0
Monday 27 May 2019 04:02
امریکہ اور اتحادی ایران کو نقصان نہیں پہنچا سکتے

غیر جانبدار رہنے کی بجائے پاکستان کو اسلامی ملک ایران کا ساتھ دینا چاہیئے، ناصر شیرازی

نیشنل ایکشن پلان کی روح کے مطابق اس پر عمل نہیں ہوا
غیر جانبدار رہنے کی بجائے پاکستان کو اسلامی ملک ایران کا ساتھ دینا چاہیئے، ناصر شیرازی
مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی نے سرگودہا سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، بہاوالدین زکریا یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے تاریخ میں ماسٹر مکمل کیا۔ زمانہ طالب علمی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر رہے، اسی دوران متحدہ طلبہ محاذ کے سربراہ بھی بنے۔ اسلامی دنیا، بین الاقوامی تعلقات اور ملکی سیاسی صورتحال سمیت اہم ایشوز پر اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی باتوں کے باوجود حکومت نے ڈیل کی ہے، اسکے کیا ثرات ہونگے اور کیا پاکستان کے پاس اسکا نعم البدل نہیں ہے۔؟
سید ناصر عباس شیرازی:
سب سے پہلے یہ ذہن میں رہنا چاہیئے کہ اس سے پہلے کل اکیس پروگرام پاکستان آئی ایم ایف کے لے چکا ہے، جن میں سے گیارہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی نے لیے، باقی دس پروگراموں میں ایک پی ٹی آئی کا پروگرام شامل ہے، مسلم لیگ نون اور مشرف حکومت کے پروگرام شامل ہیں۔ جب ان پروگراموں کا غور سے مطالعہ کریں تو ان پرگرواموں کے اسٹرکچرز اور شرائط ایک جیسے ہی ہیں۔ جن کے نتیجے میں پاکستان کی اکانومی میں کوئی اسٹریٹیجک فرق نہیں آیا، سارا دباؤ عوام پر ڈالتے ہیں، ملک میں بہتری نہیں آتی۔ کوئی ایسا پلان جو پچاس یا سو سال پہ مشتمل ہو کہ اس کے بعد ملک خود کفیل ہو جائے، یہ اسکا حصۃ نہیں ہوتا۔ اگر ہم خود کفیل ہو جائیں گے تو پھر یہ ادارے بزنس کیسے کرینگے۔ انکا مقصد قرض دیکر ملک کو کنٹرول کرنا اور پھر اس قرض کی واپسی کے بہانے ملک میں اپنا اثر و نفوذ بنانا ہوتا ہے۔ یہ ہوتا تو اقتصادی پلان ہے لیکن اسکا ایجنڈا سیاسی بھی ہوتا ہے۔ یہ ممالک کا فیصلہ سازی کا عمل اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں، جیسے پاکستان مجبور ہے کہ ان ڈیلز کے نتیجے میں مختلف اشیاء کی قیمتیں بڑھائے گا، ڈالر کی قیمت کیا ہوگی، یہ بھی یہی ادارے پھر طے کرتے ہیں۔

اس امداد سے صرف فوری قرض ادا ہوتا ہے، لیکن لمبے عرصے کیلئے ملک پھنس جاتا ہے، ریلیف کا کہا جاتا ہے لیکن خود آئی ایم ایف کی قسطیں واپس کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس پروگرام میں اقتصادی آزادی، خود مختاری اور مضبوطی کا کوئی عنصر شامل نہیں ہوتا۔ اسی لیے کسی بھی پروگرام کے ذریعے پاکستان میں کوئی مثبت اثر نظر نہیں آیا ہے۔ موجودہ حکومت میں اور باقی حکومتوں میں فرق یہ ہے کہ دوسری حکومتوں نے کبھی آئی ایم ایف کیخلاف بات نہیں کی، لیکن موجودہ حکمرانوں پر اعتراض اس لیے زیادہ ہے کہ یہ آئی ایم ایف کیخلاف بات کرتے تھے۔ پاکستان
کی آزادی اور خود مختاری پر ایک سوالیہ نشان قرار دیتے تھے۔ لیکن یہ کہتے ہیں کہ ہمیں جانا پڑا، البتہ یہ سوال الگ ہے کہ آئی ایم ایف اور خلیجی ممالک سے اربوں ڈالر لینے کے باوجود روپے کی قدر میں کمی بھی آئی اور زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم ہوئے ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ سب کچھ مصنوعی ہے۔

اسلام ٹائمز: اسکا حل کیا ہے، پاکستان اس سے کیسے نکل سکتا ہے۔؟
سید ناصر عباس شیرازی:
اس کے لیے اسٹریٹیجک پلاننگ درکار ہے۔ پاکستان اپنی جیو پولیٹیکل لوکیشن، بہترین افرادی قوت، نوجوانوں کی آبادی، ہمارے اپنے زمینی ذخائر، زرخیزی، ایکو سسٹم، زراعت، یہ ایسی چیزیں ہیں، جو پاکستان کو دنیا میں ممتاز مقام دیتی ہیں، جو ترقی کے درکار ذرائع شمار ہوتے ہیں۔ خیلج کے ساتھ واقع سمندری راستے جو پوری دنیا بالخصوص اقتصادی طاقتوں کی ضرورت ہیں، تیل پیدا کرنے والے اور تیل استعمال کرنے والے ممالک کے درمیان رابطے کی سہولت فراہم کرسکتا ہے پاکستان، چین جیسی دنیا کی بڑی اکانومی کو باقی دنیا سے ملانے والا سی پیک جیسا منصوبہ، یہ اقتصاد اور اقتصادی ترقی کیلئے موزوں اور مناسب جغرافیہ سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ سنٹرل ایشیاء کو دوسری دنیا کیساتھ بھی پاکستان جوڑ سکتا ہے، اسکا ایک اہم اقتصادی پہلو ہے۔ اس پوزیشن اور صلاحیت کو کام میں لانے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح کوئلے کے ذخائر دنیا میں تیل کے بڑے بڑے ذخائر کے برابر ہیں۔ یہ بھی کاربن ہے اور وہ بھی کاربن ہے، اس سے بھی توانائی پیدا ہوتی ہے، اس سے بھی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ کمی صرف یہ ہے طویل المعیاد منصوبہ بندی کی ہے، صنعت اور زراعت سمیت ہر چیز کے ذریعے پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے۔ ایک آزاد خارجہ پالیسی اپنائی جائے تو فوری ضرورت کے مسائل بھی حل ہوسکتے ہیں، جیسے توانائی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے ایران سے پائپ لائن کے ذریعے پوری ہوسکتی ہے۔ سستی بھی ہے، اسکی وجہ بھی آئی ایم ایف، امریکہ اور عالمی دباو ہے، جس کے لیے آزاد خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے پولیٹیکل ول کی ضرورت ہے، اس طرح پاکستان کو کسی بھی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں، بس چین اور ریجن کے دوسرے ممالک کیساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، اس طرح پاکستان کا جب فیصلہ سازی کا عمل آزاد ہو تو ہم آئیڈل پوزیشن میں ہیں۔

اسلام ٹائمز: لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ہونیوالی کوششوں کے نتائج کے متعلق شیعہ قائدین کس حد تک مطمئن ہیں، کیا تمام لاپتہ افراد اپنے گھروں کو لوٹ آئینگے۔؟
سید ناصر عباس شیرازی:
اس حوالے سے ہمارا موقف یہ ہے کہ اگر ان افراد کو لاء انفورسمنٹ ایجنسیز نے لاپتہ
کیا ہے تو انکا تو نام اور کام ہی قانون پر عمل درآمد کروانا ہے، یہ انہوں نے اپنے نام اور اس کی روح کیخلاف اقدام کیا ہے، اسی طرح اگر کسی گروپ نے انہیں اٹھایا ہوا ہے تو یہ اتنا ہی غلط ہے، کیونکہ یہ بھی انہی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ انہیں بازیاب کروائیں۔ وہ جہاں بھی ہیں، انہیں واپس لیکر آئیں، کیونکہ وہ ریاست پاکستان کے شہری ہیں اور یہ ریاستی ادارے انہیں بازیاب کروانے کیلئے ہیں۔ دونوں صورتوں میں قانون نافذ کرنیوالے ادارے ذمہ دار ہیں، اگر ان کے پاس ہیں تو انہوں نے خود غیر قانونی کام کیا ہے، اگر ان کے پاس نہیں تو وہ قانون کے مطابق پابند ہیں کہ اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں کو بازیاب کروائیں۔ اس عمل کو روکنا قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ یہ بھارت یا کسی دشمن ملک کے کسی ادارے سے مطالبہ نہیں کرینگے کہ ہمارے لوگوں کو بازیاب کریں یا کروائیں۔ یہ ہمارا موقف ہے کہ کسی کیخلاف کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں اپنا موقف دینے کا موقع دیا جائے، اسکا اعلانیہ ٹرائیل ہو، یہ ہمارا مطالبہ کسی ایک فرقے کیلئے نہیں بلکہ پورے پاکستان سے تعلق رکھنے والوں کیلئے ہے۔

ہم یہ چاہتے ہیں کہ دنیا دیکھے کہ کس دہشت گرد کا مسلک کونسا ہے، مساجد، درباروں، بارگاہوں کو نشانہ بنانے والے کون ہیں۔؟ وہ کون ہیں، انکے پیچھے کونسے ممالک ہیں، تاکہ حقیقت سامنے آئے۔ ایک اچھی کوشش ہوئی ہے مکتب اہلیبیتؑ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف سے، اسے باقی جماعتوں نے بھی سپورٹ کیا اور آئین کی بالادستی کی جنگ قرار دیا، بنیادی انسانی حقوق اور آزادی اظہار کیلئے یہ کوشش تھی اور ہے، اچھی کوشش ہے، لیکن پہلی ہی دفعہ سارے نتائج حاصل نہیں ہو پاتے، ایک طویل کوشش کی ضرورت ہوگی، ذاتی طور پر اس کوشش کے نتائج کو مثبت ہی قرار دوں گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کوششوں کے جاری رہنے سے اللہ تعالیٰ وہ دن بھی جلد لائے گا کہ تمام لاپتہ افراد منظر عام پہ آئینگے اور اپنے اپنے گھروں کو جائیں گے۔ یہ ہر پاکستانی شہری، ہر جماعت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی بالادستی کی اس جنگ میں شریک ہو۔

اسلام ٹائمز: جسطرح کراچی میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے مشترکہ موقف رہا، کیا یہ مستقبل میں کسی اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے۔؟
سید ناصر عباس شیرازی:
یہ درست ہے کہ موقف تو ایک رہا ہے، البتہ آئی ایس او اور ایم ڈبلیو ایم نے عملی طور پر اس پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور اسے ملک گیر سطح پر پھیلانے میں کردار ادا کیا، دیگر جماعتوں نے علامتی طور پر ساتھ تو دیا لیکن عملی طور پر فیلڈ یعنی میدان عمل میں آکر جو دباو بڑھایا
جا سکتا تھا، اس میں کردار ادا نہیں کیا۔ مسئلہ یہیں پہ آتا ہے کہ اسی طرح کے دوسرے معاملات میں بھی اصولی موقف ایک ہی ہو، لیکن اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح مشترکہ موقف کیساتھ ساتھ مشترکہ طور پر عملی کردار ادا کیا جا سکتا ہے، اس حوالے سے آئی ایس او کے یوم تاسیس کے موقع پر سائیڈ لائن میٹنگ ہوئی ہے، دوسری ایم ڈبلیو ایم کے دفتر میں ہوئی، کوشش جاری ہے۔ موجودہ مسائل اور قومی مسائل پہ مشترکہ ملی اعلامیہ بھی آسکتا ہے، اس میں رکاوٹیں حائل ہیں، لیکن کوشش جاری ہے۔

اسلام ٹائمز: اسلامی جمہوری ایران کیخلاف امریکی اور صہیونی سازشوں کے حوالے پاکستان کا کردار کیا ہونا چاہیئے۔؟
سید ناصر عباس شیرازی:
اس حوالے سے پہلے بھی ذکر ہوا ہے کہ جو مشکل ہے وہ ریجنل اتحادی ہیں، میری مراد وہ خلیجی ممالک ہیں، جنکا چہرہ اسلامی ہے، آل سعود ایک لیڈنگ رول پلے کر رہا ہے، یو اے ای اور بحرین اس کی پیروی کر رہے ہیں، بنیادی مشکل ہے، یہ سامنے آتے ہیں، ایجنڈا پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہوتا ہے، تو ہمارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فرقہ وارانہ اور مسلمانوں کی جنگ ہے، بہت سارے اداروں کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ اسے فرقہ وارانہ رنگ ہی دیا جائے۔ لیکن اس کے باوجود آج کا استعمار بے نقاب ہوچکا ہے، اس کے ساتھ استعماری قوتوں کے اتحادیوں کا چہرہ بھی کھل کر سامنے آچکا ہے، آل سعود کو جس طرح خادم حرمین شریفین سمجھا جاتا تھا، اب نہیں سمجھا جاتا، نہ صرف امریکہ کے اتحادی کے طور پر سامنے آچکے ہیں بلکہ خود حرمین شریفین کی سرزمین پہ قمار بازی کے اڈے، سینما، نائٹ کلب، فحاشی کے مراکز قائم کرکے مقدس مقامات کی حرمت کو بھی پائمال کیا ہے انہوں نے۔

دنیا کو معلوم ہے کہ خاشقجی کا قتل ان حکمرانوں کے کہنے پر ہوا ہے، یمن کے مسلمانوں پر آگ اور خون کی بارش میں یہ گروہ ملوث ہے، القاعدہ اور پھر داعش کو پھیلانے میں یہ لوگ ملوث تھے۔ اسی طرح امریکہ کا بھی سفارتی چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے، اب وہ کھل کر افغانستان، سعودیہ سمیت مختلف ممالک میں اپنے ایجنڈے کے بارے میں کہتے ہیں، عراق کے تیل سے متعلق اپنے لالچ کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف جمہوری اسلامی ایران کئی گنا زیادہ مضبوط ہے، بلا شک و شبہ کہا جا سکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی قوت ہے، عسکری اور فوجی قوت بھی ہے، سیاسی طور پر بہت مضبوط ہیں، امریکہ اور اس کے صہیونی اور عرب اتحادی اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ایران کو نقصان پہنچا سکیں، بلکہ کوئی جنگ مسلط ہوتی ہے تو نقصان امریکہ اور خلیجی اتحادیوں کو ہوگا۔

لیکن پھر اگر خدشہ ہے تو پاکستان کیسے اس
گروپ کی حمایت کرسکتا ہے، جس کی پشت پر امریکہ ہو اور اس کے فرنٹ پر بھی امریکہ ہو۔ اسی طرح پاکستانی عوام ہمیشہ امریکہ کیخلاف رہے ہیں، جیسا کہ عراق پر حملے کے وقت پاکستان میں سعودیوں کی زیادہ عزت کی جاتی تھی، لیکن لوگوں نے صدام کی حمایت کی، حالانکہ صدام پاکستان میں پاپولر بھی نہیں تھا۔ آج بھی یہی کیفیت ہوگی کہ امریکہ اور اسرائیل کیخلاف ہی پاکستانی کھڑے ہونگے۔ اسلامی جمہوری ایران میں مقدس مقامات ہیں، جو شیعہ سنی دونوں کیلئے مقدس ہیں، اس لیے پاکستانی عوام ایران کیلئے کھڑے ہونگے۔ اسی پریشر کو اپنے طور پر Manage کرنے کیلئے ایک دفعہ پھر ایک اقتصادی پیکج دیا ہے۔ تاکہ پاکستانی حکمران عوامی دباؤ کی وجہ سے اسلامی جمہوری ایران کے حق میں کوئی پالیسی اختیار نہ کریں اور سعودیوں کیساتھ اپنا تعلق باقی رکھیں۔

لیکن پاکستان کا پڑوسی سعودی عرب نہیں ایران ہے، اس لیے ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ ایران میں عدم استحکام کے اثرات پورے خطے اور وطن عزیز پر مرتب ہونگے۔ سی پیک پہ اثرات مرتب ہونگے، آزاد بلوچستان کا نعرہ ایران میں اٹھے گا تو پاکستانی بلوچستان میں خود بخود اٹھے گا، اسی طرح اگر پاکستانی بلوچستان میں ایسی کوئی آواز مضبوط ہوگی تو اس کا اثر ایرانی بلوچستان پر پڑیگا۔ اس لیے دونوں ہمسایہ ممالک کا مفاد جڑا ہوا ہے، ایک کی کمزوری دوسرے کی کمزوری ہے، ان حقائق کی روشنی میں پاکستان کو اپنے مفاد کے مطابق فیصلہ کرنا پڑیگا۔ میرے خیال میں غیر جانبداری کوئی چیز نہیں، پاکستان کو اسلامی ملک ایران کا امریکہ اور اسرائیل اور انکے اتحادیوں کے مقابلے میں ساتھ دینا پڑیگا، ہمارا مطالبہ بھی یہی ہے کہ پاکستان ایک عقلمندانہ پالیسی اختیار کرے۔

اسلام ٹائمز: کیا اس دفعہ بھی یوم القدس ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام منایا جائیگا، تاکہ زیادہ سے زیادہ جماعتیں شامل ہوں، اس حوالے سے کیا کوشش کی جا رہی ہے۔؟
سید ناصر عباس شیرازی:
فی الحال اسلام آباد کی حد تک ملی یکجہتی کونسل پہ اتفاق ہوا ہے، ہماری یہ خواہش تو ہے کہ پورے پاکستان میں ایک نام سے یوم القدس منایا جائے۔ ایک ہی بڑا اور مرکزی پروگرام ہو، ہر شہر میں، تمام شیعہ اور سنی جماعتیں مل کر ریلیاں نکالیں، فلسطین کا مسئلہ شیعہ کا نہیں بلکہ پاکستان کا اور اسلامی مسئلہ قرار پائے۔ اس کے لیے وسعت دینا پڑیگی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس حوالے ملی یکجہتی کونسل ایک قدم آگے ہے، اسکا نام ملی یکجہتی کونسل ہے، اس میں مذہبی جماعتیں شامل ہیں، جو سیاسی ایجنڈے کے بغیر شامل ہیں، اس پلیٹ فارم سے یوم القدس کو منانے کیلئے مزید وسعت دینے
کی ضرروت ہے۔

اسلام ٹائمز: دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے ہیں لیکن داتا دربار سے لیکر بلوچستان تک یہ سلسلہ جاری بھی ہے، آپکے خیال میں جو نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، اس میں کس چیز کی کمی ہے، جس وجہ سے دہشتگردی مکمل طور پر رک نہیں رہی۔؟
سید ناصر عباس شیرازی:
نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل نہ ہونے کی کمی ہے۔ عمل نہیں ہوا۔ روح کیا ہے، اس پر عمل درآمد کروانے میں توازن کی پالیسی یا بیلنس کی پالیسی برقرار ہے، جو درست نہیں۔ یہ غلط ہے کہ قاتل گروہ کے دو لوگ پکڑنے ہیں تو مقتولین کے گروہ سے بھی دو لوگ پکڑنے ہیں۔ اسی طرح سیاسی انتقام کا بھی نشانہ بنایا گیا ہے نینشل ایکشن پلان کو بنیاد بنا کر۔ جیسا کہ نون لیگ کے دور میں پی ٹی آئی اور مجلس وحدت مسلمین کے کارکنوں کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایف آئی آر درج کی گئیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی مخالفین کو دہشت گردوں کی طرح برتاؤ کا سامنا رہا، جس سے اس کی روح کمزور ہوئی، جس کی وجہ سے یہ قومی اور غیر جانبدار نہیں رہا، دہشت گردی کو ختم کرنے کا ہدف بھی متاثر ہوا۔

اسی طرح گڈ اور بیڈ طالبان کا تاثر ابھی بھی باقی ہے۔ دنیا جب سوال کرتی ہے تو ہمارے پاس جواب نہیں ہوتا کہ پاکستان میں ایسے لوگوں کو کیوں پابند سلاسل کیا جاتا ہے، جو دہشت گردی کے مرتکب نہیں ہوئے، ملکی سلامتی کیخلاف کسی اقدام میں شریک نہیں ہیں، جیسے مولانا ظہیر الدین بابر، انجینئر ممتاز رضوی جیسے لوگ ہیں، جبکہ دوسری طرف احسان اللہ احسان اور اس قماش کے لوگ کبھی مسنگ پرسن نہیں بنتے، بلکہ مسکراتے چہروں کیساتھ انکی ویڈیوز منظر عام پر آتی ہیں۔ جب ملک میں کالعدم جماعتوں کو ریاستی سطح پر پروٹیکشن حاصل ہو، ان کے لیڈرز کو وزٹس کروائے جا رہے ہوں، فوجی اہلکار انہیں ایوارڈز دے رہے ہوں، تو یہ سوال اور زیادہ نیشنل ایکشن پلان جیسے منصوبوں کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔

جب بنیادی شق ہی یہی تھی کہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کی وجہ سے جن تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا، انہیں اور ان کے رہنماؤں کو نام بدل کر کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، یہ سوالات ظاہر کرتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کی روح کے مطابق اس پر عمل نہیں ہوا، اگر پاکستان میں دہشت گردوں اور ان کے معاشی اور سیاسی سہولت کاروں، میڈیا، ریاستی اداروں میں موجود ان کے حمایتیوں کے نیٹ ورک کو نہیں توڑا جاتا دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔ دہشت گردوں کو تقویت دینے والے axes یہی سیاسی اور معاشی ہوتے ہیں، اگر تمام پہلووں سے ان کو ختم نہ کیا جائے تو دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، اقدامات کامیاب نہیں ہوتے۔
خبر کا کوڈ : 796445
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے