4
Wednesday 15 May 2019 22:36

لاپتہ بھائی ظہیر الدین بابر کی جدائی میں ضعیف والدہ کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی، نصیر الدین ہمایوں

لاپتہ بھائی ظہیر الدین بابر کی جدائی میں ضعیف والدہ کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی، نصیر الدین ہمایوں
ظہیر الدین بابر کا بنیادی تعلق ضلع چکوال کے علاقہ روال بالا کے ایک مذہبی گھرانے سے ہے، وہ فلاحی امور میں پیش پیش رہتے تھے، زمینداری کیساتھ ساتھ ایک فلاحی تنظیم ایتمام کیساتھ منسلک تھے، اسکے علاوہ ظہیر الدین بابر صاحب ایک پڑھے لکھے اور ملکی و بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے دانشور کے طور پر بھی جانے جاتے تھے، 20 اکتوبر 2016ء کو انہیں ریاستی اداروں نے ناکردہ گناہ کی بنا پر جبری طور پر اغواء کرکے لاپتہ کر دیا، ظہیر الدین بابر کی تاحال گمشدگی، اسکے بعد انکے خانوادے کے حالات اور بازیابی کیلئے کی جانیوالی کوششوں کے حوالے سے آگاہی کیلئے اسلام ٹائمز نے ظہیر الدین بابر کے بھائی نصیر الدین ہمایوں کیساتھ ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ادارہ
 
اسلام ٹائمز: سب سے پہلے ہمارے قارئین کو ظہیر الدین بابر صاحب کی شخصیت کے حوالے سے بتایئے گا۔؟
نصیر الدین ہمایوں: ، سب سے پہلے تو میں آپ اور آپ کے ادارے کا شکر گزار ہوں کہ آپ لوگوں نے ہمارے زخموں پر مرحم رکھا۔ جہاں تک بھائی ظہیر الدین بابر کی شخصیت کا تعلق ہے تو وہ انتہائی شفیق اور درد دل رکھنے والے انسان ہونے کے ساتھ ساتھ فلاحی امور میں خدمات پیش کرنے میں ہمیشہ آگے آگے رہتے تھے، ملک و قوم کے بارے میں سوچتے تھے اور قوم کی ذہنی و فکری تربیت پر بہت زور دیتے تھے، وہ کبھی کسی بھی غلط سرگرمی میں ملوث نہیں رہے، آج تک ان پر کوئی ایک بھی ایف آئی آر موجود نہیں۔
 
اسلام ٹائمز: ظہیر الدین بابر کے خانوادے کے حوالے سے بتایئے گا۔؟
نصیر الدین ہمایوں: ان کے دو بیٹے، ایک بیٹی اور اہلیہ ہیں، والدہ بیمار ہیں، جو بھائی کو روز یاد کرتی ہیں۔
 
اسلام ٹائمز: آپکے بھائی کو کب اور کیسے اٹھایا گیا۔؟
نصیر الدین ہمایوں: بھائی جس این جی او کے ساتھ کام کر رہے تھے، ان کی طرف سے ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ میں کوہاٹ روڈ پر لی گئی زرعی اراضی پر وہ کام کر رہے تھے، یہ 20 اکتوبر 2016ء کی بات ہے۔ اس روز اچانک چار، پانچ گاڑیوں میں سادہ لباس میں 20 لوگ آئے، جن میں ایک شخص پنجاب پولیس کی وردی میں ملبوس تھا۔ انہوں نے بھائی کو ساتھ لیا اور گاڑی میں ڈال دیا، ان میں دو جوان ایلیٹ فورس کی وردی میں ملبوس تھے۔ اس موقع پر انہوں نے وہاں موجود لوگوں سے بھی موبائل فون لے لئے، تاکہ کوئی اطلاع نہ کرسکے۔ ان لوگوں نے بھائی کی ذاتی گاڑی جو کہ وہاں موجود تھی، کی تلاشی لی، جب کچھ برآمد نہ ہوا تو وہ گاڑی ہی ساتھ لے گئے۔ یہ ساری کارروائی حاجی امیر صاحب کے ڈیرے کے قریب ہوئی، میں اس وقت اسلام آباد میں تھا۔ مجھے اس واقعہ کے عینی شاہد ایک دوست نے اسلام آباد پہنچ کر اطلاع دی۔
 
اسلام ٹائمز: کیا آپ لوگوں نے متعلقہ پولیس تھانہ میں اس واقعہ کی اطلاع دی یا ایف آئی آر درج ہوئی۔؟
نصیر الدین ہمایوں: جی بالکل، ہم فوری طور پر تھانہ بسال پہنچے اور ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست دی، مگر متعلقہ ایس ایچ او نے اس واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ مجھے اس واقعہ کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔ میں نے کہا جناب میں ظہیر الدین بابر کا حقیقی بھائی ہوں، میرے بھائی کو گاڑی سمیت اغواء کیا گیا ہے، عینی شاہدین موجود ہیں، ہم اس حوالے سے ایف آئی آر درج کروانا چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد 22 اکتوبر کو ہم نے آر پی او راولپنڈی فخر وصال صاحب سے ملاقات کی اور انہیں بھی واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا، لیکن اس طرف سے بھی ہمیں کوئی خاص رسپانس نہیں ملا۔ پھر ہم نے اپنے وکیل سے مشورے کے بعد فیصلہ کیا کہ ہم چیف جسٹس سمیت مختلف شخصیات کو درخواست لکھتے ہیں، لہذا ہم نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ، چیف جسٹس راولپنڈی ہائیکورٹ، آئی جی پی اسلام آباد، آئی جی پی پنجاب، آر پی او راولپنڈی، ڈی پی او ضلع اٹک اور ایس پی ضلع اٹک کو درخواست لکھی۔
 
اسلام ٹائمز: کیا کسی ادارے نے آپکی درخواست پر نوٹس لیا۔؟
نصیر الدین ہمایوں: نوٹس کوئی خاص نہیں لیا گیا، آخر کار ہائیکورٹ میں ہمارے کیس کی شروعات ہوگئی، جب جج صاحب نے پولیس کو طلب کیا تو انہوں نے پیش ہونے سے ایک روز قبل کی تاریخ میں ایف آئی آر کا اندراج کیا، وہاں ہم نے استدعا کی کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا بھائی کہاں ہے اور اسے کس جرم میں غائب کیا گیا ہے۔ جج صاحب نے پولیس کو حکم دیا کہ وہ ظہیر الدین بابر کو کسی بھی طرح ڈھونڈ کر پیش کرے، تاہم پولیس شروع میں ٹال مٹول کرتی رہی اور پھر کہا گیا کہ ہم نے ایجنسیوں کو خط لکھا ہے، پھر کہا گیا کہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ظہیر الدین بابر ان کے پاس نہیں ہے۔
 
اسلام ٹائمز: کیا آپ لوگوں نے مسنگ پرسنز کمیشن سے رجوع کیا۔؟
نصیر الدین ہمایوں: جی بالکل، ہم نے وہاں بھی درخواست دی، وہاں سے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی جانب سے رسپانس بھی آیا، وہاں ایجنسیوں کے افراد بھی پیش ہوئے، میں نے ان سے کہا کہ یہ کیسا قانون ہے کہ ایک شخص کو دن دیہاڑے سرعام غائب کر دیا جاتا اور آپ لوگوں کو معلوم تک نہیں۔؟ اگر وہ کسی منفی سرگرمی میں ملوث بھی رہا ہے تو آپ اسے پیش کریں، اس کے خلاف ایف آئی آر درج کریں اور عدالت میں کیس چلائیں۔ جاوید اقبال صاحب نے ہمیں تسلی دی اور کہا کہ مجھے پوری امید ہے کہ آپ کا بھائی جلد واپس آجائے گا، ہم بھی آج تک آس لگائے بیٹھے ہیں۔
 
اسلام ٹائمز: کیا اس دوران آج تک کسی ادارے نے آپ لوگوں سے کوئی رابطہ کیا۔؟
نصیر الدین ہمایوں: آج تک ہم سے کسی نے رابطہ نہیں کیا، ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارا بھائی کس حالت میں اور کہاں ہے، ہماری بوڑھی والدہ روز انہیں یاد کرتی ہیں، اب ان کی یہ حالت ہم سے نہیں دیکھی جاتی، ان کے بچے اور اہلیہ ایک عجیب اذیت اور کرب کی کیفیت سے گزر رہے ہیں، اس کے علاوہ بھی جہاں جہاں تک پہنچ سکتے تھے، ہم نے رابطہ کیا، لیکن اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ میں یہی کہتا ہوں کہ خدا کسی کو بھی ایسی اذیت اور مشکل سے دوچار نہ کرے، جس مشکل سے ہم لوگ اس وقت گزر رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 794463
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب