0
Saturday 20 Jul 2019 13:57
ریاست اور حکومت کی غلط ترجیحات انارکی کا سبب بن سکتی ہیں

اسوقت پاکستان میں آئی ایم ایف کو ایسٹ انڈیا کمپنی سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں، ڈاکٹر فرید پراچہ

حکومت امریکی خوشنودی کیلئے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا شیطان رویہ ذہن سے نکال دے
اسوقت پاکستان میں آئی ایم ایف کو ایسٹ انڈیا کمپنی سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں، ڈاکٹر فرید پراچہ
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اپریل 1950ء کو سرگودھا کے ایک اعلیٰ علمی گھرانے میں پیدا ہوئے، انکے والد جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے رکن اور جمعیت اتحاد العلماء پاکستان کے مرکزی صدر تھے، ڈاکٹر صاحب نے جامعہ قاسم العلوم سرگودھا سے دینی تعلیم حاصل کی اور ادیب عربی اور عالم عربی کے امتحانات لاہور بورڈ سے پاس کیے۔ پنجاب یونیورسٹی سے 1975ء میں ایل ایل بی اور 1976ء میں علوم اسلامیہ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور ہی پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) کی ڈگری بھی حاصل کی۔ زمانہ طالب علمی میں جمعیت طلبہ عربیہ اور اسلامی جمعیت طلبہ میں فعال کردار ادا کیا۔ 1990ء میں لاہور سے ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ مختلف آمریتوں کے خلاف 16 مرتبہ پابند سلاسل رہے۔ 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کی طرف سے لاہور کے حلقہ این اے 121 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بحثیت رکن اسمبلی، قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ سوالات، تحاریک التوا، توجہ دلاؤ نوٹس، قراردادیں اور پرائیویٹ بل پیش کرنیوالے رکن قرار پائے۔ اپنے حلقہ میں 22 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام کرائے، حلقہ کے عوام کی خوشی و غم میں ہمیشہ شریک رہتے ہیں اور مسلسل رابطہ رکھتے ہیں۔ علماء اکیڈمی منصورہ لاہور سمیت متعدد تعلیمی اداروں کے سربراہ بھی ہیں، جبکہ WAMY (ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ) سعودی عرب کے ممبر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ سعودی عرب، ترکی، چین، بنگلہ دیش، ایران اور کینیڈا کے سفر نامے لکھ چکے ہیں، تدریس القرآن، تدریس الحدیث، عربی زبان و ادب، مطالعہ مذاہب عالم، ایک تحریک ایک انقلاب، سید مودودیؒ کے سیاسی افکار (مقالہ پی ایچ ڈی) بھی انکی تصانیف میں شامل ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر کیساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہ منفرد حیثیت کا حامل ہے، کیا پاک امریکہ تعلقات میں بنیادی تبدیلی آسکتی ہے۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
وہ دن ہمارے لیے خوشی اور عید کا دن ہوگا، جس دن ہماری پالیسیاں امریکہ کی محتاج نہیں رہینگی، لیکن وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ کی تفصیلات، ایجنڈا اور حکمت عملی سے پارلیمنٹ، قومی قیادت بے خبر ہے، یہ ہمارا المیہ ہے کہ جمہوری حکومتیں بھی فوجی آمریتوں کے اسلوب حکمرانی کی طرح قوم کو بیرونی تعلقات پر اندھیرے میں رکھتی ہیں، حال ہی میں حکومت نے آئی ایم ایف سے خفیہ معاہدہ کیا ہے، عوام بلبلا اٹھے ہیں، حکومت معاہدہ کو پبلک کرنے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان کے امریکہ سے تعلقات کے باوجود شدید تلخ تاریخ ہے، پاکستان نے ہمیشہ امریکہ کو خطہ میں سہولت کاری دی، لیکن امریکہ نے جواب میں بھارت کی سرپرستی اور پاکستان کو مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ وزیراعظم دورہ امریکہ میں پاکستان کے لیے نئی مشکلات اور بھیک لانے کی بجائے باہمی سرمایہ کاری کی بات کریں۔

اسی طرح پاک افغان بارڈر پر زونز کی تعمیر، نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا حصہ بننے، مسئلہ کشمیر کے حل اور افغانستان میں امن، ترقی و استحکام کے ایشوز پر واضح حکمت عملی سے بات کریں۔ پاکستان کے لیے اب ممکن نہیں کہ امریکی ڈو مور کے احکامات بجا لائے۔ عمران خان عالمی دورں سے پہلے ملک کے اندر سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں تو دورے ثمر بار ہوں گے، وگرنہ اندرونی انتشار اور عدم استحکام دوروں کو لاحاصل بنا دیں گے۔ جس میں وہ ناکام رہے ہیں، اس لیے بات تو کی جا سکتی ہے لیکن عملی توقعات رکھنا درست نہیں۔ جماعت اسلامی کا موقف یہ ہے کہ وزیراعظم کے امریکی دورے کی کامیابی کا انحصار ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی پر ہے، اگر وہ واپسی پر قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ساتھ لے آئے تو ہم ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کرینگے، ٹرمپ سے ملاقات میں وزیراعظم کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کریں، تاکہ کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاسکے۔

اسلام ٹائمز: چین اور روس کی افغان امن عمل میں شمولیت کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی آرہی ہے، یہ کیا رخ اختیار کریگی۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
عالمی طاقتوں کی افغان امن عمل میں شمولیت کے باوجود پاکستان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر فیصلہ کن دوراہے پر کھڑا ہے، افغانستان کے عوام میں امریکہ، بھارت اور اسرائیل نے نفرت کا زہر بھرا ہے، قومی قیادت افغانستان میں امن و استحکام کے لیے ہمہ پہلو قومی پالیسی اختیار کرے، ضیاءالحق دور میں بھی پاکستان کی پالیسی بالآخر قوتوں نے ناکام بنا دی اور اب بھی تمام تر امریکی مدد کے باجود پاکستان تنہائی کا شکار ہے۔ حکومت کشمیر پر کمزور موقف اور سودے بازی کا رویہ ترک کرے، امریکی خوشنودی کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا شیطان رویہ ذہن سے نکالے اور کشمیر و فلسطین پر قائداعظمؒ کے اصولی موقف کی پاسبانی کرے۔ ایل او سی پر بھارت دہشتگردی کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں پرامن کشمیریوں کو ظلم اور تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، انسانی حقوق پامال ہیں، حکومت بھارتی مکروہ چہرے کو بے نقاب کرے۔ اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کے غیر مستقل ممبر شپ کے لیے پاکستان نے بھارت کی حمایت کرکے گناہ بے لذت کمایا اور کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔

 وزیراعظم کو جموں و کشمیر پر معذرت خواہانہ رویہ چھوڑنا ہوگا۔ بھارت کو سلامتی کونسل کے غیر مستقل ممبر کے لیے ووٹ دینا مسئلہ کشمیر اور نظریہ پاکستان سے بے وفائی ہے۔ ایک طرف بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا اور ان کے راستے بند کر رہا ہے، دوسری طرف پی ٹی آئی حکومت سلامتی کونسل میں بھارت کی حمایت کر رہی ہے۔ اگر خطے میں امریکہ کی پوزیشن بدل رہی ہے اور چین سمیت دوسرے ممالک قریب آرہے ہیں تو پاکستان اس سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں کب آئے گا، یہ کہیں نظر نہیں آرہا۔ افغانستان میں امریکی شکست کے ساتھ ہی اس کے پرائم حلیف بھارت اور اسرائیل بھی ناکام ہیں۔ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حل کے امکانات بڑھ گئے ہیں، لیکن یہی شیطانی قوتیں عالم اسلام میں نیا فساد اور طویل مدت سے حل طلب مسائل کا حل روکنے کی سازشیں کر رہی ہیں۔ صدر مرسی کا قتل اور فلسطین کے متعلق منامہ کانفرنس اسکی ایک دلیل ہیں۔

اسلام ٹائمز: حکومت کی سخت معاشی پالیسی اور مسائل پر قابو پانے میں ناکامی پر اپوزیشن بھی سراپا احتجاج ہے، جماعت اسلامی اسکا حصہ کیوں نہیں بنی۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ موجودہ سرکار مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، لیکن اس سے یہ مراد لینا درست نہیں کہ پی ٹی آئی کی جگہ نون لیگ یا پی پی پی اگر اقتدار میں آجائے تو پاکستانی عوام کے یہ مسائل حل ہو جائینگے، حالانکہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ موجودہ بحران نیا نہیں، یہ پچھلی حکومتوں کی کرپشن اور نااہلی کی دین ہے، جس کو عوام آج تک بھگت رہے ہیں۔ جماعت اسلامی نہ موجودہ حکومت کی درآمد شدہ پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے، نہ ہی نون لیگ اور پی پی کی کرپٹ اشرافیہ کی آلہ کار بنے گی۔ پانامہ کیس کو بھی جماعت اسلامی سپریم کورٹ میں لیکر گئی تھی، لیکن سوائے چند سیاستدانوں کے کسی احتساب کو کٹہرے میں نہیں لایا گیا، حقیقی احتساب صرف جماعت اسلامی کرسکتی ہے۔ عوام احتساب چاہتے ہیں جبکہ حکمران احتساب کی آڑ میں مہنگائی کرکے عوام کا استحصال کر رہے ہیں۔

حکومت نے عوام کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی میں دیدیا ہے، جماعت اسلامی عوام کے استحصال اور مہنگائی کے ظلم کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ میں زمانہ طالب علمی سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی حکومتیں دیکھ رہا ہوں، حکمرانوں کے تو اندرون و بیرون ملک عالی شان محل بن گئے ہیں، مگر عوام کی حالت نہیں بدلی، عوام آج بھی تعلیم، صحت اور روز گار جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، پاکستان کے 22 کروڑ عوام اس وقت شدید آزمائش اور مصیبت کا شکار ہیں۔ جماعت اسلامی اقامت دین کی عالمگیر تحریک ہے، جو کہ کلمہ کی سربلندی، اصلاح معاشرہ اور عوامی مسائل کے حل کیلئے سینیٹر سراج الحق کی قیادت میں میدان عمل میں ہے، جبکہ باقی عوام کی نمائندگی کی دعویدار جماعتیں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

اسلام ٹائمز: چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کیلئے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد سے حکومت کمزور ہوگی یا کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد عوام کے نزدیک نان ایشو ہے۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں فساد ہی بڑھے گا۔ ممبروں کی خرید و فروخت گھوڑوں خچروں کی طرح ہوگی۔ جماعت اسلامی آئین، جمہوریت اور پارلیمانی روایات کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ اس وقت ہماری ترجیح عوامی مسائل پر عوام کی ترجمانی ہے۔

اسلام ٹائمز: مریم نواز نے احتساب عدالت کے جج کی ویڈیو میڈیا کے سامنے پیش کی ہے، آپکی نظر میں یہ کیسا اقدام ہے۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
ہم سمجھتے ہیں کہ جج ارشد ملک کی سامنے آنے والی ویڈیو پر ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور قوم کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ آزاد عدلیہ ریاست کا ایک ستون ہے۔ عوام غربت اور مہنگائی تو برداشت کرسکتے ہیں مگر ناانصافی اور عدلیہ کی ناکامی برداشت نہیں کرسکتے۔ یہ ویڈیو پورے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت ریاستی اداروں کو متنازع بنا رہی ہے۔ حکمران بغیر سوچے بولتے ہیں، پھر یوٹرن لیتے ہیں اور آخرکار اداروں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ بڑے بڑے دعوﺅں اور وعدوں کے ساتھ آنے والی حکومت ایک سال میں ہی مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے اور اب عوام بھی اس حکومت سے مایوس ہوچکے ہیں۔ ایک سال میں یہ فیصلہ نہ ہوسکا کہ موجودہ حکومت سلیکٹڈ ہے یا الیکٹڈ۔ حقیقت یہ ہے کہ روزانہ ٹیکسوں پر ٹیکس لگائے جا رہے ہیں، حکومت برائے ریلیف نہیں بلکہ حکومت برائے ٹیکسز ہے۔ حکومت کی طرف سے اس سے متعلق جس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا گیا، یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ اداروں کا سہارا لیکر اقتدار بچانے کی کوشش میں ریاست کی بنیادیں کمزور کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: جماعت اسلامی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں معاشی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں، لیکن عسکری قیادت نے سخت پالیسی کی حمایت اور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپ لوگ حکومت کی کامیابی کیلئے ساتھ دیں۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
حکومت اور ریاستی طاقتور اداروں کا ایک پیج پر آنا اچھا ہے، لیکن اس حسن اتفاق سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔ عوام کے معاشی حالات ابتر اور ناقابل برداشت ہیں۔ سیاسی محاذ پر بحران اچھا شگون نہیں۔ بحرانوں سے نجات اور پاکستان دشمن قوتوں کے مقابلہ کے لیے سیاست میں استحکام، قانون، عدلیہ اور آئین کی بالادستی، شرافت، برداشت اور باہمی احترام کی قدروں کو بحال کیا جائے۔ یہ فقط کسی عسکری ادارے کی حمایت سے پیدا نہیں ہوگا، اس کے لیے مسلسل جمہوری جدوجہد اور کوشش کی ضرورت ہے، جو دیانتدار سیاسی قایدت کے بغیر ممکن نہیں، اس کا عوام کو شعور دینا لازمی ہے۔ میرے خیال میں پاکستانی عوام کی طرح جلد ہی ریاستی ادارے بھی موجودہ حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہو جائیں گے۔ اس لیے سیاسی قیادت اور عوام کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیئے۔ پھر کہوں گا کہ ریاست اور حکومت ایک پیج پر ہیں، اس خوش آئند اتفاق سے عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے بلکہ جمہوریت کے نام پر فساد، بے اعتمادی اور فسطائیت کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں۔

بہتر یہ ہے کہ سیاست، جمہوریت، پارلیمنٹ اور ریاستی ادارے آئین پاکستان کے دائرہ کار میں رہیں، وگرنہ لاقانونیت اور آئین و قانون سے ماوراء اقدام ملک کو بند گلی اور انارکی کی طرف دھکیل دیں گے۔ ٹیکس دینا ایک فریضہ ہے، لیکن بالواسطہ ٹیکسوں کی یلغار اور کسی حکمت و تدبر کے بغیر ٹیکسوں کی بوچھاڑ سے معیشت کے سنبھلنے کے نہیں مزید بگڑنے کے خدشات ہیں۔ ٹیکس بڑھنے سے کرپشن اور رشوت بڑھے گی اور ہر طرف سے آخری بوجھ عام آدمی پر پڑے گا۔ موجودہ بجٹ کے ذریعے ٹیکسوں کا دائرہ کئی گنا بڑھا دیا گیا ہے۔ بالواسطہ ٹیکس کو ختم کرنے کی بجائے اس میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تاجر طبقہ کا ہر طرف سے گھیراﺅ میں ہے۔ عالمی مالیاتی اور استعماری قوتیں بلیک میل کر رہی ہیں۔ آزادی، خود مختاری اور قومی عزت و وقار کی حیثیت کمزور ہو رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری تباہی لا رہی ہے۔ تعلیم، صحت اور شہری سہولتیں مفقود ہو رہی ہیں۔ قومی سلامتی اور قومی سیاست کے ذمہ داران اپنی ترجیحات درست کریں، وگرنہ عوامی جذبات کا لاوا پھٹے گا، انارکی بڑھے گی۔ قومی وجود خطرے میں ہے۔

تاجروں کی حالیہ ملک گیر کامیاب ہڑتال عوامی جذبات کی ترجمان اور خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ کسی کو کیوں نظر نہیں آرہا کہ سیاست، ریاست اور ذرائع ابلاغ کے درمیان کشیدگی سنگین بحران کا موجب بن چکی ہے۔ عمران سرکار کو ادراک ہی نہیں، کشیدگی کی آگ بجھانے کی بجائے روزانہ کی بنیاد پر بدکلامی کا تیزاب اور غلط اقدامات کا پٹرول چھڑکا جا رہا ہے۔ پاکستان تہ در تہ بحرانوں اور مشکلات سے دوچار ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔ پھر دیکھیں اگر عمران خان لاپتہ افراد کے ایشو پر خاموش رہینگے اور لوگ سمجھیں گے کہ ریاستی ادارے حکومت کی حمایت کرینگے تو اعتماد کی فضاء کیسے برقرار رہے گی۔ اس لیے حالات کو کسی ایک ہی رخ سے دیکھنا درست نہیں۔ یہ گہرے سیاسی شعور کا متقاضی ہے، پاکستان اللہ کی امانت ہے، اس کے لیے سوچنا اور کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

اسلام ٹائمز: ریاستی ادارے اور سیاسی اشرافیہ کبھی عوامی مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں رہی، اس صورتحال میں عام آدمی کیا کرے۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
پاکستان کے عوام اسلام پسند ہیں اور ملک میں قرآن و سنت کا نظام چاہتے ہیں، مگر عالمی طاغوتی قوتوں کے خوف سے حکمران ملک کے آئین کی اسلامی دفعات پر عمل نہیں کر رہے۔ جماعت اسلامی ملک میں نظام مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کی جدوجہد کر رہی ہے، عالمی استعمار پاکستان میں غلبہ دین کی جدوجہد کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔ نوجوان باعزت روزگار اور باوقار زندگی چاہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط نے قوم پر معاشی، سماجی اور سیاسی غلامی مسلط کر دی ہے۔ یہ صورت حال کسی بھی مہذب، آزاد اور خود مختار ملک کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ قومی بجٹ کو بے کار، ناکارہ اور بے اعتماد دستاویز بنا دیا گیا ہے۔ ٹیکسوں کی بھرمار سے صنعت، مارکیٹیں، ٹیکسٹائل اور چینی کے کارخانے بند ہو گئے ہیں۔ تاجر، صنعت کار سراپا احتجاج ہیں۔

عوام کے لیے بجلی، گیس، تیل، آٹا، گھی، چینی، دالوں، سبزیوں، کھاد، بیج، ادویات کی قیمتیں ناقابل برداشت ہوگئی ہیں۔ اسمبلیوں پر سیاسی و معاشی دہشت گردوں کا قبضہ ہے۔ پی ٹی آئی چوروں کا احتساب نہیں، بلکہ شور شرابہ کر رہی ہے۔ حکومت بیرونی بنکوں میں پڑے ہوئے 375 بلین ڈالر میں سے ایک پیسہ واپس نہیں لاسکی۔ حکومت نے پانامہ کے 436 ملزموں کو پکڑا ہے نہ کرپشن کے 150 میگا سکینڈلز کو اب تک کھولا گیا ہے، دوسری جانب حکومت نے آئی ایم ایف کو وہ اختیارات دیئے ہیں، جو ایسٹ انڈیا کمپنی کو بھی حاصل نہیں تھے۔ مہنگائی و بے روزگاری سے عوام کی چیخیں اور فریادیں بنی گالہ تک نہیں پہنچ رہیں۔ جماعت اسلامی اسی لیے ملک بھر میں مہنگائی، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف عوامی مارچ کر رہی ہے۔ عوام ملک میں اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ یہ جدوجہد خون کے آخری قطرے اور آخری سانس تک جاری رہے گی۔

اسلام ٹائمز: وفاقی وزیر تعلیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اب مدارس میں اصلاحات کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور ان پر عملدرآمد شروع ہو جائیگا، اسکے کیا اثرات ہونگے۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
فتنوں کے اس دور میں دینی مدارس اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور اسلام کی حفاظت و اشاعت کا بہترین ذریعہ ہیں، ہمیں ان مدارس کی قدر کرنی چاہیئے، جہاں قرآن و حدیث پڑھے اور پڑھائے جاتے ہیں، وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نور کی بارش ہوتی ہے، ہمارے بچوں کے ایمان کی حفاظت اور تعلیم و تربیت میں ان دینی مدارس کا بنیادی کردار ہے، یہ دینی مدارس ہدایت کے سرچشمے اور اسلام کے قلعے ہیں، جن کا فیض قیامت تک جاری رہے گا۔ موجودہ حکومت کے وزیراعظم عمران خان نے 2018ء کے عام انتخابات سے پہلے مدارس ریفارمز کے حوالے سے جو بلند و بانگ دعوے کیے تھے، وہ سب جھوٹے نکلے، اس وقت کنٹینرز پر اور اپنے جلسوں میں کہا کرتے تھے کہ مدارس ریفارمز کریں گے، لیکن 11 مہینے گزرنے کے باوجود انہوں نے مدارس کے حوالے سے کوئی بھی اہم اقدام نہیں اٹھایا۔

بلکہ جو بجٹ ان کی حکومت نے پیش کیا، اس میں مدارس کے لئے کسی قسم کا کوئی بھی پیکج نہیں رکھا گیا، ہمیشہ کی طرح مدارس کو نظر انداز کیا۔ پھر یہ حکومت تو ویسے بھی کئی لغزشیں کر رہی ہے، حکمرانوں کی زبان ہی نہیں پھسلتی بلکہ ان کی سوچ ہی پھسل گئی ہے۔ غزوہ احد میں صحابہ کرام کے بارے میں انہوں نے جو کچھ کہا، وہ اس کی ایک مثال ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر ملک میں سینماوں کی تعداد میں اضافے کی بات کرتا ہے۔ حکمران بتائیں کہ قوم کو تعلیم کی ضرورت ہے یا سینماوں کی؟ سینماوں کی تعداد میں اضافہ کرکے عوام کے کون سے مسائل حل ہوں گے۔ دین سے نابلد حکمران کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ مدارس کا نظام اور نصاب کیا ہونا چاہیئے، یہ بیرونی اشاروں پر بنائی گئی پالیسی پر عمل درآمد کی کوشش کر رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 805979
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب