0
Sunday 21 Jul 2019 21:22
کشمیر مختلف مذاہب کا گہوارہ رہا ہے

اسلام دشمن ممالک مسلمانوں کے اختلاف کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کر رہے ہیں، میر امیتاز آفریں

ملت اسلامیہ کو سب سے زیادہ نقصان افتراق و فرقہ پرستی نے پہنچایا ہے
اسلام دشمن ممالک مسلمانوں کے اختلاف کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کر رہے ہیں، میر امیتاز آفریں
میر امتیاز آفریں وادی کشمیر کے مایہ ناز اسلامی اسکالر، ادیب، کالم نگار، مصنف، استاد اور سماجی کارکن ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کئی محکموں میں کام کرنیکے بعد محکمہ تعلیم میں لیکچرر کے طور پر درس و تدریس سے باقاعدہ طور پر اپنے فعالیت کا آغاز کیا۔ انگریزی، اردو، کشمیری، فارسی اور عربی زبانوں پر  دسترس ہونے کیساتھ ساتھ اسلام، تصوف، شاعری اور فلسفے کیساتھ ان کا گہرا ربط رہا ہے۔ میر امیتاز آفریں کی دو بہترین کتابیں بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ اسلام کے نظام زکوٰۃ پر انکی تالیف ’’کتاب الزّکواۃ‘‘ کو علمی حلقوں میں خوب سراہا گیا۔ انکے اولین شعری مجموعہ ’’نقش وفا‘‘ کو بھی ارباب علم و ادب میں غیر معمولی پذیرائی ملی۔ میر امتیاز آفریں تقریباً ایک دہائی سے غیر سیاسی تنظیم رضائے مصطفےٰ فاؤنڈیشن کے بانی اور مؤسس کی حیثیت سے کام کرتے آئے ہیں، جو اسلامی اقدار کی تبلیغ کیساتھ ساتھ عوامی بہبود کے کاموں میں مثالی کام انجام دے رہی ہے۔ میر امتیاز آفریں کو ملک سے باہر بطور خادم الحجاج سعودی عرب میں بھی کام کرنیکا موقع ملا اور کئی سالوں سے عازمین حج کے استفادہ کیلئے حج تربیتی پروگرام منعقد کرتے آئے ہیں۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے میر امتیاز آفریں سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: اولاً ہم رضائے مصطفٰی فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں  اور آپکی دیگر کارکردگی کے بارے میں جاننا چاہیں گے۔؟
میر امتیاز آفریں:
رضائے مصطفٰی فاؤنڈیشن دینِ اسلام کے آفاقی عقائد و اعمال کی تبلیغ، ایمان کے صحیح تصور کو اجاگر کرنے، محبتِ رسول (ص) مسلمانوں میں بیدار کرنے اور امتِ مسلمہ کے فلاح و بہبود کے لئے 2006ء میں وجود میں آئی اور بعد میں بحثیتِ این جی او رجسٹر ہوئی۔ ایک دہائی سے زائد عرصہ میں فاؤنڈیشن سماجی بہبود، رد بدعات و منکرات اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرمِ عمل ہے اور جوانوں کی علمی، عملی، فکری، روحانی اور اخلاقی تربیت کے لئے کوشاں ہے۔ فاؤنڈیشن ہر سال سیرت النبی (ص) کے ان گوشوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے کئی کانفرنسوں اور سیمیناروں کا انعقاد کرتی ہے، جو دورِ حاضر میں فراموش کئے گئے ہیں۔

فاؤنڈیشن کئی محاذوں پر خدمات انجام دے رہی ہے۔ دعوتی اور تبلیغی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مرکزی اسلامی بیت المال قائم کیا گیا، جس میں صدقات، زکوٰۃ اور دیگر عطیات کو جمع کرکے قرآنی تعلیمات کے مطابق غرباء، فقراء و مساکین میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ آج سے کچھ برس قبل شیخ العالم میموریل لائبریری کی بنیاد رکھی گئی، جس میں عوام کے استفادہ کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں مختلف موضوعات پر کتابیں موجود ہیں۔ اگر فاؤنڈیشن کے نصب العین کو مختصر الفاظ میں بیان کیا جائے تو وہ یوں ہے ’’اللّٰہ سے قربت، نبی اکرم (ص) سے نسبت، اولیاء اللّٰہ سے تربیت اور مخلوقِ خدا کی خدمت۔"

اسلام ٹائمز: یہاں کشمیر میں آئے روز منشیات کی وباء کے بارے میں سیمینارز اور کانفرنسز منعقد ہو رہی ہیں، یہ منشیات کا عادی ہونا کشمیری عوام کیلئے کسی آفت سے کم نہیں ہے، آپ اس حوالے سے کیا تشویش ظاہر کرنا چاہیں گے۔؟
میر امتیاز آفریں:
ہمارے سماج کو جو لعنت دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر رہی ہے، وہ منشیات کی وباء ہے۔ اگرچہ ایک مسلم سماج میں اس سماجی بدعت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ہمارے آقا و مولا رسول اللہ (ص) نے صاف صاف فرمایا ہے، ’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے‘‘ مگر اس کے باوجود صوفیاء کرام کے اس چمن میں یہ زہر ہر بستی میں سرایت کر گیا ہے۔ ہمارے نوجوان منشیات کی لت کا شکار ہو رہے ہیں اور نہ صرف ان کے تعلیمی مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے بلکہ سماج میں ان کے مثبت کردار پر شیطانیت کے سائے پڑچکے ہیں۔ ہر چھوٹے سے چھوٹے قصبے اور گاؤں میں ایک مافیا پیدا ہوگیا ہے، جو ان منشیات کو پروان چڑھانے کا کاروبار کر رہے ہیں اور معصوم طلباء میں اس کی سپلائی کرکے ان کی جوانی کو برباد کر رہے ہیں۔

حال ہی میں کشمیر کے ایک مشہور اخبار Kashmir Observer میں جموں و کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن کی ایک رپورٹ شائع ہوئی، جس میں کہا گیا کہ کشمیر میں ستر ہزار افراد منشیات کی لت میں مبتلا ہیں، جن میں چار ہزار کے قریب عورتیں ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کشمیر میں 65 سے 70 فیصد طلباء اس لت کا شکار ہیں اور زیادہ تر کی عمر سترہ سے پینتیس سال کے درمیان ہے۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ صورتحال کتنی سنگین ہے۔ میرے خیال سے اس وباء سے نپٹنے کے لئے والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں اور حکومتی اداروں کو اپنا رول سنجیدگی سے ادا کرنا چاہیئے، تب جا کر اس لعنت سے سماج کو پاک کیا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں اس لعنت کی بیخ کنی کے لئے جس سطح پر جو بھی مثبت قدم اٹھایا جائے، وہ لائقِ تحسین ہے اور ان اقدامات میں ہمیں بھی حصہ لے کر بحثیت ذمہ دار شہری اپنا رول ادا کرنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: کیا اس وباء کو عام کرنے میں کسی بڑی طاقت کا ہاتھ یا کسی ایجنسی کا رول دکھائی دے رہا ہے۔؟
میر امتیاز آفریں:
ہماری یہ عادت بن چکی ہے کہ جب اپنے سماج کے متعلق کوئی منفی بات ہمارے سامنے آتی ہے تو ہم فوراً اسے بیرونی سازش قرار دیتے ہیں، جو میرے خیال سے درست نہیں ہے۔ منشیات کی وباء کی جڑیں ہمارے سماج میں موجود ہیں، ہمارے گرد و پیش کے لوگ اسے پروان چڑھانے کا کاروبار کرتے ہیں اور اسے ہمارے نوجوانوں کو سپلائی کرتے ہیں، لہذا کوئی بیرونی ہاتھ دیکھنے سے پہلے ہمیں اپنے سماج کا احتساب کرنا چاہیئے اور ان شرپسند عناصر کو بے نقاب کرنا چاہیئے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے پیچھے قوم دشمن ایجنسیوں کا ہاتھ بھی ہو، مگر ہمیں متحد ہو کر اپنے اندر سے اس سماجی بدعت کی جڑیں اکھاڑنے کی کوشش کرنی چاہیئے، اس طرح سے بیرونی طاقتیں خود بخود ناکام ہو کر رہ جائیں گی۔

اسلام ٹائمز: کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کے چرچے بھی عام ہیں، آپ اس حوالے سے کیا نظریہ رکھتے ہیں۔؟
میر امتیاز آفریں:
صدیوں سے ہمارا کشمیر مختلف مذاہب کا گہوارہ رہا ہے اور ہندو، مسلمان، سکھ، بودھ وغیرہ یہاں امن و امان سے رہتے آئے ہیں۔ بدقسمتی سے 1947ء کے بعد سے خراب سیاسی حالات کی وجہ سے بتدریج اس بھائی چارہ میں کمزوری دیکھنے کو ملی۔ 1989ء کے بعد تشدد اور خون خرابے کی وجہ سے کشمیر سے کشمیری پنڈت گھر بار چھوڑ کر چلے گئے، جس سے کشمیری سماج کو نقصان ہی پہنچا۔ کشمیری پنڈت کشمیری سماج کا ایک اہم حصہ ہیں، یہاں پر ان کی اپنی زمینیں ہیں، اپنے گھر ہیں لہذا ان کا حق ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئیں۔ کشمیر کے مسلمان ہمیشہ سے اس بات کے متمنی ہیں کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ آئیں اور پہلے کی طرح یہاں پر عزت و آبرو کی زندگی گزاریں۔

اسلام ٹائمز: کشمیر میں دین ناب کی ترویج میں اولیاء کرام نے کیا رول نبھایا۔؟
میر امتیاز آفریں:
کشمیر کو بھارت طور پر ’’پیر واری‘‘ کہا جاتا ہے یعنی صوفیوں اور درویشوں کی سرزمین۔ حضرت بلبل شاہ صاحب اور شاہ ہمدان (رہ) سے لے کر میرک شاہ صاحب کاشانی تک بلند پایہ کے صوفیاء کرام نے دعوت و تبلیغ کا کام یہاں سرانجام دیا۔ یہ ان حضرات کی ہی محنت ہے کہ آج یہاں پر مسلمان اکثریت میں ہیں اور ایک خدا کی وحدانیت کے ترانے گاتے ہیں۔ تبلیغ کے سلسلے میں ان حضرات نے سینکڑوں میل طے کئے، لاتعداد مساجد اور خانقاہیں تعمیر کیں، ہزاروں کتابیں لکھیں، لاتعداد افراد کو دین حق کی دعوت دی اور حق کا بول بالا کیا۔ یہاں کے علم و ادب کو صوفیاء کرام نے ہی آبرو بخشی۔ شاہ ہمدان، لَلہٕ عارفہ، شیخ العالم، شیخ یعقوب صرفی، شیخ مخدوم ہمزہ رحمہم اللّٰہ اجمعین اور دیگر ریشیانِ کشمیر کی وجہ سے ہی یہاں دین اسلام کی آبیاری ہوئی۔ ان بزرگوں کی کاوشوں کی بدولت ہی کشمیر کے طول و عرض سے اللّٰہ اکبر کی صدائیں گونجتی ہیں اور یوں رحمت خداوندی اس خطہ ارض کو ڈھانپ لیتی ہے۔ لہذا ان کے احسانات کے تلے ہماری گردنیں ہمیشہ جھکی رہیں گی۔

اسلام ٹائمز: کشمیر میں مناظرہ بازی کی غلط روش کو آپ کیسا سمجھتے ہیں۔؟
میر امتیاز آفریں:
دیکھا جائے تو اختلاف ایک بڑی رحمت ہے، کیونکہ اختلاف سے ہی علم و تحقیق کے دروازے کھلتے ہیں۔ لہذا اختلاف محمود ہے مذموم نہیں۔ افتراق مذموم ہے اور سب سے بدترین بدعت ہے۔ دور حاضر میں ملت اسلامیہ کو سب سے زیادہ نقصان جس چیز نے پہنچایا ہے، وہ ہے افتراق یعنی فرقہ بازی۔ جو پہلے ایک امت ہوا کرتی تھی، اب تقسیم در تقسیم کی شکار ہے۔ ایک فرقہ دوسرے فرقے کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے درپے ہے، یوں چاروں طرف فتنہ و فساد برپا ہوگیا ہے اور مناظرہ بازی کا میدان گرم ہوگیا ہے۔ شرپسندوں کے زرخرید کچھ مولوی دوسرے فرقے کے لوگوں کو للکارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ایک دوسرے کی تذلیل کرتے ہوئے کفر و گمراہی کے فتوے ان کے خلاف نکالتے رہتے ہیں، جس سے نہ صرف علماء کا وقار سماج میں گرتا جا رہا ہے بلکہ ساتھ ہی نفرت و عداوت کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ تعلیم یافتہ طبقہ دین سے بیزار ہوتا جا رہا ہے، سماجی بے راہ روی بڑھتی جا رہی ہے اور لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہوتا جا رہا ہے کہ دین میں تو بس جھگڑا ہی جھگڑا ہے۔ لہذا مناظرہ بازی کی یہ غلط روش مسلم سماج کے لئے زہر قاتل ہے، جس سے شدت پسندی پروان چڑھ رہی ہے اور مختلف مکاتب فکر کے درمیان نفرت و عداوت کی دیواریں کھڑی ہوتی جا رہی ہیں۔

اسلام ٹائمز: ہمارے علماء کرام کیوں بروقت یا بعد از وقت ایسے عناصر کو روکنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے جو عناصر انتشار و منافرت کے درپے ہیں۔؟
میر امتیاز آفریں:
اکثر ہمارے علماء ملت اسلامیہ کی نمائندگی کرنے کے بجائے اپنے اپنے مکاتب فکر کی نمائندگی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان میں رواداری اور وسیع المشربی کا فقدان ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ نوجوان علماء ایک دوسرے کو للکارتے ہیں اور مناظرہ بازی کا بازار گرم کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس طرح کی صورتحال میں جید علماء کرام خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، جس سے ان شرپسند عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ جید علماء کرام اپنے مسلک کے مفادات کے پیش نظر اپنی ذمہ داریوں کو نہیں نبھاتے اور یوں افتراق بین المسلمین کی شرانگیز فضا پیدا ہو جاتی ہے۔

اسلام ٹائمز: اس انتشاری دور میں وحدت اسلامی کی اہمیت و ضرورت کیا ہے، جاننا چاہیں گے۔؟
میر امتیاز آفریں:
دور حاضر میں امت مسلمہ کے زوال کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے تو دو اسباب خاص طور پر نظر آتے ہیں۔ یعنی کتاب اللّٰہ سے دوری اور افتراق بین المسلمین۔ حالانکہ کتاب اللّٰہ کا واضع ارشاد ہے ’’وعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا‘‘ یعنی مل جل کر اللّٰہ کی رسی کو تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹ جاؤ۔ مگر پھر بھی مسلمان لاتعداد فرقوں میں بٹ چکے ہیں۔ ایک فرقہ دوسرے فرقے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا اور ایک دوسرے کو گمراہ قرار دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالم اسلام کئی دھڑوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ کئی اسلام دشمن غیر مسلم ممالک مسلمانوں کی اس چپقلش کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ وہ اس نفرت کی آگ کو زیادہ بڑھکاتے ہیں اور ان مسلم گروہوں کو آپس میں لڑواتے ہیں، جس سے کئی مسلم ممالک تباہ و برباد ہوکر رہ گئے، لاکھوں مسلمانوں کی جانیں چلی گئیں اور لاکھوں کے گھر تباہ ہوگئے۔

اس صورتحال میں وقت کا تقاضا ہے کہ جملہ مسلمانانِ عالم ایک ہو کر ایک وحدت بن جائیں، اسی میں ان کی ابدی نجات مضمر ہے۔ ہر وہ شخص جو اللّٰہ جل مجدہ کو اپنا معبود سمجھتا ہے، رسول اکرم (ص) کو خاتم النبیین تسلیم کرتے ہوئے ان کی ذات کو جملہ انسانیت کے لئے اسوہ حسنہ سمجھتا ہے، وہ مسلمان ہے اور امت اسلامی کا قابلِ احترام فرد ہے۔ وہ ہمارا دینی بھائی ہے اور اسے کوئی بھی طاقت امت سے جدا نہیں کرسکتی۔ میرے خیال میں یہی وحدت اسلامی کی اساس ہے۔ بقول علامہ اقبال:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

اس امت کی قوت وحدت میں ہے۔ انتشار اور تفرقہ بازی سے دوریاں پیدا ہوتی ہیں، نفرتیں پروان چڑھتی ہیں اور تشدد پیدا ہوتا ہے۔ ہم اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے لئے اپنے بازو کھولیں، ایک دوسرے کو اپنائیں اور ایک دوسرے کو سمجھیں، اسی سے مسلم دشمن قوتوں کو شکست ہوگی اور اسلام کا بول بالا ہوگا۔
ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے
خبر کا کوڈ : 805901
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب