0
Monday 24 Jun 2019 10:39
ملکی مفاد اور عوامی امنگوں کے مطابق بہتر بجٹ بنایا جائے

پاکستان کو علاقائی سلامتی کیلئے روس، چین اور ایران کا ساتھ دینا چاہیئے، سید حسن مرتضیٰ

پاکستان کو علاقائی سلامتی کیلئے روس، چین اور ایران کا ساتھ دینا چاہیئے، سید حسن مرتضیٰ
پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات، فیصل آباد کے ڈویژنل صدر اور پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ کا تعلق رجوعہ ضلع چنیوٹ سے ہے۔ پنجاب میں چیئرمین بلاول بھٹو کے بااعتماد کارکنوں میں شمار ہونیوالے رہنماء کیساتھ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تناؤ، ملکی سیاست، خطے کی صورتحال سمیت اہم ایشوز پر اسلام ٹائمز کی گفتگو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: مسلم لیگ نون کی رہنماء مریم نواز نے میثاق معیشت کو غلطی قرار دیا ہے، کیا پی پی پی حکومت کیساتھ مفاہمت کے موقف پہ باقی رہیگی۔؟
سید حسن مرتضیٰ:
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اپنے تحفظات کے باوجود حکومت کو آفر کی تھی کہ ملکی مفاد کیلئے مل کر چلنا چاہیئے، لیکن زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ حکومت کی نااہلی اور صلاحیت کا فقدان سامنے آنا شروع ہوگیا، موجودہ بجٹ سے مزید واضح ہوگیا کہ نہ صرف یہ حکومت جعلی اور کٹھ پتلی ہے بلکہ ہمارا خزانہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے، ہم بھی سمجھتے ہیں کہ یہ میعشت کیساتھ مذاق ہے، نہ کوئی پالیسی ہے، نہ منصوبہ بندی، بلکہ صرف پاکستان عوام کا خون چوس کر عالمی ادراوں کی شرائط پوری کی جا رہی ہیں۔

میثاق سے مراد یہ ہے کہ معیشت کی کمزور صورتحال سے ملک کمزور ہو رہا ہے، ہر پاکستانی کی زندگی اجیرن بن گئی ہے، پاکستان دیوالیہ ہوسکتا ہے، یہ ساری قوم کے اکٹھے ہونے کا وقت ہے، لیکن حکومت اس میں سنجیدہ نہیں، مسلسل قرضوں پہ قرضے لے رہے ہیں، ترقیاتی کام اور منصوبے ختم کر دیئے ہیں، ایسی معیشت اور معاشی پالیسی کی سمت کیسے درست ہوسکتی ہے، جب حکومت بات کرنے کیلئے تیار نہ ہو۔ یہ حکومتی رویہ ہے، جس کی وجہ سے کاروبار رک چکا ہے، میعشت کا پہیہ جام ہوچکا ہے، کیا معیشت میں مزید بگاڑ پیدا کرنے کیلئے حکومت کیساتھ تعاون کیا جا سکتا ہے، ہرگز نہیں۔

اسلام ٹائمز: اس سے یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے کہ نون لیگ کیساتھ ساتھ پی پی پی نے بھی حکومت گرانے کی ٹھان لی ہے۔؟
سید حسن مرتضیٰ:
جہاں تک میاں نواز شریف کی فیملی کی بات ہے تو انکی صحت کے حوالے سے انکی پریشانی بالکل درست ہے، انہیں خدشہ ہے کہ خدانخواستہ کلثوم نواز صاحبہ کی طرح کوئی حادثہ نہ رونماء ہو، زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، لیکن علاج کیلئے موقع فراہم کرنا اسوقت حکام کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے کوئی بھی ان کے موقف کی مخالفت نہیں کرسکتا، یہ انکا بنیادی حق ہے، قانون بھی اس کی اجازت دیتا ہے، اس سلسلے میں کوتاہی یا غفلت کی ذمہ داری ظاہر ہے موجودہ حکومت پر عائد ہوگی۔ لیکن اس کے علاوہ بھی جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ جس طرح سے لایا گیا، جو وعدے کیے گئے، اس کے بالکل الٹ پاکستان کی سیاست اور معیشت خرابی کا شکار ہوچکی ہے، سارے کا سارا ماحول ہی بگاڑ دیا گیا ہے، جس وجہ سے تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ جلد از جلد حکومت مخالف تحریک کا آغاز کیا جائے، اس سلسلے میں حتمی فیصلہ ہوچکا ہے، اسکا طریقہ کار کیا ہوگا، اس پر بھی بات ہوچکی ہے، تمام پارٹیز اپنے اپنے طور پر تیاری کرچکی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں نواب شاہ کے جلسے سے اس تحریک کا آغاز بھی کرچکی ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا پارٹی ورکرز ایک ساتھ تحریک چلانے کیلئے تیار ہونگے، کیا نون لیگ کیساتھ ملکر چلنے کا تجربہ دہرایا جائیگا۔؟
سید حسن مرتضیٰ:
اس میں کوئی کنفوژن نہیں ہے کہ ہماری جانب سے، پارٹی کی جانب سے ملکی مسائل اور درپیش چیلنجز کے حل کیلئے پیشکش کی گئی، لیکن حکومت نے اس پر کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا، بلکہ عمران خان کی ایک ہی تکرار ہے کہ کسی کو چھوڑوں گا نہیں، سب کو اندر کر دوں گا، سیاسی رہنماؤں کو جیلوں میں بھجوا کر میں نے الیکشن میں کیے گئے اپنے وعدے کو پورا کیا ہے، کیا یہ باتیں کسی حکمران کو زیب دیتی ہیں، کیا اس کے بعد یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ احتساب کے نام پہ ہونیوالی انتقامی کروائی روک دی جائیگی، منتخب نمائندوں کو ذلیل نہیں کیا جائیگا، تنگ نہیں کیا جائیگا، میرے خیال میں یہ یقین کرنا مشکل ہے۔ دوسرا یہ جو کہا جاتا ہے کہ مختلف جماعتوں کے اکٹھا ہونے سے مراد یہ ہے کہ ہم ایکدوسرے میں ضم ہو رہے ہیں، یہ ایک غلط فہمی ہے، یہ تاثر درست نہیں۔

تمام جمہوری ممالک میں جہاں پر پارٹیز اور اپوزیشن کا وجود ہے، وہاں مختلف ایشوز پہ مختلف نظریات کی حامل جماعتیں اکٹھی ہوتی ہیں، اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ انہوں نے اپنے نظریات ترک کر دیئے ہیں، یا کسی کے آگے سرنڈر کر دیا ہے۔ یہ کہنا کہ جو لوگ پہلے ایکدوسرے کیخلاف تھے، انہیں بالکل کسی صورت میں ایکدوسرے قریب آنے یا مل کر کوئی موقف نہیں اپنانا چاہیئے، بالکل غلط ہے۔ سیاست میں ویسے بھی کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی، ہر جگہ یہ سیاسی اتحاد بنتے رہتے ہیں، کولیشن گورنمنٹس بھی تو بنتی ہیں، اتفاق رائے سے مراد ہی یہی ہے کہ مخالف رائے رکھنے والوں نے کسی ایک رائے پر اتفاق کیا ہے، ایسا تو ہو نہیں رہا کہ کوئی جماعت کسی دوسری جماعت میں ضم ہونے جا رہی ہے، تو پھر یہ تاثر زائل ہونا چاہیئے، یہ پارلیمانی جمہوریت کا ایک خاصہ ہے۔

یہ جو سمجھا جا رہا ہے کہ ہمارے جیالے ناراض ہیں کہ نون لیگ والوں نے ہمارے ساتھ زیادتیاں کی ہیں، اس لیے ہمیں انکے ساتھ نہیں چلنا چاہیئے، اتنی چوٹیں کھانے کے بعد ان کے نزدیک نہیں جانا چاہیئے، یہ سب اور اس طرح کے دوسرے ایشوز سیاسی جماعتوں اور ان کے کارکنوں کے درمیان زیربحث رہتے ہیں، لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کا خاصہ ہے کہ یہ ایک جمہوری جماعت ہے، جہاں سب کی بات سنی جاتی ہے، لیکن ہم اپنے کارکن کو یہ بات سمجھا لیتے ہیں، اس کے بعد ہی فیصلے ہوتے ہیں، پارٹی کے باہر سے اعتراضات آتے رہتے ہیں، باتیں ہوتی رہتی ہیں، اس وجہ سے پارٹی کے فیصلے تو تبدیل نہیں ہوتے۔ لیکن پھر بھی کسی کی رائے اگر پارٹی سے باہر بن جاتی ہے تو یہ اسکا حق ہے، ہر کسی کو رائے بنانے اور رکھنے کا حق ہے، لیکن ایسے لوگوں کو اپنی رائے پہ غور کرنا چاہیئے کہ کیا پارٹیز کو اس وجہ سے مستقل طور پر دوری اختیار کر لینی چاہیئے، یہ درست نہیں۔ ہمارے خیال میں یہ قسم کھا لینے سے کہ جس سے ایک دفعہ اختلاف پیدا ہو جائے، دوبارہ اس سے ہاتھ نہیں ملانا، تو ایسے رویئے یا سوچ کے بعد جمہوریت اور پارلیمان نہیں چل سکتے، ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پوری دنیا میں ایسی کوئی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔

اسلام ٹائمز: اسکا مطلب یہ ہوا کہ اپوزیشن انکار کے باجود حکومت کیساتھ بھی معیشت پہ میثاق کرسکتی ہے، کیا صرف یہ شرط باقی ہے کہ عمران خان خود آکر اپوزیشن سے بات کریں۔؟
سید حسن مرتضیٰ:
اس معاملے میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ بال حکومت کے کورٹ میں ہے، اگر وہ چاہیں تو بات آگے بڑھ سکتی ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بجٹ ہمارے سامنے ہے، اس میں بہت زیادہ بہتری اور تبدیلی کی گنجائش ہے، اگر حکومت اس پر متفق ہو جاتی ہے تو اسی سے بات آگے چلے گی، میرے خیال میں اب تو جب اسد عمر بھی ایوان میں بجٹ سے متعلق تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں، حکومت کو نظرثانی کرنا پڑیگی۔ دوسرے یہ کہ عمران خان سے ہاتھ ملانے کا کسی کو شوق ہے، تو ایسی کوئی بات نہیں کسی کے ذہن میں، ایک شخص جو خود کسی سہارے اور چور دروازے سے اقتدار میں آیا ہے، یہ تو خود اس کے لیے باعث شرمندگی ہے، اگر احساس کریں تو۔

ہمارے موقف یہ ہے کہ وزیراعظم کو رویہ درست کرنیکی ضرورت ہے، تاکہ ایوان میں بیٹھ کر بات کی جاسکے، بہتر پالیسیاں اور ملکی مفاد اور عوامی امنگوں کے مطابق بہتر بجٹ بنایا جاسکے۔ صورتحال تو سب کے سامنے ہے، عمران خان خود بار بار قوم سے اپیلیں کیوں کر رہے ہیں، ایمنسٹی اسکیم بھی لائی گئی ہے، قرضوں کی دلدل سے کیسے نکلا جائے، عام آدمی کو ریلیف کیسے پہنچایا جائے، یہ ایشوز ہیں۔ اب یہ حکومت کو ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر دیکھنا چاہیئے کہ اپوزیشن پارٹیز اگر ایک دوسرے کیساتھ اختلافات بھلا کر ملک کی بہتری کیلئے ایک دوسرے سے بات کر سکتی ہیں تو حکومت کیوں نہیں کرسکتی، حالانکہ یہ ذمہ داریاں حکومت نے ہی پوری کرنی ہیں۔

یہ سوال تو وزیراعظم سے کیا جانا چاہیئے کہ وہ اپوزیشن کو ملک کا حصہ ہی نہیں سمجھتے، عوام سے اپیل کرتے ہیں، سارے سیاسی رہنماؤں کو مجرم بھی قرار دے دیتے ہیں، ہمارے پاس بہتر تجاویز ہیں، لیکن حکومت ایسا ماحول بنانے کیلئے تیار نہیں، جس میں بیٹھ کر بات کی جاسکے، بات سنی جاسکے، زرداری صاحب نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ یہ بغیر وردی کے ایک آمر ہیں، یہ انکا رویہ بتاتا ہے، اسکا سب سے بڑا ثبوت اپنی چھتری تلے جمع ہونیوالوں کو پاک، صاف اور دیانتداری کے سرٹیفکیٹ دینا اور اپنے آپ کو کسی اصول اور قانون سے بالاتر سمجھنا ہے۔ یہ جمہوری اقدار کے منافی اور پارلیمانی نظام کی روح کیخلاف ہے، اس سے نہ حکومت چل سکتی ہے اور نہ ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم یہ یقین حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کیساتھ بات کریں جنکا دامن کرپشن اور بدعنوانی سے صاف ہو، اس سلسلے میں قرض کے متعلق تحقیقاتی کمیشن بنایا گیا ہے، کیا آپ تعاون کرینگے۔؟
سید حسن مرتضیٰ:
یہ بار بار قرضوں کی بات کرتے ہیں، ہمارے دور میں سوا چھ ہزار ارب قرض تھا، اس عرصے میں بجٹ دو ہزار دس ارب کا تھا، آج آٹھ ہزار دو سو ارب کا ہے، چار گنا بڑا ہے، قومی پیداوار دس ہزار ارب تھی، آج اڑتیس ہزار پانچ سو ارب ہے، ہماری حکومت قرضے میں بجٹ کا 38 فیصد ادا کر رہی تھی، اسکا مطلب ہے ہم بھی اس وقت اتنا ہی پیسہ قرضے اور سود میں ادا کر رہے تھے، آج بھی حکومت بجٹ کا 37 فیصد کی ہی قرضے اور سود میں ادا کر رہی ہے۔ یہ جو کمیشن کی بات کر رہے ہیں، یہ صرف مخالفین کیخلاف ہتھکنڈہ ہے، انہوں نے کچھ تحقیقات نہیں کرنی ہیں، ہم کہتے ہیں بجٹ کو عوام دوست بنائیں، وہ نیب کیسز کی طرح تحقیقاتی کمیشن کی دھمکی دیتے ہیں۔

اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ عوام اور پاکستان کیساتھ مخلص نہیں ہیں۔ ان میں ہمت ہے کہ فوج کے اخراجات پہ جا کر پوچھیں، یہی بڑا حصہ ہے بجٹ کا، سول اخراجات کیا ہوتے ہیں، وہ تو سب کے سب تفصیل سے ہر ایک سامنے ہی ہوتے ہیں۔ اس میں تو تنخواہیں اور پنشنز ہی ہیں، اس میں کیا چیک کرنے والی چیز ہے، صرف ترقیاتی منصوبے ہیں، انہیں چیک کریں، لیکن وہ بڑے پراجیکٹ چینی کمپنوں اور سڑکیں ایف ڈبلیو او نے بنائی ہیں، کون کریگا انہیں چیک، انکا حساب کون لیگا، کون پوچھے گا، بس ایک شور ہے کہ لوگوں کو تو ریلیف دے نہیں سکتے، سارے معاملے پہ گرد ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایران کیجانب سے امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد ایک بار پھر خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، پاکستان کا کیا کردار ہونا چاہیئے۔؟
سید حسن مرتضیٰ:
امریکہ کی پالیسیوں پر کوئی تبصرہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک بات ذہن میں رکھیں کہ اوبامہ کے زمانے میں ٹرمپ نے یہ کہا کہ امریکہ نے جو جنگیں چھیڑی ہوئی ہیں، ان سے نکلنا اور فوجوں کو واپس بلانا ضروری ہے، کیونکہ یہ جنگیں امریکہ کے مفاد میں نہیں ہیں، لیکن جب نئے الیکشن نزدیک آ رہے ہیں تو ٹرمپ اپنی سب باتوں اور موقف کی نفی کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اضافی فوجیں مشرق وسطیٰ میں بھیجیں گے، نئی جنگ چھیڑیں گے، ملکوں کو تباہ کر دیں گے، یہ دھمکیاں امریکیوں کا پرانا طریقہ ہے، ایران کیخلاف محاذ آرائی پہلی مرتبہ نہیں، پہلے بھی بحیرہ عرب میں امریکی موجودگی ایران کیخلاف ہے۔

ایک لمبے عرصے سے پابندیاں لگا رکھی ہیں، اسی طرح جو جوہری معاہدہ کیا گیا اس میں ایران نے تو کوئی خلاف ورزی نہیں کی، ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر یہ معاہدہ ختم کیا، ان کا ذہن یہ ہے کہ ایران کیخلاف کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، جس سے ایران کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہو، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ امریکی بیڑے کی بحیرہ عرب میں موجودگی سے صرٖف ایران کو نہیں دھمکایا جا رہا بلکہ گوادر، سی پیک اور پاکستان بھی اسکا نشانہ ہے۔ امریکی موجودگی اور انکے عزائم سے پیدا ہونیوالی لہریں پاکستان کیلئے بھی سنگین خطرہ ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کا موقف اور پالیسی کیا ہونی چاہیئے۔؟
سید حسن مرتضیٰ:
بے شک امریکہ ایک طاقت ہے، پاکستان کے ساتھ براہ راست جنگ بھی نہیں، لیکن آگے بڑھ کر ساتھ دینا چاہیئے ایران کا، پوری دنیا امریکہ کے اقدامات کی مخالفت اور مذمت کر رہی ہے۔ ایران کیساتھ جوہری معاہدہ صرف امریکہ کا نہیں تھا بلکہ یورپ کی طاقتیں بھی اس میں شامل ہیں، وہ امریکی اقدامات کی تائید نہیں کر رہے۔ معاہدہ ایران نے نہیں بلکہ صدر ٹرمپ نے توڑا ہے، ان یورپی طاقتوں کو احساس ہے کہ غلطی امریکہ نے کی ہے، ایران نے نہیں، امریکہ اول تو یہ کہ حملہ نہیں کریگا، ورنہ وہ تنہاء کھڑا ہوگا، نائن الیون کا بہانہ بنا کر جو افغانستان پر حملہ کیا گیا وہ اور معاملہ تھا، لیکن ایران کے معاملے میں نیٹو ممالک بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ زیادتی کر رہا ہے۔

اسی طرح جب شام پر حملہ ہونے لگا تھا اور وہاں پر عرب ممالک، اسرائیل اور امریکہ یہ آپس میں طے کرچکے تھے کہ صد بشار الاسد کو ہٹایا جائے، لیکن روس کی ایک وارننگ نے سارا معاملہ الٹ دیا۔ اب پاکستان کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ چین اور روس کا اب بھی وہی موقف ہے، ہمارے تعلقات امریکہ کیساتھ پہلے جیسے نہیں ہیں، پاکستان کو علاقائی سلامتی کیلئے روس، چین اور ایران کا ساتھ دینا چاہیئے، یہ نہ صرف ہمارے پڑوسی اور اسلامی ملک ہونے کے ناطے ایران کیلئے ضروری ہے بلکہ پاکستان کی بقاء، سلامتی اور سی پیک جیسے منصوبوں کی کامیابی کیلئے بھی ضروری ہے۔ پہلے بھی پاکستان پاک ایران گیس پائپ لائن کے سلسلے میں بیرونی دباؤ کیوجہ سے اپنا نقصان برداشت کر رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 801154
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب