0
Friday 17 May 2019 17:04
قبائلی عوام کی محرومیوں سے بعض قوتیں فائدہ اُٹھا سکتی ہیں

آئی ایم ایف کی شرائط پاکستان کے اپنے مفاد میں ہیں، عبدالکریم خان

اگر حکومت پاکستان معاشی اصلاحات کرنے میں کامیاب رہی تو یہ آئی ایم ایف کیساتھ آخری معاہدہ ہوگا
آئی ایم ایف کی شرائط پاکستان کے اپنے مفاد میں ہیں، عبدالکریم خان
صوابی سے تعلق رکھنے والے عبدالکریم خان خیبر پختونخوا حکومت کا حصہ ہیں۔ انکا تعلق صوانی کے دیرینہ سیاسی گھرانے سے ہے۔ انکے والد عبدالرزاق خان قیام پاکستان سے قبل ہی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاسی کردار ادا کرتے چلے آرہے تھے۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ "قائداعظم اور سرحد" نامی کتاب میں انکا ذکر بھی موجود ہے۔ عبدالکریم خان کی ابتدائی تعلیم پشاور میں ہائی سکول اور کالج کے زمانے سے ہی عملی خدمت اور سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے 2013ء میں قومی وطن پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ پارٹی نے انکی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے کوٹے میں سے صوبائی کابینہ کا حصہ بنایا، تاہم پارٹی پالیسیوں سے اختلافات چلتے رہے، جس کیوجہ سے الیکشن سے قبل پارٹی کو خیرباد کہہ دیا اور آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ سابق وزیراعلٰی و موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے مسلسل رابطوں کے بعد پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔ 2018ء کے انتخابات میں اپنے حریف کو 10 ہزار ووٹوں کی شکست دیکر رکن خیبر پختونخوا اسمبلی منتخب ہوئے۔ ایک بار پھر انکی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے وزیراعلٰی محمود خان نے انہیں اپنی کابینہ میں شامل کیا۔ اِسوقت صوبے میں صنعتوں کے فروغ کیلئے بھرپور طریقے سے کوشاں ہیں۔ اسلام ٹائمز نے صوبائی وزیر سے خصوصی گفتگو کی، جو انٹرویو کی صورت میں قارئین کی نذر ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: آپکا تعلق قومی وطن پارٹی کیساتھ تھا، پی ٹی آئی میں شمولیت کا فیصلہ کیوں کیا۔؟
عبدالکریم خان:
والد صاحب چونکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ تھے، اسی لئے ہماری عملی سیاست کا آغاز بھی اسی جماعت سے ہوا۔ بعدازاں آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے پی پی پی شیرپاؤ بنائی تو روز اول سے ان کا ہمسفر بن گیا۔ ان کے ساتھ مجموعی طور پر 17 سال کا عرصہ گزارا، مگر پچھلے پانچ سال کی پارلیمانی سیاست کے دوران بہت سے مواقع پر خود کو غیر مطمئن پایا۔ اسی لئے الیکشن سے قبل ہی ان سے راہیں جُدا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اس بار آزادانہ طور پر الیکشن میں حصہ لوں گا، مگر پی ٹی آئی کی طرف سے مسلسل رابطے کئے جاتے رہے، خاص طور پر سابق وزیراعلٰی پرویز خٹک اور قومی اسمبلی کے موجودہ اسپیکر اسد قیصر نے مجھے بالآخر پی ٹی آئی میں شمولیت پر قائل کر ہی لیا۔ میرا تعلق جس سیاسی گھرانے سے تھا، اس کی سوچ پی ٹی آئی کی پالیسیوں کے قریب تھی، کیونکہ ہم بھی میرٹ کی بالادستی کے قائل تھے۔ اسی طرح کرپشن کے خلاف ہماری سوچ بھی بالکل واضح تھی۔ پی ٹی آئی کی انہی پالیسیوں سے متاثر ہوکر میں نے ان کا ہمسفر بنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں مقامی نوجوانوں نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔

اسلام ٹائمز: پی ٹی آئی نے الیکشن میں بڑے ہی خوش کن دعوے کئے تھے، مگر اسوقت جب مالی مشکلات کا سامنا ہے، یہ دعوے حقیقت میں کیسے تبدیل ہوسکیں گے۔؟
عبدالکریم خان:
یہ تو حقیقت ہے کہ اس مالی مشکلات نے پورے ملک کو گھیرا ہوا ہے ،حالات مثالی نہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سابقہ ادوار کی طرح پیسہ ڈرین آؤٹ نہیں ہو رہا، کیونکہ مالیاتی نظم و ضبط بہت سخت کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلٰی کی ہدایات پر تمام محکمے زیادہ سے زیادہ بچت کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ قوم کو کسی بھی صورت میں مایوس نہ ہونے دیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک کروڑ نوکریوں کا جو اعلان کیا تھا، میری کوشش ہے کہ اس میں صوبے کا حصہ ڈالنے کیلئے بھرپور طریقے سے کردار ادا کروں، جس کیلئے ہماری کوششیں کامیاب بھی ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال رشکئی اکنامک زون کی ہے۔ آپ دیکھیں پنجاب اور سندھ صنعتی مراکز ہیں، ہمارا ان کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں، مگر سی پیک کے تحت ملک کا پہلا اکنامک زون ہمارے صوبے میں بنے جا رہا ہے۔

اسی طرح ضم شده اضلاع میں انڈسٹریل سٹیٹس قائم کریں گے، جن میں سے بعض پر کام شروع بھی ہے۔ مہمند میں قائم ہونے والے انڈسٹریل اسٹیٹ میں پانچ کارخانوں پر سول ورک شروع ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں بونیر، چکدرہ، مینگورہ مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں بھی سمال انڈسٹریز کی فروغ کیلئے کام جاری ہے۔ درگئی میں سمال انڈسٹریز کیلئے اضافی زمین حاصل کی جا رہی ہے۔ درہ آدم خیل میں بھی زمین لے رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں نورک کے مقام پر جبکہ باجوڑ میں بھی سوال انڈسٹریل اسٹیٹ کیلئے کام جاری ہے۔ ہمارے صوبے میں دیگر صوبوں کی نسبت پوٹینشل کافی ہے۔ معدنیات، قیمتی معدنیات، جنگلات، پن بجلی اور سیاحت میں جتنے مواقع ہمارے ہاں موجود ہیں، وہ کہیں اور نہیں۔ اپنی صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کیلئے ویلنگ سسٹم شروع کر رہے ہیں۔

ہمارے ہاں ہائیڈرل پاور جنریشن کی استعداد بہت زیادہ ہے تو اس سے فائدہ اُٹھایا جانا چاہیئے۔ ماضی میں اس جانب توجہ نہیں دی گئی تھی۔ صنعتوں کو ویلنگ کے ذریعے سستی بجلی دینے سے صنعتی ترقی تیز ہوگی، جس سے لامحالہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں گئے۔ واپڈا والے فی یونٹ ڈیڑھ روپے کرایہ لیں گے، مگر فائدہ ہمیں بہت زیادہ ہوگا۔ ہمارے پاس وسائل کی بہت کمی ہے، مگر قدرت نے ہمیں جو جغرافیہ دیا ہے، اس سے بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پھر ہم اگر پاک افغان بارڈ 24 گھنٹے کھلا رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو اس کا بھی ہماری کاروباری و تجارتی سرگرمیوں پر اثر پڑے گا اور عام آدمی کی زندگی بہتر ہوسکتی ہے۔

اسلام ٹائمز: مگر سمندر سے دوری کا نقصان تو ہمارے صوبے کو ہو رہا ہے۔؟
عبدالکریم خان:
یہ بات درست ہے کہ سمندر سے دوری کی وجہ سے اضافی اخراجات کے اپنے مسائل ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں اور بھی بہت کچھ ہے۔ ہمارے پاس اضافی 6 ہزار کیوسک پانی ہے۔ ملک بھر میں پن بجلی پیدا کرنے کے 70 فیصد مواقع ہمارے پاس ہیں۔ اسی طرح ملکی سیاحت میں بھی 70 سے 80 فیصد تک ہمارا حصہ ہے۔ ملک کی خام تیل کی 54 فیصد پیداوار ہم دے رہے ہیں، البتہ زرعی شعبہ میں ہمارے ہاں انڈسٹری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اب پہلی بار ہماری حکومت مکئی اور تمباکو کے متبادل استعمال کی انڈسٹری لگانے کیلئے کوشاں ہے۔ سوات کے آڑو اور پشاور کے پھل و سبزیوں کو پراسیس کرکے ایکسپورٹ کرسکتے ہیں۔ اسوقت پراسسنگ کیلئے کوئی بڑا یونٹ موجود نہیں، یونٹ لگنے سے بہت فرق آئے گا۔ افغانستان ہمارے لئے بہت بڑی منڈی بن سکتا ہے، اب جب ہم نے سہولیات دینی شروع کی ہیں تو سرمایہ کاروں نے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ ملائیشیا کی ایک نجی کمپنی صوبے میں 50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے، جو ہمارے راء میٹریل کو یہیں پر پراسیس کرے گی۔ ہماری مغربی سرحدیں مستقبل میں کاروبار و تجارت کا بہت بڑا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

اسلام ٹائمز: صوبائی حکومت نے تمباکو کے حوالے سے بھی بعض اقدامات کا اعلان کیا تھا، ان پر کتنی پیشرفت ہوئی۔؟
عبدالکریم خان:
تمباکو خالصتاََ ہمارے صوبے کی پیداوار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سگریٹ سازی میں استعمال ہونے والا 98.5 فیصد تمباکو ہمارے ہاں پیدا ہوتا ہے۔ گذشتہ سال بھی وفاقی حکومت نے اس تمباکو سے بننے والے سگریٹ پر 88.4 ارب روپے سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں وصول کئے تھے، جس میں سے ایک روپیہ بھی ہمارے صوبے کو نہیں ملا، جبکہ فیڈرل اور صوبائی سیس اس کے علاوہ ہے۔ جہاں تک تمباکو کا تعلق ہے، اس کا شمار فصلوں میں کیا جانا چاہیئے، مگر ہمارے ہاں اس کو ڈرگز میں شامل کیا گیا ہے، جس کیوجہ سے صوبے کا اس فصل پر کوئی کنٹرول نہیں، جس کا سارا خمیازہ تمباکو کے کاشتکاروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد اس فصل پر ہمارا کنٹرول ہونا چاہیئے تھا، جب تک ہمارا کنٹرول نہیں ہوگا کسان کی حالت بدل نہیں سکے گی۔

تمباکو کے کاروبار سے وابستہ تمام طبقات اسوقت کروڑوں کما رہے ہیں، اگر نقصان میں کوئی جا رہا ہے تو وہ اس کا کاشکار ہے۔ اس کے مفادات کے تحفظ کی ضرورت ہے اور ہماری حکومت نے پہلی بار اس پر توجہ دی ہے۔ اس مقصد کیلئے صوبائی اور قومی اسمبلی کی کمیٹیاں قائم ہوچکی ہیں۔ اس سلسلے میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کردار بہت شاندار رہا ہے اور ان کی سرپرستی کی وجہ سے اس جانب پیشرفت ہو رہی ہے۔ ہم تمباکو کے کاشت کاروں کا استحصال ختم کرائیں گے، ساتھ ہی غازی بروتھا ڈیم سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کیلئے بھی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ یہ ڈیم بننے سے ہمارے ہاں 33 کلومیٹر تک دریائے سندھ کا ایکو سسٹم تباہ ہوچکا ہے۔ جنگلی، آبی اور انسانی حیات بری طرح سے متاثر ہوئی ہے، اب ان نقصانات کے ازالے کیلئے کام جاری ہے جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

اسلام ٹائمز: جب سے قبائلی اضلاع صوبے میں ضم ہوئے ہیں، حکومت کی زیادہ تر توجہ ان اضلاع پر مرکوز ہے، جبکہ دیگر اضلاع میں دلچسپی کم نظر آتی ہے۔؟
عبدالکریم خان:
نہیں ایسا بالکل نہیں ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے انضمام کے وقت قبائلی اضلاع کو صوبہ اور ملک کے دوسرے اضلاع کے برابر لانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے نیا این ایف سی ایوارڈ تاخیر کا شکار ہے، جس کا منفی اثر قبائلی اضلاع پر پڑ رہا ہے۔ قبائلی اضلاع کو ترقی دینا بے روزگاری کا خاتمہ کرنا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ایسا نہ کرنے سے قبائلی عوام کی محرومیوں میں اضافہ ہوگا، جو کسی صورت پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ قبائلی عوام کی محرومیوں سے بعض قوتیں فائدہ اُٹھا سکتی ہیں اور اس سے پہلے اٹھاتی بھی رہی ہیں۔

اس لئے وفاقی و صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کے حوالے سے زیادہ محتاط نظر آتی ہے۔ قبائلی اضلاع کی نسبت خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں تعلیم، صحت، سڑکیں اور عوام کا رہن سہن بہت بہتر ہے۔ قبائلی اضلاع میں نہ تو ڈاکٹرز موجود ہیں، نہ تعلیم کی بہتر سہولیات ہیں اور نہ ہی کوئی واضح انفراسٹریکچر موجود ہے، اس لئے ہم زیادہ توجہ ان اضلاع پر دے رہے ہیں کہ قبائلی اضلاع کو ملک اور صوبے کے دیگر اضلاع کے برابر لایا جاسکے اور ترقی کا سفر مل کر طے کیا جائے۔

اسلام ٹائمز: آئی ایم ایف کیساتھ حکومت کے معاملات تو طے پا گئے ہیں، لیکن جو شرائط ہیں وہ کس حد تک عوام کے مفاد میں ہیں۔؟
عبدالکریم خان:
آئی ایم ایف سے طے شدہ معاہدہ کے مطابق آئی ایم ایف 6 ارب ڈالر یکمشت نہیں دے گا بلکہ وہ تین سال کے دوران یہ ادائیگی کریگا۔ پاکستان کو بیل آؤٹ پروگرام ملنے کے بعد عالمی مالیاتی بینک (ورلڈ بینک) اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی 2 سے 3 ارب ڈالر ملنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط پاکستان کے اپنے مفاد میں ہیں۔ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا جا رہا جبکہ اس سے زائد بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی مہنگی ملے گی۔ پاکستان کی 70 فیصد سے زائد آبادی 300 یونٹ بجلی استعمال کرتی ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ڈالر کی قیمت کا تعین سٹیٹ بنک آف پاکستان کریگا۔ اگر حکومت پاکستان معاشی اصلاحات کرنے میں کامیاب رہی تو یہ آئی ایم ایف کے ساتھ آخری معاہدہ ہوگا، ورنہ آئندہ بھی عالمی مالیاتی فنڈ کا محتاج رہیں گے۔ ٹیکسوں کے نیٹ ورک کو مربوط بنانا آئی ایم ایف کی شرط ہے، تاہم یہ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ وفاقی حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور احساس پروگرام کیلئے آئندہ بجٹ میں 280 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں 80 ارب اضافی رکھے جا رہے ہیں، اس رقم سے غریبوں کی مدد کی جائے گی۔

آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کے معاہدہ کیلئے پاکستان کو بڑی تگ و دو کرنی پڑی، جس سے حکومت کی سبکی ہوئی۔ پاکستان کے ذمے 25 ہزار ارب روپے کا قرضہ ہے۔ پاکستان کی برآمدات نہیں بڑھیں، جس کی وجہ سے معیشت کو دھچکا لگا ہے۔ پاکستان کی برآمدات اور درآمدات میں 20 ارب ڈالر کا فرق ہے۔ افغانستان واحد ملک ہے، جس کے ساتھ سالانہ 5 ارب ڈالر کی تجارت ہوا کرتی تھی، اب وہ اڑھائی ارب سے بھی کم ہوکر رہ گئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ گذشتہ سالوں میں پاکستان کے ریزرو 50 فیصد کم ہوئے، بیرونی قرضے 90 ارب ڈالر تک بڑھنے لگے، ایسی صورتحال میں سالانہ 12 ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے۔ وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے ہونے والی شرائط کو پوری کرنے کیلئے زیادہ آمدنی والے لوگوں پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 794371
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب