0
Tuesday 9 Jul 2019 21:06
نون لیگ میں کوئی تقسیم نہیں، نہ تھی اور نہ ہوگی

ملکی سالمیت عمران خان کے آمرانہ طرز حکمرانی سے شدید خطرات سے دوچار ہے، میاں جاوید لطیف

ملکی سالمیت عمران خان کے آمرانہ طرز حکمرانی سے شدید خطرات سے دوچار ہے، میاں جاوید لطیف
پاکستان مسلم لیگ نون پنجاب کے رہنماء میاں جاوید لطیف 1962ء میں پیدا ہوئے، 1993ء میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں آزاد حیثیت سے پہلی دفعہ حصہ لیا، لیکن کامیاب نہیں ہوئے، 1997ء میں مسلم لیگ نون کے پلیٹ فارم سے شیخوپورہ کی سیٹ سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، 2008ء، 2013ء اور 2018ء میں رکن قومی اسمبلی بنے۔ بجٹ کی منظوری کے بعد متحدہ اپوزیشن میں توڑ پھوڑ اور حکومت کیخلاف ممکنہ احتجاج سمیت اہم ایشوز پر لیگی رہنماء کیساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: کیا موجودہ عسکری قیادت کیجانب سے حکومت کے معاشی اقدامات کی تائید عمران خان کیلئے تقویت کا سبب بنے گی۔؟
میاں جاوید لطیف:
یہ حکومت کا وطیرہ ہے، وہ فوج، عدلیہ سمیت تمام ریاستی اداروں کو متنازع بنا رہے ہیں، آرمی چیف کی کوئی پارٹی نہیں، اس تاثر کے باوجود کہ عمران خان لاڈلہ ہے، معیشت کا استحکام قومی سلامتی کا ضامن ہے، اپوزیشن جماعتوں کے تمام لیڈر اس پر پہلے ہی بات کرچکے ہیں، اس کا اشارہ دے چکے ہیں کہ یہ قومی مفاد کیلئے ضروری ہے کہ سب جماعتیں مل کر معیشت پہ بات کریں، مشاورت کریں، تجاویز دی جائیں اور مل کر کام کیا جائے، جو بات شروع دن سے ہر اپوزیشن لیڈر کہہ رہا ہے، وہی بات آرمی چیف نے بھی کہی، یہ ایسا نہیں کہ آرمی چیف نے حکومت کی تائید کی ہے، بلکہ انہوں نے اس ضرورت کا احساس دلایا ہے کہ پاکستانی معیشت انتہائی کمزور ہوچکی ہے، اس حد تک گر چکی ہے کہ جس سے ملکی بنیادیں ہل چکی ہیں۔

انہوں نے ایک سنگین خطرے کی نشاندہی کی ہے، یہ تمام جمہوری قوتوں کی ذمہ داری ہے، لیکن اس کے لیے جمہوری رویئے ضروری ہیں، جن کی عمران خان سے توقع نہیں کی جاسکتی، سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ آمرانہ طرز سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیئے، اس کے بغیر آرمی چیف کے مشورے پر عمل نہیں ہوسکتا، اسکا نقصان ملک کو ہوگا، آرمی چیف نے معیشت مستحکم کرنے کیلئے جمہوری قوتوں کو مکالمے کی دعوت دی ہے، انہوں نے اپنی گفتگو میں کوئی منفی بات نہیں کی، جو عمران خان کی زبان ہے کہ سب چور ہیں، ڈاکو ہیں، سب کو لٹکا دوں گا، کسی کو نہیں چھوڑوں گا، ایسی کوئی بات انہوں نے نہیں کی، نہ ہی وہ اس چیز کی تائید کر رہے ہیں، انہوں نے حکومت کی توجہ دلائی ہے کہ اپوزیشن سمیت تمام سیاسی قوتوں کا کردار اہم ہے۔

اسلام ٹائمز: آپکے خیال میں معیشت کی جو صورتحال ہے، اسکی بحالی آسانی سے ممکن ہے۔؟
میاں جاوید لطیف:
معیشت کی بحالی کیوں ممکن نہیں، اگر نان ایشوز کو چھوڑ کر ایشوز پر بات کی جائے، اس کا سب سے پہلا قدم یہ ہوگا کہ قومی مباحثے کا ماحول پیدا کیا جائے، آرمی چیف سمیت تمام ماہرین اور ذمہ دار لوگوں نے اسی پر سب سے زیادہ زور دیا ہے، اسی لیے یہ نہیں کہا گیا کہ ساری خراب صورتحال کی ذمہ دار سابق حکومتیں ہیں، معیشت کی بحالی کے لیے ضرروی ہے کہ قوم ایک پیج پر ہو، ساتھ ہی علاقائی رابطوں کو مضبوط بنایا جائے، پڑوسی ممالک کیساتھ تجارت کو فروغ دیا جائے، یہ بات سمجھنا بہت اہم ہے کہ خطے کی صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ ہر ملک کی معیشت کو متاثر کر رہی ہے، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ حکومت جو اقدامات کر رہی ہے، کیا اس میں یہ اہلیت بھی ہے؟ اور کیا وہ ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکال سکتی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کی خود مختاری داؤ پر لگی ہوئی ہے۔؟

زمینی حقائق یہ ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسی اور وزراء کے سیاسی بیانیے سے ملک میں سیاسی تقسیم بہت تیزی سے گہری ہوتی چلی جا رہی ہے۔ گالی والا بیانیہ اب قابلِ قبول نہیں رہا۔ ان کے نزدیک دوسری سیاسی جماعتوں کے لوگ کرپٹ اور ڈاکو ہیں۔ ایسی صورت میں قومی مباحثہ کا آغاز نہیں ہوسکتا، نہ ہی قابل عمل تجاویز سامنے آسکتی ہیں۔ اسی تاجر، صنعتکار، برآمد کندگان، مزدور، ملازم پیشہ افراد سب کو تشویش ہے، نہ صرف سیاسی جماعتوں کو سائیڈ لائن کیا جا رہا ہے بلکہ کسی بھی طبقہ کی بات نہیں سنی جا رہی، جو ملکی معیشت کی بہتری کے لیے درکار ماحول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اسلام ٹائمز: اپوزیشن میں یہ احساس پہلے سے ہی تھا کہ مووجدہ حکومت نااہل اور ناکام ہے، لیکن ان تمام نعروں کے باوجود وفاقی حکومت کا بجٹ منظور بھی ہوچکا ہے اور نافذ العمل بھی، کیا صرف سیاسی دعووں سے بہتری ممکن ہے۔؟
میاں جاوید لطیف:
بجٹ ایک ظالمانہ اقدام ہے، یہ آئی ایم ایف کا تیار کردہ ہے، اسی لیے پہلے دن سے ہی گیارہ سو ارب کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے، سی این جی پر سیلز لاگو کر دیا گیا ہے، گھریلو صارفین بھی 190 فیصد مہنگی گیس استعمال کر رہے ہیں، روزمرہ استعمال کی اشیاء چینی، گھی اور دودھ وغیرہ پر بھی سترہ فیصد سیلز ٹیکس نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں چینی تھوک مارکیٹ میں 66 روپے سے بڑھ کر 69 اور عام صارفین کے لیے 72 روپے فی کلو کے بجائے 75 روپے کلو ہوگئی ہے۔ سیمنٹ 480 سے بڑھ کر 620 روپے بوری پر پہنچ گیا ہے۔ گوشت اور پولٹری کی تیار مصنوعات پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگنے سے قیمتیں سو روپے کلو تک بڑھ گئی ہیں۔ خشک اور بند ڈبوں میں دستیاب دودھ کی قیمت میں بھی اسی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ سترہ فیصد کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ سے گھی اور پکانے کا تیل بھی 22 روپے فی کلو سے زائد مہنگا ہوا ہے۔

چکن، مٹن، بیف اور مچھلی کی تیار مصنوعات کی قیمتیں بھی نئے بجٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی بڑھ گئی ہیں۔ سریا اور دوسرا تعمیراتی سامان بھی نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے باعث عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوگیا ہے۔ پراپرٹی انکم ٹیکس کی شرح بھی 20 سے بڑھا کر 35 فیصد کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں غریب لوگوں کے لیے سر چھپانے کے لیے مکانات کی تعمیر مزید مشکل ہوگئی ہے۔ نئے بجٹ میں پانچ برآمدی شعبوں کے لیے زیرو ریٹنگ کی سہولت ختم کر دی گئی ہے، جبکہ ایک ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر 25 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ سے ان کی قیمتیں بھی آسمان پر پہنچ جائیں گی۔ نئے بجٹ میں درآمدی اشیائے تعیش خصوصاً میک اَپ وغیرہ کے سامان پر ٹیکسوں کی شرح بھی بڑھا دی گئی ہے، جس کا یقیناً جواز بھی موجود ہے کہ اس کے نتیجے میں شاید غیر ضروری درآمدات پر زرِمبادلہ کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی ہوسکے۔

اسلام ٹائمز: یہ درست ہے کہ بجٹ سے ہر آدمی کی زندگی متاثر ہوئی ہے، لیکن کہیں سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آرہا، اپوزیشن جماعتوں کو بھی صرف اپنی لیڈرشپ کو بچانے کیلئے لوگوں کو حکومت کیخلاف اکسانا چاہتی ہیں۔؟
میاں جاوید لطیف:
نہیں ایسا نہیں ہے کہ بجٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی اس کے خلاف شدید ردعمل بھی سامنے آنے لگا ہے۔ تاجروں نے سیلز ٹیکس کے طریقہ کار میں تبدیلی کو مسترد کر دیا ہے اور کراچی، اسلام آباد، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں اس کے خلاف ہڑتال کر دی ہے۔ فیصل آباد میں ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملوں کی تالا بندی کردی گئی، کراچی میں بہت بڑا احتجاج ہوا ہے، جبکہ شوگر ڈیلرز نے ملوں سے چینی نہ خریدنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سیمنٹ ڈیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز نے بھی فیکٹریوں سے سیمنٹ نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی بجٹ میں ٹیکسٹائل کی صنعت پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے اور نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف احتجاجاً ملوں کی بندش سے ہزاروں محنت کشوں کے سر پر بے روزگاری کی تلوار لٹک رہی ہے… معاملات چند روز میں طے نہ پائے تو بازار میں چینی اور سیمنٹ کا بحران پیدا ہو جائے گا اور دوسری جانب ہزاروں غریب مزدور دو وقت کی روٹی سے محروم ہو جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان بار بار دعوے کر رہے ہیں کہ مشکل وقت گزر گیا ہے اور ملکی معیشت مستحکم بنیادوں پر استوار ہوچکی ہے، جس کے کچھ شواہد بھی سامنے آرہے ہیں… آئی ایم ایف قرض دینے پر آمادہ ہے… قطر نے تین ارب ڈالر کی جس امداد کا اعلان کیا تھا، اُس میں سے پچاس کروڑ ڈالر کی پہلی قسط پاکستان کو مل گئی ہے… چین کی جانب سے پاکستانی معیشت کو سہارا دیئے جانے کی اطلاعات ہیں… سعودی عرب نے بعد میں ادائیگی کی بنیاد پر تیل کی فراہمی کا جو وعدہ کیا تھا، اس کی فراہمی بھی یکم جولائی سے شروع ہوگئی ہے۔ گویا واقعی معاشی میدان میں حکومت کے لیے مشکلات میں کمی آئی ہے۔ اس کے برعکس عوام کے مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں، حکومتی اقدامات مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: اپوزیشن تو حکومت کیخلاف متحد ہو رہی تھی، اچانک مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی بنی گالا کیوں جا پہنچے ہیں، حکومت کو قابو کرنیکے دعوے کیسے پورے ہونگے۔؟
میاں جاوید لطیف:
اپوزیشن کو کمزور کرنے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ ایک عجیب قصہ ہے، جو ہوا، اس کی حقیقت بس اتنی ہے کہ پہلے جو لوگ بنی گالا آتے تھے، ان کے گلے میں ہار ڈالے جاتے تھے، اب جو لوگ آرہے ہیں، یہ رات کے اندھیرے میں آتے ہیں اور کوئی خبر نہیں کون تھے، کتنے تھے، بس ایک بے پر کی اڑائی گئی ہے، حقیقت میں کچھ بھی نہیں۔ جو ملنے آ رہے ہیں، انہیں کھلے دل سے سامنے لائیں، کیا یہ نائیٹ ڈیوٹی ہے، جو دن کی روشنی میں انجام نہیں دی جا سکتی۔ جن جن لوگوں کے نام آرہے ہیں، وہ سب اس کی تردید کر رہے ہیں۔ اگر اس میں حقیقت ہوتی تو جن لوگوں نے وفاداری تبدیل کرنا تھی تو اسکو قبول کرنے میں انہیں کیا مشکل تھی، لیکن انہوں نے انکار کیا ہے کہ وہ اپنی پارٹی چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہے۔ یہ عمران خان کی حکومت نے مہنگائی کے طوفان سے ملک کو تاریکی اور اندھیروں میں دھکیل دیا ہے، جونہی روشنی ہوگی تو سب کو پتہ چل جائیگا کہ کسی نے وفاداری نہیں کی، سب لوگ حکومت کیخلاف متحد ہیں۔

اسلام ٹائمز: مریم نواز اور شہباز شریف کے اختلافات تو آپکے دعوے کی تصدیق نہیں کرتے۔؟
 میاں جاوید لطیف:
نون لیگ میں کوئی تقسیم نہیں، نہ تھی اور نہ ہوگی۔ یہ ایک عوامی اور جمہوریت پر یقین رکھنے والی پارٹی ہے، مریم بی بی نے واضح طور پر کہا کہ یہ ان کی اپنی سوچ اور رائے ہے، کوئی پارٹی کا فیصلہ نہیں، اب پارٹی بھی یہ دیکھ رہی ہے کہ جو کچھ مریم بی بی نے کہا وہ حقیقت کے زیادہ قریب ہے۔ پھر ہم تو فلور آف ہاوس پہ یہی بات دس ماہ سے کہہ رہے ہیں کہ قومی اور ملکی مفاد کیلئے مل کر چلیں، لیکن جب بات نہیں سنیں گے تو یہی سمجھا جائیگا کہ ہماری بات کو مذاق کے طور پر لے رہے ہیں۔ بجائے بجٹ سیشن اور اسکے بعد پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کے جب عمران خان نے خالی سیٹیں دیکھیں، دوڑے چلے آئے، وہاں اپوزیشن کیطرف سے آنے والی میثاق کی پیشکش کا مذاق اڑایا اور چلے گئے، وہ اپنے آپ کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے، نہ ہی مل کر بات کرنا چاہتے ہیں، میرے خیال میں نہ صرف حکومت بیکار لوگوں کے ہاتھ میں ہے بلکہ وہ اسیے سازشی ٹولے کے ہاتھوں یرغمال ہے، جو پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے پہ تلے ہوئے ہیں، ہم آج بی اپنے موقف پہ قائم ہیں کہ پاکستان کی خاطر اور ملکی معیشت کی خاطر مل کر بیٹھیں۔

لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، وہاں سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا بلکہ میاں نواز شریف سے ملاقاتوں کو بند کر دیا گیا اور انکا کھانا بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اب مریم بی بی نے جو موقف اپنایا اس کا اہم پہلو یہی ہے کہ ایک بیٹی ہونے کے ناطے انہوں نے اپنا کنسرن شو کیا ہے، جو ان کا حق ہے، میاں شہباز شریف نے اپنے بڑھے بھائی کی علالت اور زندگی خطرے میں ہونے کے باوجود بات چیت شروع کرنے کی پیشکش کی ہے، میرے خیال میں یہ ان کے لئے آسان نہیں تھا، لیکن الٹا ان پر الزام لگائے جا رہے ہیں، پروپیگنڈہ ہو رہا ہے، سب پارٹیاں چاہے مسلم لیگ نون ہو پیپلز پارٹی، مولانا فضل الرحمان ہوں یا ہمارے بلوچ اور پختون بھائی، سب اکٹھے ہیں، نہ صرف مسلم لیگ نون اکٹھی ہے، حکومتی بے وقوفیوں کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیز زیادہ قریب ہوئی ہیں، اب بات پارلیمان سے باہر آچکی ہے، گلی گلی میں احتجاج ہوگا، جو بات پارلیمنٹ میں نہیں سنی گئی، وہ سڑکوں پر ہو رہی ہے، ہمارا ایک ہی بیانیہ ہے، وہ ہے پاکستان کی سالمیت، ترقی، جمہوری قدریں اور آزاد اظہار رائے۔

اسلام ٹائمز: مولانا فضل الرحمان کے علاوہ پوری اپوزیشن کا موقف رہا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ کو چلنا چاہیئے، لیکن ہر طرف سے مڈٹرم انتخابات اور وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبات کی کیا وجہ ہے۔؟
میاں جاوید لطیف:
ہم اب بھی چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے، جمہوریت ڈی ریل نہ ہو، لیکن اب صورتحال میں دو طرح سے تبدیلی آچکی ہے، ایک تو گذشتہ مہنیوں میں پاکستان بالخصوص سردیوں میں بھارت کی طرف سے حملے ہو رہے تھے، چین کیساتھ سی پیک پہ تحفظات کا اظہار بھی ہو رہا تھا، جسکا تقاضا تھا کہ ہماری طرف سے مکمل طور پر یکجہتی کا مظاہرہ ہو، اسی طرح موجودہ بجٹ اور آئی ایم ایف کیساتھ ہونیوالا معاہدہ بھی سامنے نہیں آیا تھا، دوسرے ملکوں سے قرضے بھی آرہے تھے، لیکن اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ اس حکومت کے پاس کوئی پروگرام نہیں، نہ ہی کوئی ٹیم ہے، بلکہ یہ مانگے تانگے کے منصوبوں کو بیرونی طاقتوں کی شرائط کیساتھ عوام پر مسلط کر رہے ہیں، لوگوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے، اس لیے اب اس حکومت کا جواز ختم ہوچکا ہے۔ پھر جمہوریت کیلئے مضبوط اور جاندار اپوزیشن کا کردار ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔

جو بھی مخالفین ہیں، انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے، جھوٹے مقدمات چلائے جا رہے ہیں، احتساب کا نام بدنام ہو کر رہ گیا ہے، ہر کوئی پریشان ہے، نہ کسی کو سیاسی سرگرمی کی اجازت ہے، اکانومی کا پہیہ رک چکا ہے، اس صورتحال میں ہماری ذمہ داری ہے کہ عوام کے پاس جائیں، ان کے دکھوں اور مشکلات کو کم کرنے کیلئے آگے بڑھیں، ہم نے بار ہا پیشکش کی، لیکن اب ظاہر ہوگیا ہے کہ حکومت کے پاس بیرونی ایجنڈا ہے، اپنے عوام اور اپنے ملک سے انہیں کوئی غرض نہیں، جو کسی بھی طرح قابل برداشت نہیں۔ دو لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک طرف آئی ایم ایف اور دوسری طرف ترین گروپ، ان کے علاوہ یہ حکومت کسی کے مفاد کو نہیں دیکھ رہی، آئی ایم ایف نے قرضہ دیا اور ترین گروپ نے اقتدار دلایا، ہمارا مقابلہ ان قوتوں سے ہے۔ ہمیں یہ یقین ہے کہ لوگ ہمارے ساتھ ہیں، موجودہ حکومت اپنا اعتماد کھو چکی ہے، انہیں اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔
خبر کا کوڈ : 803655
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب