0
Tuesday 25 Jun 2019 19:51
حکومت اور اپوزیشن عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں

نام نہاد عرب مسلم حکمران فلسطین کیخلاف اسرائیلی سازشوں کا حصہ ہیں، زبیر احمد گوندل

پی ٹی آئی پارٹی نہیں بلکہ یہ لوٹوں اور لٹیروں کا مسافرخانہ ہے
نام نہاد عرب مسلم حکمران فلسطین کیخلاف اسرائیلی سازشوں کا حصہ ہیں، زبیر احمد گوندل
جماعت اسلامی پاکستان یوتھ ونگ کے مرکزی صدر اور ضلع سرگودہا کے سابق امیر زبیر احمد گوندل، پنجاب یونیورسٹی کے ناظم اسلامی جمعیت طلبہ، جمعیت کے مرکزی ناظم اعلٰی رہے ہیں۔ تحریکی شخصیات میں سے مولانا مودودی اور امام خمینی کی کامیاب انقلابی جدوجہد سے بے حد متاثر ہیں۔ حکومت کیخلاف اپوزیشن کی موجودہ حکمت عملی، وفاقی حکومت کے بجٹ، عالم اسلام کی صورتحال سمیت اہم ایشوز پر اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: کوئی ایک جماعت حکومت یا موجودہ نظام کیخلاف تبدیلی کے خواب کو کیسے پورا کرسکتی ہے، مولانا فضل الرحمان کی اے پی سی میں عدم شرکت کا فیصلہ مذہبی قوتوں کے درمیان مزید فاصلوں کا سبب نہیں بنے گا۔؟
زبیر احمد گوندل:
یہ ہمارا اصولی موقف ہے کہ جماعت اسلامی اے پی سی میں شرکت کرے گی، نہ سابقہ حکمران پارٹیوں کا دم چھلا بنے گی۔ یہ ہر جماعت کا حق ہے کہ وہ اپنی دانست کے مطابق سیاسی فیصلے کریں، جماعت اسلامی مہنگائی، بے روزگاری، سود کی لعنت اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خاتمہ کے لیے میدان عمل میں پہلی بھی موجود تھی، اب بھی موجود ہے۔ ہم ان شاء اللہ غریب، مظلوم اور بے کس عوام کو بحرانوں سے نکالیں گے۔ عوام جس طرح پی ٹی آئی سے لوگ مایوس ہوچکے ہیں، اسی طرح نون لیگ اور پی پی پی سے بھی مایوس ہیں، پھر کیسے ایک ایسے اتحاد کو نتیجہ خیز بنایا جا سکتا ہے، جس میں یہ پارٹیز موجود ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی ترجیحات عوامی خواہشات سے متصادم ہیں۔ جماعت اسلامی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے، پارلیمانی اپوزیشن کا حصہ نہیں بنیں گے، کیونکہ پارلیمانی اپوزیشن احتجاجی تحریک عوامی مقاصد کے بجائے ذاتی مقاصد کی تکمیل کیلئے چلا رہی ہے، عمران خان نے علی بابا کو جیل میں ڈال کر چالیس چور اپنے ساتھ ملا لئے ہیں۔

زرداری اور دیگر افراد کی گرفتاریاں مکافات عمل ہے۔ جو لوگ ان گرفتاریوں کا کریڈٹ لے رہے ہیں، یہ خود اس ٹولے کے ساتھ شریک رہے ہیں۔ ہم اپوزیشن کے اعلان کردہ احتجاج کا خیر مقدم کرتے ہیں، لیکن کسی گرینڈ اپوزیشن الائنس کا حصہ نہیں بنیں گے اور نہ ہی کسی تحریک کا حصہ بنیں گے، وہ اپنی بنیاد پر کام کریں، ہم ویلکم کریںگے، تاہم جماعت اسلامی اپنی بنیاد پر عوام کو متحرک کرے گی اور نظریاتی، معاشی ترقی اور قومی سلامتی، جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اپنا کردار ادا کریںگے، بھرپور احتجاج ہوگا، عوام کے جذبات کی ترجمانی ہوگی۔ اتحاد کی سیاست موثر و نتیجہ خیز نہیں بن سکی، جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ کسی الائنس کا حصہ نہیں بنیں گے، تاہم اسلامی قوانین ملک کی نظریاتی تبدیلی کی کسی بھی کوشش پر دینی جماعتوں کے ساتھ کھڑے ہونگے۔

اسلام ٹائمز: حکومت کا موقف ہے کہ اپوزیشن جماعتیں احتساب سے جان چھڑانے کی تگ و دو کر رہی ہیں، آپکا نعرہ بھی احتساب ہے تو احتسابی عمل کی تائید کی بجائے الگ تحریک کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے۔؟
زبیر احمد گوندل:
ہم ملک میں احتساب کے نظام کو مضبوط اور منظم کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ حکمرانون کا احتساب پہلی حکومتوں سے مختلف نہیں، سیاسی انتقام نظر آتا ہے، اپنے لوگوں کو بری کیا جا رہا ہے، بلکہ یہ اسی عمل کا تسلسل ہے، جو انتخابات سے پہلے شروع کیا گیا، ایک لانڈری بنائی گئی، سیاستدانوں کو ڈرائی کلین کیا گیا، آج وہ اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہیں، یہ عمل شفاف نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام فوجی آمریتوں، بھٹو خاندان اور شریف خاندان کے اقتدار سے مایوس ہوئے اور بدقسمتی سے عمران خان سے بڑی توقعات لگا لیں، لیکن پی ٹی آئی حکومت کا کوئی ویژن اور کوئی لائحہ عمل نہیں۔ سیاسی بے وفا اور امپورٹ کیے ہوئے مسلط کردہ ماہرین نے سب کچھ  داؤ پر لگا دیا ہے۔ خزانہ بھرنے کے لیے حکومت کو پانامہ کے 436 لوگوں کا احتساب اور نیب کے پاس موجود کرپشن کے 150 میگا سکینڈلز ہیں، حکمران انہیں کھولنے کیلئے تیار نہیں۔

حکومت نمائشی اقدامات سے عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے۔ حکومت چوروں کو راستہ دینے کی پالیسی بنا چکی ہے، یہ احتساب نہیں کرسکتے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے جن جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو ٹکٹ دیے تھے، وہی آج پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، پی ٹی آئی کی کابینہ میں آدھے سے زیادہ لوگ پرویز مشرف اور آدھے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے بیٹھے ہیں۔ پی ٹی آئی پارٹی نہیں بلکہ یہ لوٹوں اور لٹیروں کا مسافرخانہ ہے، ہمیں حکمرانوں کی نااہلی اور نالائقی کا پورا یقین ہے، یہ ملک و قوم کی کوئی خدمت نہیں کرسکتے، نہ احتساب ان کے بس کی بات ہے۔ وزیراعظم کرپشن اور قرضوں کے حسابات اپنے ارد گرد بیٹھے، ان مشیروں سے لیں، جو ماضی کے ان حکمرانوں کے ساتھ کرپشن میں خود شریک رہے ہیں۔ حکومت احتساب نہیں سیاست کرر ہی ہے، اگر احتساب ہوتا تو قابل مواخذہ لوگ وزیراعظم کے اردگرد نہ بیٹھے ہوتے، احتساب ہوا تو اسمبلیاں خالی اور جیلیں بھر جائیں گی۔ حقیقی احتساب صرف جماعت اسلامی کرسکتی ہے۔ عوام احتساب چاہتے ہیں جبکہ حکمران احتساب کی آڑ میں مہنگائی کرکے عوام کا استحصال کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا جماعت اسلامی اس پر متفق ہے کہ وفاقی حکومت کو بجٹ منظور نہیں کروانے دیا جائیگا۔؟
زبیر احمد گوندل:
اس میں شک نہیں کہ یہ بجٹ عوام دشمن ہے، کیونکہ قرضے، کرپشن، شرح سود اور کشکول کے سائز میں اضافہ، پیداواری لاگت میں اضافہ، زراعت، صنعت، تجارت کا پہیہ جام کر رہا ہے۔ موجودہ قومی بجٹ نامنظور اور ناقابل برداشت ہے، حکومت ضد چھوڑے، بجٹ واپس لے اور خود انحصاری و قومی ترجیحات کا نیا بجٹ بنائے۔ وفاقی، صوبائی حکومتوں کو احساس ہی نہیں، ملک خطرات میں گھرا ہے، حکومت نااہل اور کھلنڈروں کے ہتھے چڑھ گئی ہے، اسمبلیاں عوامی مسائل  حل کرنے کی بجائے ان میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں، غریب تو ہر دور میں ہی پستا رہا ہے، لیکن عمران خان حکومت نے متوسط سفید پوش طبقہ کو بھی بے حال، مایوس اور تباہ کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت ملکی تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے، حکومت نے راتوں رات چینی اور سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ کرکے شوگر اور سیمنٹ مافیا کو خوش کیا ہے۔ مدینہ کی ریاست کا وعدہ کرنے والوں نے عوام کو مہنگائی سے نجات دینے کے بجائے 1100 سینما گھر تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ملک کا کسان اور مزدور رو رہا ہے۔

بھارت نے اپنے کسانوں کو بجلی، تیل، کھاد اور زرعی ادویات پر سبسڈی دی، جبکہ ہماری حکومتوں نے ان کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ آج ملک کا کسان اور مزدور بھوکا سونے پر مجبور ہے۔ تاجروں نے چھوٹی انڈسٹری اور گھریلو دستکاریوں کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو روزگار دیا، مگر حکومتی اقدامات اور ٹیکسوں کی بھرمار نے انڈسٹری کو تباہ کر دیا ہے، آج کراچی، سیالکوٹ، لاہور اور فیصل آباد کے تاجر ہاتھ پرہاتھ دھرے رو رہے ہیں۔ ڈالر کی قیمت میں بے پناہ اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی نے ملکی معیشت کو ڈبو دیا ہے، ڈالر روزانہ اوپر اور روپیہ نیچے آرہا ہے۔ حالیہ بجٹ میں 2900 ارب روپے صرف سود کی ادائیگی کے لیے رکھے گئے ہیں، حکمران اگر خوشحالی لانا چاہتے ہیں تو انہیں سودی نظام ختم کرنا پڑے گا۔ حکومت نے معیشت کو آئی ایم ایف کے حوالے کرکے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے پاس معاشی ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ آج تک دنیا کا کوئی ملک آئی ایم ایف کے قرضوں سے خوشحال نہیں ہوسکا۔ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، اسکی تائید کسی صورت میں نہیں کی جا سکتی۔

اسلام ٹائمز: کیا جماعت اسلامی اس پوزیشن میں ہے کہ اتنی تعداد میں لوگوں کو سڑکوں پہ لا سکے، جس سے حکومت موقف بدلنے اور پالیسیوں کو تبدیل کرنے پہ مجبور ہو جائے۔؟
زبیر احمد گوندل:
جماعت اسلامی اللہ پر کامل یقین اور عوام کے بھروسہ پر بحرانوں کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کرے گی۔ ہم کامیابی سے عوامی مارچ شروع کرچکے ہیں، لاہور اور فیصل آباد کی سڑکیں اس بات کی گواہ ہیں، کراچی میں بھی شہریوں کا سمندر نظر آئے گا، ان حکمرانوں کی نیندیں اڑا دینگے، پاکستان میں نوجوانوں میں دینی رجحان پایا جاتا ہے، نوجوان لادینیت اور لادینی قوتوں سے نفرت کرتے ہیں اور یہ قوم کا اصل سرمایہ ہیں۔ اگر ان کو مثبت سرگرمیوں کی طرف موڑ دیا جائے تو یہ ملک کی سب سے بڑی قوت ثابت ہوں گے۔ جماعت اسلامی کے ساتھ نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد ملک میں غلبہ دین کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ نوجوانوں میں نماز، روزہ، اعتکاف اور حفظ قرآن کا رجحان بڑھ رہا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی و فلاحی مملکت دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے عوام کے پاس اب جماعت اسلامی کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن نہیں۔ یہ نوجوان کسی ایک خاص طبقے سے خاص نہیں ہیں بلکہ اس میں طالب علم بھی شامل ہیں، مزدور، کسان اور ملازمت پیشہ لوگ بھی۔ بے روزگاروں اور مہنگائی سے تنگ آئے لوگوں کا لشکر موجودہ حکمرانوں کو تہس نہس کر دیگا۔ عوام جس طرح بنیادی سہولتوں سے پہلے محروم تھے، اس سے بڑھ کر آج بھی ہیں۔ قرضہ لینے سے خودکشی کو بہتر قرار دینے والوں نے دس ماہ کے اندر سابقہ حکومتوں سے سو گنا زیادہ قرضہ لیا ہے، ٹیکسوں اور مہنگائی کی وجہ سے غریب کے لیے جینا تو کیا سانس لینا بھی مشکل ہوچکا ہے، ہم اس حکومت کو مزید برداشت نہیں کرسکتے۔ حکومت نے نوجوانوں کو دھوکہ دے کر بڑا ظلم کیا ہے۔ نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرکے حکومت اب تک پانچ لاکھ نوجوانوں سے روزگار چھین چکی ہے۔ اگر یہ حکومت رہی تو بے روزگاری مزید بڑھے گی۔

پچاس لاکھ لوگوں کو گھر دینے کا وعدہ کرنے والوں نے اب تک ہزاروں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے، حکومت کہتی ہے کہ انہوں نے جو وعدے کیے تھے، ان کو پورا کرنے کے لیے تو کم از کم پندرہ سال چاہئیں، یہ حکمران دھوکے سے آئے اور فریبکاری سے حکومت چلا رہے ہیں۔ سابقہ حکومتوں نے اپنے پانچ سالہ دور میں جو ناکامی اور بدنامی سمیٹی تھی، موجودہ حکومت نے پہلے دس ماہ میں ہی اس کا ریکارڈ توڑ دیا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے تبدیلی کے نعرے بھی لگا رہی ہے، ملک کے معاشی زبوں حالی اور اقتصادی تباہی کی فرد جرم سابقہ اور موجودہ حکومتوں پر عائد ہوتی ہے، سابقہ حکومتوں کے وزیروں مشیروں کو بغل میں بٹھا کر وزیراعظم صاحب کس تبدیلی کا راگ الاپ رہے ہیں، حکومت نے اپنے پہلے سال میں ہی سابقہ حکومتوں سے زیادہ قرض لیکر ایک ریکارڈ قائم کیا ہے اور موجودہ اور آنے والی نسلوں کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دیدیا ہے۔ اس سے چھٹکارا پاکستان کا مقدر ہے، اسکا حل صرف اسلامی نظام ہے۔

اسلام ٹائمز: صدر مرسی کی جیل میں وفات اور فلسطین کیخلاف عرب حکمرانوں کا اسرائیل اور امریکہ کیساتھ گٹھ جوڑ ایک چیلنج ہے، امت مسلمہ کو کیا کرنا چاہیے۔؟
زبیر احمد گوندل:
مصر کے ظالم و جابر حکمران سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر مرسی کی شہادت کے بعد مصر میں غلبہ اسلام کی تحریک ختم ہو جائے گی، ان عقل کے اندھوں کو سمجھ لینا چاہیئے کہ جس تحریک کو ان کا باپ فرعون ختم نہیں کرسکا، یہ کیسے کرسکتے ہیں۔ اخوان پر ظلم ڈھانے اور ہزاروں بے گناہ کارکنوں کو جیلوں میں بند کرنے والوں نے فرعون کے عبرت ناک انجام سے سبق نہیں سیکھا۔ ڈاکٹر مرسی کی شہادت پہلی شہادت ہے نہ آخری۔ مصر سمیت دنیا بھر میں اسلام کے متوالے غلبہ دین کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ صدیوں سے دے رہے ہیں اور قیامت تک دیتے رہیں گے۔ ڈاکٹر محمد مرسی کا اکلوتا جرم مصری عوام کو بنیادی حقوق فراہم کرنا اور فلسطین کی آزادی کا مطالبہ تھا۔ ڈاکٹر محمد مرسی کو کہا گیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کی آزادی کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت چھوڑ دیں، مگر انہوں نے ڈکٹیٹر شپ اور مصری عوام پر مسلط صیہونی تسلط کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

اسلام کے نام پر بننے والے ملک کے حکمران امریکہ اور اسرائیل سے اتنے خوف زدہ ہیں کہ شہید جمہوریت حافظ ڈاکٹر محمد مرسی کی شہادت پر سرکاری طور اظہار افسوس کیا گیا، نہ اس ظلم کی مذمت کی گئی۔ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ٹرمپ کہتا ہے کہ اخوان المسلمون دہشت گرد ہیں، حالانکہ اخوان المسلمون نے کبھی ہتھیار نہیں اٹھائے۔ دنیا بھر کی اسلامی تحریکیں پرامن رہتے ہوئے اپنی دعوت اور پیغام دے رہی ہیں۔ قطر اور ترکی کی حکومتوں نے جرأت مندی سے ڈاکٹر محمد مرسی کے قتل کی مذمت کی۔ پاکستان کو مدینہ جیسی اسلامی ریاست بنانے کے دعویداروں کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ پاکستان کے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے اس قتل کی مذمت کر دیتے۔ جو حکمران صدر مرسی کی معزولی اور وفات کے ذمہ دار ہیں، وہی استعمار ار ظالم طاقتوں کے وفادار ہیں، جس طرح ڈاکٹر مرسی نے جان دیدی لیکن فلسطین کی حمایت سے ہٹے نہیں، یہ اسلامی تحریکوں کے عزم اور ارادے کی مثال ہے۔

دنیا بھر کے یہودی ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے مسلمانوں کے اس قبلہ اول کو مسمار کرنے پر تلے ہوئے ہیں، جہاں سے خاتم الانبیاء ؑ حضرت محمد ؐکے سفر معراج کا آغاز ہوا تھا۔ جو نام نہاد مسلم حکمران اس سازش میں یہودیوں کا ساتھ دے رہے ہیں، وہ اسلام اور امت کے غدار ہیں۔ قبلہ اول کی آزادی اور فلسطینی مسلمانوں کے تحفظ کی ذمہ داری پورے عالم اسلام کی ہے۔ قبلہ اول پر صیہونی قبضہ اور فلسطینیوں کے قتل عام پر پوری امت خون کے آنسو رو رہی ہے، مگر مسلم ممالک کے نام نہاد حکمران قبلہ اول کی آزادی کے لیے کچھ کرنے کی بجائے اسرائیل کی سازشوں میں اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جب اپنے گھر کے لوگ دشمن کے ساتھ مل جائیں تو اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوسکتی ہے۔ دشمن کیخلاف امت کو اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری قوم کو اس کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے اٹھنا ہوگا اور عالمی قوتوں کو بھی اسرائیل کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔ عالمی امن کے لیے فلسطین پر یہودیوں اور کشمیر پر ہندوؤں کے ناجائز قبضہ کو ختم کرنا ضروری ہے۔
خبر کا کوڈ : 801482
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب