0
Thursday 6 Jun 2019 21:59

سیرت النبی (ص) کی پیروی سے دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتی ہے، عامر حسین نقوی

سیرت النبی (ص) کی پیروی سے دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتی ہے، عامر حسین نقوی
نئی دہلی میں سالہا سال سے فعال ترین رول نبھا کر سید عامر حسین نقوی نے اپریل 2011ء میں ادارہ ندائے حق کی بنیاد رکھی، ادارہ ندائے حق دہلی بھر میں اہم پروگرامز و سیمینارز کا انعقاد کرتا آیا ہے اور ان پرگرامز کا محور و مرکز اسلامی بیداری اور دینی شعور کو اجاگر کرنا ہوتا ہے، اس ادارے کیساتھ ہندوستان کے اہم اشخاص جڑے ہوئے ہیں، جو اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں سے ادارے کو کم مدت میں بلندی تک پہنچانے میں کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں۔اسلام ٹائمز نے ادارہ ندائے حق کے سربراہ عامر حسین نقوی سے ایک خصوصی انٹرویو میں بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے حالات، دینی شعور، وحدت اسلامی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا، جو قارئین کرام کے پیش خدمت ہیں۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: بھارت میں ہر آئے دن مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے سازشیں کی جارہی ہیں، ایسے میں مسلمانوں کی حالت زار کیا ہے۔؟
عامر حسین نقوی:
دیکھیئے اگر ہم ہندوستانی مسلمانوں کو دیکھیں گے تو انہیں کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہندوستان کا مسلمان ہندوستان کو اپنا ملک سمجھتا ہے اور اس کا یہ اپنا ملک ہے بھی۔ جتنا یہ ملک کسی اور کا ہے اس سے زیادہ مسلمانوں کا ہے اور ہمارا بھی اس ملک پر برابر کا حق ہے، لیکن ہمارے ہم وطنوں کی طرف سے کچھ تنظیمیں ہیں جیسے ’’آر ایس ایس‘‘ اور دیگر شدت پسند جماعتیں انکی جانب سے مسلمانوں کو کچھ زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ الحمدللہ بھارت کا مسلمان ان چینلجز کا اچھے طریقے سے مقابلہ کرتا ہے، فیس بھی کرتا اور جواب بھی دیتا ہے اور ہمارے ملک کی جمہوریت کو اس کا کریڈٹ ملتا ہے کہ یہاں کے ہم وطنوں ہندوں اور مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو اسکے خلاف ایکشن لیا جاتا ہے اور عام ہندو بھی شدت پسند ہندو کے خلاف ہوتا ہے۔ گجرات فسادات پر بھی ہندو افراد نے آواز بلند کی، ہندو کارکن ’’ستیش ستروارڈکر‘‘ نے گجرات فسادات متاثرین کے لئے جنگ لڑی، غرض کہ مسلمانوں اور اقلیتی فرقوں کے حق میں مسلسل آواز اٹھائی جارہی ہے۔ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اپنے شعور و فہم سے ہندوستان کی تہذیب کو بچانا چاہتا ہے۔

اسلام ٹائمز: عالمی سطح پر مسلم حکمرانوں کی اسلام دشمنوں کی آلہ کاری کے حوالے سے آپ کیا کہنا چاہیں گے۔؟
عامر حسین نقوی:
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کے درمیان باہمی منافرت و انتشار کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ عالم اسلام کے کچھ نام نہاد ممالک ہیں جو دوسرے بڑے ممالک، یہودی اور صہیونی طاقتوں کے زیرنگرانی ایسا کرتے ہیں کہ وہ تفرقہ اور تقسیم کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ایسے اسلامی ممالک اپنے بڑے بڑے مفتیوں کو دیگر ملکوں میں بھیج کر جلسے کراتے ہیں۔ کبھی کسی کی عظمت میں تو کبھی کسی کی شان میں۔ ایسے جلسوں کا مقصد دراصل مسلمانوں کے درمیان رسہ کشی اور تضاد کو بڑھانا ہوتا ہے اور تفرقہ ایجاد کرنا ہوتا ہے۔ شیعہ کو سنی سے اور سنی کو شیعہ سے لڑانے کی کوششیں کی جارہی ہے پھر سنیوں کو بھی آپس میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہمیں اس حوالے سے تشویش ہے کہ کچھ لوگ دنیا بھر میں دشمن کے آلہ کار بن کر گھوم رہے ہیں اور نفرت انگیز تقریریں کرتے ہیں، انکی مالی معاونت کہاں سے مل رہی ہے کسی سے پوشیدہ نہیں ہونا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: آپ کی نگاہ میں عالمی حالات کی سنگینی، مسلمانوں کی پسماندگی، انتشار و آپسی تفرقہ کی وجہ کیا ہے۔؟
عامر حسین نقوی:
دیکھیئے عالم اسلام میں انتشار اس لئے ہے کیونکہ ہم اسوہ حسنہ پر عمل پیرا نہیں ہو رہے ہیں، اگر ہم اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں، اگر ہم قرآن پاک کے احکامات پر چلتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کو الگ نہیں کرسکتی، ہمارے پاس سب سے بڑا ہتھیار قرآن پاک اور اسوہ حسنہ ہے۔ ہمیں قرآن و اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونا چاہیئے، پھر کوئی بھی ملک چاہے امریکہ ہو اسرائیل ہو یا دوسرے اسلام دشمن ممالک، جو اسلام کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں، ہمارے مقابل میں کھڑے نہیں ہوسکتے۔ اگر آج اسلام دشمن طاقتیں اسلام کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور کامیاب ہو رہے ہیں تو وہ اس لئے کیونکہ ہم نے قرآن اور اسوہ حسنہ پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اگر ہم قرآن پاک اور رسول (ص) کے فرمودات پر عمل کریں تو واقعی عالم اسلام کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ آج مسلمان کہیں بھی متحد نظر نہیں آرہے ہیں، ہر جگہ تفرقہ اور پریشانی ہے۔ پاکستان میں بھی انتشار ہے، سعودی عرب جو مسلمانوں کا مرکز ہے، وہاں بھی انتشار ہے، اتحاد کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔ ترقی و پیشرفت تب ممکن ہے جب ہم اتفاق اور اتحاد کا مظاہرہ کریں گے۔

اسلام ٹائمز: عالمی سطح پر مسلمانوں کے تمام مسالک و مشارب کے درمیان اتحاد بین المسلمین کی اہمیت جاننا چاہیں گے۔؟
عامر حسین نقوی:
دیکھیئے اتحاد بین المسلمین کی دنیائے اسلام کو اشد ضرورت ہے۔ اتحاد بین المسلمین صرف مسلمانوں کے اتحاد کے لئے نہیں بلکہ اسلام کی بقاء کے لئے اور صرف اسلام کی بقاء کے لئے نہیں بلکہ میں کہوں گا کہ عالم انسانیت کی بقاء کے لئے، اتحاد بین المسلمین ہر حال میں عالمی سطح پر انسانیت کی اشد ضرورت ہے۔ جیسا کہ ہم آج دیکھ رہے ہیں جو مسلمانوں میں شدت پسندی کی ایک لہر دوڑ رہی ہے۔ اسلامی تشخص و سربلندی کے لئے بھی اتحاد کی ضرورت ہے۔ اسلامی تہذیب اور اسلامی ثقافت کے لئے آپسی یگانگی لازمی ہے۔ اسلام کی بہت تابناک و روشن تاریخ رہی ہے، ہمارے سائنسی اور ادبی کارنامے رہے ہیں، ان کو بھی آگے لانے کی ضرورت ہے اور یہ اتحاد سے ہی ممکن ہے، ورنہ شدت پسندی اور مار دھاڑ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے صادر کرنے سے ہم سب تہذیبی طور پر بھی اور بحیثیت ایک ثقافت کے بھی بہت پیچھے رہ جائیں گے۔

اسلام ٹائمز: اس قدر اتحاد اسلامی کی اہمیت ہے پھر کیوں یہ انشتار و تضاد پایا جاتا ہے۔؟
عامر حسین نقوی:
دیکھیئے یہی بات سوچنے کی ہے کہ جب ہمارا کعبہ ایک ہے، قرآن ایک ہے، ہمارا خدا ایک ہے، پیغمبر ایک ہے تو بہتر ہوتا اگر ہم ایک ہوتے، اسی میں ہماری کامیابی ہے اور عالم اسلام کی کامیابی ہے، ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ جب قرآن ایک ہے، اللہ و نبی (ص) ایک ہے تو مجھے نہیں لگتا کہ اللہ ہم سے خوش ہوگا اگر ہم بکھریں گے اور اتحاد کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ اللہ تعالٰی نے خود فرمایا ہے کہ ’’وعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا‘‘ یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ جب ہم اس آیت کریمہ پر عمل پیرا ہونگے اور عالم اسلام میں اتحاد پیدا ہوگا تو اللہ دن بہ دن مسلمانوں کو کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔ غرض کہ ہم مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کی ہزاروں اور لاکھوں وجوہات موجود ہیں، جبکہ انتشار کی ایک بھی وجہ موجود نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: اس پُرفتن دور میں ہمارا کیا فرض بنتا ہے۔؟
عامر حسین نقوی: دیکھیئے نئی دہلی میں برسرِ اقتدار آنے والی بھارت کی نئی حکومت بھی درپردہ طور اسرائیل کی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے اور وہ مسلمانوں کے قتل عام پر خوش ہے۔ یہ صورتحال دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے ایک عبرت ہے کہ یہود، نصاریٰ اور ہنود ان کے مقابلے میں ایک ملتِ واحدہ بن کر جمع ہیں اور خود وہ فرقوں، مسلکوں اور مختلف گروہوں میں تقسیم ہیں۔ کہیں شیعہ سنی تصادم آرائیاں ہیں تو کہیں دیوبندی، بریلوی اور سلفی نام پر مسلمان تقسیم کئے گئے ہیں۔ اس صورتحال کے لئے جہاں اسلام دشمن قوتیں ذمہ دار ہیں، وہاں کچھ مسلم ممکتیں بھی مسلکی اور گروہی تنازعات کے اس جرم عظیم کے ارتکاب میں ملوث ہیں، دینی سوج بوجھ سے عاری مولوی حضرات، مفتی اور مُلا ٹائپ لوگ بھی اس عفریت کو پھیلا رہے ہیں اور وہ کہیں شعوری اور کہیں غیر شعوری طور دشمن کے منصوبوں میں رنگ بھر رہے ہیں لیکن ہم پرامید ہیں کہ اگلا دور مسلم امت کی سربلندی و پیشرفت کا دور ہوگا۔ انشاء اللہ
خبر کا کوڈ : 798129
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے