0
Wednesday 19 Jun 2019 21:50

کشمیر کی انفرادیت اور شناخت کے پیچھے ایک سنہری تاریخ ہے جسکا تحفظ لازمی ہے، علی محمد ساگر

کشمیر کی انفرادیت اور شناخت کے پیچھے ایک سنہری تاریخ ہے جسکا تحفظ لازمی ہے، علی محمد ساگر
علی محمد ساگر کا تعلق جموں و کشمیر کے شہر خاص سرینگر سے ہے۔ آپ متعدد بار مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے ممبر رہ چکے ہیں۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی ٹکٹ پر اسمبلی نشست خانیار سرینگر سے منتخب ہوکر حکومت میں اہم عہدوں پر فائض رہے ہیں۔ علی محمد ساگر جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ بھارت و پاک مذاکرات کی زوردار وکالت کی ہے۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے علی محمد ساگر سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: مقبوضہ کشمیر کی انفرادیت اور خاص طور پر دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 جو ابھی بھاجپا کے نشانے پر ہے، کا تحفظ کیسے ممکن ہے۔؟
علی محمد ساگر: جموں و کشمیر کی انفرادیت اور خصوصی شناخت و پہچان کے پیچھے ایک سنہری تاریخ ہے اور شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے تاریخ ساز اقدامات ہماری اس انفرادیت سے جھلکتے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کی عظیم قیادت نے کشمیر کی انفرادیت کے حصول اور تحفظ کے لئے بہت ساری قربانیاں پیش کی ہیں۔ دفعہ 370 اور 35 اے سے ہماری ریاست کی انفرادیت کو تحفظ حاصل ہوا ہے اور اب یہ ریاست کے تینوں خطوں خصوصاً نوجوانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شانہ بہ شانہ چل کر ریاست کی اس انفرادیت کی رکھوالی میں اپنا رول ادا کریں، اگر ہم متحد ہوکر کشمیر کو تحفظ فراہم کرنے لگیں گے تو بھاجپا تو کیا کوئی بھی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا پائے گی۔

اسلام ٹائمز: حالیہ ایام میں پارلیمانی انتخابات میں آپ کی جماعت نیشنل کانفرنس کو خاصی اکثریت حاصل ہوئی، آنے والے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے کیا تیاریاں ہیں۔؟
علی محمد ساگر: پہلے ہم حالیہ پارلیمانی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو بھرپور حمایت دینے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انشاء اللہ عوام کے اشتراک سے نیشنل کانفرنس پھر ایک بار کشمیری قوم کے لئے نجات دہندہ جماعت ثابت ہوگی۔ نیشنل کانفرنس واحد ایسی عوامی نمائندہ جماعت ہے، جس نے ہمیشہ عوامی اور ریاستی مفادات کی پاسبانی کی ہے۔ میں یہاں پر یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ مختلف ایجنسیوں کے آلہ کار، جو عوام کے سامنے مختلف لبادے پہن کر ہمدردیاں بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں، کشمیریوں کے نمائندے نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ایسے خود ساختہ لیڈران اس قوم کے خیرخواہ ہوسکتے ہیں جو آر ایس ایس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ ہماری جماعت کی اولین ترجیح کشمیر کی خصوصی پوزیشن کا دفاع کرنا ہے اور اس کے لئے ہمیں عوام کی بھرپور حمایت درکار ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نینشل کانفرنس کے عہدیدار اور کارکن عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھ کر اُن کے مسائل و مشکلات اُجاگر کریں۔
 
اسلام ٹائمز: مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ مخلوط حکومت خاص طور پر پی ڈی پی حکومت کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔؟
علی محمد ساگر: دیکھیئے پی ڈی پی و بھاجپا کی مخلوط حکومت کے قیام سے لیکر آج تک کشمیر میں ہر چہار سو غیریقینیت، بے چینی، ظلم و تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔ نیشنل کانفرنس واحد ایسی سیاسی نمائندہ جماعت ہے جو عوام کو اس دلدل سے نکال سکتی ہے، اللہ کے فضل و کرم اور لوگوں کے اشتراک سے ہماری جماعت لوگوں کو پھر سے ایک بار چین اور سکون کی زندگی بسر کرنے، پُرامن ماحول اور سازگار حالات بحال کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ نیشنل کانفرنس کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس جماعت کے بانی شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے جموں و کشمیر کے عوام کو صدیوں کی غلامی، ظلم و ستم، غربت اور افلاس سے آزادی دلائی۔ آج بھی یہاں کے عوام گوناگوں مسائل و مشکلات اور ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں، 2014ء میں یہاں مکمل امن و امان تھا، ہر ایک شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن تھا لیکن پی ڈی پی بھاجپا اتحاد کے ساتھ ہی 2015ء سے یہاں سب کچھ بدل گیا اور آج کے حالات 1990ء سے ذرا برابر بھی مختلف نہیں ہیں۔ یہاں کی عوام آج سابق عمر عبداللہ حکومت کی کارکردگی اور عوام دوست اقدامات کا اعتراف کرتی ہے۔ اگر ہم یہاں پی ڈی پی کی بات کریں تو پی ڈی پی نے یہاں رشوت کا بازار گرم کیا، جنوبی مقبوضہ کشمیر کو قتل گاہ بنایا۔ نوجوان نسل کی بے تحاشہ نسل کشی کروائی اور قابض فورسز کو بے پناہ اختیارات دے کر جنوبی کشمیر کو جہنم زار بنایا، اسی جماعت نے مسلمان دشمن جماعت آر ایس ایس کو کشمیر میں راہ ہموار کردی اور یہاں فرقہ پرستی کا جال بچھایا۔
 
اسلام ٹائمز: آپ یا آپ کی جماعت مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے کیا موقف رکھتی ہے۔؟
علی محمد ساگر: نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارت اور پاکستان کے درمیان بامعنی مذاکرات اور مزاحمتی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کی وکالت کی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ اس دیرینہ اور پیچیدہ مسئلے کا حل ہٹ دھرمی، انا اور جنگ و جدل سے نہیں نکل سکتا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے تمام متعلقین کے درمیان بامعنی اور ٹھوس مذاکرات سے ہی اس دیرینہ مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ جموں و کشمیر کے لوگوں نے بہت زیادہ خون خرابہ دیکھا ہے، کشمیری عوام بھی امن و امان اور خوشحالی کے مستحق ہیں اور یہ اُسی صورت میں ممکن ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان اچھے رشتے قائم ہونگے۔
 
اسلام ٹائمز: ابھی تک دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ بی جے پی حکومت نے مسئلہ کشمیر سے آنکھ چرائی ہے یا ہٹ دھرمی سے کام لیا ہے، آپ مودی حکومت کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے۔؟
علی محمد ساگر: ہمارا مشورہ یہی ہے کہ مودی حکومت کو چاہیئے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے پاکستان سے مذاکرات و بات چیت شروع کرے اور خاصکر اس مسئلہ کے اول فریق کشمیری رہنماؤں اور یہاں کے نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں۔ بھارت کے ساتھ کشمیر کا رشتہ ایک باقائدہ غیر مشروط الحاق سے مہاراجہ ہری سنگھ نے کیا تھا اور دفعہ 370 اور 35 اے اس کی بنیاد ہے۔ اگر ہم خصوصی پوزیشن (اٹانومی) کی بحالی چاہتے ہیں تو یہ کوئی ملک دشمن نعرہ نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے اور بھارت و پاکستان کے عوام بخوبی واقف ہیں کہ کشمیر کا اپنا آئین، اپنا صدرِ ریاست، اپنا وزیراعظم، اپنی عدلیہ، اپنا الیکشن کمشنر اور لکھن پور سے نوبرہ تک ویزا سسٹم تھا جو بدقسمتی سے کانگریس حکومتوں کے دوران غلام محمد صادق، میر قاسم اور آخر میں مفتی محمد سعید کے ذریعہ آہستہ آہستہ کھوکھلا کیا گیا۔ اگر یہ جعفر بنگال اور صادق دکن کے طریقہ کار نہ اپناتے تو آج کشمیری عوام عتاب میں مبتلا نہ ہوتے۔
 
اسلام ٹائمز: آپ کی نظر میں مسئلہ کشمیر کی حقیقت کیا ہے اور کشمیریوں کی مانگ کیا ہے۔؟
علی محمد ساگر: ہمارا ماننا ہے کہ کشمیر کسی کی جاگیر نہیں اور نہ نوآبادی کالونی ہے۔ کشمیر کے تینوں خطوں کے پشتنی باشندے یہاں کے مالک ہیں اور ہم 1952ء کی خصوصی پوزیشن کا درجہ بحالی کرنے کی مانگ کرتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر اگر ہندوستان کا تاج ہے تو مودی حکومت کو سخت گیر پالیسی سے گریز کرنا چاہیئے اور یہاں کے لوگوں کے دل جیتنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ ہمارا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کی دیگر ریاستوں سے مختلف ہے کیونکہ اس کی اپنی ایک الگ انفرادیت اور شناخت ہے، یہ مسلم اسٹیٹ ہے جس کا اپنا آئین ہے۔ ہماری عوام سے یہی اپیل ہے کہ وہ دن رات متحد ہو کر کشمیر دشمن عناصر جو کشمیر کی وحدت و انفرادیت کو ختم کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

اسلام ٹائمز: لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے کے حوالے بھاجپا حکومت نے کیا اقدام اٹھائے ہیں۔؟
علی محمد ساگر: دیکھیئے بھاجپا حکومت کے بلند بانگ دعوے زمینی سطح پر کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں، نہ تو بھارتی حکومت گولہ باری روکنے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے اور نہ ہی اب تک بھاجپا حکومت سرحدی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر پائی ہے۔ گذشتہ کئی برسوں سے لائن آف کنٹرول پر شدید فائرنگ اور گولہ باری ہو رہی ہے، لیکن حکومت نے ابھی تک آبادی کو محفوظ مقامات منتقل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس آبادی کی حفاظت کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ آج سرحدی علاقے شدید بحران کے شکار ہیں حتی کہ تمام تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں تو اسکی ذمہ داری بھاجپا حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 800180
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب