0
Monday 17 Jun 2019 22:17
پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت ایک کمزور حکومت ہے، اٹھارویں ترمیم چھیڑنا انکے بس میں نہیں

مڈٹرم الیکشن ملک کیلئے بہتر نہیں، حکومت کو پانچ سال کام کرنیکا موقع دیا جائے، محمد حسین محنتی

مڈٹرم الیکشن ملک کیلئے بہتر نہیں، حکومت کو پانچ سال کام کرنیکا موقع دیا جائے، محمد حسین محنتی
محمد حسین محنتی جماعت اسلامی سندھ کے امیر ہیں۔ وہ 1946ء میں کاٹھیاوار، انڈیا میں پیدا ہوئے۔ انکی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، تمام مذہبی اور سیاسی حلقوں میں وہ بڑی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ وہ 2002ء کے عام انتخابات میں کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ محمد حسین محنتی جماعت اسلامی کراچی کے بھی امیر رہ چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے وفاقی بجٹ، ملکی سیاسی صورتحال و دیگر موضوعات پر انکے ساتھ مسجد قبا گلبرگ میں قائم جماعت اسلامی سندھ کے آفس میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: صدارتی نظام کی بازگشت کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
محمد حسین محنتی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ ملک میں صدارتی نظام کا شوشہ کئی دنوں سے چھوڑا جا رہا ہے، عوامی تاثر بھی اس سے حاصل کیا جا رہا ہے، لیکن میرے خیال سے تمام سیاسی جماعتوں نے صدارتی نظام کو مسترد کر دیا ہے، پاکستان میں ماضی میں صدارتی نظام رائج تھا، سن انیس سو باسٹھ تریسٹھ کے دستور میں صدارتی نظام تھا، بعد میں مارشل لاء وغیرہ لگا، پھر اس کے بعد ذوالفقار بھٹو صاحب نے دوبارہ 1973ء کا دستور بنایا، جس میں پارلیمانی نظام بنایا گیا، جس پر آج بھی تمام سیاسی جماعتیں متفق و یکسو ہیں کہ تہتر کا دستور پاکستان کے موجودہ تقاضوں اور ضروریات کو پورا کرتا ہے، لہٰذا یہی پارلیمانی نظام صحیح ہے، ملک کو صدارتی نظام کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کبھی بجٹ تو کبھی دوسری چیزوں سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسے شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں ملک میں صدارتی نظام موجودہ وفاقی حکومت کی خواہش ہے۔؟
محمد حسین محنتی:
جب بھی حکومت سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے صدارتی نظام کے خلاف رائے دی، وہ صدارتی نظام کی سوچ نہیں رکھتے، مجھے نہیں لگتا کہ صدارتی نظام کیلئے پی ٹی آئی حکومت کوئی باقاعدہ منظم سوچ رکھتے ہو، البتہ حکمرانوں نے عوام اور میڈیا کو مصروف رکھنے، ایشوز سے سب کی توجہ ہٹانے کیلئے ایسے شوشے چھوڑے ہوئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کہا جا رہا ہے کہ صدارتی نظام کی راہ ہموار کرنے کیلئے اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں، کیا کہنا چاہیں گے اس حوالے سے۔؟
محمد حسین محنتی:
پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت ایک کمزور حکومت ہے، پارلیمنٹ میں ان کے پاس انتہائی کم مارجن سے اکثریت ہے، اس لئے اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنا ان کے بس میں نہیں، فاٹا کیلئے ترمیم انہوں نے قومی اسمبلی سے تو منظور کرائی ہیں، لیکن سینیٹ میں اب تک اسے نہیں لے جا سکے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ایسی بڑی دستوری ترمیم کرنا پی ٹی آئی حکومت کیلئے ممکن نہیں ہے، کیونکہ اس کیلئے دو تہائی اکثریت چاہیئے، جو ان کے پاس نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سمیت اہم شخصیات کی حالیہ گرفتاریوں کو کیسے دیکھتے ہیں۔؟
محمد حسین محنتی:
پی ٹی آئی حکومت کا تو یہی کہنا ہے کہ ساری گرفتاریاں نیب نے کرپشن الزامات کے تحت کی ہیں اور ریمانڈ بھی حاصل کیا ہے، لیکن جس وقت یہ گرفتاریاں کی گئی ہیں، اس میں کہہ سکتے ہیں کہ کچھ انتقامی جذبات بھی شامل ہوگئے ہیں، گرفتار شخصیات پر کافی عرصے سے کیسز چل رہے تھے، جن میں قبل از گرفتاری ضمانتیں لی ہوئی تھیں، لیکن اب ہائی کورٹ نے ضمانتیں ختم کرکے گرفتاری کا دروازہ کھول دیا، جس کا فائدہ اٹھا کر گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عوام کو سابقہ حکمرانوں سے انتہائی شکوہ ہے۔

جنہوں نے غلط کام کئے ہیں، قومی خزانے کو لوٹا ہے، اب جب یہ کرپشن کیسز عدالت میں چلے گئے ہیں، تو جماعت اسلامی کا موقف یہی ہے کہ دیکھو اور انتظار کرو کہ عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے، اگر الزامات بدنیتی کے تحت لگائے گئے ہیں تو رہا ہو جائیں گے اور الزامات ثابت ہوگئے تو سزائیں ہو جائیں گی، جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ جنہوں نے بھی کرپشن کی ہے، خصوصاً پاناما میں جن چار سو سے زائد افراد کے نام آئے ہیں، ان کے خلاف ضرور کارروائی ہونی چاہیئے، تاکہ قومی دولت لوٹنے والوں کو سزائیں دیکر ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لیکر قومی خزانے میں جمع کرائی جا سکے۔

اسلام ٹائمز: بجٹ کے حوالے سے آپکی کیا رائے ہے۔؟
محمد حسین محنتی:
بجٹ انتہائی مایوس کن ہے، بجٹ میں سارے ٹیکسز لگا دیئے گئے ہیں، جس سے عوام کے ساتھ ساتھ خاص طور پر ملکی صنعت و تجارت کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے، خاص طور پر زیرو ریٹڈ انڈسٹریز، جن سے ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا تھا، اس بنیاد پر کہ وہ ایکسپورٹ اورینٹڈ انڈسٹریز ہیں، جن میں ٹیکسٹائل، چمڑے، قالین، سرجیکل آلات و دیگر صنعت شامل ہیں، ان پر حکومت نے ٹیکس لگا دیئے ہیں، جبکہ یہ صنعتیں کہتی ہیں ان کے چار سو ارب روپے پہلے ہیں ٹیکس ریفنڈ میں نکلتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ بنیادی اشیاء خوردونوش پر بھی ٹیکس لگا دیئے ہیں، جس کا سارا بوجھ عوام پر منتقل ہوگیا، دوسری جانب حکومت نے سود کی ادائیگی کیلئے مزید سودی قرضے لے لئے ہیں، جس کے باعث ملک مزید دلدل میں پھنس جائے گا، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ حکومت قرضوں کی دلدل سے چھٹکارہ پانے کی کوشش کرتی، لیکن اس نے مزید سودی قرضے لے لئے۔ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے، مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، مہنگائی کے مزید نئے نئے ریکارڈ قائم کئے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے سمیت عوامی ریلیف کا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔

اسلام ٹائمز: جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک حکومت ہٹانے کیلئے ہے یا کوئی اور مقصد ہے۔؟
محمد حسین محنتی:
موجودہ حکومت میں بھی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے، اس حوالے سے جماعت اسلامی نے عوامی رابطہ مہم کا فیصلہ کیا، ہماری احتجاجی تحریک حکومت ہٹانے کیلئے نہیں، نہ ہی کسی کو رہائی دلانے کیلئے ہے، بلکہ ہماری تحریک مہنگائی اور پی ٹی آئی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے خلاف ہے، ہم احتجاجی تحریک کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں، تاکہ حکومت مہنگائی ختم کرکے عوام کو ریلیف دے۔

اسلام ٹائمز: ملک میں سیاسی مستقبل کیسا نظر آرہا ہے۔؟
محمد حسین محنتی:
ملکی سیاسی مستقبل اچھا نظر نہیں آرہا، جب تک ہم بنیادی اصلاحات نہیں کرینگے، قیام پاکستان کے بنیادی مقاصد کی جانب ملک کو لیکر نہیں چلیں گے، اس وقت تک ملک میں ترقی نہیں ہوسکتی، پاکستان قرآن و سنت کے نظام کیلئے بنا تھا، عدل و انصاف کیلئے بنا تھا، اس کا کہیں وجود نہیں ہے، اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا، سودی نظام کے باعث ملکی بجٹ کا تقریباً آدھا حصہ سود اور قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے۔ مہنگائی، لوڈشیڈنگ، بے روزگاری کے خاتمے کیلئے حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کئے، یہ سب عوامل واضح کرتے ہیں ملکی سیاسی مستقبل اچھا نظر نہیں آرہا۔

اسلام ٹائمز: پی ٹی آئی حکومت چلتی نظر آرہی ہے یا حالات مڈ ٹرم الیکشن کی طرف جاتے نظر آرہے ہیں۔؟
محمد حسین محنتی:
ملک میں عوام اور خواص میں یہ تقریباً یہ ایک تاثر بن گیا ہے کہ حکومت کو پانچ سال کام کرنے کا موقع دیا جائے، حکومت پر ملکی بہتری کیلئے دباؤ رکھنا چاہیئے، تاکہ حکومتی کمزوریوں کی اصلاح کی جا سکے، مڈ ٹرم الیکشن ملک کیلئے بہتر نہیں بلکہ نقصاندہ ہیں۔
خبر کا کوڈ : 800033
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب