0
Wednesday 26 Jun 2019 22:03
انتخابی عمل میں فوجی جوانوں کی تعیناتی کھلم کھلا مداخلت ہے

اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو عام امریکی شہری کی زندگی معاشی طور پر تباہ ہو جائیگی، زاہد خان

عام انتخابات میں کیا گیا تجربہ قبائلی اضلاع کے میں دہرایا جار ہا ہے جو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائیگا
اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو عام امریکی شہری کی زندگی معاشی طور پر تباہ ہو جائیگی، زاہد خان
سابق سینیٹر زاہد خان کا بنیادی تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے ضلع دیر سے ہے۔ پاکستان کی سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں، صاف گوئی اور خوش اخلاق ہونا انکا خاصا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق ہے اور اسوقت پارٹی کے ترجمان ہیں۔ 2009ء میں اے این پی کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے، وہ 2015ء تک سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے واٹر اینڈ پاور کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔ دہشتگردی کیخلاف زاہد خان اور انکی جماعت کا موقف ہمیشہ سے بہت واضح رہا ہے۔ یمن کی صورتحال پر بھی قومی جماعتوں میں سے سب سے پہلے اے این پی نے فوج کو بھیجنے کی مخالفت کی۔ اسلام ٹائمز نے ان سے قومی ایشوز پر خصوصی گفتگو کی، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: آبنائے ہرمز واقعہ کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، ہمسایہ ممالک ہونیکے ناطے پاکستان کا کیا کردار بنتا ہے۔؟
زاہد خان:
 پاکستان کے کردار ادا کرنے کی بات بعد میں ہے، کیوں نہ ہم پہلے یہ دیکھ لیں کہ امریکہ ایران پر حملہ کرے گا کہ نہیں؟ اس کیلئے کچھ حقائق ہیں، جو بیان کرنا ضرور ہیں۔ اسوقت تیل کی عالمی تجارت کا 40 فیصد مشرق وسطیٰ سے برآمد کیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو تقریباََ ساڑھے تین سو ارب ڈالر مالیت کا خام تیل یہاں سے دنیا کے دیگر ممالک میں سپلائی ہوتا ہے۔ سعودی عرب، عراق، کویت، اومان اور ایران سمیت 15 خلیجی ممالک تیل کی عالمی برآمدات کا حصہ ہیں۔ مشرق وسطیٰ سے دنیا کے اطراف برآمد کئے جانے والے خام تیل کا زیادہ تر حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ تیل کے ٹینکرز ملین بیرلز یومیہ لیکر یہاں سے گزرتے ہیں۔ تیل کی یہ مقدار تیل کی عالمی تجارت کے 40 فیصد کے برابر ہے۔

کویت، ایران، قطر اور بحرین 100 فیصد، سعودی عرب اور عراق 90 فیصد اور متحدہ عرب امارات کی تیل برآمدات کا 75 فیصد اسی آبنائے ہرمز سے ہوکر عالمی منڈی میں جاتا ہے۔ تیل کی عالمی تجارت میں مشرق وسطی انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے اور آبنائے ہرمز اس تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ آبنائے ہرمز پانی کی وی شکل پر مشتمل ہے، جو خلیج فارس کو بحر ہند سے ملاتی ہے۔ اس کے شمال میں ایران، جنوب میں متحدہ عرب امارات اور عمان واقع ہیں۔ مغربی سِمت میں 96 میل لمبی اور 21 میل چوڑی ہے۔ یہاں سے جو شپنگ لائیز نکلتی ہیں، وہ صرف 2 میل چوڑی ہیں۔ اس کی گہرائی کم ہے، جس کی وجہ سے یہاں بارودی سرنگیں نصب کرکے جہازوں کیلئے خطرات پیدا کئے جاسکتے ہیں۔

اگر امریکہ ایران پر حملے کی حماقت کرتا بھی ہے تو اس کی تیل پر گرفت کمزور ہو جائے گی جس سے ڈالر کی قیمت کو شدید نقصان پہنچے گا اور ایک عام امریکی شہری کی زندگی معاشی طور پر تباہ ہوجائے گی۔ اب رہ گیا پاکستان کا سوال کے پاکستان کیا کرے گا، پاکستان سعودی عرب سے اربوں ڈالرز کے منصوبے طے کرچکا ہے، امریکہ کے کہنے پر آئی ایم ایف نے ترس کھا کر امداد دی، ایسی صورتحال میں مجھے تو نظر نہیں آرہا کہ پاکستانی حکومت کوئی خاطر خواہ حکمت عملی اپنائے۔ البتہ سفارتی سطح پر پاکستان ایران کی حمایت کرسکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: اے این پی پولنگ اسٹیشن میں فوج کی تعیناتی کی مخالف رہی ہے، اب قبائلی اضلاع کے انتخابات میں بھی فوج کو نگرانی سونپی گئی ہے، اس پر آپکی جماعت کا کیا لائحہ عمل ہے۔؟
زاہد خان:
فوج کو پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر تعینات کرنے کے فیصلے پر ہمیں شدید تشویش ہے، سکیورٹی اداروں کا کام صرف امن و امان کے انتظامات کو یقینی بنانا ہے۔ انتخابی عمل میں فوجی جوانوں کی تعیناتی کھلم کھلا مداخلت ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی ہر اس فیصلے کی مخالفت کرے گی، جو شفاف انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔ اصولی طور پر قبائلی اضلاع میں ملکی و بین الاقوامی مبصرین کو اجازت دی جانی چاہیئے کہ وہ خود تمام انتخابی عمل کی نگرانی کریں۔ الیکشن کمیشن کو چاہیئے کہ فوج کی تعیناتی کے حوالے سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، تاکہ ادارے کی ساکھ مزید متاثر نہ ہو۔ الیکشن کمیشن کو وضاحت کرنی چاہیئے کہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر فوج کی موجودگی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا الیکشن کمیشن کو اپنے بااختیار عملے پر اعتماد نہیں ہے، جو پولنگ سٹیشنز کے اندر فوج کو بھی اجازت دی جا رہی ہے۔

25 جولائی 2018ء کے انتخابات میں کیا گیا تجربہ ایک بار پھر قبائلی اضلاع کے انتخابات میں دہرایا جا رہا ہے جو کسی بھی صورت قبول نہیں کی جائے گا۔ فوج کی پولنگ اسٹیشنز کی اندر موجودگی سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوگا، کیونکہ اس بار ووٹر بھی اپنے مینڈیٹ کی چوری کا تماشہ نہیں دیکھے گا۔ گذشتہ عام انتخابات میں کئے گئے تجربے کی وجہ سے سیاسی جماعتیں اور فوج جیسا ادارہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوگئے تھے۔ اے این پی نہیں چاہتی کہ ایک بار پھر عوام اور فوج ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوں۔ گذشتہ انتخابات پر تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے تحفظات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کی جانب سے اس حوالے سے خط بھی لکھا جاچکا ہے، لیکن افسوس کہ الیکشن کمیشن کا جواب مایوس کن رہا۔

فوج کی پولنگ سٹیشنز کے اندر تعیناتی انتخابی عمل میں بھی کھلی مداخلت ہے، قبائلی اضلاع کا انضمام اے این پی کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے، جس کیلئے کارکنان و رہنماؤں نے انتھک جدوجہد کی، آج اگر قبائلی اضلاع میں عوام کو انتخابی عمل میں براہ راست حصہ لینے کا حق ملا ہے تو اس قسم کے اقدامات انضمام کے فوائد کو نقصان پہنچائیں گے۔ سابقہ انتخابات کی طرح عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھائے اور کھویا ہوا اعتماد بحال کرے۔ گذشتہ عام انتخابات میں الیکشن کمیشن جیسا ادارہ عوام کے درمیان اپنا مقام کھو چکا ہے۔ اے این پی کے امیدواران و کارکنان اپنی تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہیں، پولنگ اسٹیشنز کے باہر بڑے بڑے کیمپس لگائے جائیں گے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اپنے آپ کو تیار رکھا ہوا ہے۔

اسلام ٹائمز: قبائلی اضلاع کے انتخابات میں اے این پی کی انتخابی مہم کتنی فعال ہے۔؟
زاہد خان:
نیشنل یوتھ آرگنائزیشن نے قبائلی انتخابات میں اے این پی امیدواروں کی انتخابی مہم کیلئے تنظیم کے ساتھیوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دے دیں ہیں۔ اس سلسلے میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین فخرالدین خان اور صوبائی صدر گلزار خان کی موجودگی میں تنظیم کا ایک اہم اجلاس باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ قبائلی اضلاع کیلئے تشکیل ہونے والی کمیٹیوں کی قیادت پلوشہ عباس، طارق افغان اور سید کاشف باچا کریں گے اور تمام کمیٹیوں کے ممبران متذکرہ بالا تینوں رہنماؤں کی ہدایات کی روشنی میں پارٹی امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لیں گے۔ اس حوالے سے ضلع باجوڑ کیلئے انتخابی ڈیوٹی کی ذمہ داری این وائی او ضلع سوات اور دیر کے ساتھیوں کو سونپی گئی ہے۔

ضلع چارسدہ و مردان کے تنظیمی ساتھی قبائلی ضلع مومند میں ڈیوٹی دیں گے جبکہ ضلع خیبر کیلئے نوشہرہ اور صوابی کے تنظیمی عہدیداروں و کارکنوں کو ٹاسک سونپا گیا ہے۔ اسی طرح ضلع اورکزئی کیلئے این وائی کرک و ہنگو، ضلع کرم کیلئے شانگلہ و بونیر اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں انتخابی مہم کیلئے این وائی بنوں اور بلوچستان کی کابینہ کو ٹاسک دیا گیا ہے۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن ڈی آئی خان، ضلع پشاور اور سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے عہدیداروں و کارکنوں کے ذمہ تمام سابق ایف آرز میں امیدواروں کی انتخابی مہم کیلئے ڈیوٹی لگائی گئی ہیں۔ اجلاس میں این وائی کے تمام عہدیداروں کو کارکنوں کو ٹاسک دیا کہ وہ انتخابی مہم کے آغاز سے پولنگ ڈے تک اپنی ذمہ داریاں بااحسن خوبی انجام دیں اور پارٹی امیدواروں کی کامیابی کیلئے دن رات محنت کریں۔

اسلام ٹائمز: آپکا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے، صوبائی حکومت کے بجٹ سے متعلق اپنی نظر دیں۔؟
زاہد خان:
(ہنستے ہوئے) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا بجٹ کو جگا ٹیکس اور عوام کے ساتھ ظلم قرار دیتے ہوئے مسترد کرتی ہے۔ بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے اور حکمرانوں نے اپنی لوٹ مار کیلئے صرف اعداد و شمار میں ہیر پھر کی ہے۔ صوبائی بجٹ میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور ٹیکسوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا، جس سے غریب عوام پر مزید بوجھ بڑھے گا۔ صوبائی حکومت نے صوبے کی پسماندگی اور ضرورت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بجٹ پیش کیا ہے اور تعلیم و صحت کے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کو غریب عوام کی دسترس سے باہر کر دیا گیا ہے، جبکہ جامعات میں سکالرشپس ختم کرکے فیسوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ہمیں اس بات پر تعجب ہے کہ امور نوجوانونان کے بجٹ میں 100 فیصد اضافہ کرکے انہی نوجوانون پر تعلیم کے دروازے بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔

قبائلی اضلاع کیلئے صوبے کا حصہ ہونے کے باوجود انتہائی قلیل بجٹ مختص کرکے کیا پیغام دیا گیا ہے؟ غریب عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا۔ الفاظ کے ہیر پھیر کو بجٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تعلیمی اصلاحات کی بجائے تعلیمی اداروں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرکے عوام کی مشکلات بڑھا دی گئیں۔ صوبے کے چھوٹی کاروباری سرگرمیوں پر ٹیکسوں کا نفاذ مہنگائی کے اس دور میں زیادتی ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور حوصلہ افزائی کیلئے قرضوں میں چھوٹ ناگزیر ہے۔ بجٹ کو بیلنس رکھنے کیلئے ابھی سے بیرونی قرضوں کے حصول کی تیاریاں جاری ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام یہ قرضے کس طرح واپس کریں گے؟ بجٹ میں صرف ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور 10 سے 20 ہزار روپے ماہانہ کمانے والوں پر بھی ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں، جبکہ آمدن کے ذرائع بڑھانے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا گیا۔

وفاقی بجٹ کے بعد اب صوبائی بجٹ نے بھی ملک کی 99 فیصد عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے، ورکنگ کلاس اور محنت کشوں پر 10 فیصد سروس ٹیکس لگانا دراصل تحریک انصاف کی غریب عوام کش پالیسی کا حصہ ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ حکومت معاشی طور پر کمزور طبقات کو بجٹ کے ذریعے ریلیف دیتی اور انکے کاروبار کیلئے اوپن مارکیٹ میں مواقع پیدا کئے جاتے۔ ترقیاتی پروگرام میں اضافے کے اعداد و شمار کا کریڈٹ لینے والے قوم کو یہ بھی بتا دیں کہ گذشتہ مالی سال میں بجٹ میں مختص کردہ ترقیاتی پروگرام پر کس حد تک عمل کیا گیا۔ صوبے میں ایک پرائمری سکول تک نہ بنانے والوں کو ترقیاتی پروگرام میں 41 فیصد اضافے کی باتیں زیب نہیں دیتیں۔

اسلام ٹائمز: مگر حکومت کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومتوں کیوجہ سے انہیں یہ سب کرنا پڑ رہا ہے۔؟
زاہد خان:
نہیں نہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ترین حکومت ثابت ہوئی ہے، جس کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے، تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے غیر جمہوری اقدامات پر سراپا احتجاج ہیں۔ جھوٹ کا سہارا لے کر اقتدار میں آنے والے سلیکٹڈ حکمرانون نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ نااہل حکومت پاکستان پر عذاب بن کر نازل ہوئی ہے، عمران نیازی نے اپنے 100 نکاتی ایجنڈے پر عملدرآمد اور اقتصادی صورتحال کی بحالی میں ناکامی کے بعد یکے بعد دیگر کئی منی بجٹ پیش کئے اور عوام پر نت نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر ان کی زندگیاں دشوار بنا دیں، دنیا بھر میں پٹرول سستا جبکہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ اے این پی بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتی ہے، سب کا احتساب ناگزیر ہے، حکومت کا اندرونی شیرازہ بکھرا ہوا ہے، مرکزی و صوبائی حکومتیں ناکام ہوچکی ہیں اور آئین، جمہوریت اور پارلیمانی نظام کیلئے مسلسل خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 800957
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب