0
Tuesday 28 May 2019 17:06

امام خمینی ٹرسٹ بلا تفریق مذھب و مسلک ہر مسلم و غیر مسلم کی خدمت میں مصروف عمل ہے، علامہ افتخار نقوی

امام خمینی ٹرسٹ بلا تفریق مذھب و مسلک ہر مسلم و غیر مسلم کی خدمت میں مصروف عمل ہے، علامہ افتخار نقوی
علامہ سید افتخار حسین نقوی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ علامہ صاحب کا تعلق پنجاب کے علاقے ماڑی انڈس سے ہے۔ قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی کے بااعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ قائد شہید کے ساتھ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور اسکے بعد تحریک جعفریہ پاکستان میں صوبائی صدر اور مرکزی جنرل سیکرٹری جیسے اہم مناصب پر کام کیا۔ ماڑی میں مردانہ اور زنانہ دو مدارس کے مہتمم ہیں اور امام خمینی ٹرسٹ کے نام سے ایک ویلفیئر ٹرسٹ بھی چلا رہے ہیں۔ اسکے علاوہ معروف نیوز چینل "سچ" آپ ہی کے زیر ادارت کام کر رہا ہے۔ سال بھر اپنے علاقے کے علاوہ پورے ملک میں سماجی اور معاشرتی خدمات میں مصروف رہتے ہیں۔ رمضان المبارک سے پہلے امام خمینی ٹرسٹ کے زیر اہتمام تحریک حسینی کے توسط سے 60 جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کے انعقاد کیلئے پاراچنار کے دورے پر آئے تھے۔ اسلام ٹائمز نے دفتر تحریک حسینی پاراچنار میں انکے ساتھ ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جسے نذر قارئیں کر رہے ہیں۔ادارہ
 
اسلام ٹائمز: گونا گوں مصروفیات کے باوجود سرزمین شہداء پاراچنار تشریف لانے پر آپکو خوش آمدید کہتے ہیں، اس سرزمین کے نادار بچوں اور بچیوں کی اجتماعی شادیوں کے انعقاد پر اہلیان علاقہ کیجانب سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
پاراچنار کے جوانوں کا پورے ملک پر ایک احسان ہے، جس نے ملک کے دیگر علاقوں کو درس حریت دیا۔ ہم آپکے نیوز ادارے کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں، اللہ آپکی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
 
اسلام ٹائمز: امام خمینیؒ ٹرسٹ کا مختصر تعارف نیز اسکے اہداف کا تذکرہ بھی فرمائیں۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
میاںوالی کے علاقہ ماڑی انڈس میں اگست 1982ء میں ایک دینی مدرسے کی بنیاد رکھی گئی۔ میرے آنے سے پہلے میانوالی کے رہنے والوں نے اس مدرسے کا نام مدرسہ امام خمینیؒ رکھا تھا۔ بندہ اس وقت اسلام آباد میں جامعہ اہلبیت میں تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہا تھا۔ مدرسے کے قیام کے کچھ ہی عرصہ بعد عوام کی جانب سے مجھے دعوت مل گئی۔ چنانچہ 27 سال کی عمر میں وہاں جاکر خدمات انجام دینے کیلئے میں وہاں گیا اور ذمہ داری سنبھال لی۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ مدرسے کے ساتھ مالی معاونت بھی شروع کی اور اسی مدرسے ہی میں 1986ء میں عوام کی خدمت کیلئے امام خمینیؒ کے نام سے ایک ویلفیئر ٹرسٹ کی بنیاد ڈالی، جس کے اہداف میں صحت، تعلیم کے علاوہ ہر طرح کی خدمت خلق شامل ہے۔ جس کے تحت دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم دلانے کیلئے سکولوں کا ایک جال پھیلایا گیا۔ لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کیلئے بھی باقاعدہ انتظام کیا گیا، چنانچہ اسی مدرسے کے احاطے میں لڑکیوں کی دینی تعلیم کیلئے 1993ء میں مدرسۃ البنات الامام الخمینیؒ کی بنیاد ڈالی۔ دو سال بعد 1995ء میں لڑکیوں کیلئے ایک الگ مکان میں مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کے نام سے باقاعدہ مدرسے کا آغاز کیا۔ الحمداللہ ان دونوں مدارس سے آج ہزاروں کی تعداد میں طلبہ و طلبات فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔
 
اسلام ٹائمز: اجتماعی شادیوں کے اس حالیہ پروگرام کیلئے پاراچنار کا انتخاب کرنے کے مقاصد و عوامل کیا ہیں۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
ایسے پروگرامات خدمت خلق کے شعبے اور زمرے میں آتے ہیں۔ خدمت خلق میں جہاں یتیموں کی سرپرستی ہے، وہاں غریب بچوں اور بچیوں کی شادیوں کا بندوبست بھی شامل ہے۔ غریبوں کیلئے شادی ایک بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ مدرسہ بننے کے بعد ٹرسٹ بنا لیا تو شادیوں کا پروگرام میاںوالی ہی سے شروع کیا گیا۔ جس میں پہلے مرحلے میں غریبوں کیلئے سامان دینا شامل تھا۔ اسکے بعد اجتماعی شادیوں کا پروگرام بنا لیا۔ اسکے بعد سے آج تک اس حوالے سے وہاں کافی کام ہوچکا ہے تو اس مرتبہ پاراچنار کے انتخاب کے کئی عوامل ہیں۔ ایک تو یہ کہ میانوالی سے باہر دیگر غریب اور پسماندہ علاقوں میں خدمت کرنا ہمارا مشن ہے۔ تو ضمناً پاراچنار بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ باقی پاراچنار شہیدوں کی سرزمین ہے اور یہ علاقہ طالبان اور دہشتگردی سے بے حد متاثر ہوا ہے۔ جسطرح کہ آزاد کشمیر میں جب زلزلہ آیا تھا تو اس دور میں بھی ہم نے وہاں جاکر شادیوں کے پروگرامات تشکیل دیئے تھے۔ چنانچہ اس حوالے سے اولیت رکھتا ہے، جبکہ یہ بھی یاد رکھیں کہ ملک کے دیگر کئی علاقوں میں اجتماعی شادیوں کے پروگرامات میں اہلسنت حتیٰ کہ بغیر کسی تعصب کے عیسائی غریب جوڑوں کو بھی شامل کیا ہے۔
 
اسلام ٹائمز: شادیوں کیلئے سامان کا خرچہ کس طرح برداشت کرتے ہیں۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
دیکھیں، ہم دو طرح کے شادیاں کراتے ہیں، ایک اجتماعی شادیاں اور دوسرے انفرادی شادیاں۔ انفرادی شادیوں میں کچھ خرچہ گھر والوں کو کرنا پڑتا ہے، جبکہ کچھ سامان تقریباً 30 سے لیکر 50 ہزار روپے کا سامان ہم فراہم کرتے ہیں۔ اس حوالے سے لاہور میں ہماری تجار برادری تعاون فرماتے ہیں، جو سال میں نو مہینے اور ماہانہ 15 یا 20 افراد کا خرچہ دیتے ہیں۔ یہ پروگرام ہمارے میاںوالی کے قریبی علاقوں کیلئے ہوتا ہے۔ تاہم اجتماعی شادیوں کا جو پروگرام ہے، اس پر خرچہ زیادہ آتا ہے، کیونکہ ایک جوڑے کے سامان پر ایک لاکھ روپے کے قریب خرچہ آتا ہے۔ جس میں ایسے متوسط گھرانوں کو شامل کیا جاتا ہے، جن سے شادی کا خرچہ برداشت نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اس پروگرام میں سارا خرچہ ہماری طرف سے ہی ہوتا ہے۔ اس کیلئے تعاون ملکی اور غیر ملکی تجار کے گروپس کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ جیسے کراچی کے الزہراء اکیڈمی یا العمران گروپس وغیرہ ہیں۔ لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ تجار کے جو گروپس ہیں، وہ سارے پاکستانی ہیں، خواہ وہ ملک میں ہوں یا باہر ممالک میں سب کے سب پاکستانی ہیں۔
 
اسلام ٹائمز:  علامہ صاحب کے پی اور بلوچستان کی نسبت پنجاب میں لوگوں میں مذہبی رجحان بہت کم ہے، اس حوالے سے آپ اور دیگر علماء کیا حکمت عملی رکھتے ہیں۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد دہشت گردی اور نفرت کی فضا پاکستان بھر میں پھیل گئی۔ جو دہشت گردی پاکستان میں شروع ہوئی، اس میں کسی حد تک دینی مدارس ملوث تھے، یعنی خودکش حملوں یا دہشت گردی کے دیگر قسم کے واقعات میں ملوث مجرمین کا کسی بھی طریقے سے کسی دینی مدرسے سے تعلق پایا جاتا تھا۔ اس وجہ سے پاکستان میں دینی مدارس کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا شروع ہوا، جو کہ اب تک جاری ہے۔ حالانکہ اس میں ایک ہی فرقہ کے دینی مدارس کے لوگ شامل تھے، لیکن پروپیگنڈے کی زد میں سارے دینی مدارس آگئے۔ خیال رہے کہ دینی مدارس سے یہ کام ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کروایا گیا۔ اسی دور میں بیرون ملک اسلام دشمن عناصر نے پاکستان میں یہ تاثر دیا کہ عوام کو مدارس سے دور رکھا جائے۔ چنانچہ اس سازش کا شکار ہوکر عوام مدارس سے دور رہ گئے، جبکہ اہل تشیع کے عوام کو تو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ چنانچہ علماء اور مدارس سے دور رہنے کی وجہ سے عوام میں دینی رجحان مکمل طور پر ختم یا کم ہوگیا۔ نتیجتاً اس کا اثر ہم پر بھی پڑگیا۔

تاہم اس پروپیگنڈے سے بچنے اور دینی مدارس کی طرف لوگوں کا رجحانات بڑھانے کے حوالے سے ہم نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ گذشتہ بار وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں بھی میں نے مدارس کی افادیت کے حوالے سے بات کی کہ ہمارے مسلک کے مدارس میں صرف تعلیمی اور خدمت خلق کا کام ہوتا ہے اور میں نے بتایا کہ ہمارے مدارس میں کوئی ایسا کام نہیں ہوتا، جو ملک کے قوانین کے خلاف ہو یا انتشار پھیلانے کا سبب ہو۔ چونکہ دین وحدت اور اتحاد و امن کا سبق سکھاتا ہے، ہمارے دینی مدارس میں وحدت کا سبق ہی سکھایا جاتا ہے۔ چنانچہ دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈے کی وجہ سے لوگوں میں دینی رجحانات کم ہوگئے، تاہم الحمد اللہ آج ہر ایک پر یہ بات آشکار ہوچکی ہے کہ یہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ اب اس پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں اور سارے علماء اس حوالے سے اکٹھے ہوئے ہیں اور حکومت سے یہ کہہ رہے ہیں کہ جو مدرسہ یا جو مولوی فسادی ہے، اسی کو سزا دی جائے، باقی مدارس کو بدنام کرنے سے گریز کیا جائے۔
 
اسلام ٹائمز: شیعہ سنی اتحاد کے حوالے سے آپکے پیش نظرحال یا مستقبل میں کوئی پروگرام ہے۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
مدرسہ امام خمینیؒ میانوالی وحدت کی ایک مثال ہے۔ شروع ہی سے جبکہ شیعہ سنی آپس میں ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے تھے، تو اس دور میں بھی ہم نے میانوالی کو اس نفرت سے بچا کے رکھا۔ وحدت کے حوالے سے امام خمینیؒ ٹرسٹ کی جانب سے ہزاروں سیمینارز اور پروگرامات منعقد کیے جاچکے ہیں۔ ہم نے شادیوں کے پروگرامات میں اہلسنت کے علاوہ عیسائیوں کو بھی شامل کیا ہے۔ چنانچہ اجتماعی شادیوں کے یہ پروگرامات ہی اتحاد و وحدت کی واضح مثالیں ہیں۔
 
اسلام ٹائمز: ایران کے حوالے وزیر خارجہ محمود قریشی کے بیان کے حوالے سے اپنا موقف پیش کریں۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
اسلامی انقلاب کے بعد شاہی نظام کے خاتمے کے ساتھ ہی ایران نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کر دیئے۔ اسرائیل کو غاصب اور ظالم قرار دیا اور فلسطین کے ساتھ ہر طرح سے تعاون شروع کیا۔ فلسطین کے عوام کیلئے باقاعدہ ایک فنڈ کا اجرا بھی کیا گیا۔ ایران نے عالمی سطح پر اسلامی اتحاد کیلئے کام شروع کیا، چنانچہ ایران کا اثر و رسوخ بڑھنے کے ساتھ ساتھ  اسکا دشمن بھی متحرک ہوگیا۔ اس انقلاب سے کئی ممالک کے عوام متاثر ہوئے ان میں پاکستانی عوام خاص کر اہلسنت بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے امام خمینی اور ان کے لائے ہوئے اسلامی انقلاب کو دل و جاں سے قبول کرلیا۔ دیکھیں، پاکستان سمجھتا ہے کہ ہمارا واحد ہمدرد ملک ایران ہے۔

اسی طرح ایران بھی پاکستان کو اپنا ہمدرد ملک سمجھتا ہے۔ لیکن بیرونی دشمن قوتین ایسے حربے استعمال کرتے ہیں کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات بہتر نہ ہوں۔ صرف پاکستان اور ایران کو بھی نہیں، بلکہ جتنے ہمسایہ ممالک ہیں، جیسے افغانستان کے ساتھ تعلقات کی خرابی بھی اسی منصوبے کی کڑی ہے۔ بین الاقوامی دشمن پہلے سے ہی انکے تعلقات کو توڑنے کیلئے خربے استعمال کر رہے ہیں، جیسے ایران کے مخالف ریگی کو پاکستان میں بٹھایا گیا تھا، جسے بعد میں ایران نے گرفتار کرکے پھانسی لگا دیا۔ اسکے علاوہ پاکستان دشمن عناصر کو غیر محسوس انداز میں ایران میں بٹھایا جاتا ہے، اسی طرح ایرانی پاسداران کی اغوا کاری اور ان پر خودکش حملہ بھی باہمی تعلقات کو توڑنے کیلئے بیرونی منصوبہ تھا، جبکہ یہ جو آخری واقعہ ہوا ہے۔

اس پر وزیر خارجہ نے جو بیان دیا ہے۔ اس پر تبصرے موجود ہیں، اسمبلی میں اختر مینگل نے بھی وزیر خارجہ کے اس بیان کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے کہ وزیراعظم کے دورہ ایران سے پہلے وزیر خارجہ کا اس قسم کا بیان قابل تشویش ہے اور اس کو اتنا پتہ بھی نہیں کہ وقوعہ سے ایرانی سرحد تک تقریبا 600 کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور پھر درمیان میں 50 کے لگ بھگ چیک پوسٹ ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایران سے آکر 50 چیک پوسٹوں کو کراس کرکے عملیات کریں اور اس کے بعد اسی راستے سے صحیح سلامت واپس بھی چلے جائیں۔ اسمبلی میں یہ بھی کہا گیا کہ دشمن پاکستان کو ایران کے خلاف اور ایران کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، لیکن ہم دشمن کے اس منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور ہم امید بھی رکھتے ہیں کہ موجودہ حکومت دونوں ممالک کے تعلقات کو عروج تک پہنچائے گی اور دشمن کے منصوبے کو خاک میں ملائے گی۔
 
اسلام ٹائمز: سعودی عرب میں 37 افراد کی پھانسی کا جو سانحہ ہوا، اسے آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
سعودی عرب میں شاہی نظام ہے، شاہی نظام کے سامنے جو بھی آتا ہے، اسے بڑی بے دردی سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں دیگر مسلمانوں کی طرح شیعہ بھی رہتے ہیں، جن پر سعودی حکومت کی جانب سے مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ جیسے اب 37 لوگوں بشمول علماء کو بھانسی دے دی گئی۔ سعودی حکومت اپنے ہر سیاسی مخالف کو مار دیتی ہے، جس میں صرف شیعہ ہی نہیں اہل حدیث اور اہلسنت مسالک کے لوگ بھی شامل ہیں۔ یعنی جو ان کے خلاف ہیں، ان کو اسی طرح بے دردی سے مار دیتے ہیں، اس وقت اہلسنت کے درجنوں علماء سمیت سینکڑوں لوگ جیلوں میں بند ہیں۔ جو بھی ان کی حکومت کے خلاف بولتا ہے، انکے لئے گولی ہی ہے۔ وہاں عدالت میں کیس کا کوئی موقع بھی نہیں دیا جاتا۔ اس ملک میں ایران یا عالمی سطح پر دیگر مظلوموں کی حمایت میں جو بھی آواز اٹھائے، اس کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا ہے۔ دنیا میں اس قسم کے اقدام کو کوئی باشعور اچھا نہیں کہہ سکتا۔ چنانچہ ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
 
اسلام ٹائمز: عمران خان کا تعلق آپ ہی کے علاقے اور حلقے سے ہے، انکے ساتھ آپکی ملاقات بھی ہوتی ہے۔ عمران خان کی حکومت آنے سے پہلے انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ حکومت آنے کے بعد وہ ایران و سعودی عرب کے تعلقات کو بہتر بنانیکی کوشش کرینگے تو آپ علماء انہیں اپنے اس دعوے پر عمل کرانے پر قائل نہیں کرسکتے۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جس کے تعلقات دونوں ممالک سعودی عرب اور ایران کے ساتھ اچھے ہیں۔ ایران کے ساتھ اس کی ایک طویل سرحد ہے اور یہ کہ پاکستان دو اطراف سے دشمن ممالک کے نرغے میں ہے، جبکہ ایران اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات اچھے ہیں۔ چنانچہ سرحد پر واقع ہونے کے ناطے اسے ایران کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب پاکستانی سعودی عرب کو خادمین الحرمین سمجھتے ہیں، اس لحاظ سے کوئی بھی فرد کعبے کی بے حرمتی کا ارادہ رکھے تو اس کے خلاف اقدام کرنا پاکستان سمیت ہر مسلمان ملک پر فرض ہے۔ چنانچہ پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کا خواہشمند ہے۔ کیونکہ اگر ان دونوں کے تعلقات بہتر ہوں تو مسلمانوں کے اندر انتشار اور نفاق نہیں ہوگا۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو اپنا اسلحہ بیچتا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ مسلمان آپس میں لڑیں، تاکہ انکا اسلحہ بکے، جیسا کہ سعودی عرب اور یمن کی جنگ ہے تو پاکستان چاہتا ہے کہ مسلمانوں کی آپس میں جنگ نہ ہو۔ ایران تو پہلے بھی سعودی عرب کو دوستی کی پیشکش کرچکا ہے اور سعودی عرب سے یہ کہا ہے کہ ایران سے نہیں ڈرنا چاہیئے، بلکہ تم جس سے اسلحہ خرید رہے ہو، یعنی امریکہ اسی سے ڈرنا چاہیئے اور وہی تمہارے لئے خطرہ ہے۔ لیکن امریکہ بڑا شیطان ہے۔ انہوں نے عرب دنیا میں یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنالیے، تو آپ کا اثر ختم ہوگا اور ایران آپ سے تحت و تاج لے گا۔ پاکستان کی ہر حکومت چاہتی ہے کہ انکے تعلقات بہتر ہوں، تاہم پاکستان نے اب تک کوئی اقدام تو نہیں کیا ہے، تاہم وہ یہ کرسکتا ہے کہ کئی ممالک جیسے ترکی وغیرہ کو ملاکر انکے تعلقات میں بہتری لاسکیں، یہ ایک اچھا اقدام ہوگا۔
 
اسلام ٹائمز: اسلام ٹائمز کے توسط سے اہل کرم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔؟
علامہ سید افتخار نقوی:
اہل کرم سے ہماری درخواست ہے کہ پاراچنار ایک اہم خطہ ہے، ارد گرد دشمن موجود ہے، اتحاد و یکجہتی بہت اہم ہے۔ آپس میں ولایت کا جو نقطہ اشتراک ہے، اسی کی بنیاد پر اتحاد رکھیں اور آپس میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر جو معمولی اختلافات ہیں، ان کو دور کریں، کیونکہ اگر یہاں امن اور اتحاد ہو تو پورے ملک میں امن ہوگا۔ پاراچنار کے عوام کا اتحاد پوری ملک کیلئے ایک مثال بن سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 796643
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب