2
Monday 8 Jul 2019 23:13
لوکل ملازمین کا استحصال ہو رہا ہے، غیر مقامی ملازمین حاکم بنے ہوئے ہیں

سی پیک سے جی بی کے تشخص اور اقدار کو خطرات لاحق ہیں، مولانا سلطان رئیس

کوئی قوم مذہب پر معیشت کو ترجیح نہیں دیتی، آغا راحت اور قاضی نثار کو خط لکھ کر خطرات سے آگاہ کیا ہے
سی پیک سے جی بی کے تشخص اور اقدار کو خطرات لاحق ہیں، مولانا سلطان رئیس
مولانا سلطان رئیس الحسینی کا تعلق گلگت سے ہے، وہ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کیساتھ آزاد کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے بھی چیئرمین ہیں۔ مولانا سلطان رئیس کی قیادت میں عوامی ایکشن کمیٹی جی بی نے خطے میں کئی اہم کارنامے سرانجام دیئے، سابق دور حکومت میں جب سبسڈی ختم کی گئی تو اے اے سی نے تاریخی دھرنا دیکر سبسڈی بحال کرائی اور ساتھ ہی ٹیکس چھوٹ بھی حاصل کی۔ مولانا رئیس کی سربراہی میں عوامی ایکشن کمیٹی نے جی بی میں مذہبی ہم آہنگی اور امن و امان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلام ٹائمز نے مولانا سلطان رئیس سے جی بی کے اہم معاملات اور مسائل پر تفصیلی گفتگو کی ہے، جو کہ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: عوامی ایکشن کمیٹی آجکل خاموش ہے، کیا وجہ ہے۔؟
مولانا سلطان رئیس: جی ہاں، خاموشی کی کچھ وجوہات ہیں، اس وقت ہم اپنی تمام تر توجہ ممبر سازی پر مرکوز کیے ہوئے ہیں، ہم عوامی ایکشن کمیٹی کو مذہبی اور سیاسی خول سے آزاد کر رہے ہیں اور خالص عوامی فورم بنا رہے ہیں، اس کیلئے ایک سو بڑے عمائدین کو کمیٹی میں لا رہے ہیں۔ تینوں ریجن میں عمائدین کو کمیٹی میں شامل کرنے سے ایک تو ممبر سازی آسان ہوگی، دوسری طرف عوامی ایکشن کمیٹی کو بھرپور عوامی طاقت ملے گی، سیاسی اور مذہبی خول سے آزاد کرنے کا مطلب بھی یہ ہے کہ براہ راست عوام ہی اس کے سٹیک ہولڈر ہوں گے، کیونکہ کسی بھی سیاسی پارٹی کے فرد کی کچھ مجبوریاں آڑے آتی ہیں، جس کیوجہ سے وہ اے اے سی میں خاص کردار ادا کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے، اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو کسی بھی پارٹی کے خول سے آزاد کرکے ایک خود مختار فورم بنایا جائے۔ پھر کسی بھی سرگرمی کیلئے عوامی طاقت ہونا ضروری ہے، عوامی طاقت اسی صورت میں آسکتی ہے، جب ممبر سازی اچھی ہو۔

اسلام ٹائمز: بعض اہم معاملات پر تحریک چلانے کی باتیں ہو رہی ہیں، وہ اہم معاملات کیا ہیں۔؟
مولانا سلطان رئیس: ہم اس وقت اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ سے ہٹے ہوئے ہیں، کیونکہ بعض اوقات کچھ چیزیں اپنے چارٹر سے ہٹ کر کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ دو چیزیں جس پر ہم کام کر رہے ہیں اور یہ ضروری ہیں، ایک تو یہ ہے کہ ہمارے مقامی ملازمین کا استحصال ہو رہا ہے، مقامی ملازمین کی عزت نفس مجروح ہو رہی ہے، اس کو بحال کرنا بہت ضروری ہے۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں، گذشتہ روز ہی ایک بندے سے بات ہوئی، جو سرکاری ملازم ہے، اس نے ریٹائرمنٹ کی درخواست دی ہے، میں نے پوچھا درخواست کیوں دی، اس نے کہا کہ جو لوگ باہر سے آتے ہیں، ان کیلئے مراعات، نوکر، خادم سب کچھ ہے، ساتھ ہی وہ ہمارے اوپر حاکم بھی ہیں، لوکل ملازمین کی کوئی حیثیت نہیں، باہر سے جو بھی آتا ہے، حاکم بن جاتا ہے، جس طرح سپریم ایپلٹ کورٹ میں ہوا، وہاں کا سیکرٹری جس نے پہلے تو رشوت کا بازار گرم کیا، اس نے سات مقامی سینیئر ملازمین کو برطرف کیا اور ساتھ ہی دو درجن سے زائد اپنے رشتہ داروں کو کورٹ میں بھرتی کروایا۔

اس وقت سپریم ایپلٹ کورٹ میں دو سو سے زائد ملازمین ہیں، ان میں ستر فیصد غیر مقامی ہیں۔ جب ہمیں متنازعہ یا کشمیر کے ساتھ شمار کیا جاتا ہے تو پھر سرکاری ملازمین کی پاور شیئرنگ فارمولا بھی کشمیر طرز کا ہی ہونا چاہیئے، آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ میں جج سے چپڑاسی تک کوئی بھی غیر مقامی نہیں ہوتا۔ گلگت بلتستان میں چیف جج سے چپڑاسی تک غیر مقامی لوگوں کو مسلط کیا جاتا ہے، اس حد تک لوکل ملازمین کا استحصال ہو رہا ہے اور مقامی لوگ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دے رہے ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے، پہلے ہم اپنی غیرت اور عزت کے تحفظ کی بات کریں، اس کے بعد بات جا کر معیشت اور سیاحت کی بات کریں، ہمیں الگ جھنڈا بھی ملے اور ترانہ بھی ملے، لیکن عزت نہ ہو تو اس کا کیا فائدہ ہیں، قومیں اگر ریاست بناتی ہیں تو اپنے تشخص کیلئے بناتی ہیں، اگر کسی ریاست کے ساتھ الحاق کریں اور وہاں آپ کا تشخص نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اسلام ٹائمز: سی پیک کے تناظر میں ہمارے دینی تشخص اور اقدار کو کس حد تک خطرات لاحق ہیں، ساتھ ہی اس منصوبے میں ہمارا حصہ ہی نہیں، اس صورتحال میں ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے، کیا پلاننگ ہونی چاہیئے۔؟
مولانا سلطان رئیس:
بحثیت مسلمان دیکھیں تو پہلے جغرافیائی اور نظریاتی بنیادیں مقدم ہیں، ہمیں پہلے جغرافیائی اور نظریاتی بنیادوں کے تناظر میں دیکھنا ہوگا، رہی بات سی پیک کی تو سی پیک میں کوئی نہیں دیا گیا، مقامی سطح پر نہ ہی قومی سطح پر، یہاں ہمیں دینے والی بات تو ہے ہی نہیں، ہم نے فکر کرنا ہے کہ ہم سے لیا کیا جا رہا ہے؟ ہم نے اس پہ پلاننگ کرنی ہے۔ میں نے آغا راحت، قاضی نثار اور اسماعیلی ریجنل کونسل سمیت دیگر علماء کو لیٹر بھجوا دیا ہے، تاکہ اس پر قبل از وقت غور کریں، کیونکہ ایک سیاسی بندے کی طرح ایک عالم کا بھی بہت بڑا رول ہوتا ہے، خصوصاً گلگت بلتستان میں علماء کا ایک وقار ہے، احترام بھی ہے اور ان کی بات سنی بھی جاتی ہے۔ آج سی پیک کے اندر سیاسی جماعتوں نے کیا حق ادا کیا، کتنے پروجیکٹس لے کے آئے؟ کتنے معاملات حل کرائے؟

یہ عوام کے سامنے ہیں، لیکن بحیثیت ایک عالم میں نے اپنا فرض پورا کیا، علماء کو باور کرایا کہ دیکھیں، یہاں جی بی میں مختلف مسالک اپنی جگہ، لیکن سو فیصد مسلم آبادی ہے، مسلم آبادی کے اندر جب سی پیک بنے گا تو کیا ہوگا۔ ہمارے قومی اور دینی تشخص کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ چائنا کے ساتھ ہمارا معاشی تعلق ہے، پڑوسی کا تعلق ہے، لیکن اسلامی طور پر چین سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ اب دنیا کی کوئی بھی قوم اپنے مذہب کے اوپر معیشت کو ترجیح نہیں دیتی، لیٹر میں میں نے مثالیں بھی دی ہیں، ایران، سعودی عرب کی مثالیں بھی دی ہیں، اگر کسی اسلامی ریاست میں کوئی غیر مسلم خاتون جاتی ہے تو وہاں انہیں سکارف پہننا پڑتا ہے، جو کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک اسلامک سٹیٹ ہے، یہاں مسلم رہتے ہیں اور یہاں اسلامک کلچر ہے، اس وقت جی بی کے لوگ بہت مذہبی کہلاتے ہیں، یہاں مذہب کے نام پر لوگ لڑتے ہیں۔

سی پیک کے آنے کے بعد جب حیا، پردہ، اسلامک کلچر ہی نہیں رہے گا تو سنی کہاں رہے گا اور شیعہ کہاں رہے گا؟ ہمیں اس پہ سوچنا ہے، ہم اپنے نظریات کا تحفظ کرینگے تو پیسہ ہمارے پیچھے آئے گا، جب ہم اپنے کلچر اور نظریات کا سودا کرینگے تو ہم پیسوں کے پیچھے بھاگیں گے، یہ دنیا کا اصول ہے، حدیث بھی ہے کہ جب تم دنیا کے پیچھے بھاگو گے تو دنیا تم سے بھاگے گی، اگر تم دنیا سے بھاگو گے تو دنیا تمہارے پیچھے بھاگے گی۔ آج ہم دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، جو عمومی مسائل ہیں ان پر توجہ نہیں دے رہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں بھی یہی ہے، ہم نے حکومت کے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ سی پیک میں جی بی کے آئینی اور جغرافیائی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حصہ دیا جائے۔

اگر آئینی حیثیت میں رکھتے ہیں تو ہم تیسرا فریق کہلاتے ہیں، کیونکہ نہ ہم پاکستان کا حصہ ہیں، نہ ہی چین کا، ہم تیسرا فریق ہیں، لہٰذا جب پاک چین معاہدہ ہوتا ہے تو تیسرے فریق کو بھی ملا کر کیا جائے۔ جب ہم آئینی طور پر تیسرا فریق ہیں تو الگ زون بنے گا، جس طرح مشرقی اور مغربی زون ہے، یہ ہمارا واضح موقف ہے۔ لیکن اس وقت جو ہمیں لگ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ ہمیں آئینی طور پر نہیں لیا جا رہا، تاہم الگ زون کے طور پر لیا جا رہا ہے، ہمیں اس چیز کا بھی ادراک ہوا ہے کہ زون کے نام پر مختلف اداروں کو زمینیں الاٹ کی جا رہی ہیں، ہمیں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ہمارے علاقے کے ایک محترم شخص جو وفاق میں بڑے عہدے سے ابھی حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں، انہیں اس زون کا انچارج بنایا جا رہا ہے، کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر زون بنتا ہی ہے تو اس زون کی مراعات بھی ہمیں دیدیں، نہ کی زون کی مد میں زمینوں کی بندر بانٹ ہو۔

اسلام ٹائمز: اس منصوبے سے تو ڈیموگرافک تبدیلی کا بھی تو خطرہ ہے، آپ اسکو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
مولانا سلطان رئیس:
جی بالکل، یہ خطرہ تو ہے، اس میں دو بنیادی چیزیں ہیں۔ ہمارا مطالبہ جو ہم نے اداروں کو بھی بتایا ہے، وہ یہ ہے کہ جو بھی انویسٹر یہاں آتا ہے تو وہ کسی لوکل کے ذریعے سے ہی آئے، جس طرح دبئی یا سعودی عرب میں آپ جاتے ہیں تو آپ وہاں کے کسی کفیل کی سپروائز میں ہوتے ہیں، آمدن کا دس فیصد کفیل کو دینا ضروری ہوتا ہے، یہاں ہم نے کہا کہ جو بھی زمین لیں، وہ لیز پر لی جائے، کیونکہ جب سی پیک فنکشنل ہوگا تو بڑے بڑے سرمایہ دار آئیں گے، چونکہ مقامی لوگوں کے پاس اتنی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ خود سے سرمایہ کاری کریں، جب باہر سے لوگ زمینیں لینا شروع کریں گے تو مقامی پہاڑوں اور دیہاتوں تک محدود ہو جائیں گے۔ آپ کو معلوم ہے کہ میں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کا بھی چیئرمین ہوں، اس وقت کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی میں 48 رکنی کابینہ ہے، ہماری ان سے بات ہوئی اور اس معاملے پر غور ہوا۔

ہم نے کہا کہ دیکھیں آپ (کشمیری) کے پاس پیسہ ہے، زمین نہیں، ہمارے پاس پیسہ نہیں لیکن زمین ہے، آپ ہمارے یہاں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ اس کیلئے ہم نے چار مختلف سیکٹر کی نشاندہی کی، ہم نے کشمیر کے ایک بڑے سرمایہ کار سردار عابد سے بات کی، ان کی تاجکستان میں ایل پی جی کا بہت بڑا کاروبار ہے۔ ہم نے انہیں بتایا کہ آپ جی بی آئیں اور ایل پی جی سیکٹر میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے حامی بھری اور نگر تھول میں 20 کنال زمین لیز پر لی ہے، جہاں ایل پی جی پلانٹ لگ رہا ہے، ادھر سکردو پی ایس او پمپ کے ساتھ اٹھائیس کنال زمین لیز پر لی گئی ہے، غذر اور دیامر میں بھی پلانٹ لگ رہے ہیں، اس طرح جی بی میں چار پلانٹ لگائے جا رہے ہیں، اس سے فائدہ کیا ہوگا؟ فائدہ یہ ہوگا کہ ایک تو ایک پلانٹ کے اندر چالیس سے پچاس ملازمین درکار ہوتے ہیں، یعنی پچاس مقامی لوگوں کو روزگار مل گیا۔

پروڈکٹس کی قیمتیں نیچے آجائیں گی، سستی گیس میسر آئے گی، ان کی اپنی بریفنگ کے مطابق فی سلنڈر دو سو روپے تک کم ہوگی اور ہر محلے میں ڈسٹری بیوشن کیلئے الگ سٹاف درکار ہوگا۔ دوسری طرف حکومت نے جو ایئر مکس پلانٹ کا منصوبہ شروع کیا ہے، اس کے اندرونی حقائق یہ ہیں کہ جس طرح کی فزیبلٹی بنائی گئی ہے، وہ ناکام ہے، انجینئرز کے بقول پائپ لائن یہ سسٹم برداشت نہیں کرسکتی، کیونکہ یہ ہارڈ ایریا ہے، یہاں پائپ لائن کام نہیں کرسکتی، البتہ ایک سسٹم ہے، جس کے ذریعے پلانٹ کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ روزانہ پانچ سے زائد بڑے سلنڈر استعمال ہوتے ہیں تو وہاں سلنڈر کے ذریعے سپلائی چونکہ خطرے سے خالی نہیں ہوتی، اس لیے یہاں سلنڈر کی جگہ ایک ٹینک نصب کیا جاتا ہے، کمپنی اس ٹینک میں گیس بھرتی ہے، مہینہ بعد بل کے ذریعے پیمنٹ ہوتی ہے، اسی طرح محدود محلوں میں تیس گھرانوں کیلئے ایک ٹینک ہوگا، جس کے ذریعے گیس کی سپلائی ہوگی۔

اس کے علاوہ تین اور شعبے ہیں، جس پر عوامی ایکشن کمیٹی کام کر رہی ہے، سیاحت میں بھی چھ بڑے لوگ سرمایہ لگانے کیلئے تیار ہیں، ان کیلئے بھی پالیسی وہی ہوگی، یعنی وہ لوگ آئیں گے، لیز پہ جگہ لیں گے اور ملازمتیں لوکل کو ہی دینے کے پابند ہوں گے، اس کے علاوہ ڈرائی فروٹ کی پراسیسنگ یہاں ہوگی، اہم بات یہ ہے کہ باہر سے جو لوگ آتے ہیں، ان کے ساتھ مقامی لوگوں کی پارٹنرشپ ہوگی، جیسے ایئر مکس منصوبے میں سردار عابد کے ساتھ سکردو سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بھی پارٹنر ہے، میں نے خود اس کے گھر جا کر اسے قائل کیا کہ بھئی آپ بھی شامل ہو جائیں، آپ شامل نہیں ہونگے تو کل کچھ بھی ہوسکتا ہے، تحریک انصاف کی  آمنہ انصاری کو بھی بتایا۔ چلاس سے سید افضل پارٹنر ہے، اسی طرح مائننگ کے اندر بھی یہی شرائط رکھی ہیں۔ بات سی پیک کی ہو رہی تھی، ہم نے بتا دیا کہ اگر کوئی ملٹی نیشنل کمپنی یہاں آتی ہے تو اسے زمین لیز پر دیں، فری میں دینے یا فروخت کرنے کا سوچیں بھی مت، اگر کوئی انفرادی طور پر آتا ہے تو وہ بذریعہ کفیل آئے، آج بھی ہم کہتے ہیں کہ سی پیک میں ان چیزوں کو مدنظر نہ رکھا گیا تو گلگت بلتستان کی صورتحال انتہائی بھیانک ہوگی۔

اسلام ٹائمز: ہمارے مفادات کے تحفظ کا ایک حل سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی نہیں؟ ہمارے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایس ایس آر کی بحالی کیلئے تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔؟
مولانا سلطان رئیس:
دیکھیں بہت سارے ہمارے دوست کہتے ہیں کہ سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کرنے کیلئے تحریک چلائی جائے، بات یہ ہے کہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کو ختم کس نے کیا؟ ایس ایس آر کو ختم ہم نے کیا ہے، میں آج بھی کہتا ہوں کہ آغا راحت اور قاضی نثار کے دستخط پہ ایس ایس آر آج ہی بحال ہوسکتا ہے، میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کیلئے کوئی تحریک چلائی جائے، اس سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اسمبلی میں اچھے اور مخلص بندوں کو لائیں، اس رول کے حق میں اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی جائے تو آج ہی بحال ہوسکتا ہے۔ اس وقت یہ رول ہر ضلع کے ڈی سی کی جیب میں ہے، ڈی سی چاہے تو بحال ہے، اگر وہ نہ چاہے تو نہیں ہے۔ بنیادی چیز یہ ہے کہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کرنے سے پہلے ہمیں اپنی غیرت کو بحال کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے قومی تشخص کو بحال کرنا ہے، آج ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنا مقدمہ وفاق کے سامنے رکھ رہے ہیں۔

اگر وفاق اس پر کوئی قانون سازی کرکے ہمیں قانونی پیچیدگیوں میں الجھائے تو ہم پھر کبھی بھی کچھ نہیں کرسکیں گے۔ آج بھی ایک غیرت مند وزیراعلیٰ آجائے تو یہ رول بحال ہوسکتا ہے، اسمبلی میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کی قرارداد آتی ہے تو دو بندے بھی دستخط نہیں کرسکتے، آج ہم اپنی وقتی ضروریات کو اپنے مستقبل پر قربان نہ کریں تو ایس ایس آر بحال ہے، ہم زمین نہ بیچیں، بنیادی طور پر ہم نے اپنوں کو برداشت نہیں کیا، گلگتیوں نے بلتیوں کو برداشت نہیں کیا، شیعوں نے سنیوں کو برداشت نہیں کیا اور سنیوں نے شیعوں کو، ایک ضلع نے دوسرے کو برداشت نہیں کیا تو ہم پر غیر مقامی ہی مسلط ہوں گے، ہم آج بھی غیر مقامی لوگوں کو تو برداشت کر رہے ہیں، لیکن غیر ضلع والوں کو نہیں، آج امن قائم ہے لیکن لوگوں کے دل صاف نہیں، آج بھی چنگاری پھینکنے کی دیر ہے۔

 اسلام ٹائمز: لینڈ ریفارمز کمیشن کا کیا بنا، کیا کمیشن نے عوامی ایکشن کمیٹی سے کوئی مشاورت بھی کی ہے۔؟
مولانا سلطان رئیس:
شروع میں حکومت نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی ساتھ لے کر رپورٹ مرتب کر رہے ہیں، ہماری ان کے ساتھ ایک دو میٹنگز ہوئی تھیں، لیکن جب وہ فارمولے پہ آئے تو ہم پیچھے ہٹ گئے، یہ فارمولا 80-20 کا تھا، یعنی 80 فیصد زمینیں عوام کی جبکہ بیس فیصد حکومت کی ہوں گی، جب ہم نے حکومت کے عزائم دیکھے تو پتہ چلا کہ ان کے نزدیک بیس فیصد زمینیں وہ تھیں، جو آباد تھیں، باقی عوام کیلئے رکھنے والی اسی فیصد زمینیں وہ تھیں، جو کسی کھیتی باڑی کے قابل نہیں، یعنی بنجر زمینیں۔جب ہم نے اس فارمولے سے اختلاف کیا تو ہمیں ہٹا کر نمبرداروں کو حکومت نے ساتھ ملا لیا، ان کو مختلف پیشکش کی گئی، نمبرداروں کو پروٹوکول دیا گیا، ان کیلئے گاڑیاں فراہم کی گئیں۔

حکومت نے ان کے ساتھ کئی اجلاس کیے، جب ہم نے پریشر ڈالا تو یہ معاملہ یہیں دب گیا، اب مجھے لگتا ہے کہ حکومت نمبرداروں کے سہارے 80-20 فارمولے کو مسلط کرنا چاہتی ہے، اس صورت میں یہ بہت بڑا ظلم ہوگا، ہم نے اس حد تک حکومت کو پیشکش کی تھی کہ بعض مخصوص شعبوں جیسے تعلیم اور صحت کیلئے جہاں زمین چاہیئے، وہاں فراہم کرینگے اور عوام کو بھی زمینیں دینے کا پابند بنائیں گے، کیونکہ یہ عوامی ضروریات ہیں، اس کے علاوہ کسی اور ادارے کو زمین چاہیئے تو قیمت ادا کریں یا لیز پر لیں۔

اسلام ٹائمز: نون لیگ کی حکومت کی کارکردگی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
مولانا سلطان رئیس:
سیاسی طور پر ہم دیکھیں تو جی بی وہیں پہ کھڑا ہے، جہاں پانچ سال پہلے تھا، البتہ کچھ منصوبے اس دور میں دیکھنے کو ملے، پیپلزپارٹی کے دور حکومت کی نسبت کچھ ترقیاتی کام ہوئے، لیکن عوامی اعتبار سے یہ دور مایوس کن رہا، حکمران ترقیاتی منصوبے شروع کرتے ہیں تو اس میں اپنا مفاد زیادہ ہوتا ہے، عوامی سطح پر ان منصوبوں کا تھوڑا فائدہ ہوا ہے، زیادہ فائدہ حکومت کے منظور نظر ٹھیکیداروں کو ہوا ہے۔

اسلام ٹائمز: الیکشن قریب ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کا انتخابات میں کیا رول ہوگا؟ کیا آپ بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں؟ اگر لے رہے ہیں کونسے پلیٹ فارم سے۔؟
مولانا سلطان رئیس:
جب بھی الیکشن قریب آتے ہیں تو چار پانچ ماہ پہلے عوامی ایکشن کمیٹی کو تحلیل کر دیا جاتا ہے، تاکہ اس میں شامل لوگوں کو اپنے اپنے نظریات اور پارٹیوں کے منشور کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے کا آزادانہ ماحول فراہم ہو، عوامی ایکشن کمیٹی ایک غیر سیاسی پلیٹ فارم ہے، کمیٹی کا منشور الگ ہے۔ رہی بات میرے الیکشن میں حصہ لینے کی تو جی ہاں میں الیکشن میں آزادانہ حیثیت میں حصہ لوں گا، چونکہ جماعت اسلامی سے بھی میرا تعلق ہے، اس کے باؤجود میں آزاد حیثیت میں الیکشن لڑوں گا۔
خبر کا کوڈ : 803908
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب