0
Saturday 22 Jun 2019 19:15

اپوزیشن کو کسی قیمت پر اپنی چوری اور کمزوری نہیں چھپانے دینگے، انصر مجید نیازی

اپنے بجٹ میں کمی کا اعلان مسلح افواج کیطرف سے عمران خان کے وژن کی تائید ہے
اپوزیشن کو کسی قیمت پر اپنی چوری اور کمزوری نہیں چھپانے دینگے، انصر مجید نیازی
2018ء کے عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 78 سرگودہا سے منتخب ہونیوالے پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان رہنماء اسوقت پنجاب حکومت میں محنت اور انسانی وسائل کے صوبائی وزیر ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے بجٹ کی مخالفت، حکومت کیخلاف عام میں پائی جانیوالی بے چینی، حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے ملک گیر حکومت مخالف تحریک کی دھمکیوں سمیت اہم ایشوز پر انکے ساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: اپوزیشن ایک بار اکٹھی ہو رہی ہے کیا حکومت سخت ردعمل برادشت کر پائے گی؟
انصر مجید نیازی:
کس کے دل میں کیا ہے، یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات جانتی ہے، لیکن کسی کے اعمال اور اقدامات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس کی کیا نیت ہے، جو کچھ زبان سے کہا جا رہا ہے یہ کس حد تک حقیقت پہ مبنی ہے۔ یہ تاثر دیکر سیاسی صورتحال کے متعلق عوام کو کنفیوز کرنیکی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت دباؤ میں ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہے، یہ ضررو ہے کہ یہ سخت دن ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کیلئے ملکی صورتحال زیادہ واضح نہیں لیکن تھورے ہی عرصے میں یہ مطلع صاف ہو جائیگا۔ اپوزیشن جس زعم میں مبتلا ہے اور نعرہ لگا رہی ہے کہ بجٹ کی وجہ سے لوگوں میں بے چینی پیدا کر کے وہ اپنی چوری اور کمزوری چھپانے میں کامیاب ہو جائیں گے، ایسا نہیں ہونے دیا جائیگا۔

عوام کی داد رسی اور لوگوں کی آواز بننے کا بہانہ بنانے والے اب پاکستانی عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ سیاست کے متعلق منفی تاثر ہی ان لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ جب عمران خان یہ کہتے ہیں کہ کرپٹ لوگوں کو سیاست نہیں کرنے دینگے، اسکا مطلب یہی ہوتا ہے کہ جن کی وجہ دنیا میں ملک بدنام ہو رہا ہے، اور ملک میں سیاست بدنام ہو رہی ہے، ایسے لوگوں کی سیاست میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے، لیکن ان لوگوں نے تو سال ہا سال تک حکومتیں کی ہیں، اب ا نکے لیے اقتدار سے باہر رہ کر یہ برداشت کرنا مشکل ہے، لیکن وہ الٹا یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت دباؤ میں آجائیگی، اندر سے یہ خود سمجھتے ہیں کہ عمران خان دباؤ میں آنے والے نہیں۔

اسلام ٹائمز: بلاول بھٹو اور مریم نواز ایک نکتے پہ جمع ہیں اور مولانا فضل الرحمان اے پی سی کی تیاری کر رہے ہیں، کیا سب پارٹیز اکٹھی ہو کر بھی اثرانداز نہیں ہو سکتی ہیں؟
انصر مجید نیازی:
پہلی بات تو یہ ہے کہ سب پارٹیوں والی کوئی بات نہیں، یہ جو انکی ملاقاتیں ہیں یہ بھی سب حکومت اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے، جس میں یہ ناکام ہو چکے ہیں، یہ صرف ناکام اور نامراد لوگ آپس میں مل بیٹھ کر ایکدوسرے کے دکھ بانٹ رہے ہیں، کرپشن پکڑے جانے کا دکھ، گرفتاریوں کا دکھ، این آر او نہ ملنے کا دکھ، ضمانتیں نہ ہونے کا دکھ، جھوٹ فریب سے اکھٹا کیا ہوا مال پکڑے جانے کا دکھ۔ ورنہ تو یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے نہ صرف مخالف ہیں بلکہ دشمن ہیں۔

اسی لیے تو جب سے الیکشن ہوئے ہیں، دھمکیاں دے رہے ہیں کہ مل کر احتجاجی تحریک چلائیں گے، لیکن ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ چند گھنٹوں کیلئے مشترکہ طور پر کوئی ریلی، مظاہرہ یا دھرنا دیا ہو۔ مختلف پارٹیوں اور رہنماؤں کا ایک نکتے پہ اکٹھے ہونا تو دور کی بات خود ان پارٹیوں میں ہی ایشوز پر اتفاق نہیں ہے، ایک رہنماء کہتا ہے کہ قبل از وقت الیکشن ہونے چاہیں، دوسرا کہتا ہے حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے، ایک رہنماء حکومت کومعیشت پہ مل کر بیٹھ کے بات کرنی کی پیشکش کرتا ہے، دوسرا کہتا ہم سڑکوں پہ آئیں گے، یہ انکی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔ سب کی الگ الگ سیاست، الگ الگ مفادات، الگ الگ ایجنڈا اور الگ الگ مفادات ہیں۔

یہ لوگ اپنی ہی پارٹیوں اور ایکدوسرے کیساتھ مخلص نہیں ہیں یہ لوگ عوام اور ملک کیساتھ کیسے مخلص ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنی ذات اور ذاتی سیاست کو بچانا چاہتا ہے، سب کے الگ الگ بیانیے ہیں، جتنے منہ اتنی باتیں ہیں، نہ یہ ایک نکتے پہ اکٹھے ہو سکتے ہیں نہ لوگ ان پر مذاکرات کرینگے۔ میڈیا کے سامنے حکومت کیخلاف یک زبان ہوتے ہیں لیکن اپنی اپنی پارٹی اور نجی محافل میں ایکدوسرے کو گالیاں تک دیتے ہیں، سب کا ماضی اس بات پہ گواہ ہے کہ انہوں نے خود ہی ایکدوسرے کیخلاف الزامات لگائے، مقدمات قائم کیے اور انتقامی سیاست کی۔ یہ اگر مل بھی جائیں تو چوروں کا ٹولہ مل کر بھی حکومت کا یا عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

اسلام ٹائمز: قومی اسمبلی کے اسپیکر نے وزیراعظم کے منع کرنے کے باوجود اپوزیشن رہنماؤں کے پروڈکشن جاری کردیئے ہیں، کیا یہ کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں؟
انصر مجید نیازی:
پیلے تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ عمران خان نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے، اسپیکر کو مجبور نہیں کیا کہ انکی مرضی کے مطابق ہاوس چلائیں۔ اگر حکومت انتقامی سیاست کرتی تو کسی ملزم کو نہ تو اسمبلی میں آنے دیتی نہ ہی کسی قیدی کو سہولیات دی جاتیں، نہ ہی پارلیمنٹ میں شرکت کے بہانے میڈیا میں بیان بازی کا موقع دیا جاتا۔ جہان تک اپوزیشن کا تعلق ہے، انہوں نے صرف اپنے کرپٹ لیڈروں کو بچانے اور مورثی سیاست کی حفاظت کیلئے نہ صرف اپوزیشن کے کرپشن کے الزمات میں گرفتار لیڈروں کیلئے پروڈکشن آرڈر کی بات کی بلکہ جمہوریت کے نام پہ نہایت بے شرمی سے ملک دشمنوں کے ایجنڈے پر کام کرنیوالے، مسلح افواج پر حملے کرنیوالوں کے حق میں۔

ملکی سلامتی کے اداروں کیخلاف سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا پہ پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں، انکی حمایت کے ذریعے حکومت کو بلیک میل کرنیکی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ صرف حکومت کو نہیں بلکہ ریاستی اداروں کوبھی بدنام کر رہے ہیں، ایک طرف پاکستان دشمن قوتیں پی ٹی ایم جیسی قوتوں کو ہمارے خلاف استمال کرنے میں مصروف ہیں، دوسری طرف اپوزیشن اپنے ذاتی مفادات کیلئے پاکستان کو کمزور کرنیوالوں کے بیانیے کی تائید میں مصروف ہیں۔ لیکن یہ لوگ جتنے جتن مرضی کر لیں، کسی صورت میں ملک کی باگ ڈور انکے ہاتھ نہیں آئیگی۔ یہ اسپیکر کی جانبداری کی بات کرتے ہیں، حالانکہ لیگی دورمیں ایازصادق کا ریکارڈ بحیثیت اسپیکربدترین رہا، ان کےدورمیں اپوزیشن زیادہ تربائیکاٹ پر ہی رہی، انھوں نے عمران خان پرجعلی ریفرنس دائرکیا تھا۔ انھوں نے اپنے دور میں اپوزیشن کو دبایا، ایاز صادق نے پاناما ریفرنس الیکشن کمیشن بھیجنے سے انکار کیا تھا۔

اسلام ٹائمز: بجٹ کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہ پاکستان کی بجائے آئی ایم ایف نے بنایا ہے اور حکومت نے قرضوں کے عوض اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری لی ہے، دوسرا الزام یہ ہے کہ چینی کی قیمت اور ٹیکسز کے ذریعے پی ٹی آئی مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے؟
انصر مجید نیازی:
دیکھیں بجٹ منظوری کے بغیر ملک کیسے چل سکتا ہے، بجٹ ضرور منظور ہوگا، اپوزیشن جماعتوں کے کئی اہم ارکان ہمارے ساتھ ہیں، کسی بیرونی طاقت یا ادارے کے اشاروں پہ بجٹ نہیں بنایا گیا، ملک شدید قتصادی بحران کا شکار ہے، حکومت اسکا بحران اور دباؤ کا مقابلہ کر رہی ہے، بجٹ میں سب سے زیادہ عام آدمی کی صورتحال اور ضروریات اور اخراجات کا خیال رکھا گیا ہے، پاکستان کی تاریخ میں اس سے اچھا بلاحی اور عوامی بجٹ پیش نہیں کیا گیا۔ پہلی حکومتوں نے ملکی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا، جس کے نتائج آج تک پورا پاکستان بھگت رہا ہے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ عوام کا پیسہ صرف اور صرف عوام پہ لگے، اب کسی عوامی اور ملکی خزانے پہ عیاشی نہیں کرنے دی جائیگی۔

پاکستان اب بہتر سمت میں جائیگا اور اس بجٹ کے مثبت اثرات جلد سامنے آنا شروع ہو جائینگے۔ مختلف ادوار میں جو قرضہ جون 2008ء تک 6 ہزار 800 ارب روپے تھا، ستمبر 2018ء تک پاکستان پر 30 ہزار 846 ارب روپے قرضہ ہوگیا۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے جو قرضہ لیا گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں آتا ہے۔ جہاں تک چینی کی قیمتوں کی بات ہے، جہانگیر ترین کہہ چکے ہیں کہ جس فورم پہ چاہیں بات کر لی جائے، اس سے انکا کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہی حکومت اس چیز پہ ایمان رکھتی ہے۔ مریم نواز اور مریم اورنگزیب کو آج چینی کی قیمت یاد آ گئی ہے، تیس سال تک حکومت کرنیوالوں کو اگر اپنے دور اقتدار میں چینی، دال اور آٹے کی قیمتوں کا احساس ہوتا تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ لوگ آج سلاخوں کے پیچھے نہیں بلکہ ایوان اقتدار میں موجود ہوتے۔

یہ بات اس چیز کا واضح ثبوت ہے کہ ان لوگوں کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔ جب بجٹ بنانا انکی ذمہ داری تھی، اسوقت یہ اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف تھے، آج انکو عوام کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت 7 مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گئی، مسلم لیگ نون کی حکومت 3 مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گئی۔ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جن پر آج یہ سب مگر مچھ کے آنسو رو رہے ہیں، موجودہ حکومت نے صرف 3 ہزار ارب روپے سود کی ادائیگی کرنی ہے، قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کیا اور بجٹ میں 183 ارب روپے رکھے، مسلح افواج نے 176 ارب روپے بجٹ میں کاٹا، ایسے ماحول میں فوج نے اپنا بجٹ کم کیا جب بھارت دفاعی بجٹ بڑھا رہا ہے، سول حکومت نے بھی اپنا پیٹ کاٹا، تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کی۔ مسلح افواج کی طرح عوام بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان مالی اور معاشی بحران کا شکار ہے، سب کو ہمت سے کام لینا ہوگا، یہ اقدامات اور رضاکارانہ طور پر اپنے بجٹ میں کمی عمران خان کے وژن کی تائید اور حکومت پر اعتماد پر اظہار ہے۔

اسلام ٹائمز: پنجاب کے بجٹ میں بھی ترقیاتی کام ختم کر دیئے گئے ہیں، پہلے سے جاری منصوبوں پر بھی کام روک دیا گیا ہے، ترقی کا خواب کیسے پورا ہوگا۔؟
انصر مجید نیازی:
پہلے ہم معاشی استحکام لانا چاہتے ہیں، جو لوٹ کھسوٹ کی گئی ہے اسکی وجہ سے معیشت پٹڑی سے اتر چکی ہے، اب بھی اپوزیشن کا یہی ایجنڈا ہے کہ پاکستان میں ترقی کا سفر شروع نہ ہوسکے، اپوزیشن کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں، کرپشن کرنے والوں کوترقی میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے، ملکی خزانہ لوٹنے والوں کو اپنے کئے کا حساب دینا ہوگا۔ پہلے یہاں شہنشاہی نظام تھا لیکن اب عوامی نمائندوں کی مشاورت سے پنجاب میں ہرکام میرٹ پرہوگا، عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے آخری حد تک جائیں گے، ماضی میں اقرباء پروری، کرپشن اورسفارشی کلچر نے اداروں کو تباہ کیا، گزشتہ دور میں قومی مفادات کو نظر انداز کیا گیا۔ وزیراعظم کی کرپشن کے خلاف جنگ ہر پاکستانی کی آواز ہے۔

سوال سے ان سے پوچھا جانا چاہیے جو لوگ کہتے ہیں کہ ایک خاندان کی حکومت تھی تو یہ ایک سنہری دور تھا، اس دور میں اتفاق فاؤنڈری شروع ہوئی، اس سنہری دورمیں جدہ میں اسٹیل ملز بھی لگ گئیں، اسی نام نہاد سنہری دورمیں قوم کوٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا، قرض اتارو ملک سنوارو اوراتفاق فاؤنڈری بچاؤ بھی کہا گیا، حقیقت یہ ہے کہ وہ سنہری دورشریف فیملی کے علاوہ کسی کے لیے نہیں تھا، 28 کروڑ بیرون ملک علاج  پر، 80 کروڑ جاتی امرا میں دیوار پر خرچ کیا گیا، سنہری دورمیں مور مر جاتا تھا تو پولیس افسر کو معطل کر دیا جاتا تھا، سنہری دورمیں پاکستان کی قسمت کیوں نہیں جاگی۔ اب پنجاب میں عوامی حکومت ہے، جو کچھ بھی ہے، تھوڑا ہے یا زیادہ لیکن عوام کیلئے ہے، کسی ایک خاندان یا کسی ایک شخص کیلئے نہیں، بس یہی ہماری کارکردگی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ لوگ ہمیں قبول کرتے ہیں، جو مشکلات لوگوں کو پہلے ادوار میں رہی ہیں، وہ اب کم ہونا شروع ہو جائیں گئیں، لوگوں کو ریلیف ضرور ملے گا، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتیں بھی ملیں گئیں، ملک بھی ترقی کریگا۔
خبر کا کوڈ : 800961
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب