1
Thursday 16 May 2019 02:28

صدی کی ڈیل خطے کے مسائل کو مزید الجھا دے گی، پروفیسر زکریا کورشون

صدی کی ڈیل خطے کے مسائل کو مزید الجھا دے گی، پروفیسر زکریا کورشون
مغربی ایشیا خطے سے متعلق ایک اہم ایشو جو گذشتہ دو برس کے دوران بحث و جدل کا مرکز بنا رہا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے پیش کردہ "سینچری ڈیل" یا صدی کی ڈیل نامی منصوبہ ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاوس کے مشیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے اعلان کیا ہے کہ ماہ مبارک رمضان کے بعد اس معاہدے کی تفصیلات جاری کی جائیں گی لیکن اسرائیلی ذرائع ابلاغ گاہے بگاہے اس کی کچھ تفصیلات منظرعام پر لاتے رہتے ہیں۔ منظرعام پر آنے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ ایک طرح سے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایک بڑا معاملہ ہے۔ اس معاہدے کی اہم ترین شق یہ ہے کہ اسرائیلی حکام اور فلسطین اتھارٹی کے سربراہان میں ایک مشترکہ معاہدہ طے پائے گا جس کے نتیجے میں ان کے درمیان "جدید فلسطین" نامی ایک نئی فلسطینی ریاست کے قیام پر اتفاق رائے ہو جائے گا۔
 
جدید فلسطینی ریاست مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر مشتمل ہے اور اس میں یہودی بستیوں کے زیر قبضہ علاقے شامل نہیں ہیں۔ اسی طرح اس معاہدے کی رو سے اس نئی فلسطینی ریاست میں مسلح افواج نامی کوئی چیز موجود نہیں ہو گی اور صرف پولیس افسران کو ہی ہلکے ہتھیار پاس رکھنے کی اجازت ہو گی۔ یہ معاہدہ طے پا جانے کے بعد اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس بھی ہتھیار پھینکنے کی پابند ہو گی۔ مزید برآں، صدی کی ڈیل سے متعلق منظرعام پر آنے والی معلومات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اردن کا درہ بھی اسرائیل کے کنٹرول میں آ جائے گا۔ اگرچہ اس دستاویز میں اور بھی مطالب شامل ہیں لیکن اس کا کلی جائزہ لینے سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس منصوبے کا اجرا خطے میں نئے تنازعات جنم لینے کا باعث بن جائے گا۔ اس بارے میں مہر نیوز ایجنسی نے ترکی کی سلطان محمد فاتح یونیورسٹی کے پروفیسر اور مشرق وسطی اور افریقہ سے متعلق ریسرچ سنٹر کے سربراہ زکریا کورشون سے انٹرویو لیا ہے جس کا ترجمہ اسلام ٹائمز اردو کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
 
سوال: حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے پیش کردہ سینچری ڈیل نامی منصوبے کی کچھ معلومات منظرعام پر آئی ہیں۔ آپ کی نظر میں ایسا منصوبہ پیش کئے جانے کے کیا اہداف و مقاصد ہو سکتے ہیں؟
پروفیسر زکریا: صدی کی ڈیل نامی منصوبہ جس کا ذکر ہم 2017ء سے سنتے آ رہے ہیں انسان کے ذہن میں اس ضرب المثل کی یاد تازہ کر دیتا ہے کہ "کھودا پہاڑ نکلا چوہا"۔ اگرچہ اس منصوبے سے ہماری زیادہ اور مختلف قسم کی توقعات وابستہ نہیں تھیں اور آج کے بعد "دو ریاستی راہ حل" پر زیادہ بحث اور غور و فکر کی جائے گی لیکن صدی کی ڈیل سے متعلق حال ہی میں مزید تفصیلات سامنے آنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف خطے میں موجود مسائل برطرف کرنے میں موثر ثابت نہیں ہو گا بلکہ فلسطین کی مزید سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کا زمینہ فراہم کر دے گا۔ جیسا کہ واضح ہے یہ منصوبہ "جدید فلسطینی ریاست" کے نام پر فلسطینی عوام کو اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے تسلط میں مزید جکڑ دے گا۔ ہو سکتا ہے اب تک اس منصوبے سے متعلق جو مطالب منظرعام پر آئے ہیں وہ اس کے حتمی مقاصد میں شامل نہ ہوں لیکن اسی حد تک سامنے آنے والے مطالب ظاہر کرتے ہیں کہ یہ منصوبہ فلسطین اور خطے کے دیگر ممالک کو کس عظیم تباہی کی طرف دھکیل دے گا۔ اس منصوبے کا اصل مقصد فلسطینی عوام کو خوفزدہ کر کے اپنے ناجائز مطالبات منوانا ہے اور ایک وسیع اسرائیلی ریاست کے قیام کو یقینی بنانا ہے۔
 
سوال: سینچری ڈیل سے متعلق منظرعام پر آنے والے نکات کی روشنی میں اسرائیل اور فلسطین اتھارٹی کے درمیان "جدید فلسطینی ریاست" کے قیام کے بارے میں ایک معاہدہ بھی سائن کیا جائے گا۔ آپ کے خیال میں کیا ایسا معاہدہ جامہ عمل پہن سکتا ہے؟
پروفیسر زکریا: اس قسم کے معاہدے کا نتیجہ عالم اسلام میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی شدت میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اسی طرح اسرائیل کی جانب سے فلسطینی جلاوطن افراد کے حقوق کی پامالی اور ان کی سرزمینوں پر غاصبانہ قبضے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاہدے میں صرف اسرائیلی مفادات کو ہی مدنظر قرار دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر جب ایک منصوبہ امن کے قیام کیلئے پیش کیا جاتا ہے تو وہ دونوں فریقین کے مفادات اور تحفظات کے مطابق ہونا چاہئے تاکہ دونوں کی جانب سے قبول کیا جا سکے۔ لیکن سینچری ڈیل میں صرف ایک فریق کے مفادات کو سامنے رکھا گیا ہے اور وہ اسرائیل ہے۔ درحقیقت اس منصوبے میں کوئی ایسی شق موجود ہی نہیں جس کے لالچ میں فلسطینی مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کیلئے تیار ہو سکیں۔ خاص طور پر وہ شقیں جو قدس شریف کے بارے میں ہیں ان میں مسلمانوں کے دیرینہ مطالبات کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے اور یہ امر عالم اسلام کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔
 
سوال: سننے میں آیا ہے کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کو صدی کی ڈیل قبول کر لینے کے عوض دس ارب ڈالر کی پیشکش کی ہے۔ آپ کی نظر میں سعودی عرب اس ڈیل کے حق میں کیوں ہے؟
پروفیسر زکریا: اگر یہ دعوی درست ہو تو کہنا چاہئے کہ سعودی ولیعہد اپنے مستقبل کے تحفظ کیلئے محمود عباس کو خریدنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ فلسطین شدید اقتصادی مشکلات کا شکار ہے اور یہ رقم بعض فلسطینی حکمرانوں کو خوش کر سکتی ہے لیکن محمود عباس کی جانب سے ایسی پیشکش قبول کر لینا ان کیلئے انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ پہلے ہی ان کی پوزیشن بہت زیادہ متزلزل ہے۔ حتی ممکن ہے یہ پیشکش قبول کر لینے کے بعد ان کی حیثیت اور اعتبار مکمل طور پر ختم ہو جائے۔ دوسری طرف سعودی عرب بھی خطرات سے روبرو ہے۔ حالیہ چند برس کے دوران امریکہ میں ایک نیا قانون منظور ہوا ہے جسے "جاسٹا" کہتے ہیں۔ یہ سعودی عرب کیلئے خطرناک ہے۔ اسی طرح یمن کی جنگ ان کے اہداف کے مطابق آگے نہیں بڑھ سکی جس کے باعث سعودی ولیعہد ملک سعودی معاشرے میں بھی اور سعودی حکمرانوں میں بھی اپنی حیثیت کھو چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ ان کی اس متزلزل صورتحال سے بہت زیادہ فائدہ اٹھانے میں مصروف ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ یمن جنگ میں سعودی عرب کی حمایت کے بدلے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی جانب سے صدی کی ڈیل کی حمایت کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس کا مقصد اسرائیل کی وسعت بڑھانا ہے۔
 
سوال: صدی کی ڈیل کی روشنی میں خطے کا مستقبل کیسے دکھائی دیتا ہے؟
پروفیسر زکریا: ممکن نہیں صدی کی ڈیل خطے میں امن کا باعث بنے۔ حتی جب سے یہ منصوبہ منظرعام پر آیا ہے خطے میں بہت سی نئی مشکلات اور تنازعات نے جنم لیا ہے۔ مشرق وسطی میں گذشتہ دو سال کے دوران عدم استحکام ظاہر کرتا ہے کہ یہ منصوبہ ناقابل اجرا ہے اور حتی خطے میں تباہ کن جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ابھی تک واضح نہیں کہ کون سے ممالک اس منصوبے کے حامی ہیں اور کون سے مخالف ہیں لہذا اس منصوبے کا نتیجہ نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا میں عدم استحکام اور انتشار کی صورت میں نکلے گا۔ کیونکہ جب تک فلسطین میں عدالت پر مبنی امن قائم نہیں ہو جاتا اس وقت تک دنیا میں بھی امن کا قیام ناممکن ہے۔
بشکریہ مہر نیوز ایجنسی۔
 
خبر کا کوڈ : 794465
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب