0
Wednesday 22 May 2019 21:34

بھارتی عوام کے سامنے آج بھی روزی روٹی کا مسئلہ ہی سب سے اہم مسئلہ ہے، سچن پائلٹ

بھارتی عوام کے سامنے آج بھی روزی روٹی کا مسئلہ ہی سب سے اہم مسئلہ ہے، سچن پائلٹ
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے قریب غازی آباد میں مقیم سچن پائلٹ بھارت کے سینیئر سیاستداں راجیش پائلٹ کے بیٹے ہیں۔ وہ 2004ء میں 26 سال کی عمر میں بھارتی پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ 13 جنوری 2014ء کو وہ راجستھان پردیس کانگریس کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ سچن پائلٹ 11 دسمبر 2018ء سے راجستھان اسملبی میں نائب وزیراعلٰی بھی ہیں۔ 2009ء میں راجستھان کے اجمیر سے پارلیمنٹ نشست میں بھارتی جنتا پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں بھاری اکثریت سے جیت حاصل کی۔ اسلام ٹائمز نے سچن پائلٹ سے ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: مودی حکومت کی اب تک کی کارکردگی کو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں اور نریندر مودی کو وزیراعظم کے طور پر آپ نے کیسا پایا۔؟
سچن پائلٹ:
دیکھیئے مودی ہمارے بھی وزیراعظم ہیں۔ ملک کی عوام نے انہیں منتخب کیا تھا، اس لئے وہ معزز ہیں، لیکن وہ جتنا جھوٹ بولتے ہیں اور جتنی آسانی اور اعتماد کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں، وہ ناقابل تصور ہے۔ ان کی حکومت کا دورانیہ ختم ہونے کو ہے لیکن انہوں نے ابھی تک کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ دو کروڑ روزگار پیدا کرنے کی بات ہو یا پندرہ لاکھ روپے ہر ہندوستانی باشندے کو دینے کا وعدہ یا پھر ترقی و پیشرفت کے بڑے بڑے خواب دکھانے کی بات ہو، تمام کے تمام وعدے آج کے وقت تک محض جملے ہی ثابت ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی نے ٹھیک کہا تھا کہ یہ ’’سوٹ بوٹ کی حکومت‘‘ ہے۔ اس میں ایک لائن اور جوڑ لیجئیے کہ یہ ’’جملوں کی حکومت‘‘ ہے۔ ایک جملہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔

اسلام ٹائمز: بھارتیہ جنتا پارٹی کا الزام ہے کہ کانگریس نے حکومت چلانے میں بار بار رکاوٹیں حائل کی ہیں، آپ اس حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
سچن پائلٹ:
دیکھیئے ایک سیاسی جماعت ہونے کے ناطے کانگریس نے ہمیشہ پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر عوام کے مفاد کی بات کی ہے۔ کانگریس نے بھی پلوامہ حملے پر افسوس کا اظہار کیا۔ اب بی جے پی چاہتی ہے کہ ہم انکے جرائم اور دھوکہ بازیوں پر خاموش رہیں تو ایسا نہیں ہوسکتا ہے۔ تنہا حزب اختلاف ہی نہیں بلکہ پورے بھارت نے حکومت کا ساتھ دیا تھا۔ ہمارے جمہوری ملک میں ایسے کئی مواقع آئے ہیں، جب حزب اختلاف نے یکجہتی کی مثالیں قائم کی ہیں۔ جب جب ضرورت پڑی ہے، ہم سب نے بغیر اس بات کے پروا کئے کہ مرکز میں کون سی پارٹی اقتدار میں ہے، حکومت کا ساتھ دیا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ہماری فوج کا سیاسی استعمال کرنے سے بی جے پی کو کوئی فائدہ نہیں ملنے والا۔

اسلام ٹائمز: پلوامہ حملے کے بعد خاص طور پر پارلیمانی انتخابات میں نریندر مودی  کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا، کیا وہ اصلی ہیرو ثابت ہوئے یا نہیں۔؟
سچن پائلٹ:
بھارت کے باشندے یہ جانتے ہیں کہ اصل ہیرو کون ہے۔ نریندر مودی نے ان سے جو وعدے کئے تھے اور جو ایشوز اٹھائے تھے، انہیں لوگ ابھی تک بھولے نہیں ہیں۔ وہ دن گئے جب وہ جھوٹے وعدوں اور اپنی لفاظی سے لوگوں کو بیوقوف بنا رہے تھے۔ آج بھی لوگوں کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ ہی سب سے اہم مسئلہ ہے۔ پلوامہ اور اس کے بعد ہوئی ایئر اسٹرائیک کے بعد بھی لوگ بنیادی مسائل کو نہیں بھلا سکتے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان جنگ نہیں کرسکتا، کیونکہ اس کے تلخ نتائج اسے معلوم ہیں۔ بھارت میں گذشتہ کچھ برسوں سے ’’گھر واپسی‘‘ اور ’’ہجومی تشدد‘‘ جیسے واقعات عام ہوچکے ہیں۔ آج کے دور میں لوگ روزگار، مضبوط معیشت، سماجی سکیورٹی اور کسانوں کے مفاد جیسے وعدوں کو نہیں بھول سکتے۔ انہیں ایشوز پر گلی محلوں میں بحث ہو رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: بھاجپا کے وعدوں اور نعرے کے بارے میں عام لوگ کیا سوچتے ہیں، کیا وہ اپنے آپکو فریب خوردہ تصور کرتے ہیں۔؟
سچن پائلٹ:
دیکھیئے متوسط طبقہ کی رائے ہی اہم ہوتی ہے۔ متوسط طبقہ بڑے شہروں میں بھی ہے اور گاؤں میں بھی ہے۔ اس مرتبہ متوسط طبقہ ہی سب سے زیادہ ناراض ہے، کیونکہ اسی طبقہ نے بی جے پی کو اقتدار تک پہنچایا تھا، لیکن اب اس طبقہ کو احساس ہوچکا ہے کہ تمام وعدے کھوکھلے تھے۔ نہ تو ’’میک ان انڈیا‘‘ ہوا، نہ ’’بلیک منی‘‘ واپس آیا، نہ تیل کے دام کم ہوئے اور نہ روزگار کے مواقع فراہم ہوئے۔ بی جے پی کی حکومت میں کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہیں ہوا، جس وجہ سے مودی کا دوبارہ وزیراعظم بننے کا خواب اس مرتبہ چکنا چور ہونے جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کی حکومتیں کیا کام کر رہی ہیں۔؟
سچن پائلٹ:
گذشتہ برس دسمبر میں ان ریاستوں کے انتخابات میں تشہیر کے دوران کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے کسانوں کے قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا، تینوں ریاستوں میں ہماری حکومت نے یہ وعدہ پورا کر دیا ہے۔ ہم نے بے روزگاروں کو مفت راشن دینے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ سماجی سکیورٹی کے نئی منصوبے لاگو کئے جا رہے ہیں۔ جنرل کیٹیگری کے غریبوں کو 10 فیصد ریزرویشن کا اصول بھی نافذ کیا جا رہا ہے۔ اب تک ہم نے 17 لاکھ کسانوں کا قرض معاف کیا ہے۔ ہم ایسے سماجی بہبود کے منصوبے دوبارہ شروع کرنے جا رہے ہیں، جو گذشتہ کانگریس حکومت کی طرف سے شروع کئے گئے اور بھاجپا کی جانب سے ختم۔ لوگ ہمارے کام کو سراہتے ہیں اور ہمارے کام کاج کے طریقہ میں غرور نہیں ہوتا۔ ہماری حکومت کام کرنے والی حکومت ہے۔ ایسے میں یقینی طور پر مینڈیٹ ہمارے حق میں ہوگا۔

اسلام ٹائمز: کیا پارلیمانی انتخابات کے نتائج کو آپ اپنے حق میں سمجھتے ہیں۔؟
سچن پائلٹ:
دیکھیئے ہمیں انتخابات کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیئے۔ دوسرے بات کہ اگر ہم جیت گئے تو ہم اسے پارٹی کی فتح سے نہیں جوڑیں گے بلکہ یہ عوام کی فتح ہوگی۔ بھارتی عوام بی جے پی کی بدتر حکمرانی سے اور خوف و تشدد سے آزاد ہونا چاہتی ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ پورے ملک میں چاروں طرف خوف اور بدعنوانی کا ماحول ہے۔ لوگ بھاجپا سے عاجز آچکے ہیں، اب وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ بھارتی عوام کو محسوس ہوا کہ کانگریس پارٹی ہی ان کی آواز ہے۔ اس آواز کے سامنے بی جے پی کا شور و غل اور جھوٹی تشہیر کی یقینی شکست ہوگی، بس نتائج کا اعلان باقی ہے۔
خبر کا کوڈ : 795365
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے