0
Sunday 14 Jul 2019 22:46
ہمیں فروعی مسائل کو بالائے طاق رکھکر اپنے مشترکات پر مل بیٹھنا چاہیئے

تعلیم اور اتحاد اسلامی کے بغیر مسلمانوں کی سربلندی ممکن نہیں ہے، پیر سید اشفاق بخاری

ہمارے درمیان علمی اختلاف ہوسکتا ہے، علمی اختلاف باعث رحمت ہے، یہ اختلافات تفرقے میں نہیں بدلنے چاہیئے
تعلیم اور اتحاد اسلامی کے بغیر مسلمانوں کی سربلندی ممکن نہیں ہے، پیر سید اشفاق بخاری
پیر سید اشفاق بخاری شافعی کا تعلق جموں و کشمیر کے وسطی ضلع بڈگام سے ہے، میر سید علی شاہ ہمدانی کے مشن کی آبیاری میں سرگرم عمل ہیں، انکا ماننا ہے کہ جو سات سو سادات ہمدان سے تبلیغ دین اسلام مبین کیلئے امیر کبیر کے ہمراہ کشمیر وارد ہوئے تھے، انکا خاندانی تسلسل انہی سادات سے جا ملتا ہے، پیر سید اشفاق بخاری جموں و کشمیر تحریک کاروان شاہ ہمدان (رہ) کے سربراہ بھی ہیں، کشمیر بھر میں دینی و تبلیغی فعالیت انجام دے رہے ہیں اور اتحاد اسلامی، تصوف و اسلام ناب محمدی (ص) کی تبلیغ و ترویج میں انکی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے پیر سید اشفاق بخاری سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: مسئلہ کشمیر کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
سید اشفاق بخاری
: مسئلہ کشمیر کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے کہ یہ ایک متنازعہ مسئلہ ہے، اقوام متحدہ میں قراردادوں کے ذریعے سے دنیا نے بھی اس مسئلہ کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیا ہوا ہے، ریاست جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ ستر برسوں سے اپنے سیاسی حقوق کی بازیابی کے لئے برابر جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلہ کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے ہی نکالا جائے اور اگر خدانخواستہ کسی وجہ سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکتا تو اس مسئلے کو سہ فریقی مذاکرات، جس میں بھارت، پاکستان اور کشمیر کے حقیقی نمائندے شامل ہوں، کے ذریعے سے اس مسئلے کا حل نکالا جائے اور یہ حل کشمیریوں کی خواہشات کے عین مطابق ہونا چاہیئے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کے لٹکنے سے برصغیر کے کروڑوں عوام کی ترقی کی راہیں بند ہیں اور برصغیر میں قیامِ امن تب تک خواب ہی رہے گا، جب تک نہ اس مسئلہ کا حل نکالا جائے۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ کشمیر کی حقیقت اور بھارت و پاک مذاکرات کے دوران اس مسئلہ کو پس پشت ڈالنے کے بارے میں آپکی نگاہ کیا ہے۔؟
سید اشفاق بخاری
: مسئلہ جموں و کشمیر ایک روشن حقیقت ہے، جسے حل کئے بغیر برصغیر میں حقیقی امن، استحکام، تعمیر و ترقی ناممکن ہے، اس لئے بھارت اور پاکستان کے قائدین پر لازم ہے کہ وہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے کشمیریوں کی مالکانہ حیثیت قبول کریں اور مذاکراتی عمل میں کشمیریوں کو فریق اول کی حیثیت سے شامل کرکے اس مسئلے کا دائمی اور پائیدار حل نکالنے کی سعی کریں۔ ہمارا ماننا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے حکمران کشمیریوں کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل کر اپنی نئی نسل کو روشنی سے نہیں نواز سکتے ہیں، کشمیر ایک ایسا سلگتا انگارا ہے، جسے بجھائے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ بھارتی قیادت بارود کے ایک ایسے ڈھیر جس کے اندر کشمیر نام کی آگ اور چنگاری پنہاں ہے، پر مٹی ڈال کر آرزوﺅں اور تمناﺅں کے نئے محل تعمیر کرنا چاہتا ہے، لیکن دنیا کے تمام باشعور اور عقلمند جانتے ہیں کہ ایسے عمل کو محض وقت کا زیاں اور بے وقوفانہ طرز عمل ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ جموں و کشمیر کے لوگوں نے ہمیشہ مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔

اسلام ٹائمز: بھارت کے فوجی جماؤ کے ہوتے ہوئے کیا یہاں حقوق انسانی کی پاسداری و لحاظ کرنا ممکن ہے۔؟
سید اشفاق بخاری
: جدید دنیا میں اگر انسانی حقوق کی پامالی دیکھنی ہو تو بدقسمتی سے اُس کے لئے کشمیر واحد خطہ ارض ہے، یہ ساری پامالیاں بھارت صرف اپنے ناجائز فوجی قبضے کو جاری رکھنے کے لئے انجام دیتا آرہا ہے، اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ بھارتی قبضے کی موجودگی میں ان کے اندر کوئی کمی واقع ہو، البتہ بھارت میڈیا کے ذریعے عالمی برادری کو گمراہ کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا ہے، وہ یہ تاثر دیتا آرہا ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری کا سبق صرف وہی جاتنا ہے، میرا یہ دعویٰ ہے کہ بھارتی قبضہ کی موجودگی میں جموں و کشمیر کے اندر انسانی حقوق کی پاسداری کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا ہے، کیونکہ استصواب رائے عامہ سے محروم رکھنا یہاں کے لوگوں کے ساتھ سب سے بڑی اور اولین حقوق کی پامالی ہے۔

اسلام ٹائمز: فلسطین اور کشمیر کے مسئلہ میں کیا مماثلت ہے۔؟ 
سید اشفاق بخاری
: دیکھیئے کشمیر کا مسئلہ بھی عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے کہ جو فسلطین کے ساتھ خاصی مماثلت رکھتا ہے، کشمیر خطے کے لوگ بھی پچھلے ستر سال سے بھارت کے تشدد کی چکی میں پِس رہے ہیں، کشمیریوں کو یہ قوی امید تھی کہ دنیا خاص طور پر عالم اسلام مسئلہ کشمیر کو فلسطین کی طرح اجاگر کرے گا، لیکن بدقسمتی یہ رہی کہ عالم اسلام نے اقتصادی مفادات کی خاطر کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی رول ادا نہ کیا اور ہماری مظلومیت پر انہوں نے صرف تماشائی کا کام کیا، جس کی وجہ سے کشمیر کے حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور آج کشمیر تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے کہ بھارت اپنی پوری توانائی بروئے کار لاکر یہاں کی نوجوان نسل کو تہذیبی تذلیل میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہاں کی نوجوان نسل کو اپنے اسلامی تمدن سے منحرف کرکے بھارتی تہذیب کی جانب مائل کیا جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: بعض ممالک میں تحریکیں زود تر کامیاب ہوئیں لیکن کشمیر میں گذشتہ طویل عرصے سے کوشش جاری ہے، کون سی رکاوٹ حائل ہو رہی ہے۔؟
سید اشفاق بخاری
: ظاہر ہے کہ بعض ممالک کے دشمن کمزور پڑتے ہیں اور ان کے دشمن جلدی ہار تسلیم کرتے ہیں یا عوام کی بیداری اس قدر عروج پر ہوتی ہے کہ تحریکیں زود تر کامیابی کی منازل طے کرتی ہیں، ہندوستان کی آزادی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا کہ انگریزوں کی تعداد کم تھی، جس کی وجہ سے ہم جلدی آزادی سے ہمکنار ہوگئے، اس کے برعکس کشمیر کا مقابلہ ایک بڑی طاقت کے ساتھ ہے، بھارت کشمیر کی آبادی سے زیادہ اپنی فوج یہاں پر مسلط کئے ہوئے ہے، غرض کہ ہمارا مقابلہ ایک بڑے ملک سے ہے، اس وجہ سے ہماری تحریک آزادی کے لئے مشکلات زیادہ ہیں، کشمیری عوام کو اپنے بنیادی اصول، اسلامی تعلمات اور اولیاء خدا کے بتائے ہوئے راستوں پر چل کر کوشش کرنی چاہیئے، ان شاء اللہ یہ قوم بہت جلد آزادی سے ہمکنار ہوگی۔

اسلام ٹائمز: عالمی سطح پر مسلمانوں کی موجودہ پسماندگی و زبوں حالی سے نکلنے کیلئے تعلیم کا کتنا اہم رول ہے۔؟
سید اشفاق بخاری
: انسان یا حالت خوف میں زندہ ہے یا حالت احساس میں اور انسان کے سامنے جب سماجی، سیاسی، اعتقادی، مذہبی و عقائد کے مسائل سامنے آتے ہیں اور انسان جب ان مسائل کی بررسی و تحقیق کرتا ہے، اس تحقیق میں جب وہ منطقی و سینٹفک اینالسز نہیں کرتا ہے تو نتیجتاً توہم پرستی، فریب کاری اور استحصالی عناصر کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں وہ دنیا بھر کے مکار، فریب کار و خود غرض عناصر کا شکار ہو جاتا ہے اور وہ اس کا جی بھر کر استعمال و استحصال کرتے ہیں، وہ عناصر چاہے مذہبی لبادہ اوڑھے ہوئے ہی کیوں نہ ہوں، مذہب کو ہتھیار بنا کر سیدھے سادھے، سادہ لوح انسان کو فریب دے کر استحصال کرتے ہیں۔ دوسری طرف سیکولرازم کا نعرہ بلند کرنے والے مذہب سے دور یا اپنے آپ کو ماڈل و ترقی یافتہ کہنے والوں کو اپنے دامن فریب میں جگہ دیتے ہیں، ایسا تاریخ کے ہر موڑ پر ہوا ہے اور آج بھی ایسا استحصال جاری ہے۔

مسلمانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے، دونوں طبقوں نے مسلمانوں کا استحصال کیا ہے اور ان کی سادگی سے فائدہ اٹھایا ہے، ایسا اس لئے بھی ہوا کہ مسلمان تعلیم سے دور رہے اور اسلام ناب کے چشمے سے سیراب نہ ہوسکے، تعلیم ہی ہے جو مسلمانوں کو پسماندگی، جہالت، تنگ نظریہ، آپسی تضاد و منافرت اور افلاس کی زنجیروں سے آزاد کرسکتی ہے اور فریب کار عناصر کا حاصلہ توڑ سکتی ہے۔
تعلیم سے دوری کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے رسول اکرم (ص) کا دامن بھی ہاتھ سے چھوڑ دیا ہے، جس کی وجہ سے ذلت و رسوائی مسلمانوں کا مقدر بن گئی ہے، ہم فروعی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں، اہم یہ ہے کہ اسلامی قوانین، اسلامی تعلیمات پر عمل کیا جائے، سیرت رسول (ص) کو اپنایا جائے، آپسی خلش سے بچا جائے، ہمیں اس وقت متحد ہونے اور حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامنے کی اشد ضروت ہے، ہمیں فروعی مسائل کو بالائے طاق رکھکر اپنے مشترکات پر مل بیٹھنا چاہیئے، ہمارے درمیان علمی اختلاف ہوسکتا ہے، علمی اختلاف باعث رحمت ہے، لیکن یہ اختلافات تفرقے میں نہیں بدلنے چاہیئے، غرض یہ کہ تعلیم اور اتحاد اسلامی کے بغیر مسلمانوں کی سربلندی ممکن نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 805032
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب