0
Sunday 30 Jun 2019 22:11
پشاور پولیس ہر چیلنج کا مقابلہ کرسکتی ہے

کسی بھی نئے قانون کو نافذ کرنے اور اِسے کامیاب ہونے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے، ظہور بابر آفریدی

آئی جی سے لیکر ڈی پی او تک ہر رینک کا آفیسر ایک ایس ایم ایس کی دوری پر ہے
کسی بھی نئے قانون کو نافذ کرنے اور اِسے کامیاب ہونے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے، ظہور بابر آفریدی
ایس ایس پی آپریشنز ظہور بابر آفریدی 23 دسمبر 1982ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پشاور سے ہی حاصل کی۔ بنیادی تعلق ضلع خیبر اور آفریدی قوم سے ہے۔ انہوں نے پولیٹیکل سٹڈی و انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹر کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد صوبائی سروسز (پی ایم ایس) جوائن کی۔ کچھ عرصہ وہاں خدمات انجام دینے کے بعد سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور محکمہ پولیس جوائن کر لیا۔ ابتدائی طور بلوچستان کے تین اضلاع میں تعینات رہے، اسکے بعد انکی خدمات محکمہ پولیس خیبر پختونخوا کے حوالے کی گئی ہیں، جسکے بعد انکی پہلی تعیناتی بطور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) چارسدہ، بعد ازاں ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان تعینات رہے اور اب گذشتہ پانچ ماہ سے ایس ایس پی آپریشنز پشاور تعینات ہیں۔ پشاور ہر لحاظ سے حساس ہے، اس ضلع میں جہاں تمام اداروں کے ہیڈ کوارٹرز موجود ہیں، وہیں غیر ملکی قونصل خانوں سمیت بین الاقوامی اداروں کے دفاتر بھی قائم ہیں۔ ان اداروں کی موجودگی میں پشاور کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، تاہم اس کیساتھ دہشتگردی کی سب سے زیادہ کارروائیاں بھی پشاور میں ہوئیں بلکہ ہو بھی رہی ہیں۔ پشاور تاحال وار زون کا حصہ ہے۔ بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے بعد اب بھتہ خوری کی لہر اور ٹارگٹ کلنگ نے پشاور میں دہشت اور خوف کے سائے مزید گہرے کر دیئے ہیں۔ ان حالات کا مقابلہ کرنیکی ذمہ دار فورس "پولیس" کی کارکردگی اور ان حالات سے نمٹنے کیلئے اقدامات جانے کیلئے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز پشاور ظہور بابر آفریدی سے خصوصی گفتگو کی گئی، جسکی تفصیلات سوال و جواب کیصورت میں قارئین کی نذر ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کس حد تک ہے۔؟
ظہور باب آفریدی:
میں آپکو بالکل سچ بتاتا ہوں، ہمارے اوپر کسی بھی قسم کا کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہے۔ ہم وزیر، ایم این ایز اور ایم پی ایز کو عزت دیتے ہیں، کیونکہ وہ عوامی نمائندے ہیں، لیکن اس کے علاوہ کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے۔ آج تک مجھے بحیثیت ایس ایس پی پوسٹنگ ٹرانسفر کیلئے گورنر، وزیراعلٰی کی کال آئی، نہ ہی کسی ایم پی اے، ایم این اے نے سفارش کی ہے۔ ہمارے اوپر کسی قسم کا کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: پشاور میں نقص عامہ کی سب سے بڑی وجہ افغان مہاجرین ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ غیر قانونی افغان مہاجرین کیخلاف موثر کارروائی ہونی چاہیئے۔؟
ظہور بابر آفریدی:
غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہوچکا ہے، تمام کرایہ داروں کو ہم چیک کرتے ہیں۔ خاص طور پر جو غیر قانونی طور پر یہاں مقیم ہیں، ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت کی جو بھی پالیسی ہوگی، ہم اس پر من و عن عملدرآمد کریں گے۔ گذشتہ دنوں غیر قانونی مہاجرین کے خلاف کارروائی کی گئی تو درجنوں کے حساب سے گرفتار ہوئے۔

اسلام ٹائمز: پبلک لیزان کمیٹی، کمیونٹی پولیس فورم سمیت دیگر مختلف فورمز کی قانونی حیثیت کیا ہے اور انکا قیام کس مقصد کیلئے عمل میں لایا گیا۔؟
ظہور بابر آفریدی: پبلک لیزان کمیٹی، کمیونٹی پولیس فورم اور دیگر جتنے بھی فورمز قائم کئے گئے ہیں، ان کا مقصد پولیس اور کمیونٹی کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا تھا، جہاں تک قانونی حیثیت کی بات ہے تو ہماری کوشش تو یہی ہے کہ جتنے بھی فورمز قائم ہیں، انہیں قانونی حیثیت حاصل ہو۔ پولیس کے فرائض منصبی میں یہ بات شامل ہے کہ عوام کی بلا امتیاز خدمت کی جائے۔

اسلام ٹائمز: آن لائن ایف آئی آر کی قانونی حیثیت کیا ہے۔؟
ظہور بابر آفریدی: ایف آئی آر کا مطلب انفارمیشن رپورٹ ہے، بدقسمتی سے ہمارا کریمنل جسٹس سسٹم یرغمال ہوچکا ہے، حالانکہ ایف آئی آر کی قانونی حیثیت تو فوری ایکشن لینا ہے۔ اس کے بعد باری آتی ہے تفتیش کی، تو آن لائن ٹیلی فون کے ذریعے ہو یا بنده خود آئے تو اس پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ہمارا پورا عملہ ایف آئی آر کا یرغمال ہوچکا ہے، بلکہ میں تو کہوں گا کہ ایف آئی آر کے پرچے نے اتنی اہمیت اختیار کر لی ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس ساری بات کا مقصد یہ ہے کہ ایف آئی آر آن لائن ہو یا بنده خود تھانے آئے، ایف آئی آر کی بہت اہمیت ہے اور آن لائن ایف آئی آر کی قانونی حیثیت اس طرح ہے، جیسے کوئی سائل اپنی کمپلینٹ درج کرانے پولیس اسٹیشن جاتا ہے۔

اسلام ٹائمز: جب آن لائن ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو اسے تھانے کیوں بلایا جاتا ہے۔؟
ظہور بابر آفریدی:
اس کی تصدیق لازمی کرنا پڑتی ہے، کیونکہ قانوناََ یہ لازمی ہے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی دبئی میں ہے اور وہ آن لائن ایف آئی آر درج کرواتا ہے تو ایسے میں پولیس کیا کرے گی؟ اس کا تھانے آنا لازمی ہے، اس لئے آن لائن ایف آئی آر میں یہ شرط رکھی گئی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے صوبے میں بہت ساری ایف آئی آر جھوٹی درج ہوتی ہیں۔ صرف میں پشاور کی مثال دوں تو یہاں دن میں 40 سے 50 ایف آئی آر جھوٹی یا غلط ہوتی ہیں، جیسے جرم ایک بندہ کرتا ہے اور ایف آئی آر میں پورے خاندان کو نامزد کر دیا جاتا ہے، اسی لئے پولیس مجبور ہے کہ آن لائن ایف آئی آر درج کرانے والے کو بلایا جائے اور مزید تفتیش کی جائے۔

اسلام ٹائمز: پشاور میں اسوقت کتنے اغواء کار، رہزن اور ڈکیٹ گروہ سرگرم ہیں۔؟
ظہور بابر آفریدی:
باعث مسرت بات ہے اور الله کا شکر ہے کہ پشاور میں اغواء برائے تاوان کی شرح صفر ہے، جب سے میری تعیناتی ہوئی ہے، اغواء برائے تاوان کی ایک ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ لین دین اور شادی کی غرض سے اغواء ہوتے رہتے ہیں جس پر بھرپور کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ رہی بات رہزن اور ڈکیٹ گروہ کی تو گذشتہ 5 ماہ پر نظر ڈالی جائے تو تقریباََ 52 سے زائد مختلف گروہ گرفتار ہوئے ہیں، جن کے قبضے سے گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، موبائل فونز، نقدی، طلائی زیورات اور دیگر سامان برآمد کیا گیا، جو اصل مالکان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اسلام ٹائمز: پشاور میں ایک بار پھر قبضہ مافیا سرگرم ہوچکا ہے، ان کیخلاف کیا اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔؟
ظہور بابر آفریدی:
پشاور پولیس 80 فیصد تک قبضہ مافیا کے خلاف بھی سرگرم ہے۔ ہمارے پاس دو طریقے ہیں، ایک تو آرام سے بات چیت کے ذریعے ان سے رابطہ کیا جائے اور مسئلے کو حل کیا جائے اور دوسرا اگر ہمیں خطرہ ہو کہ اس معاملے میں خون خرابے کا خدشہ ہے تو پھر فوری تادیبی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی تیسرا راستہ نہیں ہوتا۔ اگر ہمیں معلوم ہو جائے کہ سول مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ کورٹ جائے گا تو پھر ہم اس میں بھی کوئی مداخلت نہیں کرتے۔ قبضہ گروپ کے خلاف ہم تب تک کارروائی نہیں کرسکتے، جب تک ہمیں کوئی شکایت موصول نہ ہو۔ شکایت موصول ہونے کے بعد ہی ہم کارروائی کرتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: تھانہ کلچر کی تبدیلی کے بہت دعوے کئے جا رہے ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تھانہ کلچر تبدیل ہوچکا ہے۔؟
ظہور بابر آفریدی:
میں دل سے پشاور پولیس کو مثالی کہتا ہوں اور پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں، کیونکہ دیگر صوبوں میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ یہاں چھوٹے بڑے کی تمیز، ہر کسی کی مدد کرنا کلچر کا ایک حصہ ہے۔ ہم کسی بھی تھانے میں جاتے ہیں تو یہ شکایت نہیں ملتی کہ خدانخواستہ کسی کی بیٹی یا بہن کے ساتھ بدتمیزی یا زیادتی کی گئی ہو، کیونکہ دوسروں کو عزت دینا ہمارے کلچر کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ جس تھانے یا اہلکار سے متعلق شکایت ملتی ہے تو اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ تقریباََ ہمیں روزانہ ایک ہزار سے زائد مختلف نوعیت کی شکایات موصول ہوتی ہیں اور شکایات حل بھی کی جاتی ہیں، میرے خیال میں یہ ایک مثالی پولیس ہے۔

اسلام ٹائمز: محکمہ پولیس میں کرپشن کس حد تک ختم ہوچکی ہے اور ابتک کتنے کرپٹ آفیسرز و اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی گئی۔؟
ظہور بابر آفریدی:
کرپشن کے حوالے سے آئی جی پولیس کی پالیسی بڑی واضح ہے اور سب کو معلوم ہے۔ آئی جی نے جتنے بھی کرپٹ افسران تھے، ان کے خلاف نہ صرف کارروائی کی بلکہ نوکریوں سے بھی فارغ کیا ہے۔ میرے خیال میں ان اقدامات سے پولیس میں کافی بہتری آئی ہے۔ میں یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں نے اتنا آزاد آئی جی اپنے پورے کیرئیر میں نہیں دیکھا۔ پوسٹنگ ٹرانسفر میں وہ کسی کی بھی سفارش نہیں مانتے اور نہ ہی ان کے مزاج کو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے۔ پوسٹنگ اور ٹرانسفر کا دار و مدار مکمل میرٹ پر ہوتا ہے، کوئی سفارش قبول نہیں کی جاتی۔ گذشتہ 5 ماہ کے دوران جتنی بھی کرپشن سے متعلق شکایات ملیں، اس کی جانچ پڑتال کی گئی اور 30 سے 40 اہلکاروں کو نوکریوں سے فارغ اور 35 کے قریب کو سزائیں دی گئیں۔

اسلام ٹائمز: پشاور میں تھانوں کی عمارتیں انتہائی خستہ حال ہیں، پولیس کی رہائش کا کوئی مناسب بندوبست نہیں، اس کیلئے کیا اقدامات اُٹھائے جا
رہے ہیں۔؟
ظہور بابر آفریدی:
میرے خیال میں یہ صرف پشاور پولیس کا نہیں بلکہ صوبے اور پورے ملک میں یہ مسئلہ ہے۔ اس میں کافی حد تک بہتری آچکی ہے۔ پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں ماڈل پولیس سٹیشنر اور ماڈل پولیس چوکیاں بنائی گئی ہیں، صرف پشاور میں 32 کے قریب ایسی پولیس چوکیاں بنائی گئی ہیں، جن میں تمام تر سہولیات موجود ہیں اور یہ چوکیاں بم پروف ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان میں رہائش کا بندوبست، کچن، باتھ رومز اور دیگر انتظامات بھی موجود ہیں۔ یہ بات ضرور ہے کہ پولیس کو فنڈز میں کافی حد تک مسئلہ درپیش ہوتا ہے، اس کے باوجود بھی ہماری کوشش ہوتی ہے کہ محرر سے لے کر ایس ایچ او تک کے کمرے بھی بہتر ہوں۔ آنے والے دنوں میں مزید تین سے چار ماڈل پولیس سٹیشن قائم کئے جائیں گے۔

اسلام ٹائمز: خواتین کی شکایت کیلئے ایک علیحده کاونٹر بنانیکی منظوری دی گئی تھی یہ منصوبہ کہاں تک پہنچا اور وویمن پولیس سٹیشن کیسے فعال ہونگے۔؟
ظہور بابر آفریدی:
 ہمارے ہر پولیس سٹیشن میں وویمن ڈیسک موجود ہے اور خواتین کے تمام مسائل حل کئے جا رہے ہیں۔ میں آپ کو مثال دوں تھانہ گلبہار، فقیر آباد، حیات آباد اور شرقی میں اسپیشل وویمن ڈیسک قائم کئے گئے ہیں۔ وہاں خواتین کی جو بھی شکایت آتی ہے، اسے فوراََ حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس لائن میں بھی وویمن پولیس سٹیشن موجود ہے۔ میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ خواتین کیلئے سہولیات کا بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے، اس کیلئے ہماری میٹنگز ہو رہی ہیں اور یہ مسائل بہت جلد حل کر دیئے جائیں گے۔ محکمہ پولیس کی بھرپور کوشش جاری ہے، ایک ایسی بلڈنگ ہو جو خواتین کیلئے مختص کی جائے اور وہاں خواتین پولیس سٹیشن پینل ڈیسک قائم ہو، کیونکہ خواتین کا پولیس لائن پہنچنا ہی مشکل ہے۔

اسلام ٹائمز: ضم شدہ قبائلی اضلاع میں پولیس نے اپنے فرائض انجام دینے شروع کر دیئے ہیں، ایف آر پشاور جو پہلے نیم قبائلی علاقہ تھا، اب پشاور کا حصہ بن چکا ہے کیا وہاں پولیسنگ آسان ہے۔؟
ظہور بابر آفریدی:
یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ قبائلیوں کو قومی دھارے میں شامل کیا گیا اور یہ ان کا دیرینہ مطالبہ بھی تھا۔ سابق ایف آر پشاور جو اب حسن خیل سب ڈویژن بن چکا ہے، وہاں 450 کے قریب پولیس اور لیویز اہلکار تعینات ہیں۔ مجموعی طور پر 10 کے قریب چیک پوسٹیں بھی قائم کی گئی ہیں۔ یہ بہت مشکل مرحلہ ہے،کیونکہ کسی بھی نئے قانون کو نافذ کرنے کیلئے اسے کامیاب ہونے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے اور وہاں کی لیویز خاصہ دار فورس بھی پولیس میں ضم ہوچکی ہے۔ ان کا مکمل سروس اسٹرکچر اور ڈیوٹی اوقات کار سمیت دیگر امور میں وقت لگے گا۔ ہماری پولیس پوسٹ نے ادھر بھی کام کرنا شروع کر دیا ہے اور باقاعدہ پولیس سٹیشن بھی قائم کر دیا گیا ہے، جہاں ایک ڈی ایس پی اور ایک ایس ایچ او بھی تعینات ہے۔

اسلام ٹائمز: خیبر پختونخوا حکومت نے کچھ عرصہ قبل پولیس ایکٹ نافذ کیا ہے، جس میں پولیس کو ہر لحاظ سے خود مختار بنایا گیا ہے، آپ اس ایکٹ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
ظہور بابر آفریدی:
جی بالکل صوبائی حکومت نے پولیس ایکٹ نافذ کیا ہے، جس میں آئی جی پی کو مکمل اختیارات دیئے گئے ہیں، لیکن جب آپ خود مختیار ہو جاتے ہیں تو آپ کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، اب عوام کے سامنے ہم جوابدہ ہوگئے ہیں۔ میں یہ کہوں گا کہ پولیس جو بھی کام کرتی ہے، عوام کی بہتری کیلئے ہی کرتی ہے۔ اگر پولیس اپنے اختیارات سے تجاوز کرتی ہے تو اس کیلئے بھی مختلف فورم بنائے گئے ہیں، جس میں آئی جی سے لے کر ڈی پی او تک ہر رینک کا آفیسر ایک ایس ایم ایس کی دوری پر ہے۔

ہمارے رابطہ نمبر، ای میل ہر تھانے میں موجود ہیں۔ ایک عام شہری بھی ان نمبرز کے ذریعے کسی بھی آفیسر کے ساتھ براہ راست رابطہ کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈی پی او، ایس ایس پی پشاور، تمام پولیسنگ پلان کی خبر رکھتے ہیں۔ ٹریفک پلان کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور پھر ہر 6 ماہ بعد ضلع کونسلوں میں پریزنٹیشن دینی پڑتی ہے۔ پھر اگر ڈسٹرکٹ کونسل ہمارے پلان اور ہم سے متفق ہو تو ٹھیک وگرنہ کونسل متعلقہ ادارے کو اپنی تجاویز بھیج دیتا ہے۔ پھر ہمارا تبادلہ ہو جاتا ہے، لیکن 2017ء سے پولیس آپریشنلی آزاد و خود مختار ہے۔

اسلام ٹائمز: پشاور کی آبادی کی نسبت پولیس کی نفری اور وسائل کتنے ہیں اور کتنے ہونے چاہئیں۔؟
ظہور بابر آفریدی:
ہماری نفری تقریباََ پانچ سے ساڑھے پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے اور پشاور کی آبادی 70 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ 1861ء پولیس ایکٹ کو دیکھیں تو اُسوقت نہ ہی دہشت گردی تھی، نہ اغواء برائے تاوان وغیرہ، تو اُسوقت تقریباً ساڑھے چار سو افراد پر ایک پولیس کانسٹیبل تعینات تھا اور اب آبادی اتنی بڑھ چکی ہے کہ ایک کانسٹیبل ایک ہزار افراد پر تعینات ہے۔ یہ نفری بھی صرف کاغذوں میں ہے۔ باقی پولیس نفری تو وی وی آئی پی ڈیوٹیز پر تعینات ہے، مختلف دفاتر میں نفری تعینات ہے اور بینکوں کی رکھوالی بھی ہمارے ذمہ ہے۔ اس کے علاوہ 10 سے 15 لاکھ افغان مہاجرین آباد ہیں اور ساتھ ساتھ روزانہ 8 سے 10 لاکھ کے قریب لوگ آتے جاتے ہیں، اس کے علاوہ ہمارے قریبی اضلاع چارسده، نوشہرہ، حتٰی کہ کوہاٹ اور بنوں سمیت کئی اضلاع سے لوگ روزانہ کی بنیاد پر پشاور کا رخ کرتے ہیں، جبکہ فورس نہ ہونے کے برابر ہے۔ آبادی کے لحاظ سے تناسب بہت کم ہے، وقتاََ فوقتاََ اپنی تجاویز اعلٰی حکام تک بجھواتے رہتے ہیں اور اس میں پیش رفت ہوتی رہتی ہے۔ یہ بتاتا چلوں کہ پشاور پولیس ہر چیلنج کا مقابلہ ہر لحاظ سے کرتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 802343
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب