0
Friday 21 Jun 2019 22:30

دھماکے میں والد کے زخمی ہونیکا دکھ ہے، کسی صورت راہ حسین (ع) سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، دختر سید مجاہد حسین

دھماکے میں والد کے زخمی ہونیکا دکھ ہے، کسی صورت راہ حسین (ع) سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، دختر سید مجاہد حسین
سید مجاہد حسین زیدی صاحب آج سے ٹھیک 6 سال قبل 21 جون 2013ء کو جامعہ شہید عارف الحسینی (رہ) پشاور میں ہونے والے ایک خودکش حملہ میں دیگر 40 سے زائد نمازیوں کے ہمراہ شدید زخمی ہوگئے تھے، اس سانحہ میں 19 بے گناہ افراد کو خانہ خدا میں دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تھا۔ مجاہد حسین زیدی کو اس سانحہ کے باعث ایک ٹانگ سے بھی محروم ہونا پڑا۔ اسلام ٹائمز نے اس سانحہ کی چھٹی برسی پر  انکی دختر سیدہ ثناء علی کیساتھ اس سانحہ کے حوالے سے ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ادارہ
 
اسلام ٹائمز: سب سے پہلے تو ہمارے قارئین کو اس سانحہ کے روز کی تفصیل سے آگاہ کیجئے گا۔؟
دختر سید مجاہد حسین: آپ کا بہت شکریہ کہ مجھ ناچیز کو اس قابل سمجھا۔ 21 جون 2013ء کا دن تھا اور جمعۃ المبارک تھا۔ ہمارے والد اور بھائی جامعہ شہید عارف الحسینی (رہ) میں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے جاتے تھے، والد گرامی نماز سے کچھ وقت قبل ہی مسجد پہنچ جاتے تھے اور نوافل وغیرہ ادا کرتے، اس روز بھی والد نماز جمعہ کا خطبہ شروع ہونے سے قبل ہی مسجد پہنچ چکے تھے۔ نماز جمعہ سوا ایک بجے شروع ہو جاتی تھی، ابھی مسجد میں لگ بھگ 60 افراد ہی موجود تھے کہ والد گرامی بتاتے ہیں کہ اچانک ہمیں فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ یوں نمازی چوکنے ہوگئے، اس دوران شدید گرمی کے موسم میں ایک نوجوان جیکٹ پہنے مسجد میں فائرنگ کرتے ہوئے داخل ہوا، اس کو دیکھ کر تمام نمازی محراب میں جمع ہوگئے، کیونکہ وہاں باہر نکلنے کا ایک چھوٹا دروازہ موجود تھا، ابو بھی ان نمازیوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے، اسی دوران وہ بدبخت دہشتگر سیدھا محراب کی جانب بڑھا اور دھماکہ سے خود کو اڑا دیا، اس دھماکہ کے نتیجے میں ابو سمیت 40 سے زائد مومنین زخمی اور قائد شہید کے پوتے سمیت 19 شہید ہوگئے۔
 
اسلام ٹائمز: آپکو اس سانحہ کی اطلاع کب اور کیسے پہنچی۔؟
دختر سید مجاہد حسین: دھماکہ کے فوری بعد بھائیوں کو تو اطلاع ہوگئی تھی، تاہم انہوں نے گھر فوری اطلاع نہیں دی، جب انہیں معلوم ہوگیا کہ ابو زخمی ہیں، تب انہوں نے ہمیں آگاہ کیا اور یہی بتایا کہ ابو معمولی زخمی ہیں، مگر درحقیقت ابو شدید زخمی ہوچکے تھے۔ ان کی دونوں ٹانگوں میں فریکچر تھے اور کچھ بارودی مواد نے ان کے پیٹ کو بھی متاثر کیا۔ جب ہم اسپتال پہنچے تو وہ ایمرجنسی وارڈ میں تھے، یہ سانحہ ہمارے لئے انتہائی تکلیف دہ تھا، مگر خدا کی رضا پر راضی تھے۔ ہم اس بات کا شکر ادا کر رہے تھے کہ انکی جان بچ گئی ہے، جبکہ دوسری جانب اپنے دیگر شہداء کا غم اپنی جگہ موجود تھا۔
 
اسلام ٹائمز: کیا اسی وقت آپکے والد کو ایک ٹانگ سے محروم ہونا پڑا تھا۔؟
دختر سید مجاہد حسین: اس وقت تو نہیں، سرکاری اسپتال میں نگہداشت اور علاج سے ہم مطمئن نہیں تھے، کیونکہ جمعہ کو سانحہ ہوا اور دونوں ٹانگیں بری طرح متاثر ہوئیں، اس کے باوجود سرکاری اسپتال کے ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ آپریشن بدھ کو کریں گے، جبکہ ابو کی حالت ٹھیک نہیں تھی، لہذا ہم نے پرائیویٹ آپریشن کرانے کا فیصلہ کیا۔ جس کے اگلے روز ابو گھر شفٹ ہوگئے، ٹریمنٹ اور ایک دو چھوٹے آپریشنز مزید ہوئے، تاہم 5 ماہ بعد ابو کی دائیں ٹانگ سے بلیڈنگ نہیں رک رہی تھی۔ نجانے کوئی بارودی مواد یا کمیکل اندر داخل ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے ٹانگ کاٹنے کی نوبت آگئی۔
 
اسلام ٹائمز: چلتے پھرتے والد کو اس سانحہ کے بعد وہیل چیئر پر دیکھ کر تکلیف تو ہوتی ہوگی۔؟
دختر سید مجاہد حسین: بیشک، یہ تکلیف دہ تھا، مگر یہ سوچ کر اپنے دکھ اور تکالیف معمولی لگتے ہیں کہ کربلا والوں پر کیا کیا مظالم ڈھائے گئے، ہماری تکالیف اور مشکلات ان پاک ہستیوں پر بیتے مصائب اور مظالم سے زیادہ تو نہیں ہیں، ان دہشتگردوں نے پشاور میں ہمارے لوگوں کا بے پناہ خون بہایا، مگر ہم ان تمام تر مشکلات و تکالیف کے باوجود راہ حسین (ع) ابن علی (ع) سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہماری والدہ مرحومہ نے ہم سب بہن بھائیوں کو درس کربلا دیا، محمد (ص) و آل محمد (ع) پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے ہم حاضر ہیں۔
 
اسلام ٹائمز: اس سانحہ کے ماسٹر مائنڈ اور ذمہ داروں کا کیا تعین نہیں ہوسکا۔؟
دختر سید مجاہد حسین: پشاور کے مخصوص حالات کے پیش نظر جامعہ شہید عارف الحسینی (رہ) پر کسی بھی قسم کے حملے کی اطلاعات سننے کو کافی عرصہ سے مل رہی تھیں، یہ حکومت کا فرض بنتا تھا کہ اس اہم مقام کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جاتی، تاہم اس پر کوئی توجہ نہ دی گئی، جب حکومت اور اداروں کو یہ معلوم تھا کہ حملہ ہوسکتا ہے تو یہ بھی معلوم ہوگا کہ کس نے کرنا تھا اور کس نے کیا۔؟ مگر اس کیس پر بھی حسب سابق کوئی توجہ نہ دی گئی اور یہ کیس بھی دیگر کیسز کی طرح دب گیا۔
 
اسلام ٹائمز: ماضی کے مقابلہ میں اب پشاور میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے، اس دہشتگردی کی اندوہناک لہر نے یہاں پر اہل تشیع کے حوصلے پست تو نہیں کئے۔؟
دختر سید مجاہد حسین: حالات کا اثر تو پڑتا ہے، تاہم الحمد اللہ پشاور کے شیعوں نے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور عزاداری سید الشہداء (ع) پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ دشمن کی کوشش تھی کہ شیعہ پشاور کو چھوڑ کر نقل مکانی کر جائیں، یہاں شیعہ اکثریت میں تو نہیں، البتہ ہر مرد و زن اور نوجوانوں اور بوڑھوں نے حالات کا مقابلہ کیا اور دشمن کو اس کے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔
 
اسلام ٹائمز: ملت کے نام کوئی پیغام دینا چاہیں گی۔؟
دختر سید مجاہد حسین: مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرے والد کا خون اللہ کے پاک گھر میں گرا، اس مقام پر جہاں ہمارے محبوب قائد سید عارف حسین الحسینی (رہ) کو شہید کیا گیا۔ پاکستان میں مجھ جیسی ہزاروں بیٹیاں ہیں، جن کے والد زخمی یا شہید ہوئے، ہزاروں ایسی بہنیں ہیں کہ جن کے بھائیوں کو شہید کیا گیا۔ پیغام یہی ہے کہ ہماری ملت اپنے شہداء کو ہرگز نہ بھولے، ان شہداء کے مشن کو جاری رکھے، گوشہ نشین نہ ہو، ہمارے علمائے کرام خاص طور پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے اپیل کرتی ہوں کہ اپنے عظیم شہداء کی یادوں کو تازہ رکھیں، ان مشن کو ہرگز فراموش نہ ہونے دیں۔ بہت شکریہ۔
خبر کا کوڈ : 800792
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب