0
Monday 27 May 2019 21:26
بعض مسلم ممالک کی اسرائیل کیساتھ قربتیں امت مسلمہ سے غداری کے مترادف ہے

وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان یوم القدس کو سرکاری طور پر منانے کا اعلان کرے، علامہ وحید کاظمی

پاکستان اسوقت واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے، جو امریکہ اور اسرائیل دونوں کو قابل قبول نہیں
وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان یوم القدس کو سرکاری طور پر منانے کا اعلان کرے، علامہ وحید کاظمی
علامہ سید وحید عباس کاظمی کا تعلق ہزارہ ڈویژن کے علاقہ ضلع ہری پور سے ہے، وہ مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے سیکرٹری تنظیم سازی اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے چکے ہیں، جبکہ کچھ عرصہ انکے پاس ایم ڈبلیو ایم خیبر پختونخوا کے عبوری سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری بھی رہی۔ ایک ماہ قبل وہ باقاعدہ طور پر مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ وہ ایک فعال اور متحرک تنظیمی رہنماء کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں، خوش اخلاق اور نرم طبعیت کے مالک انسان ہیں، اسلام ٹائمز نے علامہ سید وحید عباس کاظمی کیساتھ عالمی یوم القدس کی آمد کے حوالے سے ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)
 
اسلام ٹائمز: سب سے پہلے تو اسلام ٹائمز کیطرف سے آپکو نئی جماعتی ذمہ داری ملنے پر مبارکباد۔ سوال آپ سے یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ مسلم ممالک آج تک اپنے قبلہ اول کو آزاد نہیں کراسکے۔؟
علامہ وحید کاظمی: ﷽۔ آپ کا بہت شکریہ۔ دیکھیں بات دراصل یہ ہے کہ سوائے ایران اور گنتی کے دیگر مسلم ممالک کے علاوہ امت مسلمہ کے اس اہم ترین مسئلہ پر کسی مسلم ملک نے توجہ تک نہیں دی، حالانکہ مسئلہ بیت المقدس مسلمانوں کی غیرت کا مسئلہ ہے۔ امام خمینی رہ نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی کیلئے سب سے پہلے مضبوط آواز بلند کی اور عالمی یوم القدس کی بنیاد ڈال کر اس مسئلہ کو زندہ کیا۔ آج دنیا بھر کے درجنوں ممالک میں جمعۃ الوداع کو یوم القدس منا کر اس مسئلہ اور صہیونی مظالم کو اجاگر کرنے کیلئے آواز بلند کی جاتی ہے۔
 
اسلام ٹائمز: سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے اسلامی افواج کے اتحاد کیجانب سے بیت المقدس سمیت امت مسلمہ کے دیگر مسائل پر آج تک کوئی آواز تک بلند نہیں ہوئی، اس حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
علامہ وحید کاظمی: یہ اتحاد تو بظاہر مسلم ممالک کو دہشتگردی سمیت دیگر مسائل سے نبرد آزما ہونے کیلئے بنایا گیا، لیکن اس کی ترجیحات تو کچھ اور تھیں، اس اتحاد کا اصل مقصد خطہ میں ایران اور اس کے اتحادی ممالک کے اثر و رسوخ کو کم کرنا اور امریکی و اسرائیلی مفادات کا تحفظ تھا۔ آج تک اس فوجی اتحاد نے کشمیر اور فلسطین کے مسئلہ پر اقدام تو دور کی بات، زبان تک نہیں کھولی۔ اس اتحاد نے آل سعود کے خاندان کے مفادات کے تحفظ کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ اس اتحاد نے تو یمن میں نہتے مسلمانوں پر بم گرائے، مساجد اور سکول تباہ کئے۔ ہزاروں لوگوں کو شہید کیا۔ اس اتحاد سے بیت المقدس کی آزادی کی نہیں بلکہ اسرائیلی مفادات کے تحفظ کی توقع کی جاسکتی ہے۔
 
اسلام ٹائمز: آیت اللہ خامنہ ای نے چند سال قبل کہا تھا کہ اسرائیل اگلے 25 سال نہیں دیکھ پائے گا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کی نابودی قریب ہے۔؟
علامہ وحید کاظمی: رہبر معظم نے جب بھی جو بات کہی، وہ سچ ثابت ہوئی۔ اب تو حالات خود بتا رہے ہیں کہ اسرائیل جلد صفحہ ہستی سے مٹنے والا ہے، امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کی حالیہ دھمکیوں کے تناظر میں کہنا چاہوں گا کہ یہ جنگ اگر امریکہ نے شروع کی تو اس کا خاتمہ اسرائیل کی بربادی اور امریکہ کی تباہی پر ہوگا۔ ہمیں رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی اس پیشنگوئی پر مکمل یقین ہے کہ نائب امام عج کا کہا ان شاء اللہ جلد سچ ثابت ہوگا اور ہماری موجودہ نسلیں اپنی آنکھوں سے اسرائیل کی نابودی اور قبلہ اول کی آزادی دیکھیں گی۔
 
اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے موجودہ جارحانہ رویہ کے پیچھے صہیونی اور سعودی سپورٹ ہے۔؟
علامہ وحید کاظمی: اسرائیل کی تو یہ خواہش ہے کہ امریکہ ایران سے لڑے، اسی طرح سعودی حکمران بھی یہی چاہتے ہیں کہ ایران کیلئے مشکلات پیدا ہوں، اب یہ دونوں ممالک ایران کیساتھ براہ راست خود جنگ کرنے سے تو قاصر ہیں، ان کی شدید خواہش ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کی غلطی کرے، لیکن شائد ٹرمپ انتظامیہ یہ جان گئی ہے کہ ایران پر حملہ آور ہونا ان کے کیلئے کتنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
 
اسلام ٹائمز: پاکستان نے روز اول سے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، مگر کچھ عرصہ سے اس قسم کے بیانات اور تردیدیں سامنے آئیں، جن سے خطرے کی بو محسوس ہو رہی تھی۔؟
علامہ وحید کاظمی: جی بالکل، حضرت قائداعظم رہ نے خود کئی مرتبہ اسرائیل کو ناجائز ریاست کہا اور اسے ہرگز تسلیم نہ کرنے کی بات کی، صہیونی لابی کی کوشش ہے کہ پاکستان میں بھی اس قسم کی فضاء پیدا کی جائے اور میڈیا کو ایک موضوع دیا جائے کہ اسرائیل کو تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا۔ یہ افسوسناک ہے، پاکستانی قوم اس حوالے سے زیرو ٹالرینس پر کھڑی ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کو اس حوالے سے واضح اعلان کرنا چاہیئے کہ ہم ہرگز اپنی بنیادی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ بیت المقدس کی آزادی کیلئے حکومت پاکستان کو بھی بھرپور عملی کوششیں کرنی چاہئیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی یوم القدس سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کرے۔
 
اسلام ٹائمز: کئی مسلم ممالک کے تو اسرائیل کیساتھ براہ راست روابط ہیں، ایسے میں قبلہ اول کی آزادی ہوتی نظر آتی ہے۔؟
علامہ وحید کاظمی: جن مسلم ممالک کے اسرائیل کیساتھ روابط ہیں، دراصل انہوں نے امت مسلمہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور وہ غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس وقت بھی چند با غیرت مسلم حکمران موجود ہیں، جو اس حوالے سے راہ حق پر گامزن نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر ایران کی جانب امت مسلمہ کی نظریں ہیں کہ ایرانی قیادت اسرائیل کے مقابلہ میں امت مسلمہ کو لیڈ کرسکتی ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کا رول بہت اہم ہے، پاکستان اس وقت واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے، جو امریکہ اور اسرائیل دونوں کو قابل قبول نہیں۔
 
اسلام ٹائمز: آخر میں آمدہ یوم القدس کی مناسبت سے ہمارے پلیٹ فارم سے کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
علامہ وحید کاظمی: امت مسلمہ اور خاص طور پر پاکستان کے عوام سے یہی گزارش ہوگی کہ جمعۃ الوداع کو یوم القدس کے موقع پر ضرور گھروں سے نکلیں، یہ مسئلہ امت مسلمہ کا مسئلہ ہے، یہ ہماری مذہبی غیرت کا مسئلہ ہے، اپنے قبلہ اول کو آزاد کرانے کیلئے کوشش کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ مجلس وحدت مسلمین یوم القدس بھرپور انداز میں منائے گی اور ملک بھر میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔ پاکستان بھر میں عوام ریلیوں میں بھرپور شرکت کریں، تاکہ اسرائیلی اور امریکی ایوانوں میں لرزہ طاری ہو۔ حکومت پاکستان بھی عالمی یوم القدس کو سرکاری طور پر منانے کا اعلان کرے۔
خبر کا کوڈ : 796650
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے