیڈیل شخصیت ہیں اور اسی محبت کی وجہ سے ہم ایران کیساتھ محبت کرتے ہیں، لیکن جہاں پاکستان ہے، وہاں کوئی ملک نہیں، ہم پاکستان کے وارث ہیں اور کیا عجب ہے کہ پاکستان کے قیام کے دشمن آج ہماری حب الوطنی پر شک کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: اچھا، موجودہ حالات میں وحدت کی جنتی ضرورت ہے، پہلے کبھی نہ تھی، اسکے باوجود ملت میں نئے نئے گروہ جنم لے رہے ہیں، اب ایک ولائی گروہ سامنے آیا ہے، جو مجتہدین کو بھی نہیں مانتا اور عقائد بھی عجیب و غریب پیش کرتے ہیں۔؟؟
قاسم شمسی:
دراصل دشمن ہماری قوت سے خائف ہے، وہ نہیں چاہتا کہ ملت جعفریہ متحد ہو، کیونکہ جس وقت یہ قوم متحد ہوگئی، اس ملک میں انقلاب آجائے گا، کیونکہ دشمن کیساتھ لڑنے کا جذبہ صرف ملت جعفریہ میں ہے اور ہمیں یہ جذبہ عزاداری سے ملا ہے۔ اب دشمن کا ہدف بھی عزاداری ہے۔ اس لئے دشمن نے اب عزاداری پر وار کیا ہے۔ جس گروہ کی آپ بات کر رہے ہیں، وہ عزاداری کو ہی بگاڑ رہے ہیں۔ ان کے عزائم خطرناک ہیں۔ وہ ملت کا شیرازہ مزید بکھیرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ کامیاب نہیں ہوں گے۔ اس کی ایک بڑی وجہ شعور ہے۔ آئی ایس او نے نوجوانوں اور ملت میں شعور بیدار کر دیا ہے۔ اب نوجوان اتنی جلدی کسی کے چکروں میں نہیں آتے بلکہ وہ دیکھتے ہی پہنچان لیتے ہیں کہ یہ ڈھونگ ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ ’’رانگ نمبر‘‘ کیا ہے۔ اس لئے یہ دشمن کی سازشیں ناکام ہوں گی۔ اب مجلس عزاء میں بیٹھا عزادار ایجوکیٹ ہوچکا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سٹیج پر مجلس پڑھنے والا کیا پڑھ رہا ہے اور اس کے خطاب کے پیچھے کیا سازش کار فرما ہے۔ اس لئے دشمن کے حربے ناکام ہوں گے اور عزاداری قائم و دائم رہے گی۔

اسلام ٹائمز:پہلے فرقہ واریت تھی، شیعہ سنی کو لڑایا گیا، پھر اب دشمن نے پینترا بدلا ہے کہ شیعہ کو شیعہ سے اور سنی کو سنی سے لڑوا رہا ہے۔؟
قاسم شمسی:
جی بالکل ایسا ہی ہے، لیکن ایک بات واضح کر دیں کہ پاکستان میں شیعہ اور سنی کا مسئلہ کبھی نہیں رہا، شیعہ اور سنی بھائی ہیں، باقاعدہ رشتہ داریاں کرتے ہیں، مل جل کر رہتے ہیں حتیٰ دو سگے بھائیوں کو دیکھا کہ ایک شیعہ ہے تو دوسرا سنی، اسی طرح یہ صدیوں سے مل کر رہ رہے ہیں۔ ہاں جس گروہ نے فرقہ واریت کو ہوا دی، دہشت گردی پھیلائی، قتل و غارت کا بازار گرم کیا، وہ سنی نہیں ہیں بلکہ تکفیری ہیں اور پاکستان کے اہلسنت نے اس گروہ سے اظہار برات و لاتعلقی کیا ہے۔ اہلسنت واضح کہتے ہیں کہ ہمارا اس گروہ سے کوئی تعلق نہیں، یہ تو اہلسنت کا نام بدنام کر رہے ہیں۔ اس لئے وہ چند مٹھی بھر لوگ ہیں، جنہوں نے ملکی سلامتی کو داو پر لگایا، جنہوں نے اے پی ایس پشاور میں حملہ کیا، جنہوں نے جی ایچ کیو اور مہران ایئربیس پر حملے کئے، جنہوں نے بازاروں میں بم دھماکے کروائے۔ اب ان کی اصلیت بے نقاب ہوچکی ہے، عوام ان کو مسترد کرچکے ہیں۔ اب یہ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: اب پھر دہش گردی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، آپکے خیال میں دہشتگردی کی اس لہر کے پیچھے کون ہے۔؟؟
قاسم شمسی:
اس لہر کے پیچھے بھی یہی تکفیری گروہ ہے، جو امریکہ، اسرائیل، انڈیا اور برطانیہ کے ایماء پر دہشت گردی کر رہا ہے۔ امریکہ نہیں چاہتا پاکستان ترقی کرے، سی پیک کا منصوبہ اس کی آنکھ کا کانٹا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک دم ملک میں دہشت گردی شروع ہوگئی، پہلے لاہور میں دھماکہ ہوا پھر گوادر میں ساتھ ہی کوئٹہ میں واقعہ پیش آگیا۔ تو یہ دشمن کی چال ہے۔ جس میں وہ ان شاء اللہ ناکام و نامراد ہوگا۔

اسلام ٹائمز: آپکے خیال میں دہشتگردی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے۔؟؟
قاسم شمسی:
دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ریاست کو زیرو ٹالرنس پالیسی اپنا ہوگی، یہ اچھے دہشت گرد اور برے دہشت گرد کی تفریق سے نکلنا ہوگا۔ دہشت گرد کو دہشت گرد ہی سمجھنا ہوگا۔ جب ہم اچھے کو سینے سے لگائیں گے اور برے کی سرکوبی کریں گے تو یہ ہماری بہت بڑی غلط فہمی ہوگی، ہم سانپ اپنی آستینوں میں پال رہے ہیں۔ ہمیں دہشتگردوں کیخلاف بلاتفریق اقدامات کرنا ہوں گے اور یہ جو قومی دھارے میں لانے کی باتیں ہو رہی ہیں، یہ خام خیالی ہے کہ یہ قومی دھارے میں آکر امن یا بھائی چارے کی بات کریں گے، ممکن ہی نہیں، یہ قومی دھارے میں شامل ہوگئے تو اس قومی دھارے کو بھی گندہ کر دیں گے۔ کیونکہ ان کی سوچ ہی گندی اور نجس ہے۔ اس لئے ان کا واحد اور شافی علاج ان کی سرکوبی ہے۔ اور بس، جب تک ہم مصلحتوں کا شکار رہیں گے، ہم نقصان اٹھاتے رہیں گے، دہشت گردی کے یہ واقعات ہوتے رہیں گے، اس لئے ہم ریاست کے ذمہ داروں سے کہیں گے کہ وہ بلاتفریق دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کریں اور اچھوں بروں کی تمیز کے بغیر کریں، پھر ہی بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: اچھا، آئی ایس او ایک طلبہ تنظیم ہے، مگر ایسا کیوں لگتا ہے کہ یہ تنظیم تعلیم سے زیادہ قومی معاملات میں دلچسپی لیتی ہے۔؟؟
قاسم شمسی:
نہیں ایسی بات نہیں ہے، آئی ایس او کی اولین ترجیح تعلیم ہے، ہمارے کارکن خود تعلیم میں نہ صرف بہتر ہیں بلکہ دوسروں کیلئے بہتر مواقع پیدا کرتے ہیں۔ جہاں تک ہماری تنظیم کی بات ہے تو ہمارے تنظیمی پروگرامز میں تعلیم کے فروغ کیلئے بہت سے اقدامات شامل ہیں۔ ہم امتحان سے پہلے امتحان کا انعقاد کرواتے ہیں، جس سے طلبہ کو امتحان کی تیاری میں مدد ملتی ہے۔ یہ پری بورڈ امتحانات ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیرئر کونسلنگ کیلئے خصوصی ورکشاپش ہوتی ہیں۔ کپیسٹی بلڈنگ کیلئے بھی کام کیا جاتا ہے۔ کارکنوں کیلئے تربیتی ورکشاپس ہوتی ہیں۔ سکالر شپ کا ایک پورا نظام ہے۔

موٹیویشنل لیکچرز کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے اور طلبہ کی صلاحتیوں کو نکھارنے کیلئے بہت سے مواقع ہماری تنظیم اپنے کارکنوں کو فراہم کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکثر کارکن ٹاپر ہوتے ہیں۔ اپنے اپنے شعبوں میں پوزیشنیں لیتے ہیں اور جہاں تک بات ہے قومی معاملات کی تو آئی ایس او واحد طلبہ تنظیم ہے، جس نے ملت کے عمائدین کو فعال کرنے اور ایک پلیٹ فارم بنا کر دینے کیلئے کردار ادا کیا۔ ماضی میں اس کی بہت سے مثالیں ہیں کہ آئی ایس او کا کردار انتہائی جاندار رہا ہے اور ابھی تک آئی ایس او اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھا رہی ہے۔ اس لئے آئی ایس او الہیٰ تنطیم ہے جو اپنی تعلیمی ذمہ داریوں کو بھی سمجھتی ہے اور قومی معاملات میں بھی اپنا مثبت کردار ادا کرتی ہے۔

اسلام ٹائمز: عالمی یوم القدس بھی آرہا ہے، اس حوالے سے آئی ایس او نے کوئی تیاری کی ہے۔؟؟
قاسم شمسی:
جی بالکل امسال 26 رمضان المبارک کو عالمی یوم القدس پاکستان سمیت پوری دنیا میں منایا جائے گا۔ پاکستان میں علامہ عارف حسین الحسینی شہید اور شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے امام خمینی کے حکم پر یہ دن منانے کا اعلان کیا تھا۔ آئی ایس او اس دن کو پورے تزک و احتشام سے مناتی ہے اور اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے۔ ہمارا مرکزی پروگرام کراچی میں ہوتا ہے، جو بہت بڑی ریلی کی شکل میں ہم نکالتے ہیں، اس کے علاوہ لاہور، راولپنڈی، پشاور، گلگت، حیدرآباد، سکھر، ملتان، کوئٹہ سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ اس سال کیلئے ابھی سے تیاریاں جاری ہیں اور ان شاء اللہ امسال بھر پور ریلیاں نکالیں گے۔ جن میں تمام مکاتب فکر کے افراد و عمائدین شرکت کرتے ہیں اور اسرائیل سے برات اور فلسطینی بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

اسلام ٹائمز: ایران امریکہ صورتحال کافی کشیدہ ہے، آپکے خیال میں کیا جنگ کا کوئی امکان ہے۔؟؟
قاسم شمسی:
نہیں جنگ کا امکان دکھائی تو نہیں دیتا، کیونکہ رہبر معظم نے واضح پالیسی دیدی ہے کہ جنگ کریں گے نہ مذاکرات، امریکی بیڑہ پہلے چلتا تھا تو حکومتیں گر جاتی تھیں، مگر اب ایران استقامت کیساتھ کھڑا ہے۔ امریکہ اپنے تئیں ایسا ماحول بنا رہا ہے کہ ایران کو تنہا کر دے، مگر اسے اس میں کامیابی نہیں مل رہی۔ خود ہی امریکہ کارروائیاں کرکے ایران کے کھاتے میں ڈال کر مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اُکسا رہا ہے، تاکہ ایران کیساتھ جنگ کا ماحول پیدا کیا جاسکے۔ اس صورتحال میں امریکہ کامیاب نہیں ہوگا، اگر جنگ بھی ہوتی ہے تو ایران کا دفاعی نظام بہت مضبوط ہے، اس میں امریکہ کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ ایران کے پاس امریکہ کی سوچ سے بھی کئی گنا بہتر ٹیکنالوجی ہے اور یہ وہ واحد محاذ ہے، جہاں امریکہ کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں، وہ جانتا ہے کہ اسی جگہ سے ہی جوتے پڑنے ہیں، اس لئے وہ جنگ کا نہیں سوچے گا۔
خبر کا کوڈ : 794259
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب