0
Thursday 11 Jul 2019 10:10
جب افغانستان کا مسئلہ حل ہوگا تو امن آئیگا اور امن پاکستان کے مفاد میں ہے

امریکا ایران کیساتھ جنگ کرکے خطے میں نیا فتنہ کھڑا کرنا چاہتا ہے، میاں افتخار حسین

اسٹیبلشمنٹ نے ایک ایسے بندے پر جوا کھیلا ہے جو تمام سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگا دیا ہے
امریکا ایران کیساتھ جنگ کرکے خطے میں نیا فتنہ کھڑا کرنا چاہتا ہے، میاں افتخار حسین
عوامی نیشنل پارٹی کے سینئیر رہنما میاں افتخار حسین 5 اپریل 1958ء کو پبی ضلع نوشہرہ میں پیدا ہوئے۔ انکے والد میاں محمد رفیق نے فوج میں بطور وائرلیس آپریٹر فرائض انجام دیئے۔ میاں افتخار نے 1990ء کا الیکشن لڑا اور جیت گئے۔ صوبائی اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی سیکرٹری اور ضلعی ڈیڈک کمیٹی کے چیئرمین بنے۔ 1993ء کا الیکشن پی پی پی کے مقابلے میں صرف 149 ووٹوں سے ہارا۔ 1997ء کا الیکشن پھر جیتا۔ 2002ء کا الیکشن پھر پاکستان پیپلز پارٹی کے مقابلے میں ہارا، لیکن 2008ء کا الیکشن جیت لیا اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور کلچر مقرر کیے گئے۔ میاں افتخار 2013ء کے انتخابات میں پھر ناکام ٹھہرے۔ اسوقت وہ اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔ دہشتگردوں کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف رکھتے ہیں، یہی وجہ بنی کہ انکا ایک بیٹا بھی اس راہ میں شہید ہوگیا۔ اسلام ٹائمز نے میاں افتخار سے ملکی حالات اور خطے کی بدلتی صورتحال پر ایک انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: امریکا ایران تنازعے پر کیا کہتے ہیں، پاکستان کو کیا پوزیشن لینی چاہیئے۔؟
میاں افتخار حسین:
دیکھیں ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، ہمیشہ ہمارے ساتھ کھڑا رہا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ خطہ کسی نئے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا، پہلے ہی افغانستان اور عراق کی جنگ کی قیمت اٹھا رہے ہیں، ایسے میں امریکا نیا فتنہ کھڑا کرنا چاہتا ہے، جسے روکنے کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے، باقی میں ایران سے بھی کہوں گا کہ وہ فوری طور پر اپنے ہمسائیوں سے تعلقات کو مزید بڑھائے، تاکہ اللہ نہ کرے جنگ ہو تو سب اس کے ساتھ کھڑے ہوں یا اس جنگ کو ٹالنے میں کردار ادا کرسکیں۔ ہمارے جذبات ایران کے ساتھ ہیں۔

اسلام ٹائمز: امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا ساتوں دور چل رہا ہے، لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ تو برآمد نہیں ہوا، رکاوٹ کہاں نظر آرہی ہے۔؟
میاں افتخار حسین:
دیکھیں ہم تو کہتے ہیں کہ مذاکرات اچھی بات ہے، کوئی جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوا کرتی، اب یہ ثابت بھی ہوگیا ہے، امریکا مذاکرات کرے، پاکستان مذاکرات کرے، روس کرے یا چین کرائے اچھی بات ہے، لیکن ایک شرط ہونی چاہیئے کہ فریقین اس مذاکرات میں شریک ہوں، اب مذاکرات میں افغان طالبان تو ہوں لیکن افغان حکومت کو شامل ہی نہ کیا جائے تو یہ کیسے مذاکرات ہیں۔؟ اب سوال یہ ہے کہ طالبان کی بات کون سنے گا؟، کسی کو تو ساتھ بٹھانا ہوگا، اب آپ دیکھیں پہلے افغان طالبان کا وفد پاکستان آیا، وہ گیا تو اشرف غنی صاحب آگئے، ان سے ملاقات ہوئی، دونوں کو اکٹھے کیوں نہیں بٹھا سکتے۔؟ مل بیٹھ کر بات کریں گے تو مسئلے کا حل نکلے گا، ورنہ کبھی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

اسلام ٹائمز: سوال یہ ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کو آپس میں بیٹھائے کون۔؟
میاں افتخار حسین:
میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں کہ لوگ اپنے مفادات کیلئے ان کو قریب آنے نہیں دے رہے، اپنے مفادات کو ہٹا کر افغانستان کے مفادات کو دیکھیں اور اس مسئلے کو حل کریں، میں کہتا ہوں کہ پاکستان کے مفادات کو بھی دیکھیں، جب افغانستان کا مسئلہ حل ہوگا تو امن آئے گا اور امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔

اسلام ٹائمز: محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے گئے، جبکہ دیگر کے کر دیئے جاتے ہیں، اس سے وزیرستان میں احساس محرومی اور بغاوت کا عنصر نہیں بڑھے گا۔؟
میاں افتخار حسین:
  جن معزز ارکان کی بات آپ کر رہے ہیں، مجھے یہ معاملہ کسی اور طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا حق ہے کہ ان کیلئے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں، یہ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیئے، ایک بندہ پارلیمنٹ کا ممبر ہے اور اسکا یہ حق بنتا ہے کہ اسمبلی میں قانون سازی کے عمل میں اپنے علاقے کی نمائندگی کرے، میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ ان دو معزز ارکان کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا، جو غلط ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کے پی کے سمیت ملک بھر میں دہشتگردی پر مجموعی پر قابو پا لیا گیا ہے۔؟
میاں افتخار حسین:
ہم سے پوچھیں گے تو یہی کہوں گا کہ دہشتگردی کم نہیں ہوئی، ان تین دنوں کو ہی دیکھ لیں کہ ہم پر ان تین دن دنوں میں تین حملے ہوئے، ایک باجوڑ میں ہوا، جس میں ہمارا ساتھی شہید ہوا، ایک پشاور میں ہوا، جس میں ضلعی صدر شہید ہوئے، پھر اس کے بعد سوات میں ہمارے تین ساتھیوں کو گولیاں مار دی گئیں، ہم پر مسلسل اس لیے حملے جاری ہیں کہ ہم نے دہشتگردوں کو للکارتے ہیں، آپ کیلئے اس ملک میں امن ہوگا لیکن ہمارے لیے نہیں۔

اسلام ٹائمز: حکومت کی ان 10 ماہ کی کارکردگی پر کیا کہتے ہیں۔؟
میاں افتخار حسین:
حکومت اپنی ساکھ ان دس ماہ میں کھو چکی ہے، جتنی جلدی اس حکومت نے اپنی ساکھ کھوئی ہے، اتنا کسی اور حکومت کو نہیں دیکھا، اسٹیبلشمنٹ نے ایک ایسے بندے پر جوا کھیلا ہے جو تمام سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگا دیا ہے، ایک بندے کو انہوں نے لاڈلا بنایا ہے تو یہ بہت بڑی قیمت ہے، آج بھی اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ لاڈلے کے لاڈلے پن کو ختم کیا جائے اور حقیقی معنوں میں انتخابات ہوں اور جو جیتے اقتدار اسکے سپرد کیا جائے، تاکہ یہ مسئلے حل ہوں، نہیں تو ان مسائل کو بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا، کیونکہ انہیں کار حکومت کا پتہ نہی نہیں۔

اسلام ٹائمز: نیب کی گرفتاریوں پر کیا کہتے ہیں، رانا ثناء اللہ پر منشیات ڈال دی گئی۔؟
میاں افتخار حسین:
دیکھیں نیب اپنے طریقے سے لوگوں کو گرفتار کر رہا ہے، اب سیاستدانوں پر منشیات کے کیس بھی ڈالے جا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام (منشیات فروشی) سیاستدان نہیں کرسکتے، اس پر پورا پاکستان دیکھ رہا ہے، عوام دیکھ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ کیا چل رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: جسطرح کے پی کے میں حالات خراب ہیں، اسی طرح بلوچستان میں بھی صورتحال مختلف نہیں، کیا ناراض بلوچوں کو منانے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیئے، آج تک کوئی سنجیدہ کوشش نظر تو نہیں آئی۔؟
میاں افتخار حسین:
میں یہی تو کہہ رہا ہوں کہ کوئی بھی ناراض ہو، ان سے مذاکرات کریں، انہیں منائیں، پاکستان کی خاطر اگر کوئی مذاکرات میں نہیں بیٹھتا یا اس کی وفاداری کسی اور ملک کے ساتھ ہے تو اسے قوم کے سامنے بےنقاب کریں، مگر مذاکرات کا سلسلہ شروع تو کریں۔ یہ مارنے اور مرنے سے بات نہیں بنے گی، بات کرنا ہوگی، طرفین اس پر سنجیدگی سے سوچیں۔ اگر کوئی پاکستان کے مفاد کے خلاف بات کرتا ہے تو آپ لوگوں کو بتائیں۔ میں کہتا ہوں کہ بلوچوں کو ان کے حقوق ملنے چاہیئے، کیا وہ اس ملک کے شہری نہیں ہیں، اگر ہیں تو پھر ان کو حقوق کیوں نہ ملیں۔؟

اسلام ٹائمز: بی ایل اے کو امریکا نے دہشتگردوں کی لسٹ میں ڈال دیا ہے، اسے آپ کیسے دیکھ رہے ہیں۔؟
میاں افتخار حسین:
وہ تو میں نے پڑھا اور خوشی کا اظہار کیا، البتہ میں اسے امریکا کی مداخلت گردانتا ہوں، بی ایل اے کو دہشتگردوں کو لسٹ میں امریکا ہی کیوں ڈالے؟، ہم کیوں کوئی اقدام نہیں اٹھاتے، یہ معاملہ ہمیں اقوام متحدہ میں اٹھانا چاہیئے تھا۔
خبر کا کوڈ : 804403
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب