0
Thursday 16 May 2019 03:39
چیف جج کی تقرری کیلئے اسمبلی کی متفقہ قرارداد کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا

من پسند جج کی تقرری نامنظور، گلگت بلتستان میں سارا نظام انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے، احسان علی ایڈووکیٹ

من پسند جج کی تقرری نامنظور، گلگت بلتستان میں سارا نظام انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے، احسان علی ایڈووکیٹ
گلگت بلتستان کے سینیئر قانون دان احسان علی ایڈووکیٹ کا تعلق گلگت سے ہے، وہ سپریم اپیلیٹ کورٹ بار اور چیف کورٹ بار کے سربراہ رہ چکے ہیں جبکہ وہ عوامی ایکشن کمیٹی کے سابق چیئرمین بھی رہے، اے اے سی کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ گندم سبسڈی تحریک کے دوران احسان علی ایڈووکیٹ پیش پیش رہے اور حکومت کو مطالبات منظور کرنے پر مجبور کیا، جی بی کے آئینی حقوق کی جنگ میں احسان ایڈووکیٹ کا اہم کردار ہے، آجکل گلگت بلتستان میں آزاد عدلیہ کی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے جی بی میں عدالتی و آئینی بحران کے حوالے سے ان سے گفتگو کی ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: ایک طرف حکومت آرڈر 2018ء کے تحت جج کے تقرری کی سمری بھیجتی ہے تو دوسری طرف آرڈر 2019ء کے تحت کونسل کا کنسولیڈیٹڈ فنڈ بھی بحال کیا گیا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے، آخر گلگت بلتستان میں کونسا آرڈر نافذ ہے۔؟
احسان علی ایڈووکیٹ: جی ہاں، ہم نے قائم مقام چیف جسٹس کو اس بارے میں آگاہ کیا تو وہ حیران ہوگئے۔ من پسند چیف جج کی تعیناتی صرف آرڈر 2018ء کے ذریعے سے ہی ہوسکتی تھی تو حکومت نے اسی طرح ہی کیا، جبکہ کونسل کا کنسولیڈیٹڈ فنڈ تو آرڈر 2018ء میں موجود ہی نہیں تھا، کیونکہ پرانے آرڈر میں کونسل کو ہی ختم کیا گیا تھا، اب اس کے فنڈ کو بحال کرنے کیلئے آرڈر 2019ء کا سہارا لیا گیا، قائم مقام چیف جسٹس نے کہا ہے کہ یہ تمام حقائق اگلی سماعت پر پیش کریں، تاکہ اس پہ قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکے۔

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان میں عدالتی بحران ہے، چیف جج کی تقرری کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، اس بارے میں جی بی کے وکلا رہنمائوں کی قائم مقام چیف جسٹس سے ملاقات بھی ہوئی، اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیجئے گا۔؟
احسان علی ایڈووکیٹ: ہمارا شروع سے ایک ہی سٹینڈ رہا ہے، ہم آزاد عدلیہ کی بات کرتے ہیں اور آزاد عدلیہ کا قیام آئینی عدالتی نظام کے بغیر ناممکن ہے، آرڈر کے ذریعے جو عدلیہ وجود میں آتی ہے، وہ مفلوج، ناقص اور کنٹرولڈ ہوتی ہے۔ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ گلگت بلتستان میں کیا کچھ ہو رہا ہے، 17 جنوری کو سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا، اگرچہ اس پہ بھی ہمارے شدید تحفظات ہیں، کیونکہ سپریم کورٹ نے پرانے دو آرڈروں کی جگہ ایک اور آرڈر دیا، ملک کی سب سے بڑی عدالت کا کام تھا کہ وہ آرڈر کو رد کرکے جی بی کو آئین دے دیتی، البتہ ایک چیز ضرور تھی، وہ یہ کہ عدالت نے ججوں کی تقرری کیلئے ایک کمیشن بنایا، اس سے پہلے خطے میں ججوں کی تقرری گورنر یا وزیراعلیٰ کی مرضی سے ہوتی تھی یا اداروں کی ڈکٹیشن پر۔ سپریم کورٹ نے اس چیز کو محسوس کرتے ہوئے سات آٹھ رکنی جوڈیشل کمیشن بنایا، اس میں گورنمنٹ کی نمائندگی بھی ہے، وکلاء کی اور بیوروکریسی کی بھی، یہ کوئی جامع کمیشن نہیں تھا، تاہم ایک مثبت پیشرفت ضرور تھی۔

بہرحال پہلے کی طرح یکطرفہ طریقہ کار کی بجائے ایک بہتر طریقہ کار ضرور تھا، اس فیصلے کی بھی خلاف ورزی کرکے پرانے آرڈر کے ذریعے سیدھا سیدھا گورنر سے سمری تیار کروائی گئی، نام بھی خود دیدیا، بار کو پتہ ہی نہیں چلا، گورنر نے ان کے کہنے پہ سمری بھی بھیج دی اور وزیراعظم نے منظوری بھی دیدی، اس پہ ہمارے شدید تحفظات ہیں، یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تقرری عمل میں لائی جاتی، بار کو بھی اعتماد میں لیا جاتا، لیکن ایسا نہیں ہوا، جو جج یکطرفہ طور پر تعینات کیا گیا ہے، اس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایبٹ آباد کا شہری ہے، وہاں کے سینیئر وکلاء سے معلومات لیں تو انکشاف ہوا کہ سپریم کورٹ تو چھوڑیئے ہائیکورٹ میں بھی کوئی پریکٹس نہیں ہے، ایک دو اداروں میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل رہا ہے۔ اسی جج کے خلاف دیامر کے لوگ بھی سڑکوں پر ہیں، ایبٹ آباد کے ایک وکیل نے بھی اس کیخلاف فراڈ کا کیس کیا ہوا ہے، اس کے باوجود من پسند جج مسلط کیا گیا، اس کیخلاف وکلاء سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

کچھ دن پہلے خود جی بی اسمبلی نے بھی غیر مقامی جج کی تعیناتی کیخلاف متفقہ قرارداد پاس کی تھی، لیکن اس قرارداد کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا، اسی تناظر میں ہم نے قائم مقام چیف جسٹس سے بات کی، دیکھیں مسئلہ کشمیر کے ساتھ جی بی کا تعلق ضرور ہے، اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مقبوضہ کشمیر میں بھی ایک آئینی عدالتی نظام ہے، انڈین سپریم کورٹ میں بھی اپیل کا حق دیا ہوا ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی ایک ایکٹ کے ذریعے آئینی نظام ہے، ہائیکورٹ اور اپنی سپریم کورٹ ہے، لیکن اس کے برعکس گلگت بلتستان میں ایک کالونیل نظام مسلط ہے، سارا نظام انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے، کمزور جج تعینات کرنے کا مقصد بھی یہ ہے، تاکہ یہ اعلیٰ ترین عدلیہ ان کے کنٹرول میں رہے، تاکہ جو لوگوں کے حقوق کے معاملات ہوتے ہیں، اس حوالے سے انتظامیہ، ڈیپارٹمنس کیخلاف فیصلے نہ آسکیں۔ مثلاً یہاں معدنیات کے ایشوز ہیں، زمینوں کا معاملہ بھی ہے، یہاں کے وسائل و دولت کو یہ لوگ اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں۔ وکلاء اور عوام سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں، ایک غیر ذمہ دار اور نان پروفیشنل جج کو مسلط کیا گیا ہے، وہ بھی جوڈیشل کمیشن کے بغیر۔

وفاقی حکومت نے اس چیز کو کور کرنے کیلئے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی ہے، جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ہمیں موقع دیا جائے، ہم ترمیم کرنا چاہتے ہیں، جی بی میں ایکٹ آف پارلیمنٹ لانا چاہتے ہیں، تو جناب ان کو کس نے روکا، سپریم کورٹ کے فیصلے کو پورے چار ماہ گزر چکے ہیں، اس دوران ایکٹ آف پارلیمنٹ کیوں نہیں لایا گیا، انہیں کس نے روکا؟ سپریم کورٹ نے دو ہفتوں کے اندر فیصلے کو صدر سے منظوری لے کر نافذ کرنے کا حکم دیا تھا، اس کیلئے کوئی ایکٹ آف پارلیمنٹ کی ضرورت بھی نہیں تھی، یہ تو عدالت نے ان کی مرضی سے ہی آرڈر بنایا تھا، صرف نوٹیفکیشن جاری کرنا تھا، لیکن اس کو روک کے رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ پرانے آرڈر کے ذریعے من پسند جج لگایا جائے۔ یہ سراسر توہین عدالت ہے، ہم نے چیف جسٹس کو یہ بھی بتا دیا ہے کہ وزیراعظم، سیکرٹری کشمیر افیئرز اور دیگر ادارے معاملے کو صرف طول دینا چاہتے ہیں، چیف جسٹس نے ہماری باتوں کو سنجیدگی سے لیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ ضرور اس پر قانون کے مطابق کارروائی کرینگے۔

اسلام ٹائمز: وفاقی حکومت کی درخواست میں جی بی میں سپریم کورٹ کے دائرہ کار پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے، آپکے خیال میں خطے میں سپریم کورٹ کا دائرہ کار کیوں ضروری ہے۔؟
احسان علی ایڈووکیٹ: دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ حکومت اور سپریم کورٹ کا مسئلہ ہے، میرے خیال میں سپریم کورٹ اس کی اجازت نہیں دے گی اور عدالتی دائرہ کار ختم کرکے سپریم کورٹ ان کو من مانی کرنے نہیں دیگی۔ وفاقی حکومت یہ نیک نیتی سے نہیں بلکہ بدنیتی سے کر رہی ہے، آپ کو یاد ہوگا کہ آرڈر 2009ء اور آرڈر 2018ء میں صبح ایک ترمیم ہوتی تھی تو شام کو ایک اور، اس پہ کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، اسمبلی سے کوئی بل پاس کرنے یا منظوری لینے کی ضرورت نہیں تھی، جب بھی کشمیر افیئرز چاہے ترمیم کرکے لاگو کر دیتا ہے، اب سپریم کورٹ نے اس بات پہ پابندی لگائی ہے کہ آپ جو بھی ترمیم کرینگے اس کو ہم پہلے چیک کرینگے، دیکھیں گے کہ وہ آئین و قانون اور بنیادی حقوق کے منافی تو نہیں ہے، اس پہ ان کو بڑی تکلیف ہے کیونکہ ان کی من مانی ختم ہوگئی ہے۔

اسلام ٹائمز: سپریم کورٹ میں قانونی جنگ لڑنے کے علاوہ وکلاء کی اور بھی کوئی حکمت عملی ہے۔؟
احسان علی ایڈووکیٹ: ہمارا احتجاج تو پہلے سے ہی جاری ہے، گذشتہ ہفتے ہمارے وکلاء نمائندوں نے باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے چیف جج کی تقرری کی مذمت کی ہے اور چیف جج کی تقرری کو مسترد کر دیا ہے، ہم نے واضح کر دیا ہے کہ آخر کب تک امپورٹڈ جج لاتے رہوگے؟ آج سپریم کورٹ میں کچھ سینیئر وکلاء سے بات ہو رہی تھی، میں نے کہا کہ کیا آپ مجھے پنجاب کا چیف جسٹس لگانا چاہتے ہیں؟ وہ حیران ہوگئے، جب آپ ہمیں اپنے صوبے میں جج لگانا نہیں چاہتے تو آپ کے صوبے سے ہمارے علاقے میں جج کیوں؟ ہمارا مطالبہ ہی یہی ہے کہ چیف جسٹس سمیت تمام ججز مقامی ہو، مقامی بار اور بینچ سے لیا جائے۔

اسلام ٹائمز: جی بی کے وکلاء کی تحریک کے حوالے سے پاکستان بار یا سپریم کورٹ بار سے بھی کوئی رابطے ہیں۔؟
احسان علی ایڈووکیٹ: جی ہاں، ان سے بھی رابطے میں ہیں، کل ہی ہماری اہم میٹنگ ہوئی تھی، ایک دو روز بعد پھر میٹنگ ہوگی، سپریم کورٹ بار، پاکستان بار کونسل کے ذمہ داروں سے مل رہے ہیں، انہوں نے ماضی میں بھی ہماری بھرپور سپورٹ کی ہے، آئندہ بھی ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہونگے۔
خبر کا کوڈ : 794470
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب