0
Tuesday 18 Jun 2019 10:45

عمران خان کی خام خیالی ہے کہ وہ انکوائری کمشن کے ذریعے اپوزیشن کو دبا لینگے، چوہدری حامد حمید

عمران خان کی خام خیالی ہے کہ وہ انکوائری کمشن کے ذریعے اپوزیشن کو دبا لینگے، چوہدری حامد حمید
پنجاب کا ضلع سرگودہا پاکستان مسلم لیگ نون کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، چوہدری حامد حمید پی ایم ایل این کے اہم رہنماء ہیں۔ 80 کی دہائی میں نوجوان لیڈر کے طور پر سیاست میں قدم رکھنے والے لیگی رہنما، بنیادی طور پر تاجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں، پاکستان مسلم لیگ نون کے دیرینہ رکن قومی اسمبلی نے انتخابی سیاست کا آغاز بلدیاتی سیاست سے کیا اور سرگودہا کے کامیاب میئر رہے، بعد ازاں رکن اسمبلی منتخب ہوتے رہے، مسلم لیگ نون کی قیادت کے وفادار ترین سمجھے جانے والے رکن قومی اسمبلی کا اسلام ٹائمز کیساتھ انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔﴿ادارہ﴾

اسلام ٹائمز: کیا اپوزیشن کرپشن کیسز میں ہونیوالی گرفتاریوں کے ذریعے کارکردگی کے نقائص کی پردہ پوشی میں حکومت کو کامیاب ہونے دیگی۔؟
چوہدری حامد حمید:
یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے، جو عوام کی نکلتی چیخوں نے کر دیا ہے، ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، عوام کے حق پہ ڈاکہ ڈالنے والوں کو جس طرح ایوان میں آڑے ہاتھوں لیا ہے، اسی طرح سڑکوں پر بھی یہ آواز بلند کرینگے، ایک دن صبح یہ خبر آتی ہے کہ پاکستان کی صنعت سکڑ گئی ہے، مہنگائی بڑھ گئی ہے، کاروبار رک گیا ہے، قرضوں میں اضافہ ہوگیا ہے، بجٹ آئی ایم ایف کی کڑی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے، پاکستانی عوام کا مستقبل مخدوش ہوچکا ہے، اگلے ہی دن انہوں نے ان سارے ایشوز سے توجہ ہٹانے کیلئے گرفتاریاں شروع کروا دیں۔ یہ انصاف کیسے کہا جا سکتا ہے، یہ تو سیاسی انتقام ہے، نیب اور حکومت کا گٹھ جوڑ پہلے ہی واضح ہوچکا ہے۔

وزراء ایک دن پہلے اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ کل یہ پکڑا جائیگا، پرسوں یہ پکڑا جائیگا، یہ خود سراسیمگی کا شکار ہیں، ان کا خوف ان کی زبان سے ظاہر ہو رہا ہے اور ایک سال پورا نہیں ہوا لیکن ان کے ہاتھ پاؤں پھول چکے ہیں، ہماری حکومت نے بھی 33 ارب کے قرضے واپس کیے، لیکن وہ سارے نواز شریف یا شاہد خاقان عباسی نے نہیں لیے تھے، پہلے کی حکومتوں نے لیے تھے، اس کے مقابلے میں یہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور گھبرا رہے ہیں، یہ تسلیم کرنے کی بجائے کہ ملک چلانا ہمارے بس کی بات نہیں، الٹا دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: احتساب اب صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں، بلکہ پاک فوج کے افسروں کو بھی کڑی سزائیں سنائی گئی ہیں، اب تو سیاسی انتقام کا الزام نہیں لگایا جانا چاہیئے۔؟
چوہدری حامد حمید:
سٹاک ایکسچینج میں انوسٹمنٹ پہ جرنیلوں کو سزا ہوئی ہے، لیکن وہ دن کب آئے گا جب موجودہ حکومت سے پوچھا جائیگا کہ انہوں نے تو پنشن فنڈ کا 20 ارب روپیہ اسٹاک ایکسچینج میں جھونک دیا ہے، اس کے باوجود ملکی معیشت میں کوئی بہتری نہیں آئی، روپے کی قدر مزید گری ہے، برآمدات کم ہو رہی ہیں، اگر کسی جرنیل یا فوجی آفسر کو ملنے والی سزا کو مثال بنایا جا رہا ہے تو یہ بھی بتایا جائے کہ موجودہ وزیر دفاع سے اس پہ چلنے والے کیسز کا حساب کب لیا جائیگا، پشاور میٹرو کا حساب کون دیگا، جن لوگوں کو عمران خان نے پنجاب کا ڈاکو کہا اور اسمبلی میں پنجاب بینک کے لوٹے جانے کی تفصیلات صحافیوں کو دی گئیں، ان سے کون پوچھے گا، کیا اسے انصاف اور احتساب کہا جا سکتا ہے، جس کا نشانہ سیاسی مخالفین ہوں۔

جو جو آپ کی من پسند پارٹی میں چلا جائے یا کٹھ پتلی حکومت کا حصہ بن جائے، اسے ہر قسم کی چھوٹ ملتی جائے، اس کے سارے گناہ دھل جائیں، کیا دنیا کی تاریخ میں کہیں اس کی مثال موجود ہے، ہرگز اسے نیک نیتی نہیں کہا جا سکتا۔ وزیراعظم کا ذہن تو ساری قوم جانتی ہے، نئی بات وہ لیکر آئے ہیں کہ ایک کمیشن بنائیں گے، کن لوگوں کا کمیشن بنائیں گے، وہ سارے لوگ جو ان کے ماتحت ہیں، وہ خود سربراہ بن جائیں گے، جوڈیشیل اور پارلیمانی کمیشن تو بنتے رہتے ہیں، یہ پرائم منسٹریل کمیشن تاریخ میں پہلی دفعہ بننے جا رہا ہے، جو ان تمام لوگوں سے حساب لے گا، جو اپوزیشن میں ہوں گے، جبکہ کہ فنانس منسٹری اور سابقہ دور حکومت کے لوگ آپ کی کابینہ میں بیٹھے ہیں، آپ نے ان سے تفصیلات مانگی ہیں اور انہوں نے قرضوں کی ادائیگی اور اخراجات کی تفصیل آپ کو نہیں دی تو آپ بات کریں۔

یہ صرف بہانے ہیں، لیکن بہانوں سے سیاست اور حکومت کا کاروبار نہیں چلتا، کم از کم زیادہ دیر تک نہیں چلے گا۔ کیا جرنیلوں کو ملنے والی سزائیں جہانگیر ترین، علیم خان اور علیمہ خان کیس کیلئے مثال بنائی جائیں گئیں، ہرگز نہیں، تو پھر اس کا کیا مطلب ہے، فوج میں ڈسپلن اور معمول کی کارروائی کو اچھالنے سے ملک کا فائدہ کیسے ہوسکتا ہے، فوج میں تو جاسوسی کے جرم میں بھی سزائیں دی گئی ہیں، کیا کوئی سیاستدان ایسا ہے، جس نے غداری اور جاسوسی کی ہو، نہیں ہے، غداری کا مقدمہ تو فوجی آمر پہ چل رہا ہے، جو عدالت میں پیش ہونیکے لیے بھی تیار نہیں، یہ سزائیں اپنی جگہ درست ہیں، لیکن انہیں مثال بنانا درست نہیں۔

اسلام ٹائمز: جو کچھ وزیراعظم کہہ رہے ہیں، یہ مبنی بر حقیقت نہیں تو انہیں رات گئے قوم سے خطاب کرنیکی ضرورت کیوں پیش آئی۔؟
چوہدری حامد حمید:
یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں، کوئی آفت نہیں، کوئی ایمرجنسی نہیں ہے، کوئی ہنگامی حالت درپیش نہیں، صرف اپنی نااہلی کا رونا رو رہے ہیں، جب سے حکومت میں آئے ہیں۔ دس ماہ ہوگئے، ہر ہفتے کوئی نئی چیز لے آتے ہیں، پہلے جو کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں یا کر رہے ہوتے اس پہ مٹی ڈال دیتے ہیں، اس کو بھلانے کیلئے نئی باتیں اور نئے دعوے کرتے ہیں، پہلے لوٹی ہوئی رقوم وطن واپس لانے کی بات کی، چند روز قبل ہی اثاثے ریکور کروانے کیلئے یونٹ کا اعلان کیا، ایمنسٹی کا فیصلہ کیا، پھر اچانک بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ اپنے ہی ماتحت کمیشن بنانے والے ہیں، بار بار اپیلیں کر رہے ہیں، خواب دکھا رہے ہیں، لیکن لوگوں کا اعتماد اگر تھا بھی تو وہ اب ختم ہوچکا ہے، کسی نے کوئی رسپانس نہیں دیا، لوگ اب مایوسی سے آگے گذر چکے ہیں، مڈ ٹرم الیکشن کی باتیں ہو رہی ہیں، شاید اس کے علاوہ ملک کو بچانے کا کوئی اور راستہ نہیں۔

جہاں تک بے سر و پا خطاب کی بات ہے تو، ہوا صرف یہ ہے کہ پارلیمان میں جو ملکی مفاد اور ملکی سلامتی کے منافی درآمد شدہ بجٹ پیش کیا گیا تو اپوزیشن کے ارکان جرات مندی سے اس کتاب کو پھاڑ کر جعلی وزیراعظم کے منہ پہ دے مارا، اپنی ناکامی چھپانے کیلئے قومی ٹی وی کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے، قوم کے اضطراب میں اضافے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسوقت وزیراعظم صاحب کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے، جارحانہ موڈ میں قوم سے خطاب کرنے کا کیا مطلب ہے، حالانکہ مودی کو فون کرتے ہیں، وہ فون نہیں سنتا، لیکن اس کا نام بھی احترام سے لیتے ہیں، تحمل نام کی کوئی چیز نہیں، نہ برداشت ہے۔ ایسے میں ملک کیسے چل سکتا ہے، سراسر نقصان ہی کرینگے، ان کی بد نیتی اسے سے ثابت ہو جاتی ہے کہ انہوں نے جب اپوزیشن کیخلاف چارج شیٹ لگائی ہے اور کہا یہ ہے کہ جو کمیشن ہوگا، وہ میرے ماتحت ہوگا، یہ خود ایک ناقابل اعتماد چیز ہے۔

اسلام ٹائمز: اگر کمیشن بن جاتا ہے تو اپوزیشن کے رہنماء بالخصوص سابق وزراء اسکے سامنے پیش ہو کر سامنا کرنیکی پوزیشن میں ہونگے۔؟
چوہدری حامد حمید:
ہم سمجھتے ہیں کہ ویلکم آئیں اور اس معاملے پر بات کریں، قرضے کہاں سے آئے، کیسے آئے، کس کس طرح دور میں کہاں کہاں خرچ ہوئے، پی ٹی آئی نے اپنی ناکامی اور نااہلی چھپانے کیلئے یہ بیانیہ بنا لیا ہے کہ تمام تر کمزوریوں اور ناکامیوں کے ذمہ دار دوسرے ہیں، یہ اچھا ہے کہ موجودہ مشیر خزانہ پیش ہوں اور بتائیں کہ میں پی پی دور میں وزیر خزانہ تھا، سب سے زیادہ عرصہ بھی میرے پاس تھا، یہ یہ قرضے میرے دور میں آئے اور یہ قرضے کہاں کہاں پہ خرچ ہوئے، ہر دور میں سب سے تفصیل وزیر خزانہ کے پاس ہوتی ہے، اسی طرح خسرو بختیار نون لیگ کی حکومت کا حصہ تھے، انہیں بھی سب کچھ پتہ ہوگا، وہ آکر پیش ہوں اور بتائیں کہ قرضے کتنے، کیسے آئے اور کدھر خرچ ہوئے۔ عمران خان کی کابینہ میں بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں، جو پچھلے دس سال میں مختلف حکومتوں کا حصہ رہے ہیں، وہ سب تفصیل جانتے ہیں، انہیں کمیشن کے سامنے پیش ہو کر بتانا چاہیئے کہ قرضوں میں کہاں کہاں گھپلے ہوئے ہیں۔

کس نے کتنا نقصان پہنچایا ہے، کس نے کتنا کھایا ہے، کیمشن بننا نہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جو لوگ میرے ساتھ ہیں، انہیں کچھ نہیں کہا جائیگا، ان سے نہیں پوچھا جائیگا، جو مخالفین ہیں انہیں بلایا جائیگا اور ان سے پوچھا جائیگا، ان باتوں اور ایسے کمشنوں سے ملک کی بدنامی ہوگی۔ غیر ملکی قرضوں کی دساویزات موجود ہیں، کوئی بھی ان کو کھولے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا، ہمیں کوئی اعتراض نہیں، صرف یہ خدشہ ہے کہ پہلے سے موجود اداروں کی موجودگی میں ایسے اقدامات کا مقصد صرف سیاسی انتقام ہوتا ہے، اس لیے اسکی ضرورت نہیں۔ جب پہلے سے ہی ریکارڈ موجود ہے کہ جو قرضے آئے وہ کس پروجیکٹ اور کس منسٹری کے ذریعے کس طرح خرچ ہوئے، کیا اس ریکارڈ کو وزیراعظم نے دیکھ لیا ہے، اس کی چھان بین ہوگئی ہے، اس کے بعد اگر کوئی بات سمجھ میں آنے والی نہیں تو جس کو چاہیں بلا لیں، پوچھ لیں۔

لیکن یہ عمل اپنی حکومت میں بیٹھے ہوئے سابق حکومتوں میں وزیر رہنے والے اور کام کرنے والے لوگوں سے شروع کریں۔ یہ چھان بین کا کام شروع کریں تو عمران خان کو پتہ چلے گا کہ پی پی کے دور میں سوات سے جو لوگ آپریشن کی وجہ سے ہجرت پر مجبور ہوئے، آپریشن کے جو اخراجات ہوئے، وہ کیسے پورے کیے گئے، اسی طرح ضرب عضب تک اور وزیرستان سے ہجرت کرنے والوں کو سیفران کی وزارت کے ذریعے کیسے رہائش، خوراک اور علاج کی سہولت فراہم کی گئی، جو قرضے آتے رہے ہیں، وہ خرچ ہوتے رہے ہیں اور اس کا ریکارڈ موجود ہے، اس کے بغیر تو ملک چل ہی نہیں سکتا۔ یہ عمران خان کی خام خیالی ہے کہ وہ کمشنوں کے ذریعے اپوزیشن کو دبا لیں گے، اس طرح ناکامی چھپانا ممکن نہیں۔

اسلام ٹائمز: نون لیگ نے بھی احستابی کمیشن بنایا، بعد میں نیب قوانین میں ترمیم بھی کی، لیکن کسی سول حکومت نے فوجی آمروں کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی۔؟
چوہدری حامد حمید:
احتساب سے تو کسی نے انکار نہیں کیا، نہ ہی ہم اپنے اثاثوں اور حکومتی فیصلوں یا منصوبوں کا حساب دینے سے گھبراتے ہیں، لیکن ایک بات ضرور ہے کہ پہلے عمران خان یہ بات کرتے تھے کہ مشرف کا دور بدترین آمریت اور پاکستان کیلئے سخت اور نقصان دہ زمانہ تھا، اب انہوں نے پنترا بدلہ ہے اور نیا راگ الاپ رہے ہیں کہ جمہوریت کے دور میں کرپشن ہوئی ہے، اس لیے سول حکمرانوں کا حساب اور احتساب ضروری ہے۔ سب جانتے ہیں کہ جنرل مشرف جب ملک کے سیاہ اور سفید کے مالک تھے اور عمران خان اسمبلی میں اپنی پارٹی کے واحد رکن تھے تو اسوقت جب بھی بات ہوتی تھی تو خان صاحب ہمیشہ مشرف کی پالیسیوں اور قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے تھے، اسی طرح 12 مئی کو کراچی میں جو قتل عام ہوا، وہ بھی عمران خان جانتے ہیں کہ مشرف کا کردار اس میں کیا تھا، اس پر انہوں نے بار ہا تنقید بھی کی۔

مشرف کیخلاف تحریک میں بھی خان صاحب پیش پیش رہے، پورا دور مشرف کا وہ تنقید کرتے رہے، صرف اسی وجہ سے وہ میڈیا میں اور عوام میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے، لیکن اب کیا وہ جرائم اور غداری کیس ان کے صفحہ ذہن سے مٹ چکے ہیں، کیا یہ بھی ایک مثبت یوٹرن ہے، یہ ساری باتیں ایک آدمی کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں۔ ہر سیاستدان نے فوجی آمریت اور بالخصوص مشرف کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی بات کی ہے، لیکن جب حکومت میں آئے ہیں عمران خان تو وہ مکمل خاموش ہیں، یہ سیاسی منافقت ہے، مسلم لیگ سمیت تمام پارٹیز اپنی غلطی کا اعتراف بھی کرچکی ہیں اور آئندہ کیلئے کسی فوجی آمر کا نہ دینے اور جمہوریت کو مضبوط بنانے کے عزم پہ قائم ہیں، اسی کی سزا ہمیں دی گئی ہے، اس لیے اب یہ کہنا مناسب نہیں کہ سیاستدان مفادات یا لالچ اور خوف کی وجہ سے کسی فوجی آمر کیخلاف زبان کھولنے کو تیار نہیں ہیں۔

عمران خان کا پرویز مشرف مخالف بیانیہ ہی ان کی پہچان بن گیا تھا، لیکن جب وہ وزیراعظم بنے ہیں تو ان کی زبان کو تالا لگ گیا ہے، ان کی زبان گنگ ہوگئی ہے، مشرف کیخلاف کیسز تو موجود ہیں لیکن وزیراعظم ہونے کے باوجود خان صاحب کو کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں، اب مشرف اور پاکستان کے غدار الطاف حسین دونوں کیلئے وکیل فروغ نسیم صاحب عمران خان کی کابینہ ہیں، صرف فروغ نسیم ہی نہیں بلکہ اور بھی وہ لوگ جو مشرف کی کابینہ میں تھے، موجودہ حکومت کا حصہ ہیں، اب تو عدالت نے بھی فوجی آمر سے ڈیفنس کا حق بھی ختم کر دیا ہے، عدالت یہ سمجھتی ہے کہ غداری کیس میں مشرف جو بار بار ٹائم لیتے رہے ہیں، یہ اب انہیں مزید ٹائم نہیں ملنا چاہیئے، اسکا کیا مطلب ہے، اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لندن اور دبئی سے غداری کیس کے مجرموں کو لا کر قانون کے کٹہڑے میں کھڑا کرے، لیکن خان صاحب کو صرف سول حکمران اور مخالف سیاستدان ہی نظر آتے ہیں، اس میں چھپا پیغام ہر ایک کو سمجھ آرہا ہے، وہ کٹھ پتلی حکمران ہیں۔
خبر کا کوڈ : 800098
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب