1
Tuesday 11 Jun 2019 23:42
غلط فیصلے سے بلوچستان میدان جنگ بن جائیگا

ایران سعودی عرب تنازعے میں پاکستان یکطرفہ چل رہا ہے، سینیٹر میر کبیر ساہی

ایران سعودی عرب تنازعے میں پاکستان یکطرفہ چل رہا ہے، سینیٹر میر کبیر ساہی
سینیٹر میر کبیر ساہی کا  بنیادی تعلق کوئٹہ ہے، وہ نیشل پارٹی کیجانب سے ایوان بالا کے معزز رکن ہیں، انہوں نے ایم پی اے میں ماسٹر کیا ہوا ہے، 1988ء میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے کوئٹہ کے صدر رہے ہین، 1994ء میں نیشنل پارٹی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرلی، وہ اس کمیٹی کے رکن رہے، جو سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دور میں ناراض بلوچوں کو منانے کیلئے تشکیل دی تھی، وہ ناراض بلوچوں سے مذاکرات کیلئے لندن کا سفر بھی کرچکے ہیں، اسلام ٹائمز نے سینیٹر میر کبیر ساہی سے بلوچوں سے مذاکرات کی ناکامی، بلوچستان کی صورتحال اور عالمی مناظر نامے کے تناطر میں کچھ سوالات پوچھے ہیں، جن کے جوابات پیش خدمت ہیں۔ادارہ

اسلام ٹائمز: بلوچ علیحدگی پسندوں اور قوم پرستوں کی ناراضگی کیوجہ فقط فوج اور دیگر اداروں میں ملازمتیں نہ ملنا ہے یا کچھ اور بھی مسائل ہیں، اصل مشکل کیا ہے۔؟
سینیٹر میر کبیر ساہی:
دیکھیئے بلوچستان میں دو مکتب فکر کے لوگ رہتے ہیں، ایک وہ جو چاہتے ہیں کہ ہم پارلیمان میں جائیں، پاکستان کی پارلیمان کا حصہ بن جائیں اور ہم جمہوری انداز میں سیاست میں حصہ لیں، پاکستان کے آئین کے اندر اسکا حصہ بنیں، دوسرا مکتب فکر وہ ہے، جو علیحدگی پسند تحریکیں چلا رہا ہے، یہ مسائل کہ نوکریاں نہیں مل رہیں، جعلی ڈومی سائل پر بھرتیاں کی جا رہی ہیں، سی پیک میں حصہ نہیں مل رہا، ہمیں حقوق نہیں دیئے جا رہے، این ایف سی ایورارڈ کا فارمولہ غلط ہے، بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق وہاں کی قوم کا ہے، یہ بحث ان لوگوں کی ہے، جو جمہوری سیاست پر یقین رکھتے ہیں، لوگوں میں احساس محرومی انہی چیزوں سے پیدا ہو رہا ہے، بیروزگاری ہے، خوراک کی کمی کا سامنا ہے، تعلیم نہیں، صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

آوران، موسیٰ خیل اور لاہور کی سڑکوں میں زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا، جب بلوچ لاہور کو دیکھتا ہے تو اس کا احساس محرومی اور بڑھ جاتا ہے، یقین مانیں جب یہ احساس محرومی جنم لیتا ہے تو بلوچ جمہوری قوتوں کے بجائے علیحدگی پسند تحریکوں کا ساتھ دیتے ہیں، ہم جو جمہوری سیاست کرتے ہیں، ہمارے لئے مشکلات ہیں، ہم نے اسلام آباد میں بڑا واویلا کیا ہے، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، دوسری جانب علیحدگی پسند تحریکیں ہیں، جو ہمارے کافی لیڈران کو شہید کرچکی ہیں، ہمارے ورکرز کو شہید کیا جا چکا ہے، انکا یہی خیال ہے کہ نیشنل پارٹی والے جمہوری سسٹم کا حصہ ہیں اور ایک آزاد بلوچستان کی راہ میں یہ لوگ رکاوٹ ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ سینیٹ کا حصہ ہیں، یہ مسئلہ وہاں کیوں نہیں اٹھاتے۔؟
سینیٹر میر کبیر ساہی:
دیکھیں ہم یہی تو رونا روتے ہیں کہ سینیٹ کو بااختیار بنائیں، سینیٹ کو این ایف سی ایوارڈ بنانے میں شامل کیا جائے، وزیراعظم کے ووٹ ڈالے کے پراسس کا حصہ بنائیں، ہمارے ممبران کی تعداد برابری کی بنیاد پر بڑھائیں۔ ابھی آپ دیکھیں کہ قومی اسمبلی کے 342 میں سے ہمارے فقط سترہ ممبران ہیں، ان کی کون سنے گا؟، ان سترہ ارکان کی حیثیت ہی کیا ہے۔؟ ہم کہتے ہیں سینیٹ کو بااختیار بنائیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے علاقے ترقی کریں، وہاں صحت اور تعلیم کی سہولیات میں اضافہ ہو، یہ بھی حقیقت ہے کہ پسماندہ صرف بلوچستان نہیں ہے، اس میں فاٹا اور تھر جیسے علاقے بھی شامل ہیں۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم نے اسمبلی میں ان مسائل کو بہت اٹھایا ہے کہ بلوچستان میں اگر آپ آبادی کی بنیاد پر معاملات کو دیکھیں گے تو پھر یہ صوبہ قیامت تک ترقی نہیں کرسکتا، نہ ہی اسے دوسرے صوبوں کے برابر لایا جاسکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا سہولیات دینے اور ترقیاتی کاموں کو شروع کیا جائے تو یہ ملی ٹنسی ختم ہو جائیگی۔؟
سینیٹر میر کبیر ساہی:
دیکھیئے اس میں کوئی دو رائے نہیں، جب لوگوں کو نوکریاں ملیں گی، ان کے گھر کا چولہا جلے گا، بچوں کو اچھی تعلیم ملے گی، صحت کے مسائل حل ہوں گے تو وہ اس طرف سوچے گا بھی نہیں، آج وہ بلوچ غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر علیحدگی پسندوں کے ساتھ پہاڑ پر بیٹھا ہے، اس کا کوئی نظریاتی مسئلہ نہیں ہے، اس کو اتنا پتہ ہے کہ اسے بیس ہزار روپے تنخواہ مل رہی ہے اور وہ اس کے کیمپ میں بیٹھا ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پر اگر روزگار کا مسئلہ حل ہو، ترقیاتی کام ہوں، صحت اور ضروریات زندگی جیسے مسائل پر توجہ دی جائے تو یہ مسئلہ بہت حد تک ہو جائے گا۔

اسلام ٹائمز: یہ تو حکومت کی سائیڈ پر کرنیوالے کام ہیں، انکا کیا کیا جائے جنکا یہ بزنس بن چکا ہے، جو سی پیک پر حملے کریں تو انکا بزنس چلے گا، آپ نے دیکھا اب مار دھاڑ والے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔؟
سینیٹر میر کبیر ساہی:
دیکھیں پاکستان میں ان مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، جو محروم طبقات ہیں، ان کو صحیح طریقے سے ہنڈل نہیں کیا جاتا۔ میں سی پیک کمیٹی کا مببر ہوں، کہا جاتا ہے کہ جی 52 ارب ڈالر کا یہ منصوبہ ہے، اب کہا جا رہا ہے کہ 76 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے، بطور سی پیک کمیٹی ممبر ہوتے ہوئے مجھے نہیں معلوم کہ ابتک بلوچستان میں کتنا کام ہوا ہے۔ اس منصوبے میں فقط دو فیصد بلوچستان کو دیا جاتا ہے، پچاس فیصد چائنہ لے جاتا ہے اور 48 فیصد اسلام آباد لے جاتا ہے۔ اگر ریکوڈک اور سی پیک جیسے منصوبوں میں بلوچستان کو اس طرح ڈیل کیا جائے گا تو میرے جیسا سیاسی سوچ رکھنے والا شخص بھی پریشان ہو جائے گا کہ میرے مسئلوں کا حل یہاں نہیں ہے۔ ہم نے بارہا اسلام آباد کو پیغام دیا کہ آپ ہمارے علاقوں پر توجہ دیں، ان کے مسائل کو ایڈرس کریں۔ پسماندہ علاقوں کو اہمیت دیں، باقی علاقوں کے برابر لے آئیں۔

اسلام ٹائمز: میرا پھر وہی سوال ہے کہ علیحدگی پسند جو اسلحہ اٹھائے ہوئے ہیں، جو اب پی سی ہوٹل میں بھی داخل ہوگئے ہیں، انکا حل کیا ہے۔؟
سینیٹر میر کبیر ساہی:
دیکھیں، میں کہتا ہوں کہ خالصتاً بلوچستان کا مسئلہ مذاکرات سے ہوگا، یہ مسئلہ طاقت کے زور سے حل نہیں ہوگا، بندوق کے ذریعے ہی مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی گئی، تب یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے بگڑ گیا، جب ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت تھی اور انہوں نے علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کی کوشش کی تھی، چار رکنی کمیٹی بنائے گئی، جس نے ناراض بلوچ رہنماوں سے مذاکرات کی کوشش کی، اس وقت کے سدرن کمانڈ کے چیف، آرمی چیف، نواز شریف اور وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ بلوچون سے بات چیت کی جائے اور انہیں راضی کیا جائے اور انہیں قومی دھارے میں لایا جائے۔ چار رکنی کمیٹی بنائے گئی، جو لندن مذاکرات کے لیے گئی، اس چار رکنی کمیٹی میں بندہ ناچیز بھی شامل تھا۔

ہم نے لندن میں خان آف قلات سے یعنی آغا سلمان سے کافی ڈسکس کیا، براہمداغ بگٹی سے ملاقاتیں ہوئی، کافی حد تک ان بلوچ رہنماوں کو قائل کر لیا تھا، لیکن بدقسمتی سے آرمی چیف تبدیل ہوگئے، وزیراعلیٰ بلوچستان تبدیل ہوگئے حتیٰ سدرن کمانڈ کے چیف تک تبدیل ہوگئے۔ نیا وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری آگیا، نواز شریف کی وزارت عظمیٰ ختم ہوگئی، ہماری کمیٹی کی بات کسی نے نہیں سنی، ہمارے لیے مشکل بن گئی کہ ہم نے بلوچ رہنماوں سے بڑی بڑی باتیں کیں، لیکن یہاں سارا معاملہ ہی الٹ ہوگیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام آباد نے بلوچوں کے مسئلے کو آج تک سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ آخر میں پھر یہی کہوں گا کہ بلوچوں کے مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں، طاقت سے یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: گلف میں جو امریکہ ایران ٹنشن ہوئی ہے، ظاہر ہے بلوچستان کی سرحد ایران کیساتھ لگتی ہے، سیستان و بلوچستان کی ثقافت ایک ہے، کیا اس ٹنشن کے بلوچستان پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، ایسی صورتحال میں پاکستان کو کیا کرنا چاہیئے؟، اگر یہ ٹنشن مزید کسی تصادم کی طرف جاتی ہے تو۔؟
سینیٹر میر کبیر ساہی:
دیکھیں ہم نے بار بار اسلام آباد کو باور کرایا ہے اور اپنا نکتہ نظر رکھا ہے کہ پاکستان کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیئے، باقی دیکھیں سعودی عرب ہمارا اسلامی بھائی ہے، لیکن ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے، ایران سے ہمارے صدیوں پرانے تعلقات ہیں، قیام پاکستان سے بھی پہلے کے تعلقات ہیں، ایران دنیا کا وہ واحد ملک ہے، جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا۔ یہ بھی بات ریکارڈ پر ہے کہ ایران کا پہلا ہیڈ آف اسٹیٹ تھا، جس نے پاکستان کا دورہ کیا۔ جب ڈیورنڈلائن پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاملہ بنا تو یہ ایران ہی تھا، جس نے ثالثی کرانے کی بات کی تھی تو ہمیں بھی اس وقت ثالثی ہی کرانی ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ گوادر میں سعودیہ کو آگے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے بلوچستان پر کیا فرق پڑسکتا ہے۔؟
سینیٹر میر کبیر ساہی:
میرے خیال یہ ہے کہ ہمارا ایران سے صدیوں پرانا تعلق ہے، ان سے تجارت ہوسکتی ہے، ہم ایران اور سعودیہ کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن سچ بات یہ ہے کہ ہم ون وے چل رہے ہیں، ہم سعودیہ کو ایران کے مقابلے میں بہت آگے لیکر آگئے ہیں، ہم نے با رہا کہا کہ اگر گوادر میں سعودیوں کو آئل ریفائنری دے رہے ہیں، ریکوڈک دینا چاہتے ہیں، جبکہ یہ جانتے ہوئے کہ ایران اور سعودیہ کے درمیان سرد جنگ چل رہی ہے، کیا آپ بلوچستان کو میدان جنگ بنانا چاہتے ہیں۔؟ ہمارے اس پر تحفظات ہیں، ہم کہتے ہیں کہ پاکستان خارجہ پالیسی میں ایک خوبصورت انداز میں ثالثی کا کردار ادا کرے، وہ ایران اور سعودیہ کے درمیان ثالثی کرائے۔ افغانستان کے حوالے سے بھی ہم کہتے ہیں کہ افغانستان ایک آزاد ملک ہے اور پاکستان اس کی بہتری کے لیے کردار ادا کرے۔ افغانستان میں امن نہیں ہوگا تو ہم بھی امن سے نہیں بیٹھیں گے، ایران اور افغانستان کے درمیان سرحد کو مضبوط کرنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 798865
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے