0
Tuesday 28 May 2019 20:09
ایک حیققی مسلمان کبھی بھی قبلہ اول سے غافل نہیں رہ سکتا ہے

ہر ایک مسلمان کا دینی فریضہ ہے کہ مسجد الاقصٰی کی آزادی کیلئے کوششیں کریں، مولانا گلزار احمد شیدائی

یوم القدس مسلمانوں کے تقدیر کا دن ثابت ہوگا
ہر ایک مسلمان کا دینی فریضہ ہے کہ مسجد الاقصٰی کی آزادی کیلئے کوششیں کریں، مولانا گلزار احمد شیدائی
مولانا گلزار احمد شیدائی جموں و کشمیر کی ایک مشہور و معروف تنظیم انجمن نصرت الاسلام کے ضلعی صدر ہیں، یہ انجمن 1930ء کی دہائی میں معرض وجود آئی اور اس کا بنیادی مقصد امت مسلمہ کی بیداری دین کی آبیاری ہے، مولانا گلزار احمد شیدائی انجمن نصرت الاسلام کے ضلعی صدر ہونے کے علاوہ اس تنظیم کے شعبہ تبلیغ کے سربراہ بھی ہیں اور ریاست و بیرون ریاست مختلف تبلیغی پروگرام منعقد کرکے مسلمانوں کے اندر غلط افکار و نظریات کا توڑ اور سدباب کرنے میں اہم کردار نبھائے ہوئے ہیں، وہ پیر دستگیر صاحب سرائے بالا سرینگر میں امام جمعہ کے فرائض انجام دیتے ہیں اور اتحاد اسلامی کے حوالے سے وادی بھر میں اپنی تبلیغی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ مولانا گلزار شیدائی جموں و کشمیر کاروان اسلامی کے سینئر رکن بھی ہیں۔ اسلام ٹائمز نے مولانا گلزار شیدائی سے ایک نشست کے دوران خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: عالم اسلام میں مسئلہ فلسطین کی اہمیت و افادیت کیا ہے۔؟
مولانا گلزار احمد شیدائی:
دیکھیئے مسئلہ فلسطین صرف عرب کا یا فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں ہے، فلسطین سرزمین انبیاء ہے، یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے، انبیاء کا مدفن ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں سے پیغمبر اکرم (ص) کو معراج حاصل ہوئی، اس لئے مسلمانوں کے لئے جتنا حرم امن الٰہی خانہ کعبہ کی اہمیت ہے، مدینہ و رسول (ص) کی اہمیت حاصل ہے، اس طرح سے بیت المقدس اور سرزمین فلسطین کی اہمیت ہے جس سے کسی انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ مسئلہ فلسطین کو علاقائی مسئلہ قرار دینا یا عرب و عجم کا مسئلہ قرار دینا سراسر ناانصافی ہے۔

اسلام ٹائمز: ابھی فلسطین جو مسلمانوں کا ایک مشترکہ مسئلہ ہے اور قبلہ اول کی بازیابی کی اگر بات کریں تو اس پر اگر ہم متحد نہیں ہو رہے ہیں اور اپنی الگ الگ راہیں اختیار کی ہوئی ہیں، اس حوالے سے آپکی رائے جاننا چاہیں گے۔؟
مولانا گلزار احمد شیدائی:
 دیکھیئے، اس مسئلہ کی طرف ذاتی طور پر ہر کوئی آواز اٹھا رہا ہے کہ قبلہ اول کی بازیابی ہو، فلسطین میں جاری ظلم ختم ہو اور مسجد الاقصٰی میں پھر سے مسلمان نماز قائم کرسکیں۔ انفرادی طور پر ہر کوئی یہ آواز اٹھا رہا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں اس حساس مسئلہ کو پس پشت ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے اور اس میں بڑی رکاوٹ ہماری نااتفاقی و تفرقہ ہے، جو مسلمانوں کو اس پر جمع نہیں ہونے دے رہی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہر ایک مسلمان کا دینی فریضہ ہے کہ مسجد الاقصٰی کی آزادی کیلئے کوششیں کریں۔ عالمی طاقتوں کے ذریعے اسرائیل پر دباؤ ڈالا جاسکتا تھا کہ قبلہ اول مسلمانوں کے حوالے کردیا جائے، لیکن یہ کام کون کرے جب ہم باہمی جنگ و جدل میں گرفتار ہیں۔ آپ کے سوال کا جواب یہی ہے کہ الگ الگ راہیں ہمیں اپنے مقاصد سے کبھی ہمکنار نہیں کریں گی۔ اگر ہم واقعہ معنوں میں چاہتے ہیں کہ ہمارا قبلہ اول صہیونی طاقتوں سے آزاد ہوجائے تو اسکے لئے اولین کام متحد ہونا ہے۔

اسلام ٹائمز: اس قبلہ اول کی بازیابی کیسے ممکن ہے۔؟
مولانا گلزار احمد شیدائی:
بیت المقدس کی بازیابی کے لئے مسلمانوں کو اپنے تمام اختلافات کو بھلا کے متحد ہو کر سرزمین فلسطین کی آزادی کے لئے مالی، سیاسی، اخلاقی و جانی جس طرح کی بھی مدد ہوسکے، کرنے کی ضرورت ہے اور اس مسئلہ کو گھریلو سطح سے لے کر سیاسی، سماجی، مذہبی اور ہر اعتبار سے زندہ رکھنے کی ضرورت ہے، مسئلہ فلسطین اور مسئلہ بیت المقدس کی اہمیت کو لوگوں کے ذہنوں میں اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے، اسرائیل کا جو وہاں غاصبانہ قبضہ ہے، اس کے بارے میں لوگوں کو بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ یہودیوں کی سرزمین نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کی سرزمین ہے۔ یہ مسلمانوں کے قبلہ اول کا مسئلہ ہے، اس مسئلہ کو بہترین انداز سے لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے مالی، جانی، سیاسی اور ہر طرح سے مدد کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم فلسطین میں رہنے والوں کی مالی، سیاسی اور اخلاقی مدد کریں، تو ہی فلسطینی اپنی سرزمین کو آزاد کرسکتے ہیں، ہر جگہ ہمیں فلسطین اور بیت المقدس کی بات چھیڑتے رہنی چاہیئے، تاکہ لوگوں کو مسئلہ فلسطین کی حقیقت سے آگاہی ملے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ محسوس کر رہے ہیں کہ یوم القدس ایک پیش خیمہ ثابت ہوگا، ایک پہل ثابت ہوگی کہ بیت المقدس اور فلسطین کا مسئلہ حل ہوجائے۔؟
مولانا گلزار احمد شیدائی: دیکھیئے یوم القدس کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ ہمیں بڑے اہتمام سے اس دن کو منانا چاہیئے۔ یہ دن مسلمانوں کے تقدیر کا دن ثابت ہوگا۔ اسی دن کے نتیجے میں مسلمان ایک نہ ایک دن متحد ہونگے۔ ایک حیققی مسلمان کبھی بھی قبلہ اول سے غافل نہیں رہ سکتا ہے۔ یوم قدس کا نتیجہ ہے کہ حماس اور جہاد اسلامی تمام عرب ممالک کی غداریوں کے باوجود زندہ ہیں اور مضبوطی کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں، یہ اسی دن کا نتیجہ ہے کہ حزب اللہ جیسی الٰہی اور حق پرست تنظیم اسرائیل کے ساتھ دو دو ہاتھ کر رہی ہے اور جس طریقے سے مسئلہ فلسطین اجاگر ہوا ہے، یہ امام خمینی (رہ) کے اس اعلان کا نتیجہ ہے اور نہ صرف مجھے بلکہ عالم اسلام کو امید ہے کہ اگر بیت المقدس اور فلسطین آزاد ہوگا تو اسی یوم القدس کی بدولت آزاد ہوگا۔

اسلام ٹائمز: مقبوضہ کشمیر بھر میں یوم القدس کے حوالے سے کیا تیاریاں ہورہی ہیں۔؟
مولانا گلزار احمد شیدائی:
کشمیر میں یوم القدس منانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ مساجد، درگاہوں، امام بارگاہوں اور خانقاہوں میں اس حوالے سے پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں۔ آج سے ہی شہر و گام کی دیواریں بینرز اور پوسٹرز سے سجی نظر آرہی ہیں۔ انشاء اللہ ہم یک زبان ہوکر فلسطینیوں اور دیگر مستضعفین جہاں کی حمایت میں آمادہ نظر آرہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ شیعہ و سنی مسلمانوں کی مشترکہ قدس ریلیوں قابل ستائش ہیں۔ کشمیر عوام متحد ہوکر اسرائیلی تسلط کے خلاف تیار نظر آرہی ہے اور ہونا بھی یہی چاہیئے کہ جب تک تمام مسلمان متحد نہیں ہوتے تب تک ہم اپنے مشترکہ دشمن کو زیر نہیں کرسکتے۔ وحدت و اخوت سے ہی ہم فلسطین اور قبلہ اول کو آزاد کرا پائیں گے۔ انشار اور تفرقہ کسی مرض کی دوا نہیں ہے بلکہ خود مہلک بیماری ہے۔
خبر کا کوڈ : 796699
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے