0
Sunday 16 Jun 2019 16:39

جعلی حکومت سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈال کر ملک کی بنیادیں کمزور کر رہی ہے، تسنیم احمد قریشی

جعلی حکومت سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈال کر ملک کی بنیادیں کمزور کر رہی ہے، تسنیم احمد قریشی
سابق وفاقی وزیر برائے امور داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما تسنیم احمد قریشی سرگودہا سے 2002ء سے لیکر 2013ء تک رکن قومی اسمبلی رہے ہیں، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کیساتھ وزیر مملکت رہے، حکومتی پالیسیوں پر بے لاگ تبصروں اور سرگودہا میں حزب مخالف کی بے دھڑک نمائندگی کے حوالے سے معروف ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکن اور پارٹی میں قائدانہ کردار کے حامل اپوزیشن رہنما کیساتھ موجودہ سیاسی صورتحال، نیب کے ذریعے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور اپوزیشن کی حکمت عملی جیسے اہم ایشوز پر اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: وزیراعظم نے ایک دفعہ پھر اعلان کیا ہے کہ وہ جان دے دینگے لیکن این آر او نہیں ہوگا، این آر او لینے یا مانگنے والے کون لوگ ہیں۔؟
تسنیم احمد قریشی:
یہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ عمران خان جیسا آدمی وزیراعظم بن چکا ہے اور اگر یہ کچھ عرصہ اور رہتے ہیں تو نہ صرف پاکستانی عوام مزید مشکلات اور مسائل کا سامنا کرینگے بلکہ پاکستان اپنے دوستوں سے بھی محروم ہو جائیگا۔ انکا لب و لہجہ ہی دیکھ لیں، جب وہ اپوزیشن میں تھے اور کینٹینر کی سیاست کر رہے تھے، یہ انداز تو اسوقت بھی مناسب نہیں تھا، بطور وزیراعظم تو یہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ امور حکومت سے نابلد ہیں، انہیں کسی کو للکارنے کی بجائے اگر کچھ کیا ہے تو قوم کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے، کارکردگی صفر ہے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ کسی کو چھوڑیں گے نہیں۔ جہاں تک این آر او کی بات ہے تو وہ نہ کسی نے مانگا ہے، نہ یہ کسی کو دینے کی پوزیشن میں ہیں، یہ تو خود این آر او لیکر آئے ہیں اور اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

انہوں نے اپنی تقریر میں جو کمیشن بنانے کی بات کی ہے، وہ شوق سے بنائیں لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیئے کہ جو قرضہ انہوں نے ان چند ماہ میں لیا ہے، یہ کسی حکومت نے سالوں میں بھی نہیں لیا۔ اسی طرح ایک طرف احتساب کی بات کرتے ہین اور ریفرنسز بنا رہے ہیں تو پھر جو احتساب کے ادارے پہلے سے موجود ہیں، ان کی موجودگی میں الگ سے کیمشن بنانے کی کیا ضرروت ہے، اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ ملکی اداروں پر اعتماد نہیں یا وزیراعظم صاحب کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ سیاستدان جن کے خلاف الزامات ہیں، یہ الزمات ثابت نہیں ہوسکتے، کیونکہ وہ جھوٹے ہیں، یہ حقیقت عمران خان کے لیے قابل برداشت نہیں، جس وجہ سے وہ مختلف طریقوں سے فرسٹریشن کا اظہار کر رہے ہیں، یہ بالکل درست کہا جا رہا ہے کہ کمیشن اگر بنانے کی ضرورت ہے تو وزیراعظم کا دماغی معائنہ کروانے کے لیے کمیشن بنانے کی ضرورت ہے۔

اسلام ٹائمز: موجودہ معاشی بحران ایک دن میں تو پیدا نہیں ہوا، اسکی ذمہ دار صرف موجودہ حکومت تو نہیں، تحقیقاتی کمیشن کے اعلان کی بھی یہی وجہ ہے۔؟
تسنیم احمد قریشی:
یہ درست ہے کہ سابقہ ادوار میں معیشت مستحکم نہیں ہوسکی، لیکن کرنسی اس حد تک ڈی ویلیو نہیں ہوئی، سی پیک جیسے منصوبے آئے، ان کی نااہلی یہ ہے کہ یہ آئی ایم ایف نہ جانے کی قسمیں کھاتے رہے، لیکن اب آئی ایم ایف کی ساری شرائط مان لی ہیں اور جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی جہنم بن چکی ہے، انہوں نے جس وجہ سے روپے کی قدر میں کمی کی، اس کا منفی اثر پڑا ہے، پاکستان برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، نہ ملک استحکام کی طرف جا رہا ہے۔ ملک چلانا آسان نہیں، جس شخص کو عمران خان نے یہ کہہ کر قوم کا نجات دہندہ بنا کر پیش کیا کہ اسد عمر معیشت کو مضبوط کریں گے، چند دنوں میں قرضے اتر جائیں گے، لوگ باہر سے پاکستان میں روزگار کیلئے آئیں گے۔

لاکھوں لوگوں کو روزگار دیں گے، لاکھوں مکان بنائیں گے، یہ باتیں یہ اسوقت بھی کرتے تھے کہ حکومتوں نے ملک کو لوٹ لیا ہے، قومی خزانہ خالی کر دیا گیا، پاکستان مقروض ہوچکا ہے، یعنی اس بات کو جواز بنا کر یہ لوگ حکومت میں آئے تھے کہ پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں نے ملک کو کچھ نہیں دیا، ہم آئیں گے تو خزانہ پھر دیں گے، شہد اور دودھ کی نہریں بہا دینگے، اسکا مطلب یہ ہوا کہ انہیں اقتدار میں آنے کے بعد پتہ نہیں چلا کہ معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، اقتدار میں آنے سے پہلے یہ لوگ جو الزامات لگاتے رہے، اب یہ ثابت ہوگیا کہ وہ الزامات جھوٹے تھے اور حکومت میں آنے کے بعد ان کے پاس کوئی پلان نہیں، کوئی آدمی نہیں جو ملک چلانے کا ہنر جانتا ہو۔ اسی طرح اگر صرف سابق حکمران ہی اس زبوں حالی کے ذمہ دار ہیں تو یہ خان صاحب نے جن لوگوں کو معیشت سپرد کر دی ہے وہ کون ہیں۔

وہ بھی تو وہی لوگ ہیں، جو گذشتہ حکومتوں کیلئے کام کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود پچھلے ادوار پہتر تھے، آئی ایم ایف کے پاس جانے کے باوجود کسی نے ملک کی معیشت آئی ایم ایف کے حوالے نہیں کی، انہیں تو اس کی سمجھ نہیں کہ اگر ڈیل بھی کریں تو کیسے کریں، اگر یہ کمیشن بنا لیں اور وہ شفاف تحقیقات کرے، جس کی توقع نہیں، تو بھی موجودہ معاشی ابتری کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو ہی ٹھہرایا جائیگا، کسی اور کو نہیں۔ جب تک یہ کمیشن بنے گا، اس وقت تک ایک سال ہو جائیگا، موجودہ حکومت کو، لیکن پی پی اور نون لیگ کے پانچ پانچ سال میں اتنی کمی کوتاہی اور لوٹ مار ثابت نہیں ہوگی، جو ان کی حکومت کے ایک سال کی سامنے آئے گی۔

اسلام ٹائمز: بجٹ کے متعلق کئی قسم کی باتیں ہو رہی ہیں، آپکا کیا تبصرہ ہے۔؟
تسنیم احمد قریشی:
میں اگر اپوزیشن میں نہ بھی ہوتا تو یہی کہتا کہ یہ ایک انوکھا اور لاڈلہ ٹولہ ہے، جنہوں نے ایسا بجٹ پیش کیا ہے، بلکہ ان سے کروایا گیا ہے، جس سے کسان، ملازمین، مزدور، تاجر، صنعتکار کوئی خوش نہیں۔ عوام کیلئے کھانے پینے کی تمام اشیاء نہ صرف مہنگی کی گئی ہیں بلکہ چھین لی گئی ہیں۔ جو ٹیکس لگائے ہیں یا ان کی شرح تبدیل کی گئی ہے، اسکا اثر بھی عام آدمی پہ پڑیگا۔ سارا بوجھ آخر کار صارف پہ ہی پڑنا ہے، جو اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، ان سے اکانومی مزید سست ہوگی، جس سے ملک کی معیشت مزید بوجھ برادشت نہیں کر پائے، پہلے ہی دباؤ کی وجہ سے کئی کاروبار بند ہوچکے ہیں، لاکھوں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں، یہ سلسلہ چلتا رہیگا، اس سے بے یقینی میں اضافہ ہوگا، معیشت کی سمجھ بوجھ رکھنے والے سب لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بجٹ چل نہیں پائے گا۔

ہماری طرف سے تو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یہ پیشکش کرچکے ہیں کہ اگر عوامی بجٹ لے آتے ہیں تو ہم ساتھ دینگے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔ جہاں تک ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے دعوے ہیں، یہ غیر حقیقت پسندانہ ہیں، پاکستان کے لوگوں میں یہ ہمت ہی نہیں رہی کہ اگر وہ ٹیکس جو لگا دیا گیا ہے، اسے ادا کرنے کا ارادہ بھی کریں، تو انکی مالی صورتحال اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتی کہ وہ اتنی بڑی تعداد اور مقدار میں ٹیکسز کا بوجھ اٹھا سکیں۔ ابھی اسی سال چالیس لاکھ خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں، اگلے سال اس نئے بجٹ کی وجہ سے مزید لوگ غربت کے خط سے نیچے چلے جائیں گے۔ پی پی جب حکومت میں آئی تو 41 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے تھے، لیکن 2013ء میں جب ہماری حکومت کی مدت مکمل ہوئی تو یہ شرح 29 فیصد تک تھی، لیکن پچھلے دس ماہ میں یہ تعداد بہت زیادہ بڑھی ہے۔

اسلام ٹائمز: حکومت کا کہنا ہے کہ بجٹ میں مشکلات ضرور ہیں، لیکن یہ عوام اور ملک کی خوشحالی کیجانب ایک قدم ثابت ہوگا۔؟
تسنیم احمد قریشی:
یہ ایک سفید جھوٹ ہے، یہ آئی ایم ایف کی جانب سے ملک و قوم کی موت کا پروانہ ہے۔ بجٹ تقریر کے دوران معاشی دیوالیہ پن اور رات گئے تقریر میں عمران خان کا فکری اور نظریاتی دیوالیہ پن ثابت ہوگیا ہے۔ یہ بھاینک ترین بجٹ، ترقی، روزگار، سرمایہ کاری اور صنعتوں کا دشمن بجٹ ہے۔ اکنامک سروے جو اس دفعہ انہوں نے پیش کیا ہے، اس میں سے غربت کا باب ہی غائب کر دیا گیا ہے، کیا اس سے غربت ختم ہو جائے گی، نہیں، انہوں نے جس بد دیانتی سے حکومت قائم کی، اس کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، یہ حقائق کو چھپا کر اور توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔

آپ بجٹ کی کتاب سے ڈھونڈ کے دکھا دیں کہ کوئی ریلیف ہو عوام کیلئے، کہیں بجلی، گیس، آٹا، چینی، دال، روٹی کسی چیز کی قیمت کم ہوگی، یا لوگوں کی آمدن میں اتنا اضافہ ہوگا کہ وہ مہنگائی اور ٹیکسز کی بھرمار کے باوجود آسانی سے ضروریات پوری کرسکیں گے۔ کہاں ترقی کی باتیں، یہ سب جھوٹ پہ مبنی دعوے ہیں، شرمناک بجٹ کے باوجود انہیں کوئی عار محسوس نہیں ہو رہی، اس قسم کے دعووں میں۔ ہر چیز کی قیمت جب بڑھنے جا رہی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام کی بہتری کیلئے ہے، یہ تو صرف آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط پوری کرنے کے لئے بنایا گیا ہے، اس کا پاکستان کی خوشحالی اور عوام کی آسانی اور ترقی سے کوئی تعلق نہیں۔

اسلام ٹائمز: حکومت نے بجٹ میں وزراء کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا اور قربانی دی ہے، احساس پروگرام بھی شروع کیا ہے، کیا ان مشکل حالات میں ایسے اقدامات کی تعریف نہیں کی جانی چاہیئے۔؟
تسنیم احمد قریشی:
یہ باتیں صرف لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے ہیں، احساس پروگرام کیلئے اگر 110 ارب رکھے ہیں تو 120 ارب تو پچھلی حکومت نے اور ہماری دور میں پیسے رکھے گئے تھے، جیسے انکم سپورٹ پروگرام ہے، لیکن گروتھ کیلئے، نئے لوگوں کو روزگار دینے کیلئے، آپ بجٹ دستاویز جتنی بار مرضی پڑھ لیں، اس میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے، پانچ ہزار پانچ سو ارب روپے کا ٹیکس تو اعلان کیا گیا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ آئے گا کیسے۔؟ اس کے مقابلے میں گھی اور چینی میں ہوشرباء ٹیکس لگا دیا ہے، پھر بھی یہ اکٹھا نہیں ہونا ہے۔

انہوں نے وزیروں کی تنخواہوں سے کوئی قربانی نہیں دی، پچاس تو وزیر ہیں، جنکی تنخواہیں ایک کروڑ روپے بنتی ہیں، ہر ماہ کی، اس میں کیا اضافہ نہیں کیا جو کرنا تھا، وہ دس لاکھ روپے ہیں، لیکن صدر اور وزیراعظم کے جہاز کی مرمت کیلئے اسی بجٹ میں 41 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ لیکن جو مفت دوائی مل رہی تھی، وہ اب ہسپتال میں کسی غریب کو نہیں ملے گی، اس پاکستانی عوام کو مدنظر ہی نہیں رکھا گیا بلکہ دکھاوے کی تجاویز ہیں، جو آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر رکھی گئی ہیں۔ دس ماہ کی بھاینک ترین بدانتظامی اور نااہلی کا نتیجہ مرگ مفاجات کی صورت میں نکلا ہے، مرگ مفاجات یعنی اچانک موت۔

اسلام ٹائمز: پرائم منسٹر نے نیب کیجانب سے گرفتاریوں کو اپنی کارکردگی اور الیکشن میں کیے گئے وعدے کی تکمیل قرار دیا ہے، کیا اپوزیشن کے پاس اخلاقی طور پر جواز ہے کہ کرپشن زدہ سیاستدانوں کی حمایت میں حکومت کیخلاف محاذ کھڑا کرے۔؟
تسنیم احمد قریشی:
جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، اسی لیے وزیراعظم کی کسی بھی بات کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی، وہ تو جو باتیں دن کی روشنی میں کرتے ہیں، ان کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا، یہ تو انہوں نے رات کے کسی حصے میں جا کر کی تھی، لیکن بطور سربراہ حکومت کا قوم سے خطاب ایک واضح مقصد کے تحت ہوتا ہے، انکی اس تقریر میں جو بدحواسی میں کی گئی، کوئی بھی اہم یا فوری نوعیت کا ایشوز ایڈریس نہیں کیا گیا۔ بس اپنے بے تکے نعرے اور شور شرابے کو دہرا رہے تھے کہ میں کسی کو چھوڑوں گا نہیں، یہ کردوں گا، کون ہوتے ہیں مجھ سے پوچھنے والے، جو مجھ سے سوال کریگا، حساب مانگے گا، میں اس سے سوال کروں گا، کچھ بتاؤں گا نہیں، میں کسی کو جوابدہ نہیں ہوں، یہ بھی کوئی بات ہے کرنے والی۔ ایک طرف تو آپ کہہ رہے ہیں میرا نیب پہ کوئی کنٹرول نہیں، عدالتیں اور ادارے آزاد ہیں۔

دوسری طرف کہہ رہے ہیں، میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، میرے الیکشن میں آنے، حکومت بنانے اور میرے نئے پاکستان کی وجہ سے یہ لوگ جیلوں میں گئے، دوسری طرف یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ سیاسی انتقام نہیں ہے۔ پھر خود ہی اپنی نااہلی کو تسلیم کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ مجھے قرضے لینے پڑ گئے ہیں، لیکن یہ قرضے کیوں لینے پڑے، میں اسکا حساب لوں گا، جو لوگ پہلے رہے ہیں اقتدار میں۔ یہ اپنی ذمہ داری سمجھنے اور اسے ادا کرنے سے قاصر ہیں کہ بجٹ میں ایک حصہ دفاعی اخراجات اور ایک حصہ قرضوں کی ادائیگی پر ہی مشتمل ہوتا ہے، جو ہر دور میں ادا ہوتا رہا ہے۔

یہ ان کے بس میں نہیں، لیکن یہ ساری دنیا میں ہو رہا ہے، انہیں معیشت کی الف ب بھی معلوم نہیں، اس لیے سارا ملبہ دوسروں پر ڈال رہے ہیں۔ اپنی کارکردگی بتانے کیلئے کچھ ہے نہین، اس لیے صرف سیاسی انتقام کو اپنی کارکردگی بنا کر پیش کر رہے ہیں، یہ ملکی سیاست اور پاکستانی عوام کیساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔ جواب تو انہیں دینا چاہیئے کہ 3700 ارب قرض لیا، 2200 ارب اگر ادا بھی کر دیا تو باقی 1600 ارب کہاں گیا۔ جعلی حکومت سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈال کر ملک کی بنیادیں کمزور کر رہی ہے، لیکن ان سے حساب ضرور لیا جائیگا، ان کا یہ ڈرامہ زیادہ دیر تک نہیں چلنے دینگے۔
خبر کا کوڈ : 799781
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب