0
Wednesday 22 May 2019 19:27
آئی ایم ایف کے ملازموں کے ذریعے پی ٹی آئی حکومت ملک کو معاشی بحران سے کیسے نکال پائے گی

حکمرانوں کی نااہلی کے سبب پاکستان ہمیشہ امریکی پالیسیوں کے زیر اثر رہا ہے، حافظ نصراللہ عزیز

حکومت آئی ایم ایف معاہدے کو کسی ایک فرد کی خودکشی کے بجائے اجتماعی خودکشی کے مترادف سمجھتے ہیں
حکمرانوں کی نااہلی کے سبب پاکستان ہمیشہ امریکی پالیسیوں کے زیر اثر رہا ہے، حافظ نصراللہ عزیز
حافظ نصراللہ عزیز جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر کی حیثیت سے ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں، انہوں نے جمعیت طلباء عربیہ سے تنظیمی فعالیت کا آغاز کیا، بعد ازاں انہوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی، وہ ضلع جیکب آباد، ضلع کشمور، کندھ کوٹ کے امیر بھی رہ چکے ہیں، 2003ء سے 2018ء تک صوبائی ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے پر ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ وہ جماعت اسلامی سندھ کے شعبہ فہم دین کے ناظم اور دینی و دنیاوی تعلیم کے ادارے جامعۃ الانصار کے بھی مسئول ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے مسجد قبا گلبرگ کراچی میں قائم جماعت اسلامی سندھ کے دفتر میں انکے ساتھ مختلف موضوعات کے حوالے سے ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان کیساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: پی ٹی آئی حکومت کی ابتک کی کارکردگی کو کتنا ناکام یا کامیاب سمجھتے ہیں۔؟
حافظ نصراللہ عزیز:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کی نو ماہ کی کارکردگی سوائے اچھے بیانات، تقاریر اور دعوؤں کے سوا کچھ نہیں، پی ٹی آئی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد سے تاحال کسی بھی قسم کی کامیابی حاصل نہیں کر پائی ہے۔ ڈالر کی اونچی اڑان اور روپے کی بے قدری پی ٹی آئی حکومت کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جس سے مہنگائی کا نیا طوفان آئیگا، عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے اور غریب کو ریلیف دینے کی دعویدار پی ٹی آئی کی حکومت کے ظالمانہ اقدامات نے غریب آدمی کا جینا مشکل بنا دیا ہے۔ ایک طرف ریاست مدینہ کی بات کی جاتی ہے تو دوسری طرف سودی معیشت، قادیانی نوازی سے لیکر اسلامی اقدار کو مسخ کرنے کی پالیسیوں نے ان کا مکروہ چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حکومت کے آئی ایم ایف سے معاہدے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
حافظ نصراللہ عزیز:
وزیراعظم عمران خان کا حکومت میں آنے سے پہلے بیانیہ تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر ہے کہ خودکشی کر لوں، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سابقہ حکومتوں کی ڈگر پر چلتے ہوئے انہوں نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کر لیا، خودکشی تو دور کی بات ہے، وہ تو آئی ایم ایف سے معاہدے کا دفاع کر رہے ہیں، لہٰذا ہم حکومت آئی ایم ایف معاہدے کو کسی ایک فرد کی خودکشی کے بجائے اجتماعی خودکشی کے مترادف سمجھتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کا مطلب ہے کہ پاکستان ابھی بھی امریکی زیر اثر ہے۔؟
حافظ نصراللہ عزیز:
حکمرانوں کی نااہلی کے سبب پاکستان ہمیشہ امریکی پالیسیوں کے زیر اثر رہا ہے، بلکہ اب تو آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرکے بحیثیت قوم صرف زیر اثر نہیں بلکہ غلامی کا طوق پہن لیا ہے۔

اسلام ٹائمز: روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کے عوام و حکومت پر کیا اثرات پڑتے نظر آرہے ہیں۔؟
حافظ نصراللہ عزیز:
ڈالر 153 روپے ہو جانے کی وجہ سے ناصرف مہنگائی کا نیا طوفان آئیگا، بلکہ بیرونی قرضہ بھی 9 سو ارب روپے بڑھ جائے گا، موجودہ حکومت کی ناکام پالیسیوں اور کھوکھلے دعوؤں کی وجہ سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، یہی وجہ ہے کہ سابقہ حکومتوں کے برعکس پی ٹی آئی کی حکومت دس ماہ کے تھوڑے عرصے میں ہی غیر مقبول اور عوامی اعتماد کھو چکی ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا حکومت کے تمام ممالک سے برابری کی سطح پر تعلقات پر مبنی خارجہ پالیسی کے دعوے پر عملدرآمد ہوتا نظر آرہا ہے، یا صورتحال اسکے برعکس ہے۔؟
حافظ نصراللہ عزیز:
جب داخلی انتشار ہو، معاشی استحصال ہو، تو ملک و قوم کے مفادات پر مبنی ایک آزاد خارجہ پالیسی ہم کیسے بنائیں گے، کیونکہ ایک بھکاری سوائے ہاتھ پھیلانے کے، سوائے دوسروں کے زیر اثر رہنے کے اپنی مرضی سے کوئی بہتر کام نہیں کرسکتا۔

اسلام ٹائمز: موجودہ ملکی معاشی و اقتصادی صورتحال میں آئی ایم ایف سے قرضہ لئے بغیر بھی کوئی آپشن نظر آتا ہے۔؟
حافظ نصراللہ عزیز:
ہمیں ترک قوم اور انکی قیادت طیب اردگان کو فالو کرنا تھا، امریکی ڈالر کا بائیکاٹ کرکے اپنے ملکی وسائل و ذرائع پر انحصار کرنا تھا، جو اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے انتہا فراہم کئے ہوئے ہیں، ضروری تھا کہ ہم اسے استعمال میں لاتے، خود کفیل ہوتے، غیر ممالک پر انحصار نہ کرتے، لیکن بدقسمتی سے مادہ پرستی اور مافیا نے ہمیں من حیثیت قوم بے حس کر دیا ہے اور مایوسی کے دلدل میں دھنسا دیا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا پی ٹی آئی حکومت معاشی بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو پائیگی، جیسا کہ حکومت دعویٰ کرتی ہے۔؟
حافظ نصراللہ عزیز:
پی ٹی آئی حکومت کے پاس کوئی ماہر معاشیات نہیں ہے، کوئی ایکسپرٹ نہیں ہے، آئی ایم ایف کے ملازموں کے ذریعے پی ٹی آئی حکومت ملک کو معاشی بحران سے کیسے نکال پائے گی، یہ بات ہر ایک کی سمجھ سے باہر ہے۔ پی ٹی آئی اقتدار میں آنے سے پہلے اور آنے کے بعد صرف دعوے ہی تو کر رہی ہے، جسے اب کوئی شخص بھی سنجیدہ نہیں لیتا، معاشی بحران پر قابو پانا پی ٹی آئی کے بس میں نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: جماعت اسلامی ملکی معاشی و اقتصادی بحران کا کیا حل پیش کرتی ہے۔؟
حافظ نصراللہ عزیز:
جماعت اسلامی کے پاس پروفیسر خورشید احمد جیسے ماہر معاشیات موجود ہیں، خود امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق صاحب بھی آٹھ سال صوبہ خیبرپختونوا میں وزیر خزانہ رہ چکے ہیں، جنہیں ورلڈ بینک نے حسن کارکردگی اور اسمبلی میں PIL نے تعریفی سرٹیفکیٹ دیئے تھے۔ ملک میں سودی نظام رائج ہے، ہم سود پر لعنت بھیجتے ہیں، سودی نظام میں ملکی ترقی ممکن نہیں سوائے تنزلی کے، اس لئے ہم سود سے پاک نظام لانا چاہتے ہیں، اسی میں ملکی ترقی و بھلائی ہے۔ قرآن و سنت کا نظام ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ جماعت اسلامی کی دیانتدار و مخلص قیادت ہی ملک کو بحران اور قوم کو مسائل سے نجات دلا سکتی ہے، سابق میئر عبدالستار افغانی، نعمت اللہ خان سے لیکر سابق سینیئر وزیر کے پی کے سینیٹر سراج الحق کا کردار اور کارکردگی پوری قوم کے سامنے ہے۔

اسلام ٹائمز: موجودہ ملکی صوتحال میں اپوزیشن خصوصاً مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کردار کو کیسا دیکھتے ہیں۔؟
حافظ نصراللہ عزیز:
موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اپنے کالے کرتوت اور کالے دھن کے ساتھ اپنے آپ کو بچانے کی فکر میں ہیں، دونوں نے بھی ہمیشہ آئی ایم ایف کی پالیسیوں کو ہی فالو کیا ہے، اپنے اپنے ادوار میں دونوں جماعتوں نے ملکی معاشی نظام آئی ایم ایف و دیگر عالمی اداروں کے شکنجے میں دیا ہوا تھا، دونوں جماعتوں نے عالمی سطح پر کرپشن میں نام کمایا ہوا ہے، لہٰذا یہ چلے ہوئے کارتوس ملک و قوم کے مفاد میں کوئی کردار ادا نہیں کر پائیں گے، البتہ مولانا فضل الرحمان ایک مقام رکھتے ہیں، یہ چوروں اور لٹیروں کے ساتھ مل کر عمران حکومت ختم تو کرسکتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں کوئی خیر برآمد ہوتا ہمیں نظر نہیں آتا۔

اسلام ٹائمز: پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے آپکی کیا رائے ہے۔؟
حافظ نصراللہ عزیز:
سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت عوامی اعتماد پر پورا اترنے میں ناکام ہوگئی ہے، بلدیاتی اداروں سے لیکر صحت، تعلیم کی صورتحال ابتر جبکہ عوام پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں۔ این آئی سی وی ڈی کی طرح باقی اداروں میں بھی ڈاکٹر ندیم قمر جیسے باصلاحیت و باکردار افراد کو آگے لاکر سندھ کے اداروں میں بہتری اور کرپشن و نااہلی کا خاتمہ کیا جائے۔ اربوں روپے جمع شدہ تیل و گیس کی رائلٹی کرپشن کی نظر کرنے کی بجائے مذکورہ اضلاع کے انفرا اسٹرکچر اور عوام کے فلاح بہبود پر خرچ کی جائے اور ان کمپنیوں میں مقامی لوگوں کو ملازمتیں دیکر احساس محرومی کو ختم کیا جائے۔

اسلام ٹائمز: کہا جا رہا ہے کہ اختیارات و انتظام منتخب اداروں کے بجائے غیر منتخب قوتوں اور ٹیکنوکریٹس کے قبضے میں چلا گیا ہے، کیا کہنا چاہیں گے اس حوالے سے۔؟
حافظ نصراللہ عزیز:
نام تو ہمیشہ جمہوری حکومت اور جمہوری نظام کا لیا جاتا ہے، لیکن درحقیقیت ہمیشہ ہر حکمرانی پس پردہ قوتوں کی ہی رہی ہے، البتہ موجودہ عمران حکومت میں پس پردہ قوتیں ظاہر ہو کر ہم پر حکومت کر رہی ہیں، نام عمران خان کا استعمال ہو رہا ہے، لیکن کام کسی اور کا ہو رہا ہے، لہٰذا اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے کہ اختیارات و انتظام پر غیر منتخب قوتوں اور ٹیکنوکریٹس قابض ہوگئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پی ٹی آئی حکومت اپنی مدت پوری کر پائیگی یا نہیں؟ اگر نہیں تو ملکی سیاسی مستقبل کیسا نظر آرہا ہے۔؟
حافظ نصراللہ عزیز:
واضح ہے کہ عمران حکومت اپنے ابتدائی تین ماہ کے اندر ہی ناکامی کی لکیر سے بھی نیچے جا چکی ہے، محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کئے بغیر قبل از وقت ہی ختم ہو جائے گی۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی موجودہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کے حق میں ہے، اپوزیشن کے تحریک چلائے بغیر حکومت خود ہی اپنے عوام دشمن اقدامات کی وجہ سے غیر مقبول ہو رہی ہے۔ مستقبل میں قوم اور مقتدر حلقوں کو سیکولر اور لبرل قیادت کو چھوڑ کر باصلاحیت، ایماندار اور قرآن و سنت سے آشنا دینی قیادت کی طرف ہوگا، جو ملک کو اپنے نظریات اور اخلاقیات کے مطابق چلائیں گے، تب ہی ملک بچ سکے گا اور مستحکم بھی ہوسکے گا۔

اسلام ٹائمز: اپوزیشن جماعتوں نے عید کے بعد پی ٹی آئی حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے، کیا جماعت اسلامی حکومت مخالف اس تحریک کا حصہ بنے گی۔؟
حافظ نصر اللہ عزیز:
اسلام آباد میں افطار پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپوزیشن جماعتوں کی بیٹھک جمہوریت کا حسن ہے، تاہم جماعت اسلامی دیگر پارٹیوں کی تحریک کا حصہ نہیں بنے گی، بلکہ اپنے منشور و پروگرام کے مطابق عید کے بعد مہنگائی کیخلاف، ملک کو مالیاتی اداروں کی غلامی سے نجات کیلئے عوامی احتجاج کو منظم کیا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 795769
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے