0
Friday 14 Jun 2019 23:58

کشمیری نوجوان تشدد کا راستہ ترک کرکے قومی دائرے میں شامل ہو جائیں، ستیہ پال ملک

کشمیری نوجوان تشدد کا راستہ ترک کرکے قومی دائرے میں شامل ہو جائیں، ستیہ پال ملک
ستیہ پال ملک بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع باغپت کے رہنے والے ہیں۔ انہیں 30 ستمبر 2017ء کو بھارتی ریاست بہار کا گورنر بنایا گیا تھا اور 21 مارچ سے 28 مئی 2018ء تک انہیں ریاست اڈیشہ کے گورنر کا اضافی چارج بھی دیا گیا تھا۔ ستیہ پال ملک بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا کیلئے دو بار منتخب ہوئے ہیں۔ ستیہ پال ملک 1974ء سے 1977ء تک اترپردیش اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت سے قبل وہ بھارتیہ کرانتی دل، انڈین نیشنل کانگریس، جنتا دل، لوک دل اور سماج وادی پارٹی سے بھی منسلک رہے ہیں۔ رواں سال کے وسط میں بھارت کیجانب سے این این ووہرا کے بعد ستیہ پال ملک کو مقبوضہ کشمیر کا گورنر مقرر کیا گیا۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے سرینگر میں ایک تقریب کے حاشیے پر ستیہ پال ملک سے خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: بھاجپا حکومت کیجانب سے مقبوضہ کشمیر کے ہندو اکثریتی خطے جموں میں اسمبلی نشستوں میں اضافہ ہو رہا ہے، آپ اس از سر نو حد بندی کے معاملے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
ستیہ پال ملک:
اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی صرف افواہ ہے۔ اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی ایک آئنی معاملہ ہے۔ از سر نو حد بندی کی وزارت داخلہ نے بھی تصدیق نہیں کی ہے، فی الوقت یہ صرف افواہ ہے۔ میرے خیال سے موجودہ سیاسی منظرنامے پر کشمیر میں جاری حد بندی سے متعلق نیا شوشہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ کئی سیاسی جماعتوں کے منشور میں اس سلسلے میں وعدے کئے گئے ہیں اور اس پر بہت باتیں ہو رہی ہیں، تاہم کشمیری عوام کو اس محاذ پر فکر کرنے کی کوئی بھی ضرورت نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ بحیثت ریاستی گورنر عسکریت پسندوں کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے۔؟
ستیہ پال ملک:
دیکھیئے ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ جنگجوؤں کو ہتھیار ڈال کر بات چیت کیلئے آگے آنا چاہیئے۔ ملک بھر میں بے روزگاری بہت زیادہ ہے، تاہم ملک میں بے روزگار کی وجہ سے لوگ حکومت کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاتے ہیں۔ یہاں بنیادی چیز یہ ہے کہ لیڈران لوگوں کو حقیقت نہیں بتاتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے اور انہیں غلط خواب دکھائے جاتے ہیں، جو کھبی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوں گے۔ لوگوں کو ’’آزادی‘‘ کا خواب دکھایا جاتا ہے اور کبھی اٹانومی کا اور جب یہ چیزیں کام نہیں کرتیں تو انہیں انتہاء پسندی کے ذریعے جنت کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ ترقی و پیشرفت کا واحد راستہ مذاکرات و بات چیت ہے۔ آئین کے اندر نوجوان جو چاہتے ہیں، انہیں حاصل ہوگا۔

کشمیری نوجوان تشدد کا راستہ ترک کرکے قومی دائرے میں شامل ہو جائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے نوجوان بندوق کو خیرباد کرتے ہوئے بات چیت کا حصہ بن جائیں۔ مذاکراتی عمل سے ہر کوئی چیز حاصل ہوگی۔ میں کشمیری نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہو کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور راج بھون میں میرے ساتھ دسترخوان پر بات کریں اور مجھے یہ بات بتائیں کہ جس راستے کا انتخاب انہوں نے کیا ہے، اس سے انہیں کیا حاصل ہوگا۔ کشمیریوں کے پاس اپنا آئین ہے، علیحدہ پرچم ہے، اس کے علاوہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ جنگجوؤں کو شاید اس وقت اس کا ادراک نہیں ہوگا، تاہم 10 برسوں بعد انہیں اس بات کا احساس ہوگا کہ جو لکیر انہوں نے کھینچی تھی، وہ غلط تھی۔

اسلام ٹائمز: لائن آف کنٹرول ہر کیا صورتحال ہے اور سالانہ امرناتھ یاترا کے حوالے سے کیا انتظامات ہوئے ہیں۔؟
ستیہ پال ملک:
لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز متحرک ہیں اور کسی بھی دراندازی سے نپٹنے کے لئے تیار ہیں۔ موجودہ صورتحال میں جنگجوؤں کی صفوں میں بھرتیوں میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ جنگجوؤں کی بھرتی میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے نوجوانوں کے تئیں ہمدردانہ رویہ اپنایا ہوا ہے اور مجھے یقین ہے کہ کشمیر کا مسئلہ انہیں نوجوانوں کے ذریعے حل ہوگا۔ مزاحمتی لیڈروں سے بات چیت سے فائدہ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ وہ گذشتہ پچاس برسوں سے لوگوں سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ رہی بات یاتریوں کے تحفظ کی تو ریاستی حکومت ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر سکیورٹی کا کڑا بندوبست عمل میں لائے گی۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ امسال سالانہ امرناتھ یاترا پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوگی۔

اسلام ٹائمز: مقبوضہ کشمیر میں اسمبلی انتخابات کب متوقع ہیں، کوئی اطلاع۔؟
ستیہ پال ملک:
ریاستی اسمبلی کے انتخابات کو منعقد کرنے کا وقت انتخابی کمیشن متعین کرے گا۔ یہ بھارتی وزارت داخلہ اور انتخابی کمیشن کے درمیان کا اختیار ہے۔ میں اس پر رائے زنی نہیں کرسکتا ہوں۔ انتخابات کے لئے ضروری سکیورٹی اگر دی جاتی ہے تو ہم اسمبلی الیکشن کے لئے تیار ہیں۔ ہم نے بلدیاتی و پنچایتی انتخابات پرامن طور پر کرائے، تاہم اسمبلی انتخابات کے لئے سکیورٹی کی ضرورت مختلف ہے۔ انتخابی کمیشن متعلقہ ایجنسیوں سے مل کر سلامتی صورتحال کا احاطہ کرنے کے بعد تاریخوں کا فیصلہ لے سکتی ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ کشمیری عوام نے پارلیمانی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرکے اپنے پسندیدہ نمائندوں کو آگے لایا۔

میں اس بات کے لئے مطمئن ہوں اور مجھے کشمیری عوام پر فخر ہے کہ انہوں نے پارلیمانی انتخابات کے دوران مہذب ہونے کا بھرپور ثبوت دیا اور اپنے پسندیدہ نمائندوں کا انتخاب ممکن بنانے کے لئے پولنگ مراکز کا رخ کیا۔ میں نے مقامی سیاسی پارٹیوں کو پنچایتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے کافی کوششیں کیں، تاہم وہ اس کے لئے تیار نہیں ہوئے، لیکن پھر بھی ہم نے جمہوری اداروں کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے زمینی سطح پر لوگوں کو خود مختار بنانے کے لئے انتخابات کرائے، جن کا نتیجہ ٹھیک رہا۔

اسلام ٹائمز: بھارت کے قومی میڈیا کی منفی روش کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے۔؟
ستیہ پال ملک:
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قومی میڈیا بھارت میں کشمیر مخالف پروپیگنڈہ چلاتا ہے۔ قومی میڈیا بیرون ریاست کشمیر کی شبیہ کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ قومی میڈیا کے چینلز بھارت میں کشمیر کو منفی انداز میں پیش کر رہے ہیں، جو کہ بہت تکلیف دہ بات ہے۔ اگر کشمیر میں ایک آدمی مر جاتا ہے تو قومی میڈیا پر اس سے متعلق دو دو ہفتوں تک خبر نشر کی جاتی ہے اور یوں کشمیر کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جا رہی ہے تاہم میرے ضلع میں ہر روز پانچ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں، لیکن ان سے متعلق کوئی بھی خبر شائع نہیں کی جاتی ہے۔ کشمیر میں کسی بھی سیاح پر پتھر نہیں پھینکا جاتا، لیکن میرے ضلع مظفرنگر سہارانپور یو پی کی ہائی وے پر سیاحوں کو روزانہ لوٹا جاتا ہے، مگر وہاں کا ذکر قومی میڈیا میں نہیں کیا جاتا۔ اس طرح کی صورتحال کو بیرون ریاست منفی انداز میں پیش کرنے کا خالص مقصد کشمیر کو بدنام کرنا ہے۔

اسلام ٹائمز: جموں و کشمیر بنک پر مسلسل چھاپے اور بنک کے چیئرمین کی تبدیلی پر کیا کہنا چاہیں گے۔؟
ستیہ پال ملک:
جموں کشمیر بنک کو حق اطلاعات قانون کے دائرے میں لایا جائے گا اور اس ماہ کے آخر تک اس ادارے پر بھی چیف ویجی لینس کمیشن کے رہنما خطوط کا اطلاق ہوگا۔ جموں کشمیر بنک پر حالیہ چھاپہ، آر بی آئی کی طرف سے جموں کشمیر بنک کے مسئلے پر ریاستی حکومت کو مکتوب روانہ کرنے کے بعد عمل میں لایا گیا۔ جموں و کشمیر بنک نے گالف کورس کی تزئین کاری پر پچاس کروڑ روپے صرف کئے ہیں، جہاں پر ایک ہزار امیر ترین لوگ اس کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ جموں و کشمیر بنک ریاستی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ جموں و کشمیر بنک سے متعلق سینکڑوں شکایات موصول ہوچکی تھیں، یہاں تک کہ آر بی آئی نے بھی اس حوالے سے مجھے مکتوب کے ذریعے سرزنش کی تھی۔ بنک میں جاری بے ضابطگیوں کو رفع کرنے میں تین مہینوں کا وقت درکار ہے۔ ہمیں امید ہے کہ جموں و کشمیر بنک دوبارہ اپنی شان رفتہ کو بحال کرنے میں کامیاب ہوگا اور یقیناً منظرنامے پر چھا جائے گا۔ ریاستی حکومت بنک کو عالمی سطح کا معیاری ادارہ بنانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حکومت میں سیاسی لیڈروں پر بدعنوانی اور کرپشن کا الزام ہے، اس حوالے سے آپکی رائے کیا ہے۔؟
ستیہ پال ملک:
بہت سارے سیاست دان بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم کرپشن سے پاک ریاست بنائیں گے۔ حکمران  طبقہ جو جموں و کشمیر میں بدعنوانی میں ملوث ہے، عنقریب ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ہماری انتظامیہ کو جموں کشمیر کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے، ہم نے بارہا ان مقامی سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ مزاحمتی لیڈروں کی ہاں میں ہاں نہ ملائیں۔ جموں کشمیر میں بدعنوانی دیگر ریاستوں سے زیادہ موجود ہے۔ ہم نے کئی دلالوں کو بھی باہر نکالا۔ نریندر مودی تک رسائی حاصل ہونے والے کئی طاقتور لوگ اس میں شامل تھے۔ اگر یہ پیغام باہر جائے گا کہ کسی بھی بیروکریٹ یا طاقتور شخص کے امیدوار کو ترجیج نہیں دی گئی تو نصف ’’دہشتگردی‘‘ ختم ہوگی۔ بڑی مچھلیوں کے خلاف عنقریب ہی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر کا کوڈ : 799233
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب