0
Thursday 18 Jul 2019 00:20
عوام سے کئے تمام وعدے پورے ہونگے کسی کو مایوس نہیں کرینگے

عسکری قیادت کیطرف سے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت حوصلہ افزاء امر ہے، سلطان محمد خان

اے این پی اور کیو ڈبلیو پی دونوں میں موروثی سیاست پورے عروج پر ہے، دونوں جماعتوں میں باپ بیٹے کی سیاست چل رہی ہے
عسکری قیادت کیطرف سے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت حوصلہ افزاء امر ہے، سلطان محمد خان
خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق سلطان محمد خان کا تعلق صوبے کے مردم خیز اور سیاسی طور پر بالغ ترین ضلع چارسدہ کے دیرینہ سیاسی خوانوادے سے ہے۔ سلطان محمد خان نے اپنی تعلیم فضل حق کالج مردان سے مکمل کی، اس کے بعد پشاور یونیورسٹی سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کرنے کے بعد لندن کے کنگز کالج سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کر کے وطن واپس لوٹے۔ 2008ء میں مقامی جرگہ کے فیصلے کے مطابق انہوں نے الیکشن میں حصہ لیا مگر ہار گئے، پھر قومی وطن پارٹی کا حصہ بن گئے اور 2013ء کے انتخابات میں اسی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ چند سال بعد بعض امور پر پارٹی قیادت کے ساتھ اختلافات کے بعد 2017ء میں انہوں نے کیو ڈبلیو پی سے راہیں جُدا کرلیں اور پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ چناچہ 2018ء کے الیکشن میں پارٹی نے ان کو صوبائی اسمبلی کا امیدوار نامزد کیا۔ ان کا مقابلہ اے این ہی کے موجودہ صدر ایمل ولی خان کے ساتھ تھا جس میں سلطان محمد خان نے کامیابی حاصل کی۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد ان کو صوبائی کابینہ میں شامل کرتے ہوئے قانون، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق کا قلمدان سونپا گیا۔ سلطان خان پہلے روز سے ہی بھر پور انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے چلے آ رہے ہیں۔ خاص طور پر صوبائی اسمبلی کے فلور پر بعض اوقات تن تنہا حکومتی اقدامات کے دفاع انتہائی مدلل اور کامیاب انداز میں کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے صوبائی وزیر سے خصوصی گفتگو کی جو قارئین کی نذر ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: سب سے پہلے اپنے سیاسی پس منظر اور سیاسی سفر کے حوالے سے بتایئے کیسے اور کہاں سے آغاز کیا؟
سلطان محمد خان:
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میرا تعلق پشاور ویلی کے انتہائی اہم اور مردم خیر ضلع چارسدہ سے ہے، اس ضلع کی تاریخی اہمیت پرانے زمانے سے مسلمہ چلی آ رہی ہے۔ بدھ مت سے لے کر سکندر یونانی کے حملے تک، بعد ازاں سکھوں اور انگریزوں کے خلاف مزاحمت میں اس ضلع نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ہمارا خاندانی پس منظر زمینداری کا ہے، خدمت خلق اور سیاست ہماری رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔ خدمت اور سیاست کے امتزاج پر مبنی خاندانی پس منظر میں آنکھ کھولی، بڑے بڑے لیڈروں کو اپنے ہاں آتے جاتے دیکھا، یوں خدمت خلق کیساتھ ساتھ سیاسی تربیت بھی ہوتی چلی گئی۔ زندگی کا پہلا الیکشن 2008ء میں آزاد حیثیت سے لڑا اور قابل ذکر تعداد میں ووٹ حاصل کئے۔ 2013ء میں قومی وطن پارٹی کے ٹکٹ پر ایکشن لڑ کر کامیابی حاصل کی اور پھر 5 سال علاقہ کی خدمت میں گزار دیئے۔ میں ایک سوچ اور قوم کی خدمت کے جذبے کے تحت کیو ڈبلیو پی میں شامل ہوا تھا، مگر جلد ہی مایوسی ہوتی گئی، رفتہ رفتہ اس جماعت میں مجھے گھٹن محسوس ہونے لگی۔ آپ دیکھیں تو اے این پی اور کیو ڈبلیو پی دونوں میں موروثی سیاست پورے عروج پر ہے، دونوں جماعتوں میں باپ بیٹے کی سیاست چل رہی ہے۔ اسی لئے میں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور پھر مشاورت کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگیا، کیونکہ صرف اسی جماعت میں آپ کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ 2018ء کے انتخابات کا مرحلہ آیا تو میرا مقابل انتہائی اہم حلقہ سے تھا، یہ وہ حلقہ ہے جہاں سے ماضی میں عبدالولی خان، بیگم نسیم ولی خان اور اسفندیار ولی منتخب ہوتے رہے ہیں۔ اس بار میرا مقابلہ اے این پی کے چشم و چراغ ایمل ولی خان کے ساتھ تھا، مگر اللہ نے ہمیں سرخرو کیا اور بھر پور عوامی تائید سے کامیابی حاصل کی۔ اس کی وجہ تی تھی کہ گذشتہ 5 سال کے دوران میں نے حلقے کے عوام کے ساتھ قریبی رابطے برقرار رکھے، میں پارٹی قیادت خاص طور پر وزیراعظم عمران خان، وزیراعلٰی محمود خان اور سابق وزیراعلٰی پرویز خٹک کا خصوصی طور پر شکر گزار ہوں جنہوں نے پھر مجھے صوبائی کابینہ میں نمائندگی کا موقع دیا۔ انشاءاللہ اس حیثیت سے پارٹی پالیسیاں لے کر آگے بڑھوں گا۔

اسلام ٹائمز: خیبر پختونخوا کی عوام کو پی ٹی آئی سے بہت امیدیں تھیں، لیکن اب انکو لگتا ہے کہ انکی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے، اس صورتحال سے کیسے نمٹیں گے؟
سلطان محمد خان:
اس پر بات کرنے سے قبل میں پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کی کارکردگی ضرور سامنے لانا چاہوں گا، کیونکہ اُسوقت ہمیں بعض مسائل کا سامنا بھی تھا، کیونکہ اتحادی حکومت تھی اور اتحادی جماعتوں کا خیال رکھنا پڑتا تھا، اس لئے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد بہت مشکل تھا۔ بعض اوقات اسمبلی میں نمبرز گیم بھی شروع ہو جاتی جس سے حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، مگر اس کے باوجود اس حکومت نے بہت سے نمایاں اقدامات کئے۔ پولیس کو غیر سیاسی کیا گیا، صحت انصاف کارڈ متعارف کرایا، ہسپتالوں کی بہتری پر توجہ دی گئی، اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے ساتھ اساتذہ کی حاضری کو ریگول کر لیا گیا۔ سکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔ سابقہ حکومتیں صرف سڑکوں، پلوں اور تالیوں کی تعمیر تک ہی محدود تھیں اور اداروں کو نظرانداز کرتی چلی گئیں، مگر ہم نے پہلی بار اداروں پر توجہ مرکوز کی اور اصلاحاتی ایجنڈ سے پر کام کا آغاز کیا۔ ہم نے مثالی بلدیاتی نظام دیا جو آج نہ صرف پنجاب میں نافذ ہو چکا ہے بلکہ کراچی کا میئر بھی وہی نظام مانگ رہا ہے، کیونکہ اس سسٹم کی وجہ سے عام لوگ سسٹم میں شامل ہوتے چلے گئے۔ میرٹ کی بالا دستی سے سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا، 55 ہزار اساتذہ میرٹ پر بھرتی کئے گئے، ہم نے اس معاملے میں سیاسی وابستگیوں کو بھی آڑے آنے نہیں دیا، اب ہماری موجودہ حکومت یہی ادارہ جاتی اصلاحاتی ایجنڈا لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔ سابق دور میں 177 نئے قوانین بنے تھے، اب ان قوانین کو زیرِ عمل لانے کا مرحلہ طے کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کیلئے رولز بنائے جا رہے ہیں، سسٹم کی بہتری ہی ہمارا مطمح نظر ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے سارے شہریوں کو انصاف کارڈ دے کر دنیا بھر میں منفرد خطہ بن کر سامنے آئے گا، کیونکہ یورپ اور امریکہ میں بھی یونیورسل ہیلتھ کیئر سسٹم نہیں ہے۔ وزیراعلٰی محمود خان کی خصوصی ہدایات پر صوبے کی تمام آبادی کو انصاف ہیلتھ کارڈز جاری کئے جا رہے ہیں، جس کے بعد یونیورسل ہیلتھ کیئر کے معاملے میں ہم پوری دنیا کیلئے ایک مثال بن کر سامنے آئیں گے، تمام وعدے پورے ہوں گے کسی کو مایوس نہیں کریں گے۔

اسلام ٹائمز: مگر مرکزی حکومت کی پالیسیوں سے تو عوامی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں؟
سلطان محمد خان:
جہاں تک مرکز کا تعلق ہے تو وہاں حکومت کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے، سابق حکومتوں کی ناقص ترجیحات کی بدولت صورتحال گھمبیر ہوتی چلی گئی، قرضوں کا بوجھ بڑھایا جاتا رہا، یہی رقم ہڑپ کی جاتی رہی۔ ہم بھی مصنوعی طریقوں سے مہنگائی اور ڈالر کا ریٹ کنٹرول رکھ سکتے تھے، مگر ہم نے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا، خرچ کم کرنے کیساتھ ساتھ آمدن میں اضافہ کی حکمت عملی اختیار کی گئی، جس سے حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اسوقت سب سے اچھی بات یہ ہے کہ تمام ادارے ایک ہی صف میں ہیں، عسکری قیادت کی طرف سے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت حوصلہ افزاء امر ہے، یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ اِسوقت ضرورت بھی اسی اتفاق رائے کی تھی، اس اصلاحاتی ایجنڈے کے نمایاں اثرات جلد سامنے آئیں گے۔ ہمارا مقصد ہے کہ ملک کو اوپر اُٹھائیں، تکلیف اور مشکلات کا دور جلد گزر جائے گا، کیونکہ آج قوم کے پاس لیڈرشپ ہے، کلیئروژن ہے، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قیادت کے پاس خلوص ہے جس کے سامنے اگلا الیکشن نہیں، بلکہ قوم اور نسل کا مستقبل ہے۔ انشاءاللہ جلد اچھی خبریں مرکز کی طرف سے بھی ملیں گی۔

اسلام ٹائمز: صوبائی حکومت اپنا پہلا بجٹ پیش کر چُکی ہے، اس کو اپنے وعدوں اور دعوؤں کی کسوٹی پر کس طرح پرکھیں گے؟
سلطان محمد خان:
آپ نے بالکل درست کہا یہی ہمارا پہلا بجٹ ہے، اس سے قبل جو بجٹ پیش کیا گیا تھا وہ 7 ماہ کا تھا اور پہلے سے تیار تھا۔ موجودہ بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں وزیراعلٰی محمود خان اور وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کی کوششوں اور محنت کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ بجٹ میں صوبے کی ضروریات پوری کرنے کیساتھ ساتھ ریلیف کی فراہمی پر بھی پوری توجہ دی گئی ہے۔ اصلاحات پر بھی فوکس کیا گیا ہے، ہماری توجہ ریونیو جنریشن پر بھی ہے کیونکہ اِسوقت صوبے کی اپنی آمدن نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمیں اپنے بجٹ کے 92 فیصد حصے کیلئے مرکز پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جبکہ صرف 8 فیصد وسائل ہمارے اپنے ہیں، جو ظاہر ہے کہ بہت کم ہیں۔ موجودہ بجٹ میں ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، بلکہ بعض ٹیکسوں کی شرح پہلے سے بھی کم کر دی ہے، تاکہ ٹیکس کلچر مضبوط ہوسکے۔ کیپرا (Khyber Pakhtunkhwa Revenue Authority) نے گذشتہ مالی سال کے دوران اپنے اہداف کامیابی کے ساتھ حاصل کر لئے ہیں جو اطمینان بخش امر ہے۔ اِسوقت ہماری توجہ مائنز اینڈ منرلز، ٹورازم اور ہائیڈرل پاور جنریشن کے ساتھ ساتھ اے جی این قاضی فارمولے کے تحت پن بجلی منافع کے حصول کیلئے کوششوں پر مرکوز ہے، جس میں کامیابی کی صورت میں ہماری آمدن میں اضافہ ہوسکے گا۔ ہم ٹیکس وصولی کیلئے عوام کا اعتماد بھی بحال کرائیں گے۔ ترقیاتی بجٹ کیلئے ریکارڈ 319 ارب روپے مختص کئے ہیں، پہلی بار سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بجٹ سے غیر ضروری سکیمیں نکال دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ہم نے 95 ارب روپے کی بچت ممکن کر کے دکھائی، ضم شده اضلاع کیلئے ریکارڈ بجٹ رکھا ہے۔

اسلام ٹائمز: ضم شدہ اضلاع کی بات کریں تو ساتھ ہی یہ بھی بتایئے کہ اِسوقت وہاں جو قانونی خلا موجود ہے اس کو دور کرنے کیلئے حکومت کیا کر رہی ہے؟
سلطان محمد خان:
سب سے پہلی بات کہ موجودہ صوبائی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہی یہ ہے کہ ہم نے قبائلی اضلاع کے انضمام کا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے، آج وہاں عدالتیں بھی کام کر رہی ہیں، جبکہ پولیس سسٹم نے بھی کام شروع کر دیا ہوا ہے۔ ضلع کی کمانڈ پولیس افسران کے پاس ہے، اِسوقت ہماری کوشش ہے کہ عارضی مدت کیلئے مصالحتی کونسلیں قائم کی جائیں جس پر کام جاری ہے، تاکہ صرف روایات محفوظ رکھی جائیں، بلکہ تنازعات بھی جلد سے جلد مکمل ہو جائیں۔ ہم جرگہ سسٹم کو قانونی شکل دینے کیلئے کوشاں ہیں۔ اس کو قانون کے تحت لائیں گے، ہم ماضی کی غلطیاں دہرانے سے اجتناب کریں گے۔

اسلام ٹائمز: صوبائی اپوزیشن جماعتیں مسلسل امتیازی سلوک کا شکوہ کرنے میں مصروف ہیں، ان کی شکایات دور کیوں نہیں کی جار ہیں؟
سلطان محمد خان:
اپوزیشن پارلیمانی جمہوریت کا حسن ہوتی ہے، ہمارے لئے تمام اپوزیشن جماعتیں قابل احترام ہیں، کیونکہ ہماری طرح وہ بھی ووٹ لے کر ایوان میں آئی ہیں، لیکن آج جن معاملات پر وہ شکوہ کر رہی ہیں انہی کے ادوار حکومت میں انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اس سے بھی کہیں زیادہ ناروا سلوک کیا۔ پرانا ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے، مگر آج یہی جماعتیں مسلسل چیخ رہی ہیں۔ اگرچہ اِسوقت ہمیں اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے، مگر اس کے باوجود ہماری کوشش ہے کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ اپوزیشن کا عددی تناظر میں جو حق بنتا ہے ہم وہ دینے کیلئے تیار ہیں۔ اس سلسلے میں ایک فارمولے پر اتفاق بھی ہوا تھا، مگر وہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں مخصوص سیاسی ایجنڈے کے تحت بلا ضرورت احتجاج شروع کر دیتی ہیں۔ درحقیقت ان کی جو قیادت جیلوں میں ہے ان کو دکھانے کیلئے اس قسم کا احتجاج ان کی مجبوری ہے۔ اپوزیشن اصل ایشوز پر آئے، ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں، جب حکومتی اراکین کو فنڈ نہیں ملے تو اپوزیشن کو کیسے سکتے ہیں؟ ناانصافی نہیں کریں گے، مگر بلیک میل بھی نہیں ہوں گے۔

اسلام ٹائمز: انسداد گھریلو تشدد بل ابتک کیوں منظور نہیں ہوسکا، حالانکہ اسمبلی میں کب کا پیش کیا جاچکا ہے؟
سلطان محمد خان:
آپکو بخوبی علم ہے کہ حکومت اس حوالے سے سنجیدگی سے کوشاں ہے۔ بل صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جاچکا ہے، تاہم بعض اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی طرف سے ترامیم لانے کے مطالبہ کے باعث بل سلیکٹ کمیٹی کو بھجوایا جاچکا ہے۔ چونکہ بجٹ کا مرحلہ درپیش تھا اس لئے اب جلدی سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس طلب کر کے اتفاق رائے سے بل کے مسودے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہمارے پاس دو تہائی اکثریت ہے اور اگر چاہیں تو بل منظور کر سکتے ہیں۔ مگر ہماری کوشش ہے کہ افہام و تفہیم اور اتفاق رائے سے آگے بڑھا جائے، ہم تعمیری مشاورت پر یقین رکھتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: چارسدہ نے آپ کو دوسری بار منتخب کیا ہے، علاقے میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے موجودہ بجٹ میں کتنا حصہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟
سلطان محمد خان:
چارسدہ اگرچہ ہیوی ویٹس والوں کا مرکز رہا ہے، یہیں سے دو دفعہ وزیراعلٰی منتخب ہوئے، جبکہ اے این پی کے 5 سال میں بھی تمام معاملات یہاں سے چلائے جاتے رہے، مگر اس کے باوجود اس ضلع کو نظر انداز رکھا گیا۔ اسی لئے تو پوری پشاور ویلی میں سب سے پسماندہ ضلع یہی ہے، مگر اب ہماری حکومت ماضی کی تمام زیادتیوں کی تلافی کیلئے سرگرم ہو چکی ہے۔ ہم اگلے چار سال میں اس کو صوبے کے ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لائیں گے، رواں بجٹ میں چارسدہ کیلئے خاص طور پر 6 ارب روپے کی سکیمیں رکھی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں میں وزیراعلٰی محمود خان کا بطور خاص شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے تمام اہم مطالبات پورے کئے۔ ہم چارسدہ میں میڈیکل کالج بنائیں گے، جس کیلئے ڈیڑھ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کو ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دے رہے ہیں جو 500 بیڈز پر مشتمل ہوگا جو کہ تین شفٹوں میں کام کرے گا۔ دریائے کابل کے سیلاب سے چارسدہ کو بچانے کیلئے ڈیڑھ ارب روپے کا منصوبہ رکھا گیا ہے۔ پورے ضلع میں 200 کلو میٹر سڑکیں رکھی گئی ہیں۔ شبقدر میں ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال بنا رہے ہیں، ماضی میں چارسدہ کے ٹریفک مسائل پر بھی توجہ نہیں دی گئی، آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ چارسدہ میں ٹریفک سگنلز ہی نہیں ہیں، اب 2 فلائی اوورز بنائے جا رہے ہیں۔ پہلا کلا ڈھیر کے مقام پر بنایا جائے گا، جبکہ دوسرا فلائی اوور چارسدہ بازار میں فاروق اعظم چوک سے ڈی سی آفس تک بنایا جائے گا جس کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کی جائے گی۔ ان تمام ترقیاتی منصوبوں سے پورے ضلع کی شکل ہی بدل جائے گی۔ میں یہاں یہ بات ضرور دہرانا چاہوں گا کہ ضلع چارسدہ نے موروثی سیاست مسترد کر دی ہے، ضلع سے روایت سیاسی جماعتوں کا صفایا ہو چکا ہے، کیونکہ اب لوگ باشعور ہو چکے ہیں، تعلیم کی شرح بڑھتی جا رہی ہے سوشل میڈیا ذہنوں میں انقلاب لا رہا ہے، اب ان کو کوئی دھوکا نہیں دے سکتا۔ جو سیاسی جماعتیں کاروباری انٹرپرائزز میں تبدیل ہوچکی ہیں ان کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ ہم نے چارسدہ کو ان جماعتوں کے چنگل سے آزاد کرا لیا ہے اور اب یہ پی ٹی آئی کا گڑھ بن چکا ہے، ہم بھی بھر پور ترقیاتی کاموں کے ذریعے علاقے کی تقدیر بدل کر ثابت کر دیں گے کہ ضلع کے لوگوں نے درست فیصلہ کیا۔
خبر کا کوڈ : 804845
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب