0
Thursday 27 Jun 2019 10:39
نون لیگ نواز شریف کے بیانیہ پر کاربند ہے

امریکہ مستقبل میں ایران کی طرز پر پاکستان کیخلاف بھی اقدامات کرسکتا ہے، سردار اویس لغاری

امریکہ مستقبل میں ایران کی طرز پر پاکستان کیخلاف بھی اقدامات کرسکتا ہے، سردار اویس لغاری
پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنماء اور رکن پنجاب اسمبلی سردار اویس احمد لغاری 1971ء میں پیدا ہوئے۔ پاکستان کے سابق صدر مرحوم فاروق احمد لغاری کے بیٹے نے ایچی سن کالج لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، اکنامکس میں ماسٹر کیا اور یونیورسٹی آف روچسٹر امریکہ سے سیاسیات میں ڈگری حاصل کی۔ 1997ء میں پہلی دفعہ راجن پور سے پنجاب اسمبلی کی صوبائی نشست کیلئے رکن منتخب ہوئے، 2002ء، 2011ء اور 2013ء میں نینشنل الائنس پاکستان کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیا اور ڈی جی خان سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے،  2002ء اور 2017ء میں وفاقی وزیر رہے، 2018ء میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اپوزیشن رہنماء کیساتھ میثاق معیشت، حکومت کیخلاف اپوزیشن کی تحریک، پی ایم ایل کے اندرونی اختلافات سمیت اہم ایشوز پر اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: کیا مریم نواز کیجانب سے اعلانیہ میثاق معیشت کو مذاق قرار دینے نے شریف خاندان اور نون لیگ میں دھڑے بندی پر مہر ثبت نہیں کر دی۔؟
اویس احمد لغاری:
ایسا بالکل نہیں، وہ ایک ذمہ دار رہنماء ہیں، ان کی پریس کانفرنس کا بنیادی مقصد میاں نواز شریف کی بیماری سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار تھا، ایک بیٹی اس بارے میں جن تحفظات کا اظہار کر رہی ہے، یہ آسان نہیں، کیونکہ میاں نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن تو ہے، لیکن ایسی وجوہات ہیں کہ کوئی ڈاکٹر انہیں ہاتھ لگانے کو تیار نہیں، یہ قابل فہم ہے کہ کون اس کی بات پر یقین کرے گا کہ قدرتی امر تھا یا ڈاکٹر نے پیسہ لے کر قتل کیا ہے۔ اسی لیے انہوں نے مصر میں سابق صدر مرسی کی وفات کی بھی بات کی۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح بھی کیا کہ پاکستان مصر نہیں اور یہان کسی سیاسی قیدی کو مرسی نہیں بننے دیا جائیگا۔ وہ مسلم لیگ نون کی نائب صدر ہیں، جو بات موجودہ سیاسی صورتحال اور میثاق معیشت کے متعلق انہوں نے کی، وہ اس کا ایک حصہ تھا، بنیادی نکتہ نہیں تھا۔

اس سے متعلق سوالات جو بڑے تند و تیز تھے، وہ ان سے کیے گئے، لیکن انہوں نے تحمل اور تدبر سے ان سوالات کے جوابات دیئے ہیں، وہ مشکلات اور دباؤ کے باوجود مضبوط اور کامیاب سیاسی کارکن کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ جو شور مچایا جا رہا ہے، یہ اپوزیشن کی خواہش ہے کہ شریف خاندان اور نون لیگ میں جو رائے کا اختلاف ہے، اسے تقسیم ظاہر کریں، لیکن اس میں کبھی کامیابی نہیں ہوئی، نہ ہی اس حوالے سے لیگی کارکنوں کو گمراہ کیا جا سکا ہے۔ پھر بھی اسکی وضاحت ضروری ہے۔ پریس کانفرنس میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ نون کا ایک ہی بیانیہ ہے اور مریم نواز سمیت پارٹی کا ہر کارکن اور رہنماء نواز شریف کے بیانیہ کے ہی ترجمان ہیں۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ اس پریس کانفرنس کے بعد خواجہ آصف سمیت سب رہنماؤں نے اس اعلانیہ کی تائید کی ہے۔ یہ طے شدہ ہے کہ پوری پارٹی میں کوئی ایسی بات کرنے اور کہنے کیلئے تیار نہیں، جس سے عمران خان کی حکومت کے حوالے سے کسی قسم کی لچک کا اظہار ہو۔ اگر کہیں ابہام تھا بھی تو پریس کانفرنس کے بعد واضح ہوگیا ہے، مریم نواز ہی پاکستان کی سیاست کا مستقبل ہیں۔ مریم نواز کا فعال کردار ملکی سیاست میں بھی اہم ہے اور مسلم لیگ نون بھی سمجھتی ہے کہ عمرانی حکومت سے نجات میں ہی ملک کا مفاد ہے اور یہی بیانیہ ہی نواز شریف کا بیانیہ ہے۔ انہوں نے صرف پارٹی کے لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے۔

اسلام ٹائمز: اسی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلم لیگ نون کی اصل قیادت کس کے پاس ہے، مفاہمت کا اعلان کرنیوالے بزرگوں کے ہاتھ یا جارحانہ انداز کی حامل نئی نسل کے ہاتھ۔؟
اویس احمد لغاری:
آپ دیکھیں ہر طرف بالخصوص ملکی سیاسی محاذ پر حکومت معاشی صورتحال پر پریشان نظر آرہی ہے اور کوئی راستہ نہیں مل رہا، وہاں خود اپوزیشن بھی تذبذب کا شکار ہے اور کسی انجانے خوف کی وجہ سے کسی واضح مؤقف اور لائحہ عمل کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، اس دوران نوجوان لیڈر کی ایک پریس کانفرنس نے ان تمام سوالات کا خاموشی سے جواب دے دیا ہے، جو پورے سیاسی منظر نامے پر مسلم لیگ کے بیانیے، نون لیگ سمیت اپوزیشن کو بھی اس ساری صورتحال میں واضح نشاندہی ہوگئی ہے کہ کیا ماحول ہے اور حقیقت پہ مبنی پالیسی کیا ہونی چاہیئے۔ اب سب کیلئے یہ حقیقت عیاں ہوچکی ہے کہ مستقبل کا خاکہ پارٹی میں مریم نواز ترتیب دیں گی۔ نئی نسل کو ان کی صلاحیت اور اہلیت کی بنیاد پہ سیاسی طور پر ٹرینڈ کیا گیا ہے۔

اب اس سیاسی اور معاشی بحران میں انہیں اپنے آپ کو نکھارنے کا موقع ملا ہے اور اسی لیے نواز شریف نے عدالتوں سے نا اہلی اور اقتدار سے بیدخلی کے بعد جان بوجھ کر مریم نواز کو اپنے ساتھ رکھا۔ یہ موقع موجودہ حالات نے دیا ہے، اب یہ آزمائش کا لمحہ مسلم لیگ اور خود نواز شریف سے تقاضا کر رہا تھا کہ اب مریم نواز کو بروئے کار آنا چاہیئے، انتخابات کے بعد پارٹی لیڈرشپ کو اپنی حکمتِ عملی آگے بڑھانے کا پورا موقع دیا گیا، اب پاکستان کو چلانے کیلئے نئی نسل کو آگے آنا چاہیئے۔ اس سے کسی کیلئے راستے مسدود نہیں ہوتے، نہ ہی کس پر کوئی قدغن ہے، ہر پارٹی میں غالب تعداد پرانے، تجربہ کار اور عمر رسیدہ لوگوں کی موجود ہے، جن کی مشاورت اور سائے میں نوجوان قیادت آگے آئی ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ نواز شریف کی سزا، پارٹی کے اندر مشکلات اور بیرونی دباؤ کے باوجود ہمارا بیانیہ آئین کی بالادستی اور عوام کی سربلندی ہے، جس کی خاطر ہماری جد و جہد جاری رہیگی۔

اسلام ٹائمز: نواز شریف صاحب کی بیماری کی بنیاد پہلے بھی ضمانت ہوچکی ہے، لیکن عدالت نے دوبارہ ضمانت اس لیے نہیں دی کہ انہوں نے علاج کروایا ہی نہیں، کیا اپنے والد کی بیماری کو ایشو بنا کر مریم نواز اپنی سیاست کا آغاز کرنا چاہ رہی ہیں۔؟
اویس احمد لغاری:
عدالت کو تو دوبارہ استدعا بھی کی جائے گی، کیونکہ نواز شریف کی بیماری عام نہیں بلکہ انکے دل کا مسئلہ ہے، حکومت تو جس طرح اپنا کوئی کام نہیں کر رہی، اسی طرح وہ اس معاملے کو بھی صرف الزامات کے فہرست کیساتھ رد کرتے ہیں، یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں، لیکن ایک ایسا شخص جو تین بار وزیراعظم رہ چکا ہے، پارٹی کا لیڈر اور پوری دنیا میں پہچان رکھتا ہے، اس کی زندگی کا مسئلہ ہے، اس کو کیسے سیاست کی نذر کیا جا سکتا ہے، حکومت کا رویہ نہایت غیر ذمہ دارانہ اور تمسخر آمیز ہے، عدالت کے فیصلے کا احترام کیا گیا ہے، یہ پتہ تھا کہ فیصلہ منصفانہ نہیں ہے، پھر باپ بیٹی باہر سے واپس آئے ہیں، ابھی ضمانت ہوئی تھی، دوبارہ جیل میں بیٹھیں ہیں، تو یہ کسی طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی بیماری پہ سیاست ہو رہی ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ میاں نواز شریف اپنی بیٹی کی سیاست کیلئے فقط جیل میں بیٹھے ہوں، انکا تو اس وقت بھی بائی پاس ہوا تھا جب وہ وزیراعظم تھے، یہ سوچ اور انداز نظر مناسب نہیں، کوئی ایسی بات نہیں۔ ہمیں ابھی بھی ان کی نااہلی اور پھر سزا پر اعتراض ہے۔ جس طرح میان نواز شریف کیساتھ عوام کا جذباتی تعلق ہے، وہی مریم نواز کیساتھ بھی ہے۔ یہ کوئی مذاق نہیں ایک بیٹی پریس میں آکر بتا رہی ہے کہ میرے باپ کو دل کی تکلیف ہے، یہ تو کوئی غلطی سے بھی نہیں کہتا، یہ کیسے سمجھ لیا جائے کہ مریم نواز سوچے سمجھے طریقے سے اپنے باپ کی بیماری کا سہارا لے رہی ہیں۔ اب تو ہر سیاسی کارکن کہہ رہا ہے کہ حکومت کا منفی طرز عمل اس کی وجہ ہے کہ اپوزیشن نے میثاق اور بات چیت سے انکار کیا ہے۔

اسلام ٹائمز: حکومت تو علاج کا کہہ رہی ہے، اسی طرح جو عام پاکستانی جیلوں میں ہیں، انہیں تو علاج کی غرض سے ضمانت کی سہولت نہیں دی جاتی، ایک سیاسی لیڈر کیلئے کیوں ضروری ہے کہ انکا علاج صرف بیرون ملک ہی ہوگا، یہاں کیوں نہیں ہوسکتا۔؟
اویس احمد لغاری:
یہ تو بات اس طرح ہوگئی کہ اب موجودہ حکومت جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ ان کے علاوہ کوئی دیانت دار، صادق اور امین نہیں، یہ ایک بل لیکر آئیں کہ اب کسی کو ملک سے باہر علاج کروانے کی اجازت نہیں ہوگی، ججز کرواتے ہیں، بیوروکریٹس جاتے ہیں، سیاستدان بھی جاتے ہیں، صرف اپوزیشن رہنماؤں کیلئے کیوں ممنوع ہے کہ وہ کسی ایسی حالت میں جب ان کے معالج کہہ رہے ہوں کہ انہیں بیرون ملک جا کر علاج کروانا چاہیئے، اجازت نہ دی جائے، یہ تو ناانصافی اور ظلم ہے، وہ بھی یہ کہ انہوں نے اپنے خرچے پہ جانا ہے اور علاج کروانا ہے۔ ابھی تک تو کوئی قانون ایسا نہیں کہ کوئی ملک سے باہر نہیں جا سکتا، یا علاج نہیں کروا سکتا۔

اسی طرح اسوقت یہ عدالتیں اور قانون کہاں تھا، جب جنرل مشرف باہر گئے، وہ بھی علاج کی غرض سے، آج تک واپس نہیں آئے۔ کیا کسی کے پاس اس کا جواب ہے؟، ہرگز نہیں ہے۔ میان نواز شریف نے کوئی قتل تو نہیں کیا، جنرل مشرف کیخلاف تو یہ مقدمہ بھی تھا، نواز شریف نے کوئی غداری نہیں کی، مشرف کیخلاف تو سنگین غداری کا کیس ہے۔ مشرف کیخلاف تو بے نظیر شہید اور اکبر بگٹی جیسے رہنماؤں کے قتل کے مقدمات ہیں۔ دونوں رہنماؤں کا تعلق چھوٹے صوبوں سے ہے، اس حوالے سے وہاں ابھی تک بے چینی پائی جاتی ہے۔ کسی سول حکمران نے تو آئین نہیں توڑا، مشرف نے تو آئین توڑا ہے۔

اسلام ٹائمز: اسپیکر نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کیلئے سلیکٹیڈ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی لگائی ہے، تمام جماعتوں کو ایوان کا تقدس برقرار رکھنے کیلئے روایات کی پاسداری نہیں کرنی چاہیئے۔؟
اویس احمد لغاری:
اپنے سیاسی مخالفین کو چور اور ڈاکو کہنے والے عمران خان کو لفظ سلیکٹڈ پہ کوئی اعتراض اور اتنا خوف نہیں ہونا چاہیئے، اگر عمران خان کی سیاست کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو یہ ایک لفظ کافی ہے، یہ ٹریڈ مارک بن چکا ہے، پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والے کیسے پارلیمان کے استحقاق کی بات کرتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: منتشر اپوزیشن اور نون لیگ میں آراء کے تضاد کے باوجود حکومت کیخلاف تحریک موثر ہوگی۔؟
اویس احمد لغاری:
حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں تحریک انصاف کی حکومت ملکی معیشت کی تباہی کے بعد ملکی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے، حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گردی پھر سر اٹھا رہی ہے، تحریک انصاف کی نا اہل کابینہ صرف مسلم لیگ نون کے خلاف ڈھول پیٹ رہی ہے، جس میں کسی قسم کی کوئی حقیقت نہیں مسلم لیگ نون کے قائدین میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف پاکستان کی عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں اور انہیں پاکستانی عوام سے کوئی بھی دور نہیں کرسکتا، ناکام خان کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے وطن عزیز کا ہر فرد پریشانی سے دوچار ہے۔

پاکستان کے مفلوک الحال عوام کو معاشی ترقی و خوشحالی کے سہانے خواب دکھا کر اقتدار حاصل کرنے والے نااہل حکمرانوں نے اپنی غلط پالیسیوں اور ناقص حکمت عملی کی بدولت عوام کو مہنگائی کے گرداب میں دھکیل دیا۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کی بلند پرواز نے عوام کی قوت خرید ختم کر دی اور غریب عوام تبدیلی سرکار کو بددعائیں دے رہے ہیں۔ عوامی مینڈیٹ چرا کر بیساکھیوں کے سہارے چلنے والی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اگر حکمرانوں نے عوام دُشمن پالیسیاں ختم نہ کیں تو غربت اور مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام سڑکوں پر ہوں گے۔

کٹھ پتلی سرکار قوم سے کیا گیا کوئی وعدہ بھی وفا نہ کرسکی، نا اہل حکومت کی ناکامیاں پوری قوم سمجھ چکی ہے، جس طرح حکومت انسانی حقوق کی پامالیاں کر ر ہی ہے، یہ سب کچھ حکومتی ناکامیوں کی پردہ پوشی نہیں کرسکے گا۔ اسیر جمہوریت قائد میاں محمد نواز شریف کا ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ قومی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، میاں محمد نواز شریف سمیت دیگر قائدین کے خلاف مسلسل انتقامی کارروائیوں کے باعث نون لیگ کے کارکنوں اور عہدیداران کے صبر و ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ چکے ہیں، لیگی قیادت کو حقیقی جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد پر انتقام کا نشانہ بنانا تشویشناک ہے، جلد حکومت اور مہنگائی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

اسلام ٹائمز: پڑوسی اسلامی ملک کیخلاف امریکی اقدامات کے تناظر میں پاکستان کا کردار کیا ہونا چاہیئے، دوسری طرف پاکستان امریکہ کا اتحادی بھی ہے۔؟
اویس احمد لغاری:
یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے، پاکستان کبھی بھی ازخود امریکہ کا اتحادی نہیں بنا، اس لیے پاکستان کو داخلی کمزوریوں کی وجہ سے ایسی پالیسی اختیار کرنا پڑی، اس کے باوجود پاکستان نے امریکہ کیساتھ ساتھ چین اور اب روس کیساتھ تعلقات میں توازن پیدا کر لیا ہے، ایران شروع سے یعنی انقلاب کی آمد کے بعد سے ہی امریکہ کی آنکھ میں کٹھکتا ہے، جنگ ہو یا بات چیت اور مذاکرات دونوں حوالوں سے ایران کو ناکام نہیں بنایا جا سکا، حالیہ کشیدگی اور پابندیوں میں امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کی وجہ سے اب وہ دوسرے ممالک کو دباؤ میں لانے کیلئے سمندروں کی حفاظت کا خود ساختہ انتظام ختم کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایک بات حتمی ہے کہ امریکہ براہ راست ایران پر حملہ نہیں کریگا، ہماری بدقسمتی ہے کہ عالم اسلام انتشار کا شکار ہے۔

مسلمان ایک دوسرے کو مضبوط بنانے کی بجائے کمزور کر رہے ہیں، ہمارے دور حکومت میں ہم میان نواز شریف سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان مصالحت کی کوشش کی تھی، یہی ایک بہترین راستہ ہے، اگر پاکستان نے فعال کردار ادا نہ کیا تو پاکستان کیخلاف دباؤ میں مزید اضافہ کیا جائیگا، یہ ہو بھی رہا ہے، بہتر یہ ہے کہ دونوں ملک مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں، اس میں رکاوٹیں اب دوسرے ممالک کیساتھ ہمارے تعلقات ہیں، لیکن حالات اب بدل چکے ہیں، عرب ممالک پر ہمارا اس طرح کا انحصار نہیں، اگر جنگ کی بھی بات کریں تو اگلی باری پاکستان کی ہے، کیونکہ جن الزامات کو بنیاد پر ایران کیخلاف دباؤ ڈالا جا رہا ہے، وہی الزامات یعنی دہشت گردی کی حمایت اور ہمارے ایٹمی پروگرام پر تحفظات، کے ذریعے ہی پاکستان کیخلاف دنیا کے ہر فورم پر سیاسی اور معاشی پابندیوں کی راہ ہموار کرنیکی کوشش کی جا رہی ہے، ہر گزرتا لمحہ پورے عالم اسلام کیلئے ایران کے کردار کو نکھار کر پیش کر رہا ہے، یہ امتحان ہر قوم کا مقدر ہے، لیکن اسکا مردانہ وار مقابلہ کون کرتا ہے، کیسے کرتا ہے، یہ ایران نے ثابت کر دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 801784
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے