0
Friday 31 May 2019 21:05
جان بولٹن جیسے احمق لوگ خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں

امریکہ نے عربوں کو فلسطین کے مسئلے پر نیوٹرل کر دیا ہے، واحد رکاوٹ ایران ہے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم

امریکہ نے عربوں کو فلسطین کے مسئلے پر نیوٹرل کر دیا ہے، واحد رکاوٹ ایران ہے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم
 لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم 18 جنوری 1946ء کو پیدا ہوئے، 1966ء میں فوج میں کمیشن حاصل کیا، 1994ء میں میجر جنرل کے مدارج طے کرتے ہوئے مارچ 1999ء میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے اور جنوری 2004ء میں فوج سے ریٹائر ہوگئے۔ فوج میں سروس کے دوران مختلف انسٹرکشنل اور کمانڈو اسٹاف کے عہدوں پر تعینات رہے، نیشنل ڈیفنس کالج میں دو سال تدریس کی اور آرٹلری بریگیڈ، انفنٹری بریگیڈ اور آرٹلری ڈویژن کے آفیسر کمانڈنگ بھی رہے۔ 1985-87ء میں سعودی عرب کی فوج میں یونٹ کمانڈر رہے۔ تین سال سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو اور تین ماہ نگران وزیراعظم معین قریشی کے ملٹری سیکرٹری کے فرائض ادا کئے۔ انہیں اعلٰی فوجی اعزاز ہلال امتیاز (ملٹری) پیش کیا گیا، بورڈ آف ڈائریکٹر آف پیپلز اسٹیل مل کے رکن اور پاکستان آرڈیننس فیکٹریز کے چیئرمین کے عہدے پر تعینات رہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کے چیئرمین کی حیثیت سے اسوقت کی حکومت نے مل کی نجکاری کا فیصلہ کیا، اسکے خلاف سپریم کورٹ گئے، جس پر عوام نے انہیں سراہا اور عدالت نے درست قرار دیا۔ وہ ایک کتاب Islam in Perspective کے مصنف بھی ہیں۔ وہ مسلم لیگ نون کیجانب سے سینیٹ کے رکن بھی ہیں۔ سینیٹر عبدالقیوم ملک سے ملکی اور عالمی امور پر تفصیلی انٹرویو کیا گیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: بلوچستان میں تین طرح کے دہشتگرد گروہ کام کر رہے ہیں، ایک لشکر جھنگوی، دوسرا جیش العدل اور تیسرا بی ایل اے، تینوں کے اہداف مختلف لیکن انکی محفوظ پناہ گاہیں بلوچستان میں ہی ہیں، ہماری فورسز اور ادارے آج تک ان پناہ گاہوں کو کیوں ڈھونڈنے میں ناکام ہیں، آئے روز واقعات ہونا معمول بن گیا ہے۔؟
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم: یہ بات درست ہے کہ بلوچستان میں فرنٹ پر یہی شاخیں ہیں، جو دہشتگردی کر رہی ہیں لیکن ان کے پیچھے وہی پاکستان مخالف قوتیں ہیں، جو پاکستان کی ترقی اور پیش رفت سے خائف ہیں، ان کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے، نظر کچھ اور آتا ہے، لیکن کر کوئی اور رہا ہوتا ہے، اصل قوتیں کچھ اور ہوتی ہیں۔ ابھی دیکھیں انڈیا کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر نے کھل کہہ دیا ہے کہ ہم بلوچستان اور کراچی میں کارروائیوں کروائیں گے اور انہیں ٹف ٹائم دیں گے، باقی کچھ ان گروپوں کی محدود سوچ ہے، لشکر جھنگوی والے فرقہ وارانہ کارروائیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں، بی ایل اے ’’را‘‘ کا مشن ہے، جس میں سی آئی اے بھی شامل ہے، سی آئی اے اس لیے ملوث ہے کہ کیونکہ بلوچستان جس کی سرحد صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ ایران کے ساتھ بھی جڑتی ہے، بلوچستان کو گولڈن لینڈ آف بریج بھی کہا جاتا ہے۔ دوسرا حکومتوں کی اس صوبے پر توجہ نہ ہونا بھی محرومیوں کا باعث بنتی ہے، حکومتوں کی نااہلیاں بھی سامنے ہیں، موجودہ وزیراعلیٰ سابقین میں سے بہتر ہیں، وہاں مال بنانا اور سمگلنگ کروانا عام ہے۔

اسلام ٹائمز: چینی قونصلیٹ کراچی پر بی ایل اے نے حملہ کیا، جسکا ماسٹر مائنڈ قندھار میں مارا گیا جبکہ کراچی میں بی ایل اے کا کوئی نیٹ ورک نہیں، یہ ممکن ہی نہیں کہ لشکر جھنگوی جیسے دہشتگرد گروہ سہولتکاری نہ کرتے ہوں، مقامی سطح پر سہولتکاری ہوئی، تب یہ واقعہ پیش آیا، سوال یہ ہے کہ انکے خلاف کیوں موثر کارروائی نہیں ہو پا رہی۔؟
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم:
دیکھیں ہمارا مغربی بارڈر 2610 کلومیٹر طویل ہے، اس کی تاریخ ہے کہ اس بارڈر سے مادر پدر آزادی ہے، کوئی ویزہ نہیں، کوئی چیک اینڈ نہیں، ہزاروں لوگ داخل ہوتے ہیں اور نکل جاتے ہیں، سمگلنگ ہوتی ہے، منشیات کی سمگلنگ ہوتی ہے، اب پاک فوج کی جانب سے فینسگ شروع کر دی گئی ہے، تاکہ اس سلسلے کو روکا جاسکے، یہ بڑا علاقہ ہے، جہاں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے، اگر انسانی آبادی ہو تو پھر سفید کپڑوں کے اندر مانیٹرنگ ہوتی رہتی ہے۔ لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں اس وقت تک امن نہیں آسکتا، جب تک افغانستان میں امن نہیں آتا یا پھر استحکام پیدا نہیں ہوتا۔ افغانستان میں صورتحال اس وقت تک بہتر نہیں ہوگی، جب تک وہاں سے بیرونی قوتیں نہیں نکلیں گی، اس وقت امریکہ کی پوری دنیا میں 800 ائیربیسز ہیں، جہاں سے وہ دنیا کو کنٹرول کر رہا ہے، پہلے کلونیالزم ہوا کرتا تھا، ایک وائسرائے ہوتا تھا۔

اب انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے، اب وہ سمجھتے ہیں کہ ایک کٹھ پتلی حکومت ہو اور اپنی بیسز ہوں، باقی معاملات اس حکومت کے ذریعے کنٹرول کرتے رہیں۔ اس وقت افغانستان میں امریکیوں کی آٹھ ائیربیسز ہیں، یہ شکست کھانے کے باوجود نکلنے کیلیے تیار تو ہیں، لیکن اپنی بیسز باقی رکھنا چاہتے ہیں۔ طالبان کے ساتھ اسی معاملے پر چیزیں اڑی ہوئی ہیں، طالبان کہتے ہیں کہ نہیں آپ یہاں سے جائیں اور ٹائم دیں کب جانا ہے۔؟ امریکہ اس وقت افغانستان سے ڈرگ کا کاروبار کر رہا ہے۔ صرف پاکستان سے 42 ٹن سمگلنگ روزانہ کی جاتی ہے، اسی لیے کہتا ہوں کہ افغانستان میں امن آئے گا تو پاکستان میں امن آئے گا۔ تبھی کوئی بہتری کی کوئی گنجائش پیدا ہوگی۔

اسلام ٹائمز: ابھی گوادر میں پی سی ہوٹل پر جو حملہ ہوا، وہ سمندر کے راستے سے ہوا، یقینی طور پر بی ایل اے کے دہشتگردوں نے کشتیاں استعمال کیں اور پی سی تک پہنچے، کیا یہ ثابت کرنے کیلئے کافی نہیں کہ سمندر میں انہیں کون سپورٹ کر رہا ہے۔؟
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم:
دیکھیں ان کو سپورٹ تو ہے، اس میں کوئی شک والی بات ہی نہیں۔ سمندر کا روٹ انسانی سمگلنگ اور منشیات سمگلنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سمندری راستے پر کوسٹ فورس ہے یا پھر ایک بریگیڈ ہے، جو سیکیورٹی کی ذمہ داری سبھالے ہوئے ہے، انہوں نے بڑا بولڈ اٹیک کیا ہے۔

اسلام ٹائمز: بلوچستان کے اکثر اضلاع میں پولیس کا سسٹم ہی نہیں، لیویز کے ذریعے معاملات کنٹرول کیے جا رہے ہیں، لیوز میں مقامی افراد بھرتی ہیں اور سربراہ مقامی رہنما ہوتے ہیں، جو سمگلنگ میں ملوث ہوتے ہیں، جب پولیس سسٹم ہی نہیں، سکیورٹی برانچ نہیں اور اس سے بڑھ کر خفیہ معاملات اکٹھی کرنے کا کوئی موثر نظام ہی نہیں تو صوبے میں کیسے معامات ٹھیک ہونگے۔؟
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم:
دیکھیں گورننس کا ایشو تو ہے، اس میں کوئی شک والی بات ہی نہیں، کرپشن، کمزور گورننس اور بیرونی مداخلت ہے، اس لیے معاملات گھمبیر ہیں۔ اس سے بڑھ کر مرکزی حکومت کی بےاعتنائیاں بھی ہیں، جو محرومیوں کو بڑھاوا دیتی ہیں، پرویز مشرف نے ایک مکا دکھا کر نواب اکبر بگٹی کو قتل کر دیا، ان چیزوں نے بغاوت کو جنم دیا، ہمیں اس وقت ایک دانشمند اور دیانتدار لیڈر شپ کی ضرورت ہے، جو ان سب چیزوں کو سنبھالے۔ لوگ برے نہیں ہیں، اصل مسئلہ حکمرانوں کا ہے۔

اسلام ٹائمز: بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا معاملہ بھی ہے، جسکے باعث علیحدگی پسند تحریکیں نوجوانوں میں جڑیں پکڑ رہی ہیں، اس مسئلے کو حل کیوں نہیں کیا جاتا۔؟
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم:
مسنگ پرسنز کے اندر بہت سارے گرے ایریاز ہیں، اس میں بھی تقسیم ہے، اس میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو سکیورٹی فورسز کو چاہیئے ہوتے ہیں، جو قومی سلامتی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں، کسی بھی ملک چلے جائیں، وہاں ملکی سلامتی کے خلاف جانے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ ان کی تعداد بڑی کم ہوتی ہے، یہ بیرونی ایجنسیوں کے لیے کام کرتے ہیں، باقی مسنگ پرسنز کی بڑی تعداد ان کی ہے، جو خود ساختہ جلاوطنی میں ہوتے ہیں، جو ادھر واردات کرتے ہیں اور بارڈر کراس کرکے نکل جاتے ہیں، کراچی میں ایم کیو ایم کے لوگ کارروائی کرتے تھے اور بعد میں ہندوستان، افریقا اور دبئی چلے جاتے تھے۔

اسلام ٹائمز: اگر کسی پر الزام ہے تو ان پر مقدمات بنائے جائیں، انہیں عدالتوں میں پیش کرکے سزائیں دلائی جائیں، انہیں مسنگ کرنا تو آئین اور قانون کی خلاف وزری ہے۔؟
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم:
لیکن ان کا کیا کیا جائے جو خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلیتے ہیں، باقی آپ کی بات ٹھیک ہے کہ ان کے خلاف مقدمات بناکر عدالتوں سے سزا دلوائی جائے۔

اسلام ٹائمز: کیا آج تک ناراض بلوچوں کو منانے کیلئے کوئی عملی کوشش ہوئی ہے؟، آج تک قوم کو نہیں پتہ کہ اسطرح کی کوئی کوشش ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ اگر آپکے علم میں ہے تو شئیر کریں، تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ کیوں مذاکرات کی ٹیبل پر نہیں آتے۔؟
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم:
اس حوالے سے تسلسل کے ساتھ کوششیں ہوئی ہیں، خود راحیل شریف نے اس پر کام کیا، موجودہ چیف نے بھی کام کیا، کیانی نے ناراض بلوچوں کو منانے کے لیے کام کیا، خود مشرف نے سڑکوں کے جال بچھانے پر اہم کام کیا، مگر اس سے ایک بڑا بلنڈر ہوگیا اور نواب اکبر کے قتل سے اپنے ہاتھ رنگ دیئے۔ باقی دیکھیں اگر آپ کی ناراضگی کسی ایک مسئلے پر ہے اور میں اس کو دور کردیتا ہوں تو وہ ناراضگی ختم ہو جانی چاہیئے، لیکن اگر ناراضگی کے پیچھے کوئی قوت ہے، جو مسئلہ حل ہو جانے کے باوجود بھی اس ناراضگی کو ختم ہونے نہیں دیتی تو پھر اس کا کیا کیا جاسکتا ہے۔؟ جو پیچھے قوتیں ہیں، وہ نہیں چاہتیں کہ یہ معاملات حل ہوں، میں اگر آپ کو زمزم کے پانے سے نہلا ہی کیوں نہ دوں، پھر بھی یہ معاملہ حل نہیں ہوگا، کیوں جب تک جو پیچھے بیٹھے ہیں ان کے مقاصد پورے نہیں ہوں گے، یہ کوششیں کارگر ثابت نہیں ہوں گی۔،

سیاسی اور عسکری سطح پر لگاتار کوششیں ہو رہی ہیں، کوئٹہ سے گوادر تک سڑکیں بن رہی ہیں، ترقیاتی کام ہو رہے ہیں، اسپتال بنائے جا رہے ہیں، آرمی میں بلوچوں کی ریکروٹمنٹ ہو رہی ہے، اس وقت تقریباً 25 ہزار بلوچ ہیں، جو فوج میں شامل ہیں۔ یہ آبادی کے لحاظ سے صحیح شرح ہے۔ باقی وہاں حکومت اور وزراء کو بھی کرپشن کے خاتمے پر کام کرنا ہوگا، اگر وہاں سیکرٹری کے گھر سے بھی کروڑوں روپے کی رقم برآمد ہوتی ہے تو پھر اندازہ کرلیں کہ اوپر لیول پر کیا عالم ہوتا ہوگا، جب تک یہ پیسے عام عوام پر نہیں لگائیں گے تو محرومیوں کیسے ختم ہوں گی۔

اسلام ٹائمز: کیا پی ٹی ایم واقعی ایک غیر ملکی ایجنڈا ہے۔؟
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم:
جی بالکل، یقیناً ایسا ہی ہے، آرمی اور ترجمان پاک فوج کی تو کسی سے کوئی ضد نہیں ہے نا، نہ ہی ان کی کوئی سیاسی جماعت ہے، وہ جب پوری تحقیق کرکے بتا رہے ہیں کہ ان کے پیچھے پیسہ ہے، وہ چک کرکے بتا رہے ہیں کہ قندھار میں کن کی ملاقاتیں ہور ہی ہیں، کیا روٹ استعمال کیا گیا، کس نے ملاقاتیں کروائیں، ہمارے پاس تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان پر یقین نہ کریں۔ یہ پکا پکا باہر کا ایجنڈا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ پشتین موومنٹ کے سارے لوگ ہی غداری کر رہے ہیں، بہت سارے معصوم لوگوں کو استعمال کیا جاتا ہے، جیسے تحریک طالبان میں ہوا تھا، آپ یہ دیکھیں کہ ان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی۔

ان کے مطالبے پر پارلیمنٹ میں ابھی تازہ سیٹیں بڑھائی گئیں، ان کو قومی دھارے میں لانے کے لیے سب سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، پھر کیوں یہ ریاست مخالف تحریک چلائیں؟، بدقسمتی سے ان کے ایم این اے فوج کی چوکی پر جاکر فائرنگ کرتے ہیں، اب یہ پولیس کی چوکی تو نہیں کہ وہ ہوا میں فائرنگ کریں گی، وہ تو آگے سے جواب دیں گے، کیونکہ وہی تو آخری دفاع کی لائن ہے، جسے آپ توڑنا چاہتے ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے۔؟ میں سمجھتا ہوں کہ طاقت کا استعمال کم سے کم ہونا چاہیئے، سمجھ لیں کہ اس وقت نشانے پر فوج ہے، دشمن یہی چاہتا ہے، وزیراعظم کوئی ہلیں جلیں، کوئی بیان دیں۔ وزیراعلیٰ کے پی کے اور گورنر کا کوئی بیان ہو، یہ سیاسی تحریک ہے، جس کے خلاف سیاسی بیانیہ ہونا چاہیئے، اگر وہ جلسے کرتے ہیں تو آپ بھی جلسے کریں۔

اسلام ٹائمز: یہ صدی کی ڈیل کیا ہے اور امریکا اب کیا چاہتا ہے، یہ پورا خطہ اب کس طرف جاتا دکھائی دیتا ہے۔؟
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم:
گلوبلی دو تین چیزیں ہو رہی ہیں، نمبر ایک معاشی صورتحال اب مغرب سے مشرق منتقل ہو رہی ہے، اب مشرق مرکز بنتا جا رہا ہے، یہ جو یوریشیا ہے، جس میں چین، روس، انڈیا اور دیگر معالک شریک ہیں اس کے اندر چین اور روس کا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے، چین ایک اقتصادی طور پر ایک بڑی طاقت بن کر سامنے آگیا ہے، اس نے جاپان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، ایسی صورتحال میں امریکہ کے کچھ مشن ہیں، امریکہ یک قطبی نظام جو اس وقت مکمل طور پر خطرے سے دوچار ہے، اسے کسی صورت متاثر ہونے نہیں دینا چاہتا، وہ اس اسٹیٹس کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا چاہتا ہے، امریکہ سمجھتا ہے کہ اگر یک قطبی طاقت کو برقرار رکھنا ہے تو پھر چین کی معاشی برتری کو ختم کرنا ہوگا یا اسے روکنا ہوگا، اگر وہ ٹاپ پر آگیا تو پھر ہر چیز ختم ہے، امریکی سمجھتے ہیں کہ چین کی معاشی برتری کو روکنے کے لیے ون بلیٹ ون روڈ کو متاثر کرنا ضروری ہے۔

امریکی سی پیک کے دشمن ہیں، اس کے ذریعے چین نے 73 ممالک کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے، ون ٹریلیین ڈالر کا یہ منصوبہ ہے، جسے امریکہ اپنی سکیورٹی کے لیے بڑا تھرٹ سمجھتا ہے۔ اس کو کاونٹر کرنے کے لیے امریکہ نے چین کے ساتھ ٹریڈ وار شروع کر دی ہے۔ امریکہ چوتھا مشن یہ ہے کہ اسٹریجی کے طور پر طاقت میں رہیں، یہ اپنی 800 بیسز کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے اگلا مشن یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو طاقتور بنایا جائے، اس کے لیے انہوں نے عربوں کو نیچے لگایا ہوا ہے اور ایران پر نظریں لگائے ہوئے ہیں، یعنی عرب اب ایران پر نظریں لگائے ہوئے ہیں۔ یہ گیم پلان چلا رہے ہیں، اب یہ فلسطینوں کی زمینیں ملانا چاہتے ہیں، اس کے لیے یہ سعودی عرب کو نیوٹرل کر رہے ہیں، جب سعودیہ نیوٹرل ہو جائے گا تو پھر یہ ڈیل آف سنچری کو آگے بڑھائیں گے۔ اس راہ میں واحد رکاوٹ ایران ہے، جو فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے، او آئی سی بھی تب بنی تھی، جب مسجد اقصیٰ کو جلایا گیا تھا، فوری طور پر مسلمان اکٹھے ہوئے اور تنظیم بنائی گئی۔

اسلام ٹائمز: ٹرمپ ایران کیساتھ جنگ کے معاملے پر بیک فائر کر گیا ہے، گذشتہ روز کی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہم ایران میں رجیم تبدیل نہیں کرنا چاہتے، اسکو کس نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔؟
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم:
دیکھیں، ٹرمپ کے جو نیشنل ایڈوائزر ہیں، وہ جان بولٹن جیسے لوگ جارح قسم کی سوچ رکھنے والے ہیں، یہ کہتے ہیں ایران کو تُن کر رکھ دو، یہ کر دو، وہ کر دو، کتنے بندے مریں گے، کیا نقصان ہوگا، خود امریکہ کو اس کی کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی، وہ اس سے بےنیاز ہیں۔ انہوں نے ماحول بنوا کر بحری بیڑہ بھجوا دیا، کہا کہ ایران ہمارے جہازوں پر حملہ کرنے والا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایران آپ پر کیوں حملہ کرے گا؟، ایران کیوں خواہ مخواہ سپر طاقت کو للکارے گا، حوثیوں نے سعودی پائپ لائن پر حملہ کیا، ہوسکتا ہے کہ خود امریکیوں نے یہ حملہ کرا دیا ہو، تاکہ ماحول بن جائے، اس اسٹیج پر ایران کیوں حملہ کرے گا۔؟ یہ صورتحال بنا کر یہ جہاز لے آئے، بمبار طیارے قطر کے اندر لے آئے، ان کا مقصد جنگ نہیں تھا بلکہ یہ رجیم تبدیل کرنا چاہتے ہیں، ایران کے اندر بھی معاشی صورتحال کوئی اتنی اچھی نہیں، یہ فالٹ لائنز کو کھڑا کرکے اپنا مہرہ لانا چاہتے تھے، جیسے شاہ ایران تھا، ٹرمپ کی پریس کانفرنس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے کہ ان کا نظریہ بھی تبدیل ہوگیا ہے، یہ باہر کی باتیں ہیں، اندر کیا پک رہا ہے، وہ الگ بات ہے۔ پاکستان کو بھی محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔

اسلام ٹائمز: جواد ظریف کے دورہ پاکستان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم:
جی بالکل، ایران پریشان تو ہے، جواد ظریف چین گئے، ہندوستان گئے، تین ممالک تھے، جو ایران سے تیل لے رہے تھے، ایران کی اقتصادیات تیل پر چل رہی ہے، دوسرا یہ تیل نہ خریدنے کی پابندی اقوام متحدہ کی نہیں بلکہ امریکہ کی ہے، چین نے کہا ہے کہ وہ اس پابندی کو نہیں مانتا۔ ترکی بھی امریکہ کی نہیں مانتا۔ البتہ ہندوستان امریکیوں کی بات مان لے گا، اب ایرانیوں کو بھی پتہ چلا ہوگا کہ انڈین کیسے لوگ ہیں۔ چاہ بہار ان کو دی ہے لیکن یہ لوگ کیسے ہیں، اب پتہ چلا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: ایران تو چاہ بہار کو گوادر سے منسلک کرنا چاہتا ہے، پاکستان کیلئے اچھا موقع ہے ایران کو قریب کرنیکا۔؟
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم:
جی بالکل ایسا ہی ہے، میں خود ایران پاکستان پارلیمنٹری فرینڈشپ فورم کا چیئرمین ہوں، میری ایرانیوں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں، خود سفیر سے ملاقات ہوئی ہے، وہ تو کہتے ہیں کہ چاہ بہار تک لنک بنا دیتے ہیں، وہ فیری لنک بنانا چاہتے ہیں، وہ گیس دینا چاہتے ہیں، ہمارے اوپر بھی انہیں طاقتوں کا پریشر ہے، بینک استعمال نہیں کرسکتے، ڈالر میں تجارت نہیں کرسکتے۔
خبر کا کوڈ : 797290
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے