0
Friday 12 Jul 2019 19:10
اپوزیشن پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ مہم کا حصہ بن چکی ہے

کرپٹ مافیا نے پاکستان کو ترقی پذیر ملک سے زوال پذیر مملکت بنا دیا ہے، ڈاکٹر نادیہ عزیز

سیاسی طور پر اگر ملک ٹھیک ہوسکتا ہے تو اسکی آخری امید عمران خان ہے
کرپٹ مافیا نے پاکستان کو ترقی پذیر ملک سے زوال پذیر مملکت بنا دیا ہے، ڈاکٹر نادیہ عزیز
پاکستان تحریک انصاف کی رہنماء 1973ء میں پیدا ہوئیں، ابتدائی تعلیم سرگودہا سے حاصل کی اور علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا، 2002ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سرگودہا سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئیں، 2008ء میں الیکشن میں حصہ لیا لیکن منتخب نہ ہوسکیں، 2013ء میں مسلم لیگ نون کے ٹکٹ سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئیں، مئی 2018ء میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ حکمران جماعت کی فعال خاتون رہنماء کیساتھ سینیٹ میں چیئرمین کی تبدیلی کیلئے اپوزیشن کی کوشش، رانا ثناء اللہ کی گرفتاری، آزادی صحافت اور سابق حکمرانوں کے غیر ملکی دوروں کی تحقیقات سمیت اہم ایشوز پر اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: پروڈکشن آرڈرز کا خاتمہ اسمبلی میں منتخب نمائندگان کے ایوان میں داخلے پر پابندی کے مترادف ہے، کیا یہ عوام کے ووٹ کی توہین نہیں۔؟
ڈاکٹر نادیہ عزیز:
دنیا میں یہ کہیں بھی نہیں ہوتا کہ جو سیاستدان ملزم ہو، اس کی تفتیش ہو رہی ہو اور وہ ایوان میں آکر تقریریں کر رہا ہو، اب اپوزیشن جماعتوں نے یہ اپنا وطیرہ بنا لیا تھا کہ پروڈکشن آرڈر کے نام پر اسمبلی کے اجلاس میں آتے تھے، لیکن سارا دن اپنے چیمبر میں گزارتے تھے، پھر خواجہ سعد رفیق اور آصف زرداری کو چھ چھ کمیٹیوں کا ممبر بنا دیا گیا تھا، یہ لوگ پھر اجلاس کے بغیر بھی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شریک ہوتے، یہ اجلاس دو گھنٹے کا ہوتا، لیکن نیب زدہ اراکین اسمبلی پورا دن، بلکہ رات گئے تک اسمبلی دفاتر میں رہتے، جہاں ذاتی کام اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھتے، اس لیے حکومت نے یہ سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا، یہ آئین میں کہیں نہیں لکھا ہوا، بلکہ یہ اسمبلی کے بزنس پروسیجر کا حصہ ہے، ہم نے کرپشن میں ملوث لوگوں کو یہ سہولتیں نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا ہے، یہ کوئی آمرانہ کام نہیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ جو لوگ اس سہولت کو ناجائز استعمال کر رہے تھے، انہیں اس سے پریشانی ہوگی، لیکن ہم اصولوں پہ ڈٹے ہوئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: عمران خان کا تو غربت اور کرپشن کے خاتمے کا ایجنڈا تھا، لیکن یہاں تو صرف پکڑ دھکڑ چل رہی ہے، یہ لوگوں کی توجہ ہٹانے کے بہانے کب تک چلیں گے۔؟
ڈاکٹر نادیہ عزیز:
یہ عجیب بات ہے، جو بھی اپنے کرپشن زدہ ماضی کی وجہ سے شکنجے میں آتا ہے، وہ شور مچانا شروع کر دیتا ہے، عمران خان کو جب حکومت ملی تو اس کی معیشت اور سیاست دونوں تباہ حال تھیں، اب ہم نے اس ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے، پاکستان میں لوگ بھیک مانگنے پر مجبور تھے، کتنی ایسی مائیں تھیں، جو اپنے بچے فروخت کرنے کیلئے سڑکوں پر آگئی تھیں، ادارے برباد ہوچکے تھے، خزانہ خالی کر گئے تھے، کھربوں کے قرضے چڑھا دیئے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود ان لوگوں میں اتنی ہمت ہے کہ کہتے ہیں کہ ہم عمران خان سے حساب لیں گے، اگر ان کا ضمیر زندہ ہوتا تو یہ اپنے آپ سے پوچھتے، شرم سے ڈوب مرتے۔ یہ لوگ عمران خان کیخلاف کسیے بات کرسکتے ہیں کہ وہ حساب نہیں لے سکتا، جس نے اپنی ماں کے نام پر اپنے ملک کو شوکت خانم ہسپتال کا تحفہ دیا، ان کی طرح لوٹا نہیں، ہمیں علم ہے کہ پاکستان کو بہت سارے چینلجز درپیش ہیں، جن کے خاتمے کیلئے عمران خان دن رات کام کر رہا ہے۔ عمران خان پہلا وزیراعظم ہے، جو چیلنج سے نہیں گھبراتا۔ اس لیے اسے کسی بہانے کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں کہ وہ اپنی غلطیاں چھپانے کیلئے ادھر ادھر کی باتیں کرے۔

اسلام ٹائمز: کیا پی ٹی آئی کے نزدیک حکمرانوں کے غیر ملکی دوروں کے بغیر امور مملکت چلائے جا سکتے ہیں۔؟
ڈاکٹر نادیہ عزیز:
ایسا ہوتا تو خود عمران خان کیوں دورے کرتے، جہاں تک کرپشن اور دوروں کی تحقیقات کی بات ہے، یہ تو پاکستان کا المیہ ہے کہ نواز شریف اور زرداری جیسے حکمرانوں نے ذاتی مفاد اور کاروبار کیلئے اقتدار کو سیڑھی کے طور پر استعمال کیا اور دوسرے ملکوں میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کیا، ان کا آنا جانا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا، تحقیقات صرف اس چیز کی ہو رہی ہیں، عوام کی توجہ ہٹانے نہیں، توجہ دلانے کیلئے ہیں کہ کس طرح ملک کو لوٹا گیا، ملک اور عوام غریب ہوگئے اور سیاستدان امیر ہوگئے۔ ملک کی خاطر کسی بھی ملک جانے پر کوئی اعتراض نہیں، سوال یہ ہے کہ دوسرے ملک میں گئے ہیں قرض لینے کیلئے، لیکن وہاں مہنگے ہوٹلوں میں کیوں ٹھہرتے رہے، بے تحاشہ خزانہ استعمال کرتے رہے، پھر اسی طرح ذاتی دوروں پر گئے تو ملک کا خزانہ کیوں استعمال کیا گیا۔ یہ وہ سوالات ہیں جنکے جوابات ڈھونڈے جا رہے ہیں اور یہ جواب سامنے لانا ہماری ذمہ داری ہے۔

یہ ملک اور قوم کی خاطر ہے، اپنے اقتدار کو طول دینے یا بچانے کیلئے نہیں ہے۔ زرداری صاحب نے صرف یو اے ای کے 51 دورے کیے ہیں، جن میں 48 پرائیویٹ تھے۔ بطور صدر کیا ضرورت تھی اتنے زیادہ دورے کرنیکی، پھر یہ 48 دورے ملکی خزانے سے کیوں کیے گئے۔ اسی طرح میاں نواز شریف لندن 24 دفعہ گئے، جن میں سے 20 پرائیویٹ دورے تھے، کیا کرنے گئے، سات کروڑ میں میاں صاحب نے عمرے کیے، کیا یہ چھوٹی چیزیں ہیں، اس کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے، یہ صرف وہی چھوڑ سکتا ہے، جس نے ایسی کرپشن کی ہو، ملکی خزانے کو اڑایا ہو۔ سیاسی طور پر اگر ملک ٹھیک ہوسکتا ہے تو اس کی آخری امید عمران خان ہے، ورنہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ سیاستدانوں نے جمہوری عمل کے ہوتے ہوئے پاکستان کی خدمت نہیں کی۔

اسلام ٹائمز: عمران خان ایک طرف مغربی جمہوریت کی مثالیں دیتے ہیں، دوسری طرف اراکین اسمبلی کی میڈیا سے ریکارڈ شدہ گفتگو رکوا دیتے ہیں، اس ترقی یافتہ دنیا میں میڈیا کو آزاد نہیں ہونا چاہیئے، کیا باقی دعووں کی حقیقت بھی ایسی ہی ہے۔؟
ڈاکٹر نادیہ عزیز:
اگر آج ہم اپنا موازنہ دنیا کیساتھ کر رہے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا جو ہم سے آگے جا چکی ہے، ہم بھی ترقی کی راہ پہ چلنا چاہتے ہیں، اس کی وجہ ہمارا زوال اور پسماندگی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ مغرب میں سارے انسانی اصول روبہ عمل ہیں، آزادی اظہار کی جہاں تک بات ہے تو دیکھیں ہمارے میڈیا پہ آپ جو چاہیں بات کرسکتے ہیں، امریکہ کے حوالے سے بات کی جاتی ہے، لیکن وہاں پر تو دوسری مثالیں زیادہ ہیں، وکی لیکس کے پیچھے جو کردار تھا، وہ قید میں ہے، نوم چومسکی جیسے لوگ کسی میڈیا گروپ کے ذریعے ٹی وی پہ نہیں آسکتے، ہمارے ہاں ایسا نہیں، جس طرح حکومت پر تنقید یہاں کی جاتی ہے، اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنایا جاتا ہے، یہ دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہے، کوئی صحافی امریکی اسٹیبلشمنٹ، یا روس کے صدر کیخلاف بات نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اپنے مفادات کی خاطر عدلیہ، مسلح افواج کیخلاف زہر اگلنے والوں کو روکنے کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ آزادی چاہیئے کہ جن لوگوں نے مال کھایا ہے، انہیں چھوڑ دیا جائے، جو لوگ یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں، ان کی صحافت کی آزادی سے یہ مراد ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہر چیز کی تعریف اپنے مفادات کے مطابق طے کر لی جاتی ہے، آج تک پاکستان میں کوئی ایسی حکومت نہیں آئی، جس نے ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر ملک کیلئے کام کیا ہو، یہی وجہ کہ ستر سال کے بعد بھی پاکستان وہیں کھڑا ہے۔ ان لوگوں نے پاکستان اس حد تک کمزور کر دیا تھا کہ ایک ایٹمی طاقت دہشت گردوں کے نرغے میں آگئی، دوسری طرف بھارت نے آنکھیں دکھانا شروع کر دیں، اس وقت بھی ہر طرف سے یہی کہا جا رہا تھا کہ آزادی اظہار ہونی چاہیئے، اب یہ ممکن نہیں کہ جو بھی چیز چند لوگوں کے مفاد کے مطابق ہو، ویسے پاکستان کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے، اب صرف وہی سامنے آئے گا، جو پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔ اب تو حالت یہ ہے کہ پورے ملک کو لوٹ کر کھا جانیوالوں سے سوال پوچھ لیا جائے تو جمہوریت کو خطرہ ہو جاتا ہے، جیسے ابھی یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آزادی اظہار کا کوئی مسئلہ ہے پاکستان میں۔

ان لوگوں نے اپنی ایک غیر حقیقی اور مصنوعی دنیا بسائی ہوئی ہے، عمران خان نے یہ دنیا ختم کر دی ہے، اس کا دکھ تو انہیں ہوگا، اس کا یہ اظہار بھی کرینگے، لیکن اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے پاکستان کو اتنا کھوکھلا کر دیا ہے اور اتنا کھا پی گئے ہیں کہ پاکستان اب ترقی پذیر نہیں بلکہ ایک زوال پذیر ملک بن چکا ہے، ہم اسے دوبارہ بچائیں گے اور واپس اپنی منزل کی طرف گامزن کرینگے۔ انکا پروگرام یہ ہے کہ ہماری لوٹ مار سامنے نہ آئے، بلکہ اسے ہمارا کارنامہ بنا کر پیش کیا جائے، ہر وقت ہمارا ایجنڈا زیربحث رہے، کوئی قطری خط کا نام نہ لے، سوشل میڈیا پر بھی پیسے دیکر بندے بٹھائے گئے، جہاں سے ملکی اداروں کیخلاف زہر افشانی کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی اداروں اور ملک کیخلاف باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے، اس کو ہر صورت میں روکیں گے، کسی کی پروا نہیں کرینگے۔

اسلام ٹائمز: اگر ایسا کچھ نہیں تو پھر میڈیا گروپ یہ مہم کیوں چلا رہے ہیں کہ پاکستان میں سنسرشپ ختم کی جائے۔؟
ڈاکٹر نادیہ عزیز:
یہ ایک سوچنے والی بات ہے، کوئی ان پوچھنے والا نہیں کہ انہوں نے لاکھوں سے کھربوں کا سفر کیسے طے کر لیا ہے، اگر صحافت پابند ہے تو چینلز کیسے چل رہے ہیں، اخبار کیسے چھپ رہے ہیں، بدقسمتی سے ان لوگوں کا اور لوٹ مار کرنیوالوں کا ایک ہی ایجنڈا ہے، اسی لیے کچھ چینلز کا عمران خان نے بائیکاٹ کیا تھا، آج وہی ایک دفعہ پھر مختلف بہانوں سے پاکستان کا امیج خراب کرنیکی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کرپٹ حکمرانوں کے گیت گاتے ہیں، آج شفاف ترین حکومت کے سامنے سینہ سپر ہو رہے ہیں، کوئی ان سے پوچھے کہ ایک ورکر کا بچہ صرف اس لیے موت کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے، اپنے اداروں میں کام کرنیوالوں کیلئے ان کے پاس رقوم نہیں ہیں، لیکن مالک ان کے کھرب پتی ہیں کیسے، اصل سوال تو یہ ہے۔؟

پچھلے دس سال کا ریکارڈ لیکر دیکھیں، صرف چند اداروں کو اربوں کے فنڈز دیئے گئے ہیں، آج وہی ادارے آزادی صحافت کا بھاشن دے رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی سے لیکر ریٹنگ تک ہر چیز میں فراڈ کرنیوالے کیوں چیخ رہے ہیں، اس کی بھی وہی وجہ ہے، جس وجہ سے کرپٹ سیاستدان شور مچا رہے ہیں۔ ان کا ایجنڈا کسی دشمن کے عزائم اور مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ہے، مریم نواز نے بھارتی پارٹنر جندال کو خط لکھا ہے کہ میرا سی این این سے انٹرویو کروا دیں۔ یہ کوئی محب وطن پاکستانی کرسکتا ہے۔ یہ ہر ایک معلوم ہونا چاہیئے کہ پاکستان کے مفاد سے زیادہ کچھ بھی عزیز نہیں۔ ان میڈیا گروپس کو اربوں کی بی ایم ڈبلیو دیکر خریدا گیا، اربوں کے اشتہار دیئے گئے۔

اسلام ٹائمز: رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد مریم نواز ایک ویڈیو سامنے لائی ہیں، جسکے ذریعے کیسز اور فیصلوں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، اسکا کیا نتیجہ نکلے گا۔؟
ڈاکٹر نادیہ عزیز:
یہ تو اب سامنے آچکا ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے اور رانا ثناء اللہ کے کیس میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے، فیصل آباد سے کئی لوگ بھاگ گئے ہیں، یہ ایک پورا نیٹ ورک ہے، جس کا انکشاف ہوا ہے، پانامہ کیس میں جس طرح یہ جعلی ثبوت دیتے رہے، ایسے ہی یہ ویڈیو میں بھی جعل سازی کی گئی، اس جج کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن اس سے کیس پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا، نہ ہی ان کی کوئی تدبیر کامیاب ہونے والی ہے۔ مریم نواز ایک سزا یافتہ خاتون ہیں، وہ اپنی ساکھ کھو بیٹھی ہیں، پہلے ان کی وجہ سے والد جیل میں ہیں، اب وہ باقی ماندہ خاندان کا بندوبست کر رہی ہیں، مجھے لگتا ہے کہ اپنے چچا کو بھی جیل بھجوانے میں کامیاب ہو جائیں گئیں۔

اس پر متعلقہ ادارے میں انکوائری بھی ہو رہی ہے، سب کو معلوم ہو جائیگا کہ حقیقت کیا ہے۔ یہ جس بندے نے جج کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہے، وہ قتل کے مقدمات میں ملوث ہے، مریم نواز کو تو پہلے اس کا جواب دینا چاہیئے کہ وہ بتائیں کہ ان لوگوں کے ساتھ آپ کا کیا تعلق ہے۔ جب یہ شخص قتل میں مطلوب تھا تو یہ مریم نواز کیساتھ پرائم منسٹر ہاوس میں جا کر رہتا رہا ہے، پولیس کو باقاعدہ طور پر منع کیا گیا کہ اس شخص کی طرف دیکھنا نہیں، نواز شریف نے وزیراعظم ہاوس کو اشتہاریوں کی پناہ گاہ بنایا ہوا تھا۔ یہ ناصر جیسے جرم پیشہ لوگ ان کی طاقت ہیں، یہ ان کی مدد سے سیاست کرتے ہیں، لندن میں ان کی خدمت کرتے ہیں، آج وہ پورے ادارے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، اصل باز پرس تو ان سے ہونی چاہیئے، مجھے امید ہے کہ عدلیہ اس معاملے کو میرٹ پہ حل کریگی، یہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

اسلام ٹائمز: لیگی ایم پیز کو بنی گالا لیجانے کے بعد اب سینیٹ میں سینیٹرز کو خریدنے کی باتیں بھی سامنے آرہی ہیں، کیا پی ٹی آئی حکومت سارے وہی کام کر رہی ہے، جنکو روکنے کیلئے حکومت میں آئی تھی۔؟
ڈاکٹر نادیہ عزیز:
یہ کام اپوزیشن نے شروع کیا ہے، ہم اسے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں بلاوجہ چیئرمین سنینٹ کو ہٹانے کی کیا ضرورت پڑی ہے، جمہوری دور ہے، وہ بھی زور آزمائی کریں، حکومت بھی کریگی، زرداری صاحب نے کہا تھا کہ وہ بلوچستان کی محرومی دور کرنیکے لیے سنجرانی صاحب کو لائے تھے، پھر انہوں نے کیا کیا، اب دوبارہ ایسا کیا ہوا ہے کہ وہ بلوچستان کو محرومی کا احساس دلا رہے ہیں، سنجرانی صاحب کو بلاول بھٹو نے مٹھائی کھلائی تھی، بلوچستان کا نام لیکر دعوے کرتے رہے، لیکن اس کے لیے کسی نے کچھ بھی نہیں کیا۔ اسی طرح نون لیگ اور پی پی کی قیادت نے ایک دوسرے کے متعلق کیا کچھ نہیں کہا، اب کیوں ایک دوسرے کو گلے لگا رہے ہیں، کیا یہ ملک کی خاطر کر رہے ہیں، بالکل ایسا نہیں ہے، اپنی جان چھڑوانے کیلئے یہ سارا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ یہ صرف ذاتی مفاد کی خاطر ہر طرح کی قانون سازی کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 804660
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے