0
Saturday 25 May 2019 11:34
حکومت پانچ سال پورے کرتے دکھائی نہیں دیتی

پاکستان عربوں اور ایران کے درمیان سختی سے غیر جانبدار رہے، افراسیاب خٹک

پاکستان کی سرزمین ایران کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہیئے
پاکستان عربوں اور ایران کے درمیان سختی سے غیر جانبدار رہے، افراسیاب خٹک
بائیں بازوں سے تعلق رکھنے والے افراسیاب خٹک کا تعلق کوہاٹ سے ہے  اور وہ عوامی نیشنل پارٹی کے سیئینر رہنما ہیں، پشتونوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ایک توانا آواز سمجھتے ہیں، 70 کی دہائی میں سویت یونین کے نظریہ کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، 80 کی دہائی میں نیشنل عوامی پارٹی کیساتھ منسلک ہوگئے، سویت یونین سے تعلق ہونے اور اس نظریہ کے پرچار کے حوالے سے ضیاء الحق دور میں اسکی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی، یوں پھر آپ افغانستان منتقل ہوگئے اور روس کیجانب سے کابل میں ایڈوائزر کے طور پر کام کیا، کچھ عرصہ افغانستان میں قیام پذیر رہے اور سقوط کابل کے بعد پھر وطن واپس آگئے۔ 2002ء سے 2006ء میں ہیومن رائٹس کمیشن کے صدر بھی رہے ہیں، 2006ء میں اے این پی کیساتھ منسلک ہوئے اور دو ہزار نو میں خیبرپختونخوا اسمبلی سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے ہمیشہ آواز بلند کرتے رہتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے سخت ناقد تصور کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے خطے کی حالیہ صورتحال اور قومی ایشوز پر ان سے انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: امریکا ایران کشیدگی کے دوران پاکستان کیا کردار ادا کرسکتا ہے، دوسرا  آپکے کچھ تحفظات بھی ہیں وہ کیا ہیں۔؟
افراسیاب خٹک:
دیکھیں ویسے تو ہماری پارلیمنٹ نے یمن کے معاملے پر واضح موقف اپنایا تھا اور کہا تھا کہ ہم اس جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، ہم کسی صورت فریق نہیں بنیں گے، یہ ایک اعلانیہ پالیسی ہے لیکن کبھی کبھار ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ ہماری اعلانیہ پالیسی کچھ اور ہوتی ہے اور عمل کسی اور پر ہو جاتا ہے، اس تناظر میں میری تشویش تھی اور ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان عربوں کے ساتھ اپنی دوستی رکھے، وہ بھی ہمارے بھائی ہیں اور ان سے اچھے تعلقات ہونے چاہیئں، لیکن اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہونے چاہیئے کہ ایران سے ہمارے تعلقات کچھ اور نوعیت کے ہوں، ایران ہمارا پڑوسی اور برادر ملک ہے، اس کے خلاف پاکستان کی سرزمین استعمال ہوئی ہے جو اب نہیں ہونی چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: یہ جو خطے کو نئی جنگ کیطرف دھکیلا جا رہا ہے، اسکو ختم کرانے میں پاکستان کا کوئی رول ہے۔؟
افراسیاب خٹک:
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان جو کرسکتا ہے، وہ یہ کہ عربوں اور ایران کے درمیان سختی سے غیر جانبدار رہے، دوسرا پاکستان کوشش کرے کہ اس کشیدہ صورتحال میں اگر تھوڑی کمی آسکتی ہے یا کوئی مفاہمت ہوسکتی ہے تو اس میں اپنا رول ادا کرے۔

اسلام ٹائمز: پاک افغان تعلقات میں کوئی بہتری کے امکانات ہیں یا اسی طرح بداعتمادی برقرار رہیگی۔؟
افراسیاب خٹک:
افغانستان میں اس لحاظ سے تو بہتری ہے کہ بات چیت ہو رہی ہے، اگر دیکھا جائے تو جو سب سے بڑی طاقتیں ہیں، انکے درمیان مفاہمت ہے۔ چین، روس، امریکہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنے دوسرے جھگڑے افغانستان نہیں لائیں گے، جو اچھی بات ہے، البتہ یہ سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے، پہلے کی طرح جاری ہے، باقی افغانستان اور پاکستان کے درمیان اب بھی بداعتمادی کی فضا ہے، امید کرتے ہیں کہ افغانستان کے صدر آئیں گے اور بات چیت ہوگی، اچھے کی توقع ہے، لیکن کچھ اقدامات پاکستان کو بھی کرنا ہونگے، پاکستان ایک بڑا ملک ہے، اس کی ذمہ داری اسی لحاظ سے ہے۔

اسلام ٹائمز: مودی دوبارہ جیت گیا، کیا پاک انڈیا تعلقات میں بہتری کی کوئی گنجائش نظر آرہی ہے۔؟
افراسیاب خٹک:
دیکھیں بظاہر تو مشکل صورتحال ہے، مودی صاحب اینٹی پاکستان جذبات سے جیتے ہیں، یہ چیز بھارتی حالیہ انتخابات میں نمایاں دیکھی گئی ہے اور مودی کی کمپین کا حصہ رہی ہے۔ اگر انہوں نے اقتصادی ترقی کرنی ہے تو پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے ہونگے، جنوبی ایشیا اور سنٹرل ایشیا میں ریجنل تعاون ہو نہیں سکتا، جب ان دونوں ممالک کے تعلقات بحال نہ ہوں یا بہتر نہ ہو جائیں، اس تناظر میں پاکستان کو بھی بعض چیزیں بہتر کرنا ہوں گی اور ہمیں ماضی سے سیکھنا ہوگا، کچھ چیزیں ہمیں بھی بدلنی ہون گی، یعنی ریاست کی سطح پر تعلقات بنانے ہونگے، غیر ریاستی کیمپ کو پاکستان سے آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے، اسی طرح ہندوستان کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

اسلام ٹائمز: آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ جہادی تنظمیں ختم ہو جانی چاہیئں اور کشمیری اپنی لڑائی خود لڑیں، ہمارا فقط اخلاقی معاونت کرنیکا رول ہے۔؟
افراسیاب خٹک:
جی بالکل، میں کہتا ہوں کہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت یہ ہے کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے، وہ جو فیصلہ کریں گے، ہمیں اس کا احترام کرنا ہے، بلآخر حتمی فیصلہ کشمیریوں کو کرنا ہے اور ہماری پالیسی کا محور و مرکز یہی ہونا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: فلسطین کی آزادی کے حوالے سے کیا دیکھ رہے ہیں، عربوں کا حال بھی آپکے سامنے ہے۔؟
افراسیاب خٹک:
میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ فلسطینی جائز مطالبہ کر رہے ہیں، وہ کسی اور کے ملک پر دعویٰ نہیں کر رہے، وہ جاریت تو نہیں کر رہے، اپنا وطن مانگ رہے ہیں، جو ان کا حق ہے، مجھے یقین ہے کہ ایک دن وہ ضرور جیتیں گے اور اپنی تحریک میں کامیاب ہوں گے، نسل کشی اور قتل عام سے تاریخیں تبدیل نہیں ہوتیں، مادی قوت سے لوگ خدا نہیں بن جاتے، یہ سراسر غلظ فہمی ہے، ایک آدھ دفعہ لٹن امریکا میں نسل کشی ہوگئی تھی، اب یہ فارمولہ ہر جگہ اپلائی نہیں ہوسکتا، عوام مزاحمت کریں گے، عرب عوام بھی اٹھ کھڑے ہوں گے۔

اسلام ٹائمز: بطور سیاسی ورکر یہ بتائیں کہ حکومت پانچ سال پورے کرتے ہوئے نظر آرہی ہے۔؟
افراسیاب خٹک:
مجھے تو یہ حکومت پانچ سال پورے کرتے نظر نہیں آرہی، جیسے اس جماعت کو اقتدار میں لایا گیا اور جیسے یہ اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے یہ اتنا جلدی غیر مقبول ہوئی ہے، اتنی جلدی کوئی اور جماعت پہلے نہیں ہوئی۔

اسلام ٹائمز: کیا اپوزیشن کا اتحاد کچھ کر پائیگا۔؟
افراسیاب خٹک:
دیکھیں جی، اپوزیشن نہیں اٹھے گی تو عوام سے جدا ہو جائے گی، اس کا کوئی تعلق نہیں رہے گا، پھر عوام خود ہی اٹھیں گے۔
خبر کا کوڈ : 796197
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب