0
Sunday 14 Jul 2019 14:26
ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ کسی ان دیکھی طاقت سے ہے

حکومت گرفتاریوں اور مقدمات کو اپوزیشن کیخلاف بدنامی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، ڈاکٹر نثار چیمہ

عام آدمی کی مشکلات کا حل اسی میں ہے کہ حکومت اپنا قبلہ درست کرے یا مستعفی ہو جائے
حکومت گرفتاریوں اور مقدمات کو اپوزیشن کیخلاف بدنامی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، ڈاکٹر نثار چیمہ
رکن قومی اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنماء ڈاکٹر نثار احمد چیمہ وسطی پنجاب کے معروف زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ہیلتھ سروس پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ 2018ء میں پاکستان مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر گوجرانوالا سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ موجودہ معاشی صورتحال، اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں، حکومتی اقدامات اور چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی سے متعلق متحدہ اپوزیشن کی پالیسی سمیت اہم ایشوز پر انکے ساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: اپوزیشن رہنماؤں کیجانب سے دسمبر تک حکومت کے خاتمے کی باتیں ہو رہی ہیں، جبکہ آرمی چیف نے اسکے برعکس پالیسیوں پہ ساتھ دینے کا کہا ہے، اپوزیشن کے مطابق حکومت جانے کے عوامل کیا ہیں۔؟
ڈاکٹر نثار احمد چیمہ:
ہم نے جب انتخابات کے بعد اس چیز کی مخالفت کی تھی کہ حکومت کو نہ چلنے دیا جائے، تو اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ یہ حکومت اپنے بوجھ سے گر جائیگی، انکی نااہلی اور نالائقی آج یہ ثابت کر رہی ہے کہ یہ حکومت نہیں چلا سکتے۔ عمران خان کا سارا زور صرف تقریروں تک ہے، انہوں نے ملک اور قوم کیلئے سوائے نئے مسائل پیدا کرنیکے کچھ بھی نہیں کیا۔ آئی ایم ایف کی ڈیل کے نتیجے میں دیکھ لیں، کاروبار زندگی ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ اب کوئی ٹیکس دینے کو تیار نہیں، بلکہ کوئی بندہ ٹیکس دینے کی پوزیشن میں ہی نہیں۔ لوگ تو اب ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، سروے آرہے ہیں، عمران خان کا گراف مکمل طور پر گر رہا ہے، اب تو صاف نظر آرہا ہے کہ حکومت نہیں رہ سکتی، انہیں اب خود ہی مستعفی ہو جانا چاہیئے۔ حالات بھی بتا رہے ہیں اور جن لوگوں نے عمران خان کو لانے میں بڑی محنت سے کام لیا تھا، اب وہی لوگ یہ حکومت ختم کروائیں گے۔ اس ملک میں 20 کروڑ سے زائد لوگ بستے ہیں، انکی مرضی سے ہی حکومت چل سکتی ہے، اب لوگوں کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہو رہی، جینا مشکل ہوگیا ہے، اب تو کوئی بھی نہیں چاہتا کہ یہ حکومت رہے۔ کہیں گورنمنٹ کی رٹ نہیں، گورننس نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔

اسلام ٹائمز: کیا 10 سالہ دوروں اور قرضوں کے کمیشن کی تحقیقات سے توجہ ہٹانے کیلئے تو نہیں کہا جا رہا کہ حکومت جانیوالی ہے۔؟
ڈاکٹر نثار احمد چیمہ:
یہ تو ایک مذاق ہے، کسی ملک کا سربراہ یا حکومت کا وزیراعظم کیوں بیرون ملک جاتا ہے، خود عمران خان کو دس ماہ ہوئے ہیں، وہ کہاں کہاں نہیں گئے۔ حالانکہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ملک سے باہر نہیں جائیں گے، اس کے باوجود انہوں نے کئی ملکوں کے دورے کیے ہیں، ابھی کئی ملکوں میں جانا بھی ہے، یہ تو فیملی، دوستوں اور دوستوں کے دوستوں کو بھی لیکر جاتے ہیں، جو حساب کی بات ہے تو یہ عمران خان کو دینا پڑیگا، قرضوں کا بھی اور غیر ملکی دوروں کا بھی۔ یہ کس منہ سے کہتے ہیں کہ سابق حکومتوں میں جو لوگ بیرون ملک دوروں پہ گئے ہیں، اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا، ان کے دوروں سے کیا حاصل ہوا ہے، انکی تو کوئی فارن پالیسی ہی نہیں ہے، پہلے دفتر خارجہ اور جی ایچ کیو میں فاصلے تھے تو اب پرائم منسٹر ہاوس اور فارن آفس کی آپس میں کوآرڈینیشن نہیں ہے۔ یہ کہتے ہیں روس جائیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ انہیں آنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ سب چیزیں آج کل ایک عام آدمی بھی سمجھ رہا ہے، سب کو نظر آرہا ہے کہ انکے دورے کتنے غیر ضروری یا ناکام ہیں، اس کے باوجود یہ بضد ہیں اور ملک کیلئے کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یہ اخراجات بچانے کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کوئی وزیر نہیں جائیگا، لیکن وزیر تو جا رہے ہیں، انہوں نے تو کہا تھا کہ کمرشل فلائیٹ پہ جاونگا، اب دیکھیں کبھی نہیں گئے کمرشل فلائیٹ پہ، یہ سب باتیں سامنے ہیں، اس کے باوجود وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ دوروں کا حساب لیں گے، یہ مکمل طور پر انتقامی سوچ کیوجہ سے ناکارہ ہوچکے ہیں۔ ابھی تو انکے عہدیداروں کی کروڑوں کی ٹی ٹی بھی سامنے آگئی ہے، اسکا حساب تو لیں۔ یہ ہر آنے والے دن کو مشکل تر بنا رہے ہیں، اکانومی کو ڈوبنے سے بچائیں۔

اسلام ٹائمز: ملک کی بہتری کیلئے معیشت مستحکم ہونی چاہیئے لیکن اپوزیشن نے تو میثاق معیشت کی بات واپس لے لی ہے، تو یہ کیسے ہوگا۔؟
ڈاکٹر نثار احمد چیمہ:
یہ انکو سمجھ نہیں آرہی، اپوزیشن سب سے پہلے جمہوریت کو بچانا چاہتی ہے، ہمارا تجربہ ہے کہ جب سیاستدان آپس میں لڑنا شروع کر دیں تو بندوق سامنے آجاتی ہے، سسٹم لپیٹ دیا جاتا ہے، یہ انکا فرض ہے کہ سب کیساتھ بات کرے۔ ملک میں امن و سکون ہو، بحران ختم ہو، ایک اچھا ماحول ہو، اس سے سرمایہ کاری بھی آتی ہے، کاروبار بھی چلتا ہے اور سیاسی طور پر عدم استحکام بھی نہیں ہوتا، جمہوری سسٹم بھی مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن یہ معاملات کو خراب کر رہے ہیں، کشیدہ فضاء بنا رکھی ہے، لڑائی جھگڑا کرتے ہیں، قوم کو بے وقوف سمجھ رہے ہیں، اب لوگوں کو تقسیم کرنیکی کوشش کر رہے ہیں، یہ تقسیم پاکستان کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ اس سے خود حکومت کی بساط بھی لپیٹ دی جائیگی، ملک بھی نہیں چلے گا، یہ سمجھتے ہیں کہ ان طریقوں سے اپوزیشن کی آواز دبا لیں گے، اور اپنا اقتدار مضبوط کر لیں گے، ان کی یہ سوچ غلط ہے۔

اسلام ٹائمز: اپوزیشن رہنماؤں کیخلاف کیسز چل رہے ہیں، لیکن وہ سیاسی سرگرمیاں اور میڈیا سے گفتگو بھی کر رہے ہیں، حکومت کا موقف یہ ہے کہ قدغن اس لئے لگایا گیا کہ یہ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔؟
ڈاکٹر نثار احمد چیمہ:
ہم تو یہ کہتے ہیں کہ عمران خان کو کچھ پتہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے، نہ ہی اسے یقین ہے کہ وہ اب وزیراعظم ہیں، یہی مسئلہ دیکھ لیں، جیلیں کس کے کنٹرول میں ہیں، خود حکومت کے، جیلوں میں جو آسائشیں دی جاتی ہیں، وہ حکومت کی مرضی سے دی جاتی ہیں، یہ آئی جی جیل خانہ جات کے ذریعے ہوتا ہے۔ دوسری بات کا قانونی پہلو ہے کہ کسی کو میڈیا یا ٹی وی پہ نہیں آنا چاہیئے، یہ انتقامی سوچ کی وجہ سے اندھے ہوچکے ہیں، یہ کون ہوتے ہیں کسی کو روکنے والے، پوری دنیا میں یہ اصول ہے کہ ملزم اور مجرم میں فرق ہوتا ہے، یہ کہتے ہیں، میں کسی کو اجازت نہیں دونگا، جب قانون اجازت دیتا ہے تو یہ کون ہوتے ہیں روکنے والے۔

پھر کہتے ہیں کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، یہ اداروں اور عدالت کا کام ہے، حکومت کو کوئی اختیار نہیں، دوسروں کو مطلق العنانیت کے طعنے دینے والے اپنے آپ کو پاکستان کا بے تاج بادشاہ سمجھتے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ عمران خان کا حشر آمر حکمرانوں سے بھی بدتر ہونیوالا ہے۔ میڈیا، آزادی اظہار اور عوامی رائے پر پابندیاں کس چیز کی علامت ہیں۔ اگر کسی کو سزا ملنا تھی، وہ عدالت دیتی ہے، پھر جن لوگوں کو میڈیا سے بات چیت کرنے سے روکا جا رہا ہے، وہ سیاسی لیڈر ہیں، اپنے حلقے سے منتخب ہو کر آئے ہیں، نمائندہ ہیں، ان کو حق حاصل ہے، یہ کوئی نہیں روک سکتا، رانا ثناء اللہ کو جس طرح پھنسایا گیا ہے، یہ مارشل لاء دور سے بھی بدتر ہے، لیکن دنیا میڈیا کی دنیا ہے۔

اسلام ٹائمز: آپکے خیال میں سیاستدان جو بھی کرتے رہیں، انکی پکڑ دھکڑ نہیں ہونی چاہیئے۔؟
ڈاکٹر نثار احمد چیمہ:
اگر پکڑ دھکڑ ہونی ہے تو وہ سب کی ہونی چاہیئے، آپ دیکھیں، پرویز مشرف کا کوئی نام بھی نہیں لیتا۔ پھر دیکھیں یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک موجودہ اسمبلی کا رکن ایم این اے اپنی ذاتی گاڑی میں 15 کلو ہیروئن لیکر جا سکتا ہے، کہا جا رہا ہے کہ وہ ہیروین لیکر جا رہے تھے، جو انہوں نے ڈیلیور کرنا تھی، یہ کیسے ممکن ہے، پھر آج تک ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں دیا گیا، یہ پکڑ دھکڑ کا عمل بے بنیاد اور غیر قانونی ہے، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے لوگوں کو اٹھا کر غائب کر دیا جاتا ہے، پھر ان کے قانونی حقوق بھی سلب کر لیے جاتے ہیں، انہیں ایک سازش کے ذریعے پکڑا گیا، پھر ایک قومی ادارے کے ذریعے ان کیخلاف میڈیا پر اسٹوری سنوائی گئی۔

اس سے کیا ہوگا، لوگوں اعتماد ختم ہو جائیگا اداروں سے اور ریاست سے، انصاف فراہم کرنیوالی عدالتوں سے، لاقانونیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہ ایک طریقہ ہے لوگوں کے اذہان میں یہ بات بٹھانے کا کہ اپوزیشن کے جتنے رہنماء ہیں، یہ ٹھیک لوگ نہیں ہیں، ان کو بدنام کیا جا رہا ہے، لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے اور دشمنی کا بیج بونے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کامیاب نہیں ہوگی، مریم بی بی کے جلسوں نے ان کی ساری منصوبہ بندی پر پانی پھیر دیا ہے۔ یہ گرفتاریاں، مقدمات، بدنام کرنے کے ہتھکنڈے اور ہراساں کرنے کی پالیسی ہمیں روک نہیں سکتی، بلکہ اس سے پی ٹی آئی کا چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: چیئرمین سینیٹ پہلے ہی ایک چھوٹے صوبے سے ہیں، پھر آپ نہیں ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس سے تو بلوچستان میں احساس محرومی کیساتھ بداعتمادی میں بھی اضافہ نہیں ہوگا۔؟
ڈاکٹر نثار احمد چیمہ:
یہ اپوزیشن کا حق ہے، اپوزیشن باقی نہیں رہیگی تو جمہوریت کا تصور ہی ختم ہو جائیگا، اب اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ اگر سب مل کر نہیں چلیں گے تو سب ڈوب جائیں گے، حکومت کو یہ احساس دلانا بہت ضروری ہے۔ اصل میں ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ کسی ان دیکھی طاقت سے ہے، اب ہم اس نتیجے پہ پہنچے ہیں کہ کچھ قوتیں یہ کوشش کر رہی ہیں کہ پی پی پی اور پی ایم ایل این کو توڑ دیا جائے، لیگی ایم پیز سے رابطوں کا مطلب یہی ہے، اسکا جواب دینا ضروری ہے۔

اسلام ٹائمز: جب تک یہ احتسابی عمل جاری ہے، اپوزیشن اور حکومت کے درمیان لفطی جنگ اور سخت اقدامات کا سلسلہ جاری رہیگا تو عام آدمی کا جو حشر ہوگا، اسکا ذمہ دار کون ہوگا۔؟
ڈاکٹر نثار احمد چیمہ:
احتساب کا دوسرا نام نیب اور نیب مقدمات ہیں، یہ ایک جھوٹا احتساب ہے، نیب کے چیئرمین کی ویڈیو سے لیکر انکی پریس کانفرنسز تک، ہر چیز اٹھا کر دیکھیں، یہاں کون کہتا ہے کہ احتساب ہو رہا ہے، کوئی ایک کیس اٹھا کر دیکھ لیں، جس کا کوئی نتیجہ نکلا ہو، یہ تو سپریم کورٹ بھی کہہ رہی ہے کہ نیب کوئی کام ہی نہیں کر رہا، حقیقت یہ ہے کہ نیب کے ذمہ داروں کو ویڈیوز بنوانے سے فرصت ہوگی تو کچھ کام کرنے کے قابل ہونگے۔ سچ کو چھپایا نہیں جا سکتا، حقیقت کو ہتھکڑیاں نہیں لگائی جا سکتی ہیں۔ حکومت کے اقدامات کیوجہ سے عوام کے اعصاب جواب دے چکے ہیں۔ جہاں تک عوام کی مشکلات کی بات ہے تو یہ سب نااہل حکومت اور نالائق وزیراعظم کی وجہ سے ہے، تاجروں کا برا حال، انڈسٹری تباہ ہوچکی ہے، جب فیکٹریاں نہیں چلیں گی تو مزدور طبقہ بے روزگار ہو جائیگا، جو لوگ روزانہ کماتے اور گھر چلاتے ہیں انکے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہوچکی ہے، وزراء جھوٹ اور غلط بیانی سے کام چلا رہے ہیں۔

اپوزیشن کی تحریک اور حکومت کیخلاف آواز اٹھانے کا مقصد ہی عام آدمی کی زندگی آسان بنانا ہے، پاکستان کا ہر آدمی اور ہر طبقہ اس حکومت سے مایوس ہوچکا ہے، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا، اس لیے بطور عوامی نمائندہ ہماری ذمہ داری ہے کہ عوام کے حقوق اور مشکلات و پریشانیوں کیلئے باہر نکلیں، ایوان میں بات کریں، میڈیا کو حقائق بتائیں، گیس اور بجلی کے بلوں نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے، جو شخص کرایہ پہ رہتا ہے، اس کے لیے کھانا کھانا مشکل ہے، جس کا اپنا گھر ہے اس کے لیے بل اور ٹیکس دینا ممکن نہیں، اس کی ذمہ دار حکومت ہے، اپوزیشن تو ان مسائل کے حل کیلئے حکومت کو مل کر چلنے کی پیشکش کرچکی ہے، اب جب حکومت بات سننے کیلئے تیار نہیں تو اپوزیشن عوام کی آواز بن کر اپنا کردار ادا کر رہی ہے، عام آدمی کی مشکلات کا حل اسی میں ہے کہ حکومت اپنا قبلہ درست کرے یا مستعفی ہو جائے۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم نے نیب عدالت کے جج کو دھمکی، لالچ اور بلیک میلنگ جیسے الزامات کیساتھ نون لیگ کو ایک بار پھر مافیا قرار دیا ہے، جج کی ویڈیوز پریس کی بجائے عدالت میں پیش کی جاتیں تو ان الزامات کی نوبت نہ آتی۔؟
ڈاکٹر نثار احمد چیمہ:
عمران خان کو جو ہتھکنڈے استعمال کرکے حکومت میں لایا گیا ہے، ان پر غور کریں تو اٹلی سمیت دنیا بھر میں کام کرنیوالے سیاسی مافیا کی حقیقت آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے، جس طریقے سے اس حکومت کو لایا گیا ہے، اسے سوچتے ہی عمران خان کے سامنے یہ تصویر نمودار ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں ڈروانے خواب آتے ہیں، وہ صبح اٹھ کر اس پریشانی کا اظہار ٹوئیٹر پر کرتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ اداروں کے وقار اور عزت کی بات کی ہے، کیا یہ اداروں کو بدنام کرنیکی سازش نہیں کہ پاکستان کے اداروں کو کوئی بھی سیاستدان بلیک میل کرسکتا ہے، اس سے دنیا میں اور پاکستان عوام کے سامنے کیسا امیج جاتا ہے اداروں کا، عدلیہ کا، مسلح افواج کا۔ ان الزامات سے اس سازش پر پردہ نہیں ڈال سکیں گے کہ جس طرح پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے تین بار کے منتخب وزیراعظم کو اقتدار سے باہر کیا گیا۔

آج بھی دیکھیں کون اداروں کے ذریعے سیاسی مخالفین کو دباؤ میں لانے کیلئے استعمال کر رہا ہے، اداروں کو متنازع بنایا جا رہا ہے، ہم عوام اور ریاستی اداروں کے مابین اعتماد کے رشتے کو کمزور نہیں ہونے دینگے، ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ لوگ حقیقت جان لیں، یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ جج ارشد ملک کے متعلق شفاف تحقیقات کریں اور حقائق سامنے لائیں، تاکہ لوگوں کا اعتماد عدلیہ سمیت سب اداروں پر برقرار رہے۔ عمران خان انصاف کی بات کرتے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کا پاکستان کے نظام انصاف پر سے یقین ختم نہ ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام حقائق لوگوں کے سامنے رہیں۔ شریف خاندان پر جو الزامات لگائے ہیں، انکی بھی تحقیق ہونی چاہیئے، جب پہلے سے ہی جج ارشد ملک کیساتھ مانٹرنگ جج لگائے تھے، تو انہوں نے اگر دباؤ اور دھمکی دی جا رہی تھی تو اس سے حکام کو آگاہ کیوں نہیں کیا۔

اگر جج سچا ہے تو اسے اپنے عہدے سے ہٹایا کیوں گیا ہے، حکومتی وزراء بار بار اسکی صفائیاں کیوں پیش کر رہے ہیں، اس سے عوام میں شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کو دی گئی سزا کی اب کوئی وقعت نہیں رہی، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے، حکومت شریف خاندان پر الزامات کے ذریعے یہ چاہتی ہے کہ اتنے زیادہ حقائق سامنے آنے کے باوجود نواز شریف کو دی گئی ناحق سزا کو کالعدم قرار نہ دیا جائے، اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان میں سیاسی قیادت کو اداروں کے ذریعے انتقام کا نشانہ بنائے جانے کا تاثر ختم نہیں ہوگا، لیکن ہمارا یہ عزم ہے کہ پاکستان کے اداروں کا احترام بحال کروا کر ہی دم لیں گے۔ حکومتی الزامات کی پروا نہیں کرینگے، پہلے سے ہی ساری اپوزیشن مقدمات کا سامنا کر رہی ہے، لیکن وفاقی کابینہ میں بیٹھے لوگ یا تو منتخب نہیں ہیں، یا پھر منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، انکے خلاف کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، نہ ہی انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 804905
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب